وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Monday، 3 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ ۞
ترجمہ:
اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔
الضحیٰ : ٥ میں فرمایا : اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔
قرآن مجید کی سب سے زیادہ امید افزا آیت
امام ابو نصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی 303 ھ لکھتے ہیں :
دنیا میں اللہ تعالیٰ آپ کا ذکر اور شرف کو بلند کرے گا اور آپ کو دشمنوں پر غلبہ اور فتح اور نصرت عطا فرمائے گا اور آپ کا دین اطراف عالم میں پھیل جائے گا اور آخرت میں آپ کو تمام نبیوں پر فضیلت اور برتری عطا فرمائے گا، آپ سے پہلے کوئی شفاعت کے لئے لب کشائی نہیں کرے گا، حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں ہوگا اور مقام محمود پر آپ ہی فائز ہوں گے، آپ سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا، نہ آپ کی امت سے پہلے کوئی امت جنت میں داخل ہو سکے گی، حوض کوثر آپ کے حوالے ہوگا اور اس دن آپ کی عزت اور عظمت دیکھنے والی ہوگی۔
بعض مفسرین نے کہا، یہ سب سے امید افزا آیت ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کو اتنا دے گا کہ آپ کو راضی کر دے گا، اور آپ اس سے راضی نہیں ہوں گے کہ آپ کی امت دوزخ میں جائے۔
اور حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا : سب سے امید افزا یہ آیت ہے۔
(النسائ : ١١٠) جس نے کوئی گناہ کیا یا اپنی جان پر ظلم کیا، پھر اللہ سے مغفرت طلب کی تو وہ اللہ کو بےحد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا پائے گا۔
اور ہمارے نزدیک قرآن مجید کی سب سے زیادہ امید افزا آیات وہ ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اور فرشتوں کو مئومنین کے لئے استغفار کا حکم دیا اور انہوں نے مئومنین کے لئے استغفار کیا، جیسے درج ذیل آیات ہیں :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی :
(ابراہیم : ٣٦) سو جس نے میری پیروی کی وہ میرے طریقہ محمودہ پر ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک تو بےحد مغفرت کرنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔
(ابراہیم : ٤١) اے ہمارے رب ! میری مغفرت فرما اور میری والدین کی اور تمام مئومنین کی جس دن حساب قائم ہو۔ اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرمایا :
(محمد : ١٩) (اے نبی مکرم ! ) آپ اپنے تمام بہ ظاہر خلاف اولیٰ کاموں کی مغفرت طلب کیجیے اور تمام مئومن مردوں اور مئومن عورتوں کی مغفرت طلب کیجیے۔
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت کے لئے جو استغفار کیا، اس کا ذکر اس حدیث میں ہے :
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی، جس میں حضرت ابراہیم کا یہ قول ہے : اے میرے رب ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کردیا ہے، سو جس نے میری پیروی کی وہ میرے طریقہ محمودہ پر ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک تو بےحد مغفرت کرنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (ابراہیم : ٣٦) اور اس آیت کی تلاوت کی جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ہے : اگر تو انہیں عذاب دے تو بیشک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو بہت غالب بےحد حکمت والا ہے۔ (المائدہ : ١١٨) پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور دعا کی : اے اللہ ! میری امت، میری امت اور روتے رہے، تب اللہ عزوجل نے فرمایا : اے جبریل ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائو اور تمہارا رب خوب جانتا ہے، پس ان سے پوچھو : انہیں کیا چیز رلاتی ہے ؟ سو آپ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور آپ سے پوچھا، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اپنے قول کی خبر دی، تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائو، پس ان سے کہو : بیشک ہم عنقریب آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردیں گے اور آپ کو رنجیدہ ہونے نہیں دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :11269)
علامہ نووی نے لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا : ہم آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردیں گے تو اس کے بعد یہ کیوں فرمایا : اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کے زیادہ امتی جنت میں چلے جاتے اور کچھ دوزخ میں جاتے تو آپ راضی ہوجاتے لیکن بعض امتیوں کے دوزخ میں جانے سے آپ رنجیدہ ہوتے، اس لئے فرمایا : ہم آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے، بلکہ ہم آپ کی تمام امت کو دوزخ سے نجات عطا فرمائیں گے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٢ ص 1079، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)
اس حدیث کا بیان کہ اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں گیا تو میں راضی نہیں ہوں گا
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : آپ کی بعد والی ساعت آپ کی پہلی ساعت سے افضل ہے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ تفاوت کہاں تک ہے اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اس کی انتہاء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمنا اور آپ کی رضا پر ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آ پکو ہر وہ چیز عطا کرے گا، جس کا آپ ارادہ کریں گے اور دنیا اپنی وسعت کے باوجود آپ کے ہر ارادہ کو پورا کرنے کی گنجائش نہیں رکھتی، اس لئے آخرت دنیا سے افضل ہے۔
حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اس آیت سے مراد آپ کو آپ کی امت کی شفاعت کا منصب عطا فرمانا ہے، روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا : اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ١٩٤)
امام ابن جریر متوفی 310 ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو۔ (جامع البیان رقم الحدیث :29053)
امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم متوفی 427 ھ لکھتے ہیں :
روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا : اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔ (الکشف والبیان ج ١٠ ص ٢٢٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)
قاضی عبدالحق بن غالب بن عطیہ الاندلسی المتوفی ٥٤٦ ھ لکھتے ہیں :
بعض اہل بیت نے یہ کہا ہے کہ کتاب اللہ میں یہ سب سے زیادہ امید افزاء آیت ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اگر ایک امتی بھی دوزخ میں گیا تو آپ راضی نہیں ہوں گے، کیونکہ روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں گیا تو میں راضی نہیں ہوں گا۔ (المحر رالوجیز ج ١٦ ص 321، مکتبہ تجاریہ، مکہ مکرمہ)
علامہ ابوعبداللہ محمد بن حمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :
حضرت علی (رض) نے اہل عراق سے فرمایا : تم یہ کہتے ہو کہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید افزاء آیت یہ ہے :
(الزمر : ٥٣) آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، بیشک وہی بےحد مغفرت کرنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اہل عراق نے کہا : ہاں ! ہم یہی کہتے ہیں، حضرت علی (رض) نے فرمایا : لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ امید افزا آیت یہ ہے :” ولسوف یعطیک ربک فترضی “ اور حدیث میں ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہوا تو میں راضی نہیں ہوگا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 20 ص 85)
علامہ عبدالرحمان بن محمد الثعالبی مالکی متوفی 875 ھ لکھتے ہیں :
روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا : میرا ایک امتی بھی دوزخ میں ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا، پھر اس کی تائید میں وہ حدیث ذکر کی ہے، جس میں اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے : اے محمد ! ہم عنقیرب آپ کو راضی کریں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢) علامہ قرطبی نے بھی اس روایت کی تائید میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (تفسیر الثعالبی ج ٥ ص ٦٠١ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٨ ھ)
خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :
امام بیہقی نے ’ دشعب الایمان “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے الضحیٰ : ٥ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا یہ ہے کہ آپ کی تمام امت جنت میں داخل ہو۔ (الجامع لشعب الایمان ج ٣ ص ٤٤ رقم الحدیث : ٣٧٤ مکتبہ الرشید، ریاض ١٤٢٣ ھ)
خطیب بغدادی نے ” تخلیص المتشابہ “ میں ایک اور سند کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راضی نہیں ہوں گے، اگر ان کی امت کا ایک شخص بھی دوزخ میں داخل ہوا۔
امام مسلم نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتاب اللہ میں حضرت ابراہیم کا یہ قول پڑھا : ” فمن تبغنی فانہ منی “ (ابراہیم : ٣٦) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول پڑھا :” ان تعذبہم فانہم عبادک “ (المائدہ : ١١٨) پھر دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی : اے اللہ ! میری امت، اے اللہ ! میری امت، تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! محمد کے پاس جائو اور ان سے کہ : بیشک ہم آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢)
امام ابن المنذر، امام ابن مردویہ اور امام ابونعیم نے حلیہ میں حرب بن شریح (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین سے کہا : یہ بتائیے کہ جو شفاعت اہل عرقا بیان کرتے ہیں کیا یہ حق ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! خدا کی قسم ! مجھے محمد بن حنفیہ نے حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنی امت کی شفاعت کرتا رہوں گا حتیٰ کہ میرا رب ندا فرمائے گا : اے محمد ! آیا آپ راضی ہ گئے ؟ میں کہوں گا : ہاں ! اے میرے رب میں راضی ہوگیا۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٧٧ الترغیب و الترہیب ج ٤ ص 446، کنز العمال رقم الحدیث :39758 پھر حضرت علی نے متوجہ ہو کر فرمایا : اے اہل عراق ! تم یہ کہتے ہو کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ امید افزا آیت یہ ہے : ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقتطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعاً “ (الزمر : ٥٣) اور ہم تمام اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ امید افزاء آیت یہ ہے :” ولسوف یعطیک ربک فترضی۔ “ الضحیٰ : ٥ اور یہی آیت شفاعت ہے۔ (حلیتہ الاولیاء ج ٣ ص 209 رقم الحدیث :3725 طبع جدید، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)
امام ابن ابی حاتم نے حسن (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” ولسوف یعطیک ربک “ الضحیٰ : ٥ شفاعت کی آیت ہے۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص 498، داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1421 ھ)
علامہ اسماعیل حقی متوفی 1137 ھ لکھتے ہیں :
امام باقر (رض) کوفہ میں آ کر فرمایا : اے اہل عراق ! تم یہ کہتے ہو کہ کتاب اللہ میں سب سے امید افزا یہ آیت ہے :
لاتقنطوا من رحمۃ اللہ “ (الزمر : ٥٣) اور ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ امید افزا یہ آیت ہے : ” ولسوف یعطیک ربک فترضی۔ الضحیٰ : ٥ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اگر ایک اتمی بھی دوزخ میں ہوا تو آپ راضی نہیں ہوں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ میں اپنی امت کی شفاعت کرتا رہوں گا، حتیٰ کہ میرے لئے ندا کی جائے گی : اے محمد ! کیا آپ راضی ہوگئے ؟ پس میں کہوں گا : اے میرے رب ! میں راضی ہوگیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث :3466، المعجم الاوسط رقم الحدیث :2083) (روح البیان ج ١٠ ص 545 داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1421 ھ)
شیخ محمد بن علی بن محمد شو کافی متوفی 1250 ھ لکھتے ہیں :
امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے : آپ کی رضا یہ ہے کہ آپ کی تمام امت جنت میں داخل ہوجائے (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث :1374) اور امام ابن جریر نے اس آیت کی تسیر میں روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے کوئی شخص دوزخ میں داخل نہ ہو۔ (جامع البیان رقم الحدیث :29053) اور خطیب نے تخلیص میں ایک اور سند سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راضی نہیں ہوں گے، اگر آپ کی امت سے ایک شخص بھی دوزخ میں ہوا اور اس تفسیر پر یہ صحیح حدیث دلالت کرتی ہے، حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم کی دعا کی، یہ آیت پڑھی :” فمن تبعنی فانہ منی “ (ابراہیم :36) اور حضرت عیسیٰ کی دعا کی، یہ آیت پڑھی :” ان تعذبہم فانہم عبادک “ (المائدہ :118) پھر دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! میری امت، اے اللہ ! میری امت، تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل ! محمد کے پاس جائو اور ان سے کہو : ہم آپ کو آپ کی امت کے متعلق راضی کردیں گے اور رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢) (فتح القدیر ج ٥ ص 614، دارالوفاء 1418 ھ)
علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ حافظ سیوطی کی مکمل عبارت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا اس میں ہے کہ آپ کی پوری امت کو جنت میں داخل کردیا جائے۔ (الجامع لشعب الایمان ج ٣ ص ٤٤ رقم الحدیث :1374 مکتبتہ الرشید، ریاض، ١٤٢٣ ھ) اور خطیب بغدادی نے ” تلخیص المتشابہ “ میں ایک اور سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا تو آپ راضی نہیں ہوں گے، اور یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنی امت پر عظیم شفقت کا تقاضا ہے، آپ اپنی امت کی آسانی اور مغفرت پر حریض ہیں، پھر علامہ آلوسی نے اس کی تاپید میں امام مسلم کی وہ روایت ذکر کی ہے، جس کے آخر میں اللہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے کہ اے محمد ! ہم عنقریب آپ کو راضی کردیں گے اور آپ کو رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢) اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو لطف و کرم ہے وہ مخفی نہیں ہے۔ (روح المعانی جز 30 ص 288-289 دارالفکر، بیروت 1417 ھ)
مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی 1307 ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : آپ کی رضا اس میں ہے کہ آپ کی تمام امت جنت میں داخل ہو اور خطیب نے تخلیص میں اس آیت کی تفسیر میں کہا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) راضی نہیں ہوں گے، اگر آپ کی امت کا ایک شخص بھی دوزخ میں گیا، پھر اس کی دلیل میں صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٢ کی حدیث نقل کی اور اس کی تاپید میں ” حلیتہ الاولیاء “ کے حوالے سے وہ حدیث ذکر کی، جس کو حافظ سیوطی نے الدرالمنثور ج ٨ ص 498 ذکر کیا ہے۔ (فتح البیان ج ٧ ص 485 دار الکتب العلمیہ، بیروت 1420 ھ)
حدیث مذکور کا قرآن مجید کی متعدد آیات اور احادیث صحیحہ سے تعارض
امام بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا یہ ہے کہ آپ کی تمام امت جنت میں داخل ہوجائے اور خطیب بغدادی نے حضرت ابن عباس کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک امتی بھی دوزخ میں داخل ہوا تو آپ راضی نہیں ہوں گے اور ان حدیثوں کو مفسرین میں سے علامہ ثعلبی، علامہ ابن عطیہ اندلسی، امام رازی، علامہ قرطبی، علامہ الثعالبی، حافظ سیوطی، علامہ اسماعیل حقی، علامہ آلوسی، نواب صدیق حسن بھوپالی وغیر ہم نے ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو دیگر احادیث سے تقویت پہنچائی ہے، لیکن اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض گنہ گار مسلمان دو خ میں داخل ہوں گے اور گناہوں سے پاک کرنے کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور شعب الایمان رقم الحدیث :1374 کی یہ حدیث اور مفسرین کی نقول ان سب کے خلاف ہیں۔
قرآن مجید کی حسب ذیل آیات میں تصریح ہے کہ بعض گنہ گار مسلمانوں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا :
(الماعون : ٧-٤) ان نمازیوں کے لئے ویل (دوزخ کی ودی) ہے۔ جو اپنی نمازوں سے غفلت کرنے والے ہیں۔ جو لوگ ریا کاری کرتے ہیں۔ اور عاریتۃ چیز دینے سے منع کرتے ہیں۔
(التوبہ ١ : ٣٤) اور جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، آپ ان کو درد ناک عذاب کی خوش خبر سنا دیجیے۔
(النسائ : ١٠) بیشک جو لوگ ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ صرف اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب دوزخ میں داخل ہوں گے۔ اور حسب ذیل احادیث صحیحہ میں یہ تصریح ہے کہ بعض گنہ گار مسلمانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور تطہیر کے بعد نکال لیا جائے گا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ پڑھا اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہوئی تو اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ پڑھا اور اس کے دل میں گندم کے برابر بھی نیکی ہوئی تو اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ پڑھا اور اس کے دل میں جوار کے برابر بھی نیکی ہوئی تو اس کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤ صحیح مسلم الحدیث : ١٩٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣١٢)
حضر جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شفاعت کے سبب دوزخ سے لوگوں کو اس حال میں نکالا جائے گا کہ وہ جلی ہوئی لکڑی کی طرح ہوچکے ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6558، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩١)
حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہے دوزخ والوں میں سے وہ لوگ جو دوزخ کے اہل ہیں، وہ دوزخ میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں ڈالا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان پر موت طاری کر دے گا حتیٰ کہ جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر ان کو گروہ درگروہ لایا جائے گا اور ان کو جنت کے دریائوں میں ڈال دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : اے اہل جنت ! ان پر پانی بائو، ان کو گروہ در گروہ لایا جائے گا اور ان کو جنت کے دریائوں میں ڈال دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : اے اہل جنت ! ان پر پانی بہائو، پھر وہ اس طرح نشو و نما پائیں گے، جس طرح دانہ سیلاب کی مٹی میں اگ کر سرسبز ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :185، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4309)
علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی 676 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
جن لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں ڈالا جائے گا، یہ گناہ گار مسلمان ہوں گے، ان پر اللہ تعالیٰ موت طاری کرے گا، اس موت کے دو محمل ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے کے بعد ان پر حقیقتاً موت طاری کر دے گا اور ان کے عذاب کی مدت، ان کے گناہوں کے اعتبار سے ہوگی، پھر ان پر موت طاری کر دے گا اور جب تک اللہ چاہے گا، ان کو دوزخ میں محبوس رکھے گا اور متو کی وجہ سے ان کو اس مدت کا احساس نہیں ہوگا، پھر ان کو اس حال میں دوزخ سے نکالا جائے گا کہ وہ دوزخ میں جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر ان کو جنت کے دریائوں میں ڈال دیا جائے گا اور ان پر آب حیات بہایا جائے گا، پھر وہ زندہ ہوجائیں گے اور اس قدر سرعت کے ساتھ نشو و نما پائیں گے جس طرح سیلاب کی مٹی میں پڑا ہوا دانہ سرعت کے ساتھ اگ کر سرسبز ہوتا ہے۔
دوسرا قول یہ یہ کہ اس موت سے مراد حقیقی موت نہیں ہے، لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ ان کا احساس اور شعور سلب کرلیا جائے گا، اس وجہ سے ان کو دوزخ کے عذاب کا بالکل احساس نہیں ہوگا (جیسے کسی انسان کو بےہوش کر کے اس کی سرجری کی جاتی ہے تو اس کو چیر پھاڑ کا بالکل احساس نہیں ہوتا) علامہ نووی فرماتے ہیں : لیکن میرے نزدیک راجح پہلا قول ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ١ ص 1026-1027 مکتہب نزار مصطی الباز، مکہ مکرمہ، 1417 ھ)
حدیث مذکور پر تعارض کے اشکال کا جواب
میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مکافات عمل کے قانون کو پورا کرنے کے لئے اور اپنی وعید کے تقاضے کو مکمل کرنے کے لئے بعض گناہ گار مسلمانوں کو دوزخ میں ضرور ڈالے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی مئومنین پر جو رحمت اور شفقت ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ان کو حقیقتاً عذاب نہیں ہوگا، بلکہ ان کو صرف صورۃ عذاب ہوگا اور وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے لیکن ان کو کوئی درد محسوس نہیں ہوگا کیونکہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ان پر صورۃ موت طاری کر دے گا، جس سے ان کے حواس اور مشاعر معطل ہوجائیں گے اور ان کو درد اور عذاب کا بالکل احساس نہیں ہوگا، جیسے سرجری سے پہلے انسان کے حواس کو معطل کردیا جاتا ہے۔
اور اس تقریر پر شعب الایمان رقم الحدیث : ١٣٧٤ کی حدیث سے اشکال دور ہوجاتا ہے، آپ نے فرمایا : اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں گیا تو میں رضائی نہیں ہوں گا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ آپ کو راضی کرے گا اور آپ کے کسی ایک امتی کو بھی دوزخ میں حقیقتاً عذاب نہیں دے گا اور جن مئومنین نے گناہ کئے اور بغیر توبہ کے مرگئے، اور قیامت کے دن آپ کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے فضل محض سے محروم رہے، ان بعض گناہ گار مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مکافات عمل کے قانون اور اپنی وعید کے تقاضے کو پورا کرنے کے لئے کچھ عرصہ کے لئے دوزخ میں ڈالے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رضائی کرنے کے لئے اپنی رحمت سے ان کے حواس اور مشاعر کو سلب کرلے گا، حتیٰ کہ ان کو دوزخ کے عذاب کا بالکل احسان نہیں ہوگا اور یہی اس حدیث کا محمل ہے کہ اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں گیا تو میں راضی نہیں ہوں گا یعنی اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوا تو میں راضی نہیں ہوں گا اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں راضی کرے گا اور آپ کے کسی امتی کو دوزخ کے عذاب میں مبتلا نہیں فرمائے گا پھر جو مسلمان دوزخ میں صورۃ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل محض سے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے ان کو دوزخ سے نکال لے گا، پھر ان کو جنت کے دریائوں میں ڈالا جائے گا اور اہل جنت ان پر آب حیات بہائیں گے اور وہ پھر زندہ ہو کر ترو تازہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
میں نے جو اس حدیث کی تقریر کی ہے، اس سے تمام آیات اور احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے اور کوئی اشکال باقی نہیں رہتا، مجھ سے پہلے کسی مفسر یا محدث نے اس اشکال کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل اور انعام ہے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عنیات ہے۔ والحمد للہ رب العلمین
دنیا اور آخرت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ سے یہ کریمانہ وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کے نفس کو کمال عطا فرمائے گا اور آپ کو اولین اور آخرین کے علوم عطا فرمائے گا، آپ کی نبوت کو غلبہ عطا فرمائے گا اور آپ کے زمانہ میں آپ کو فتوحات عطا فرما کر اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے زمانہ میں فتوحات عطا فرما کر آپ کے دین کو سربلند فرمائے گا اور زمین کے تمام مشارق اور مغارب میں آپ کا پیغام پہنچ جائے گا۔ علامہ ابوحیان نے کہا : اولیٰ یہ ہے کہ آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی عطا حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ اور دیگر ائمہ حدیث نے حضرت ابن عباس سیر ویات کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت میں آپ کو موتیوں کے ایک ہزار محل عطا فرمائے گا، جن کی مٹیمشک ہوگی اور ہر محل میں بہ کثرت حوریں اور خدام ہوں گے۔ (المستدرک ج ٢ ص 526 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث :3943 المتکبۃ العصریہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ) (روح المعانی جز ٢٧ ص 27-288 دارالفکر بیروت، 1417 ھ)
آخرت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزت و کرامت عطا کرنے کے متعلق احادیث
آخرت میں اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور شان کو ظاہر فرمائے گا، اللہ تعالیٰ جلال میں ہوگا اور فرمائے گا :
(المومن : ١٦) آج کس کی بادشاہی ہے ؟ (خود ہی فرمائے گا :) اللہ کی بادشاہی ہے جو واحد قہار ہے۔
اور جب اللہ تعالیٰ جلال میں ہوگا تو کسی کو لب کشائی کی جرأت نہیں ہوگی، لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک حصول شفاعت کے لئے جائیں گے، لیکن سب نفسی نفسی کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کرنے سے گریز کریں گے اور اس سے کلام کرنے سے ڈریں گے اور جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچیں گے تو آپ ان کی شفاعت کی حامی بھریں گے، حدیث میں ہے :
عن ابن عمر (رض) عنھما یوقل ان الناس یصیرون یوم القیامۃ جثاً کل امۃ تتبع نبی ھا یقولون یا فلان اشفع حتی تنتھی الشفاعۃ الی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فذالک یوم یبعثہ اللہ المقام المحمود (صحیح البخاری رقم الحدیث :4718)
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ دو زانو بیٹھے ہوں گے، ہر امت اپنے اپنے نبی کے پاس جائے گی، وہ کہیں گے : اے فلاں ! شفاعت کیجیے حتیٰ کہ یہ (طلب) شفاعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر ختم ہوگی، پس یہی وہ دن ہے جب اللہ آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ موج در موج پھر رہے ہوں گے، پھر وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جا کر کہیں گے : اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجیے، وہ کہیں گے : میرا یہم نصب نہیں، تم حضرت ابراہیم کے پاس جائو، وہ خلیل الرحمان ہیں، پھر لوگ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے، میرا یہ مصنب نہیں، لیکن تم حضرت موسیٰ کے پاس جائو، وہ کلیم اللہ ہیں، پھر لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے : میرا یہ منصب نہیں، تم حضرت عیسیٰ کے پاس جائو، وہ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں، پھر لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے : میرا یہ منصب نہیں لیکن تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائو، پھر لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا : میں ہی شفاعت کے لئے ہوں، میں اپنے رب سے اجازت طلب کرتا ہوں، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی اور مججھے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے کلمات الہام کئے جائیں گے، جن سے میں اللہ کی حمد کروں گا، وہ حمد کے کلمات اس وقت مجھے مستحضر نہیں ہیں، پھر میں ان کلمات سے اللہ کی حمد کروں گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر جائوں تو کہا جائے گا : اے محمد ! اپنا سر اٹھایئے، آپ کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، آپ سوال کیجیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور آپ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، پس میں کہوں گا : اے میرے رب ! میری امت ! میری امت ! پھر کہا جائے گا : آپ جایئے، جس کے دل میں ایک جو کے برابر بھی ایمان ہو، اس کو دوزخ سے نکال لیجیے۔ (الحدیث) یہ مکالمہ اور دوزخ سے امت کو نکالنا چار بار ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :7510 صحیح مسلم رقم الحدیث :193 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :14312 السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :11243)
غور کیجیے انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو سب سے پہلے میں قبر سے نکلوں گا، اور قیامت کے دن جب لوگوں کا وفد آئے گا تو میں ان سے کلام کروں گا اور جب لوگ مایوس ہوں گے تو میں ان کو بشارت دوں گا، اس دن حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ میں ہوگا، اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے زیادہ مکرم میں ہوگا اور میں یہ بات فخر یہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں۔ ) (سنن ترمذی رقم الحدیث :3610 مسند احمد ج ٥ ص 59 سنن دارمی رقم الحدیث :49)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جنت کے حلوں میں سے حلہ پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا اور اس مقام پر میرے علاوہ مخلوق میں سے اور کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦١١)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لئے اللہ سے وسیلہ کا سوال کرو، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وسیلہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، جو صرف کسی ایک شخص کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ شخص میں ہوں گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :3612، مسند حمد ج ٢ ص 265)
حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میں تامام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں یہ بات فخر یہ نہیں کہتا (بیل کہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور اس دن حضرت آدم ہوں یا ان کے سوا جو نبی بھی ہو، وہ میرے ہی جھنڈے کے نیچے ہوگا اور سب سے پہلے مجھ سے ہی زمین شق ہوگی اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں۔ ) ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦١٥ : مسند احمد ج ٣ ص ٢)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب آپس میں کہہ رہے تھے، کس قدر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلقو میں سے کسی کو خلیل بنایا تو حضرت ابراہیم کو بنایا، دوسرے نے کہا، اس سے بھی زیادہ تعجب اس پر ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کلیم بنایا اور کسی نے کہا : حضرت عیسیٰ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں، اور کسی نے کہا : حضرت آدم صفی اللہ ہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس آئے اور فرمایا : میں تمہاری باتیں اور تمہارے تعجب کو سن رہا تھا، بیشک حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں، اور حضرت عیسیٰ کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور حضرت آدم صفی اللہ ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں، سنو ! میں اللہ کا محبوب ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں ہی قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھانے والا ہوں گا اور میں یہ بات فخریہ شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیت کر رہا ہوں) اور میں ہی سب سے پہلے ہوں گے اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں تمام اولین اور آخرین سے زیادہ معزز اور مکرم ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں تمام الوین اور آخرین سے زیادہ معزز اور مکرم ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں۔ ) (سنن ترمذی رقم الحدیث :3616 سنن دارمی رقم الحدیث :48)
حضرت جابر بن عبدا للہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں خاتم النبین ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں) اور میں وہ ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور میں یہ بات فخریہ نہیں کہتا (بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہوں۔ ) (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٠، دارالمعرفہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
یعنی یہ میرے فخر کی چیز نہیں ہے کہ میں رسولوں کا قائد ہوں، فخر تو ان رسولوں کو کرنا چاہیے جنہیں مجھ جیسا قائد مل گیا۔
کعب بیان کرتے ہیں کہ ہر روز فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اپنے پروں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کا احاطہ کرلیتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلاۃ (درو ’) پڑھتے رہتے ہیں حتیٰ کہ جب شام ہوجاتی ہے تو وہ آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اور اتنے ہی اور فرشتے نازل ہوجاتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح آپ پر صلوۃ پڑھتے رہتے ہیں، یہ معمول اسی طرح ہوتا رہے گا حتیٰ کہ زمین آپ سے شق ہوگی اور آپ ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں قبر سے باہر آئیں گے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٥)
القرآن – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 5