کتاب الغسل باب 12 حدیث 267
۱۲ – بَابُ إِذَا جَامَعَ ثُمَّ عَادَ ،وَمَنْ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ
جب جماع کیا، پھر دوبارہ جماع کیا اور جس نے ایک غسل سے اپنی تمام ازواج سے جماع کیا
اس باب میں اس شخص کا حکم بیان گیا ہے، جس نے ایک بار جماع کرنے کے بعد دوسری بار جماع کیا اور جس نے ایک غسل کے ساتھ ایک رات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ جماع کیا۔
ایک رات میں تمام ازواج کے ساتھ جماع کرنے پر اس حدیث میں تصریح ہے:
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنی تمام ازواج کے پاس گئے، اس کے پاس جاکر غسل کرتے اور اس کے پاس جاکر غسل کرتے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ ایک غسل ہی کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا: یہ( طریقہ) زیادہ ستھرا زیادہ پاکیزہ اور زیادہ طاہر ہے۔ (سنن ابوداؤد :۲۱۹ سنن ابن ماجه 290، مسند احمد : 23923، دار الفکر )
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص ایک بار جماع کرنے کے بعد دوسری بار جماع کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ درمیان میں غسل کرے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ اس پر درمیان میں غسل کرتا واجب نہیں ہے اور اس کی تصریح اس حدیث میں ہے:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے، پھر وہ دوبارہ جانا چاہے تو دونوں جماع کرنے کے درمیان وضوء کریں۔
(صحیح مسلم : 308، سنن ابوداؤد : ۲۲۰ سنن ترمذی : ۱۴۱ سنن نسائی: ۲۶۲ مسند احمد: ۱۱۱۶۱ دار الفکر )
ابواب سابقہ کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ ابواب سابقہ میں غسل جنابت کے احکام بیان کیے گئے تھے اور اس باب میں غسل جنابت کا بھی ذکر ہے اور اس کے سبب کا بھی بیان ہے۔
٢٦٧- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِي ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بَنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَكَرْتُهُ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ ، كُنتُ أطيب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ، فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَحُ طِيبًا.طرف الحدیث : ۲۷۰)
صحیح مسلم : ۱۹۲ الرقم المسلسل : ۲۷۹۶ سنن نسائی: ۴۱۴ – ۴۲۸، سنن ابن ماجہ (2926، مسند الحمیدی : 210 المنتقی: ۴۱۴، مسند ابویعلی : ۴۷۱۲ صحیح ابن خزیمہ: ۲۵۸۱ سنن بیہقی ج ۵ ص 34، السنن الکبری للنسائی: ۴۱۵۹ سنن دار قطنی ج ۲ ص 274، حلیة الاولیاء ج ۷ ص ۲۴۶ مسند احمد ج۶ ص ۳۹ طبع قدیم، مسند احمد ج 40 ص ۱۳۶ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی اور یحی بن سعید نے حدیث بیان کی از شعبه از ابراہیم بن محمد بن المنتشر از والد خود، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمان پر رحم فرمائے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ تمام ازواج کے پاس گھومتے تھے پھر صبح احرام باندھتے تھے اور آپ کے جسم سے خوشبو آرہی ہوتی تھی۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر آپ تمام ازواج کے پاس گھومتے تھے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن بشار، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) ابن ابی عدی ان کا نام محمد بن ابراہیم ہے، یہ ۱۹۴ھ میں بصرہ میں فوت ہوگئے تھے۔
(۳) یحی بن سعید القطان
(۴) شعبہ بن الحجاج
(۵) ابراہیم بن محد المنتشر
(۶) محمد مذکور کے والد
(۷ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا۔
(عمدة القاری ج ۳ ص ۳۱۷-۳۱۶)
احرام سے پہلے جسم پر خوشبو لگانے میں مذاہب
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے جسم پر خوشبو لگائی جائے، خواہ وہ خوشبو احرام باندھنے کے بعد جسم سے آتی رہے احرام باندھنے کے بعد خوشبو کا لگانا حرام ہے یہ امام شافعی ابویوسف امام احمد بن حنبل اور داؤد وغیرہم کا مذہب ہے جماعت
صحابہ تابعین، جمہور فقہاء اور محدثین کا یہی مذہب ہے صحابہ میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابن عباس، حضرت ابن الزبیر حضرت معاویہ حضرت عائشہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہم کا یہی مذہب ہے۔
دوسرے فقہاء نے اس سے منع کیا ہے امام مالک اور امام محمد بن الحسن کا یہی مذہب ہے صحابہ کی ایک جماعت اور تابعین کا بھی یہ موقف ہے، بعض علماء نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ خوشبو ازواج کے لیے تھی، احرام کے لیے نہیں تھی اور حدیث میں عبارت مقدم اور مؤخر ہے اصل میں عبارت یوں ہے: آپ ازواج کے پاس گھومتے تھے اور آپ سے خوشبو آرہی ہوتی تھی، پھر صبح کو آپ احرام باندھتے تھے اور بعض روایات میں اس طرح سے ہے اور غسل کرنے سے خوشبو زائل ہوجاتی ہے، خصوصاً اس صورت میں کہ بعض احادیث کے مطابق آپ ہر زوجہ کے پاس جانے کے بعد غسل کرتے تھے ۔
علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ یہ خوشبو ایک تیل کی تھی غسل کرنے سے تیل کا اثر زائل ہوجاتا اور خوشبو باقی رہ جاتی ۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جماع کے بعد فورا غسل کرنا واجب نہیں ہے غسل کرنا اس وقت واجب ہوتا ہے، جب انسان نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۱۹-۳۱۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
دوسری بار جماع کرنے سے پہلے آیا وضوء کرنا واجب ہے یا نہیں؟
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک غسل کے ساتھ متعدد بیویوں کے ساتھ جماع کرنا جائز ہے اختلاف اس میں ہے کہ آیا ایک بار جماع کرنے کے بعد دوسری بار جماع کرنے سے پہلے وضوء کرنا واجب ہے یا نہیں؟ حضرت عمر بن الخطاب سے یہ روایت ہے کہ جب دوبارہ جماع کرے تو اس سے پہلے وضوء کرے، عطاء اور عکرمہ کا بھی یہی قول ہے اور حسن بصری یہ کہتے تھے کہ اگر وہ وضوء کرنے سے پہلے دوسری بار جماع کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے امام مالک اور اکثر فقہاء کا یہی مذہب ہے کہ اس پر وضوء کرنا واجب نہیں ہے۔ امام احمد نے کہا: اگر اس نے وضوء کرلیا تو وہ میرے نزدیک اچھا ہے اور اگر اس نے وضوء نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے اسحاق نے کہا: دوسری بار جماع کرنے سے پہلے شرم گاہ کو دھونا ضروری ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک شب میں تمام ازواج کے پاس گئے، اس کی وجوہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک رات میں تمام ازواج کے پاس گئے اس کی وجوہ حسب ذیل ہیں:
(1) آپ پر ازواج کی باریاں مقرر کرنا واجب نہیں تھا، اسی وجہ سے جب آپ سفر پر جاتے تو قرعہ اندازی کرکے کسی زوجہ کو ساتھ لے جاتے، ورنہ جس کی باری ہوتی اس کو لے کر جاتے۔
(۲) ابو عبید نے کہا: یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے ازواج مطہرات سے اجازت حاصل کرلی ہو جیسا کہ آپ نے بیماری کے ایام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزارنے کے لیے باقی ازواج سے اجازت حاصل کرلی تھی۔
(۳) مہلب نے کہا کہ ہوسکتا ہے، جس دن تمام ازواج کی باریاں ختم ہو گئی تھیں، اس دن آپ تمام ازواج کے پاس گئے اور اس دن کے بعد سے آپ نے از سر نو ازواج مطہرات کی باریاں مقرر فرمادیں۔
بعض علماء غسل میں ملنے کو واجب نہیں قرار دیتے، وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے جسم کو ملا ہوتا تو اس سے خوشبو نہ پھوٹتی ۔ امام طحاوی نے کہا ہے کہ ممکن ہے آپ نے جسم کو ملا ہو اور جب خوشبو زیادہ لگائی ہوئی ہو تو مل کر غسل کرنے سے خوشبو کے نشانات تو مٹ جاتے ہیں، لیکن اس کی چمک اور خوشبو باقی رہتی ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ص ۳۹۲-391 دارالکتب العالمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ )
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۷۲۰ – ج ۳ ص ۲۹۵ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
احرام سے پہلے بدن پر خوشبو لگانے میں مذاہب ائمہ
احناف کی مؤید احادیث
(۳) محرم کے پھول سونگھنے میں مذاہب اربعہ
) کیا ازواج مطہرات میں دنوں کی مساوی تقسیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی
جن ازواج سے نکاح اور رخصتی ہوئی ان کی تعداد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعدد ازواج پر اعتراض کے جوابات ۔
(شرح صحیح مسلم ج ۳ ص ۳۰۶ – ۳۰۲)
نوٹ : چونکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر تفصیلی بحث شرح صحیح مسلم میں کردی گئی ہے اس لیے ہم یہاں” نعمتہ الباری” میں اس بحث کا اعادہ نہیں کر رہے۔