أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى ۞

ترجمہ:

اور آپ کو حب کبریاء میں سرشار پایا تو آپ کو تلیغ دین کی طرف متوجہ کیا.

الضحیٰ : ٧ میں فرمایا : اور آپ کو حب کبریاء میں سرشار پایا تو آپ کو تبلغی دین کی رف متوجہ کیا۔

لفظ ” ضال “ کے معنی کی تحقیق اور ائمہ لغت کی تصریحات

اس آیت میں ’ دضال “ کا لفظ ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ اس کے معنی میں لکھتے ہیں :

” ضلال ‘ کا معنی ہے : سیدھے راستے سے منحرف ہونا، اس کی ضد ہدایت ہے، قرآن مجید میں ہے :

(یونس :108) سو جو سیدھے راستے پر چلات ہے تو اس کا سیدھے راستہ پر چلنا اپنے نفع کے لئے ہے اور جو سیدھے راستہ سے انحراف کرتا ہے تو اس کے انحراف کا ضرر اسی پر ہے۔

” ضلال “ سیدھے راستہ سے انحراف کو کہتے ہیں خواہ یہ انحراف عمداً ہو یا سہواً ہو، کم ہو یا زیادہ ہو، کیونکہ وہ سیدھا راستہ جو اللہ اور اس کے رسول کا پسندیدہ ہے، اس پر چلنا سخت مشکل ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

فلا افتحم العقبۃ۔ (البلد : ١١) انسانی نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کی) دشوار گزار گھاٹی پر نہیں چڑھا۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

استقیموا ولن تخصوا۔ یعنی تم مکمل طور پر صراط مستقیم پر نہیں چل سکو گے بہرحال کوشش کرتے رہو۔ (مسند احمد ج ٥ ص 277 المعجم الکبیر ج ٧ ص 26 رقم الحدیث :6270 سنن کبریٰ للبیہقی ج ١ ص 82 الجامع الصغیر رقم الحدیث :994 مشکوۃ رقم الحدیث :292)

حکماء نے کہا ہے کہ کوئی انسان مکمل ہدایت پر نہیں ہوتا، کسی وجہ سے ہدایت پر ہوتا ہے اور کسی وجہ سے ضلالت پر ہوتا ہے، اور جب ’ دضلال “ کا معنی ہے : سدیھے راستہ کو ترک کرنا، خواہ یہ ترک کرنا عمداً ہو یا سہواً کم ہو یا زیادہ، تو کسی شخص سے کوئی بھی کسی قسم کی خطا ہوجائے تو اس کے لئے ” ضلال “ کا لفظ استعمال کرنا صحیح ہے، اس لئے لفظ ’ دضلال “ کی نسبت انبیاء (علیہم السلام) کی طرف بھی ہوتی ہے اور شیاطن کی طرف بھی ہوتی ہے، اگرچہ دونوں کے ضلال میں بہت زیادہ فرق ہے۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا :” ووجدک ضآلافھدی “ (الضحی : ٧) یعنی جب آپ کو نبوت پر فائز کیا گیا تو آپ مکمل شریعت سے آگاہ نہ تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے متعلق ان کے بیٹوں کا یہ قول نقل فرمایا :” انک لفی ضللک القدیم “ (یوسف : ٩٥) آپ اپنی اسی پرانی والہانہ محبت اور وارفتگی میں ہیں اور انکے بیٹوں نے کہا :” انک لفی ضللک القدیم “ (یوسف ٩٥) آپ اپنی اسی پرانی والہانہ محبت اور وارفتگی میں ہیں اور ان کے بیٹوں نے کہا :” ان ابانا لفی ضلل مبین “ (یوسف : ٨) (یوسف اور بنیامین کو محبت میں ترجیح دے کر) ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے اور مصر کی عورتوں نے زلیخا کے متعقل کہا :

(یوسف : ٣٠) اس کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہم اس کو صریح گم راہی میں دیکھتی ہیں۔

(البقرہ : ٢٨٢) تاکہ ان میں سے ایک بھول جائے تو ان میں دوسری اسے یاد دلا دے۔

(الشعرائ : ٢٠) موسیٰ نے کہا : جس وقت میں نے یہ کام کیا (قبطی کو تادیباً گھونسا مارا) اس وقت میں سہو کرنے والوں میں سے تھا۔

لایضل ربی ولا ینسی۔ (طہ : ٥٢) میرا رب نہ غفلت کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔

الم یجعل کیدھم فی تضلیل۔ (الفیل : ٢) کیا اللہ نے ان کی سازش کو معطل اور باطل نہیں کردیا۔ (المفردات ج ٤ ص 388-389 ملحضاً و موضحا مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ ” ضال “ کا معنی ہے : (١) گم راہ (٢) ناواقف (٣) بھولنے والا (٤) محبت میں وارفتہ (٥) غافل (٦) سہو کرنے والا (٧) اور معطل اور باطل۔ علامہ محمد بن ابی بکر بن عبدالقادر رازی حنفی متوفی 660 ھ نے ” ضال “ کے حسب ذیل معانی لکھے ہیں :

(١) گم راہ (٢) ضائع ہونے والا (٣) ہلاک ہونے والا (٤) راستہ گم کرنے والا (٥) راستہ نہ جاننے والا۔ (مختار الصحاح ص ٢٣١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

’ دضال “ ہدایت یافتہ کی ضد ہے یعنی (١) گم راہ (٢) کسی چیز کو گم کرنے والا (٣) کسی چیز کو نہ پہچاننے والا (٤) کسی چیز کو گرانے والا (٥) ضائع ہونے والا (٦) گم شدہ چیز (٧) زائل ہونے والا (٨) بھولنے والا (٩) ہلاک ہونے والا (١٠) باطل (١١) کسی چیز میں گم یا غائب ہونے والا۔ (لساب العرب ج ٩ ص 56-58، ملخصاً مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ٢٠٠٣ ئ)

علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی 817 ھ لکھتے ہیں :

” ضال “ کا معنی ہے : ہدایت یافتہ کیضد یعنی گم راہ، گم ہونے والا، غائب ہونے والا، ضائع ہونے والا، چھپ جانے والا، باطل۔ (قاموس ص 1024 ء مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، 1424 ھ)

سید محمد مرتضیٰ زبیدی مصری متوفی 1205 ھ نے ’ دقاموس ‘ کی شرح میں مزید یہ معنی لکھتے ہیں :

محبت میں وارفتہ، سہو کرنے والا، بھولنے والا۔ (تاج العروس ج ٧ ص ٤١١، داراحیاء التراث اعلربی، بیروت)

ان معانی میں سے بعض معانی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منصب نبوت اور آپ کی شان کے لائق نہیں ہیں جیسے گم راہ، ضائع ہونے والا، ہلاک ہونے والا، معطل اور باطل، اور دوسرے معانی مثلاً محبت میں وارفتہ، ناواقف، غافل، سہو کرنے والا، بھولنے والا راستہ گم کرنے والا، راستہ نہ جاننے والا، کسی چیز میں گم ہونے والا اور غائب ہونے والا، ان معانی کو مفسرین نے متعدد تاویلات کے ساتھ اختیار کیا ہے اور ان معانی کے علاوہ کچھ اور معانی کو بھی محاورات عرب سے مستنبط کر کے اختیار کیا ہے، ہم اس بحث کے ساتھ اختیار کیا ہے اور ان معانی کے علاوہ کچھ اور معانی کو بھی محاورات عرب سے مستنبط کر کے اختیار کیا ہے، ہم اس بحث کے ساتھ اتخیار کیا ہے اور ان معاین کے علاوہ کچھ اور معانی کو بھی محاورات عرب سے مستنبط کر کے اختیار کیا ہے، ہم اس بحث میں امام ابو منصور ماتریدی متوفی 333 ھ، علامہ الماوردی متوفی 450 ھ امام رازی متوفی 606 ھ اور علامہ قرطبی متوفی 668 ھ کے اختیار کردہ معانی ذکر کر رہوے ہیں۔

امام ابو منصور ماتریدی کی لفظ ’ دضال ‘ میں توجیہات

امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حفنی متوفی 333 ھ نے اس آیت کے حسب ذیل محامل ذکر کئے ہیں :

(١) اگر (بہ فرض محال) اللہ تعالیٰ آپ کو دین کی ہدایت نہ دیتا اور آپ کو اس کی توفیق نہ دیتا تو وہ ضرور آپ کو غیر ہدایت یافتہ پاتا، کیونکہ آپ گمراہ قوم میں پیدا ہوئے تھے، اس قوم کو کسی نے ہدیات نہیں دی تھی اور کسی نے اس کو اللہ کی توحید کی طرف دعوت نہیں دی تھی، لیکن اللہ نے آپ کو ہدیات دی اور توحید کی رہنمائی کی، سو اس نے آپ کو گمراہ اور غیر ہدایت یافتہ نہیں بنایا، اس کی نظیر یہ آیت میں ہیں :

(آل عمران : ١٠٣) اور تم لوگ آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے، سو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔

(بنی اسرائیل : ٧٤) اگر بالرفض ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو ممکن تھا کہ آپ ان مشرکین کی طرف قدرے مائل ہوجاتے۔

کیونکہ انسان اور بشر کی طبیعت میں جلد اور آسانی سے ملنے والی دنیا کی لذتوں اور راحتوں کی طرف میلان ہے، اس لئے ہوسکتا تھا کہ آپ دنیا کی طرف مائل ہوجاتے لیکن اللہ عزو جل نے اپنے فضل اور لطف سے آپ کو معصوم بنایا اور آخرت کی نعمتوں پر آپ کو ثابت قدم رکھا اور دنیا کی عاضری لذتوں سے متنفر بنایا۔ اس بنئا پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر بالفرض اللہ آپ کو ہدیات نہ دیتا تو وہ ضرور آپ کو غیر ہدایت یافتہ پاتا لیکن اس نے آپ کو ہدایت دی اور آپ کو گم راہ نہیں پایا۔

(٢) ” ضال “ کا معنی ہے : ناواقف۔ اللہ نے آپ کو ہدایت سے ناواقف پایا اور یہ ناواقفیت آپ کے کسب اور اتخیار سے نہیں تھی، لیکن انسان اپنی اصل خلقت میں ناواقف ہے اور اس آیت میں ” ضلال “ کا معنی ناواقفیت ہے کیونکہ مخلوق اپنے ابتدائی احوال میں ناواقف ہوتی ہے، وہ اپنے کسب اور اتخیار سے ناواقف نہیں ہوتی کہ اس کی مذمت کی جائے اور نہ وہ اپنے اختیار سے عالم ہوتی ہے کہ اس کی تحسین کی جائے لیکن وہ اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے ناواقف ہوتی ہے کیونکہ اس وقت اس کے پاس حصول علم کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور اس ناواقفیت میں اس کے کسب اور اختیار کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے، لیکن جب اس کو حصول علم کے آلات میسر ہوجائیں، پھر بھی وہ اپنے اختیار سے علم حاصل نہ کرے تو پھر اس کی مذمت کی جاتی ہے اور علم حاصل کرے تو پھر اس کی تحسین کی جاتی ہے۔

اس تقریر کی بناء پر اس آیت کا معنی یہ ہے : اللہ نے آپ کو اصل خلقت کے اعتبار سے حالت صغر میں ناواقف پایا، سو آپ کو آپ کے علم کی طرف ہدایت دی اور اس کی نظریہ یہ آییں ہیں :

(الشوری : ٥٢) (ہمارے وحی کرنے سے پہلے ) آپ از خود اپنی قعل سے نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کی تفصیل کیا ہے، لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہیں۔

(العنکبوت : ٤٨) نزول قرآن سے پہلے آپ نہ کسی کتاب کو پڑھتے تھے اور کسی کتاب کو اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ یہ باطل پرست لوگ شکوک اور شبہات میں پڑجاتے۔

یعنی ہمارے وحی کرنے اور ہمارے علم عطا کرنے سے پہلے ازخ ود اپنی عقل سے دین کا اور شریعت کے احکام کا علم نہ تھا اور جب ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور آپ کو علم عطا کرنے سے پہلے از خود اپنی عقل سے دین کا اور شریعت کے احکام کا علم نہ تھا اور جب ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور آپ کو علم عطا فرمایا تو آپ کو ایمان کی اور کتاب کی تفصیلات کا علم ہوا۔

(٣) ” ضال “ کا معنی ہے : غافل۔ اس آیت کا معنی ہے کہ اللہ نے آپ کو انبیاء متقدمین اور صالحین کی خبروں سے غافل پایا تو اللہ نے آپ کو ان خبروں سے مطلع فرمایا، جیسا کہ اس آیت میں ارشاد فرمایا :

(یوسف : ٣) ہم آپ کے سامنے بہترین قصہ بیان کرتے ہیں جس کی ہم نے آپ کی طرف اس قرآن سے وحی کی ہے اور بیشک آپ اس وحی سے پہلے اس قصہ سے غافل تھے۔

(٤) آپ کو قرآن مجید اور اس کے مضامین سے ناواقف پایا تو آپ کو ان کا علم عطا فرمایا۔

بعض علماء نے کہا : آپ کو گم راہ قوم میں پایا تو آپ کو ہدایت دی یعنی ان گم راہ لوگوں میں سے آپ کو باہر نکالا، اگر آپ کو ان لوگوں سے باہر نہ نکالتا تو وہ آپ کو اپنی گم راہی کی طرف دعوت دیتے اور آپ کو اس پر مجبور کرتے اور اس گمراہی کے سوا آپ سے راضی نہ ہوتے۔

(٥) آپ کو فرائض نبوت سے ناواقف پایا تو آپ کو ان کی ہدایت دی۔ (تاویلات اہل السنتہ ج ٥ ص 477-478 مئوسستہ الرسالتہ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

علامہ الماوردی کی لفظ ” ضال “ میں توجیہات

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی 450 ھ لکھتے ہیں : اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ’ دضلال “ کا معنی ہے : معرفت کا نہ ہونا، ابن عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کو حق کی معفرت نہ تھی تو آپ کو حق کی ہدایت دی۔

(٢) امام طربی نے کہا کہ ’ دضال “ کا معنی ہے : ناواقف، یعنی آپ کو نبوت سے ناواقف پایا تو آپ کو نبوت کی طرف ہدایت دی۔

(٣) سدی نے کہا کہ ” ضلال “ کی نسبت قوم کی طرف ہے، یعنی آپ کو گمراہ قوم میں پایا تو ان کو ہدیات دینے کی آپ کو رہنمائی فرمائی۔

(٤) آپ کو ہجرت سے ناواقف پایا تو آپ کو ہجرت کی طرف ہدایت دی۔

(٥) ” ضال “ کا معنی ہے : طالب، یعنی آپ کو قبلہ کا طالب پایا تو آپ کو قبلہ کی طرف ہدایت دی۔

(٦) ” ضال “ کا معنی ہے : متحیر، یعنی آپ کو کتاب کے بیان کرنے میں متحیر پایا تو آپ کو اس کے بیان کی ہدایت دی۔

(٧) ” ضال “ کا معنی ہے : بھولنے والا، یعنی آپ کو بھولنے والا پایا تو آپ کو یاد رکھنے کی ہدایت دی۔

(٨) ” ضال “ کا معنی ہے : محبت رکھنے والا، یعنی آپ کو ہدایت سے محبت رکھنے والا پایا تو آپ کو ہدایت دی۔ (النکت والعیون ج ٦ ص ٢٩٤)

امام رازی کی لفظ ” ضال “ میں توجیہات

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

جمہور کے نزدیک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لحظہ کے لئے بھی کفر نہیں کیا، قرآن مجید میں ہے :

ماضل صاحبکم وما غویٰ ۔ (النجم : ٢) تمہارے پیغمبر نے نہ راق حق کو گم کیا نہ وہ ٹیڑھے راستہ پر چلے۔ اور انہوں نے اس آیت کے متعدد محامل بیان کئے ہیں :

(١) ” ضال “ کا معنی غافل ہے۔ حضرت ابن عباس، حسن بصری، ضحاک اور شہر بن حوشب نے کہا : آپ کو احکام شریعت (کی تفصیل) سے غافل پایا تو آپ کو ان کی ہدایت دی اور اس کی تاپید ان آیات میں ہے :” ماکنت تدری ما الکتب ولا الیمان “ (الشوری : ٥٢) وان کنت من قبلہ لمن الغفلین۔ “ (یوسف : ٣)

(٢) ” ضال “ کا معنی ہے : گم شدہ۔ آپ کی دائی حلیمہ آپ کو آپ کے دادا کی طرف واپس لے جانے لگیں تو انہوں نے آپ کو گم پایا حتیٰ کہ وہ ھبل نامی بت کے پاس گئیں اور اس سے شکایت کی تو وہ سب بت گرپڑے اور یہ آواز سنائی دی : اس بچے کے ہاتھوں ہماری ہلاکت ہوگی۔

(٣) آپ اپنے دادا عبدالمطلب سے گم ہوگئے تھے تو ابوجہل آپ کو ان کے پاس لایا، جس طرح حضرت موسیٰ نے فرعون کے گھر پرورش پائی۔

(٤) آپ حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کے ساتھ جا رہے تھے، ایک کافر نے آپ کے اونٹ کی مہار پکڑی اور آپ سے راستہ گم ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو آدمی کی شکل میں بھیجا اور آپ کو قافلہ کے ساتھ ملا دیا۔

(٥) جب دودھ پانی میں مخلوط ہوجائے تو اہل عرب کہتے ہیں :” ضل الماء فی اللبن “ (پانی دودھ میں گم ہوگیا) اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفر کے معاشرہ میں مخلوط پایا تو آپ کو قوت دے دی اور آپ کے دین کو غالب کردیا۔

(٦) ” ضال “ کا معنی ہے : منفرد اور یکتا۔ جنگل میں جو درخت تنہا اور منفرد ہو، اہل عرب اس کو ’ دشجرۃ ضالۃ “ کہتے ہیں، اس اعتبار سے اس آیت میں آپ کو ” ضال “ فرمایا ہے یعنی دنیا کے یہ متام شہر ایسے جنگل کی طرح ہیں جس میں سوائے آپ کے کوئی ایسا درخت نہ تھا جس میں توحید کے پھول کھل رہے ہوں اور معرفت الٰہی کے پھل بہار دے رہے ہوں، سو اس کے کوئی ایسا درخت نہ تھا، جس میں توحید کے پھول کھل رہے ہیں اور معرفت الٰیہ کے پھل بہار دے رہے ہوں، سو اس جہل اور کفر کے جنگل میں آپ ہی منفرد درخت تھے تو میں نے آپ سے مخلوق کو ہدیات دی، اس کی نظری یہ حدیث ہے :

الحکمۃ ضالۃ الحکیم۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث :2687) حکمت حکیم کا منفرد ثمر بار درخت ہے

(٧) ” ضال “ کا معین ہے : معرفت سے عاری۔ جب آپ ایام طفولیت میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” ضال “ پایا یعنی علوم اور معارف سے خالی پایا، نہ کہ گمراہانہ عاقئد کا حامل، تو آپ میں عقل، معرفت اور ہدایت پیدا فرمائی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا :

(النحل : ٧٨) اللہ نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

(٨) اس آیت میں ” ضال “ کا اسناد آپ کی قوم کی طرف ہے۔ بعض اوقات قوم کے سردار سے خطاب ہوتا ہے اور اس سے مراد اس کی قوم ہوتی ہے، پس اس آیت کا معنی ہے : آپ کی قوم کو گمراہ پایا تو اس کو ہدیات دی۔

(٩) ” ضال “ سے مراد ہے : تنہا اور الگ تھلگ۔ آپ کو اپنی قوم سے الگ تھلگ اور غیر مخلوط پایا تو آپ کو ان کے ساتھ میل جول کی طرف متوجہ کیا تاکہ آپ ان کو ہدیات پر لائیں۔

(١٠) ” ضال “ کا معنی متحیر ہے، آپ مکہ سے ہجرت کرنے کے معاملہ میں متحیر تھے اور اپنے رب کے اذن کے منتظر تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کرنے کی اجازت دی اور مدینہ کی طرف ہجرت کی ہدایت دی۔

(١١) آپ نماز کے قبلہ کے معاملہ میں متحیر اور مضطرب تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ بیت اللہ کو آپ کا قبلہ بنایا جائے گا یا نہیں تو اللہ نے فرمایا :

فلنولبیک قبلۃ ترضھا (البقرہ : ١٤٤) پس ہم آپ کو ضرور اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس کی طرف منہ کرنے پر آض راضی ہیں۔

(١٢) ” ضال “ کا معنی محبت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو محبت کرنے والا پایا تو اس نے آپ کو احکام شرعیہ کی ہدایت دی تاکہ آپ ان احکام پر عمل کر کے اپنے محبوب یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں۔

(١٣) ” ضال “ کا معنی ناواقف ہے۔ آپ دنیاوی امور سے ناواقف تھے اور صرف دین سے واقف تھے، تو اللہ نے دین کے ساتھ ساتھ آپ کو دنیاوی امور سے بھی واقف کیا اور آپ نے تجارت میں نفع حاصل کیا۔

(١٤) ” ضال “ سے مراد ہے، مظلوم۔ آپ اپنی قوم کا ظلم برداشت کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوی کردیا اور آپ کو ہدایت دی حتیٰ کہ آپ ان پر حاکم ہوگئے۔

(١٥) آپ آسمانوں کے رساتوں سے ناواقف تھے، شب معراج اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان راستوں کی ہدایت دی۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 197-198 داراحیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ قرطبی کی لفظ ” ضال “ کے بارے میں توجیہات

(١) ” ضال “ کا معنی ناوقاف ہے، شب معراج جب جبریل آپ کا ساتھ چھوڑ گئے اور آپ آگے کے راستے سے ناواقف تھے تو اللہ عزوجل نے آپ کو عرش کی طرف ہدایت دی۔

(٢) ” ضال “ کا منی ناواقف ہے، یعنی آپ کو اپنے نفس کی معرفت نہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نفس اور احوال کی معرفت دی۔

(٣) ” ضال “ کا معنی ہے : تنہا۔ آپ تنہا دین اسلام پر تھے، آپ کے ساتھ کوئی نہ تھا تو اللہ عزوجل نے آپ کے سبب سے مخلوق کو اپنی طرف ہدایت دی۔

(٤) آپ کی قوم آپ کے مرتبہ سے ناواقف تھی، تو اللہ عزوجل نے آپ کی قوم کو آپ کے مرتبہ کی طرف ہدایت دی۔

(٥) ” ضال “ کا معنی ہے : متحیر۔ آپ اللہ کی ذات کی معرفت میں متحیر اور سرگرداں تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی معرفت کی طرف ہدایت دی۔ (الجامع لاحکام القرآن ج 85-87 دارالفکر بیروت)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اور صدر الافاضل کی توجیہات

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ نے اس آیت کے ترجمہ میں لکھا :

اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی :

غیب کے اسرار آپ پر کھول دیئے اور علوم ماکان ومایکون عطا کئے، اپنی ذات وصفات کی معرفت میں سب سے بلند مرتبہ عنیات کیا۔

مفسرین نے ایک معنی اس آیت کے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا وار فتہ پایا کہ آپ اپنے نفس اور اپنے مراتب کی بھی خبر نہیں رکھتے تھے تو آپ کو آپ کی ذات وصفات اور مراتب و درجات کی معرفت عطا فرمائی۔ (خزائن العرفان حاشیہ کنزالایمان ص 953-954 تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی)

مصنف کی توجیہ

ہم نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے :

اور آپ کو حب کبریاء میں سرشار پایا تو آپ کو تبلیغ دین کی رف متوجہ کیا۔

محبت کا کمال یہ ہے کہ محب محبوب کے جلوئوں میں اس طرح کھو جائے کہ وہ محبوب کی ذات کے سوا ہر چیز کو فراوش کر دے، حتیٰ کہ اسے اپنی ذات کا بھی احساس نہ رہے اور سارے عالم کو بلکہ خود اپنی ذات کو بھی بھول جائے اور محبت میں سرشاری اور وارفتگی کے عالم میں سوا ذات محبوب کے اور کوئی چیز پیش نظر نہ ہو اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ سے کامل محبت تھی اور حسن الوہیت کے جمال میں آپ ایسے محو تھے کہ آپ کو اپنی ذات کا بھی احساس نہ تھا، بھلا کئانتا کی طرف کیا توجہ ہوتی، پس اللہ تعالیٰ نے ہم بےکسوں پر کرم فرمایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود اپنی ذات اور ہماری طرف متوجہ کیا، تاکہ آپ مخلوق کو تبلیغ دین کریں اور انہیں گم راہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنیوں میں لائیں، بےکسوں کا کس اور بےسہاروں کا سہارا بنیں، گم کردہ راہ لوگوں کو ہدایت کا مینار بنائیں اور تحت الثریٰ میں گرنے والوں کو اوج ثریا تک پہنچا دیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 7