۲۷۱ – حَدَّثَنَا ادم قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثنا  الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَن الْاَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانِي أَنْظُرُ إِلَى وَبَيْصِ الطَّيِّبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِم.

اطراف الحدیث : ۱۵۳۸ – ۵۹۱۸ – ۵۹۲۳

صحیح مسلم : 1190 الرقم المسلسل : ۲۷۸۶، سنن ابوداؤد : ۱۷۴۲ سنن نسائی: 2695، سنن الکبری للنسائی: 3673، صحیح ابن حبان : ۱۳۷۶، سنن بیہقی ج ۵ ص ۳۴ مسند احمد ج ۶ ص ۳۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۱۰۷ – ج ۴۰ ص ۱۲۹ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الحکم نے حدیث بیان کی از ابراهیم از اسود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں، گویا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ کی جگہ میں خوشبو کی چمک کو دیکھتی تھی اور آپ حالت احرام میں ہوتے تھے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس جملہ میں ہے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ کی جگہ میں خوشبو کو دیکھتی تھی۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگانے میں امام مالک کا مذہب

قاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ مالکی اندسی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں:

امام ابوحنیفہ، امام شافعی، فقہاء محدثین اور صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے جسم پر خوشبو لگانا جائز ہے اور اگر وہ خوشبو احرام باندھنے کے بعد بھی آتی رہے تو یہ بھی جائز ہے اور صحابہ اور تابعین کی دوسری جماعت اور امام مالک الزہری اور امام محمد بن الحسن نے اس سے منع کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جسم پر خوشبو عورتوں سے جماع کے لیے لگائی جاتی تھی ( عرب میں ایک قسم کی خوشبو دار کریم ہوتی ہے یا خوشبودار تیل ہوتا ہے، جس کو جماع سے پہلے پورے جسم پر لگاتے ہیں ہمارے ہاں اس کی جگہ ابٹن لگانے کا رواج ہے ) حضرت عائشہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر یہ خوشبو ازواج سے جماع کے لیے لگاتی تھیں پھر آپ غسل کرتے تھے اور وہ خوشبو چلی جاتی تھی پھر آپ احرام باندھتے تھے خاص طور پر اس لیے کہ آپ ہر زوجہ سے جماع کے بعد غسل کرتے تھے پھر اتنے غسل کرنے کے بعد کون سی خوشبو باقی رہ جاتی تھی؟ اور حضرت عائشہ نے جو فرمایا ہے: صبح کو آپ کے جسم سے خوشبو آرہی ہوتی تھی۔ اس کا معنی ہے: آپ کے غسل کرنے اور احرام باندھنے سے پہلے آپ کے جسم سے خوشبو آرہی ہوتی تھی اور وہ جو شعبہ کی روایت میں ہے: آپ حالت احرام میں صبح کرتے اور آپ کے جسم سے خوشبو آرہی ہوتی اس میں تقدیم اور تاخیر ہے اور اس کا معنی اس طرح ہے: آپ اپنی ازواج کے پاس جاتے اور آپ سے خوشبو آرہی ہوتی ‘ پھر آپ صبح کو احرام باندھتے اور وہ جو دوسری حدیث میں حضرت عائشہ نے فرمایا ہے: گویا کہ میں آپ کی مانگ کی جگہ میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی اور آپ احرام باندھے ہوئے ہوتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خوشبودار تیل کا جسم اور اس کی خوشبو غسل سے ختم ہوجاتی تھی اور اس تیل کا اثر اور اس کی زینت ہالوں میں رہ جاتی تھی، جس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دیکھتی تھیں اور محرم کے بالوں میں تیل لگارہے اور اس کی خوشبو نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ہے جب کہ اس نے احرام باندھنے سے پہلے تیل لگایا ہو ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 4 ص ۱۹۰ – ۱۸۸ ملخصاً دار الوفا ، ۱۴۱۹ھ )

احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگانے میں ائمہ ثلاثہ کا مذہب

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جب احرام باندھنے کا ارادہ ہو تو جسم پر خوشبودار تیل یا خوشبو دار کریم لگانا مستحب ہے اور اگر احرام باندھنے کے بعد وہ خوشبو آتی رہے تو کوئی حرج نہیں ہے صرف احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا منع ہے یہ صحابہ کرام میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابن عباس، حضرت ابن الزبیر حضرت معاویہ حضرت عائشہ اور حضرت ام حبیبہ کا مذہب ہے اور فقہاء تابعین اور محدثین کا مذہب ہے امام شافعی امام ابوحنیفہ امام احمد بن حنبل، ثوری، ابو یوسف اور داؤد وغیرہم کا مذہب ہے۔

قاضی عیاض نے جو اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت عائشہ ازواج سے جماع کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر خوشبو لگاتی تھیں، اس تاویل کو حضرت عائشہ کا یہ قول رد کرتا ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر آپ کے احرام کے لیے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگاتی تھی اور بیت اللہ کے طواف سے پہلے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگاتی تھی۔

(صحیح مسلم: ۱۸۹ الرقم المسلسل :۲۷۸۰)

اور یہ تاویل اس لیے بھی مردود ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: گویا کہ میں رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی جب آپ تلبیہ پڑھ رہے ہوتے تھے ۔ (صحیح مسلم: الرقم السلسل (۲۷۸۸) ایک اور حدیث میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھتی تھی اور آپ محرم ہوتے تھے ۔ (صحیح مسلم: الرقم السلسل : ۲۷۹۳)

ان صریح احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ قاضی عیاض مالکی نے جو ان احادیث کی تاویل کی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

( صحیح مسلم بشرح النووی ج ۵ ص 3211،3212 ملخصا، موضحا ومخرجا مکتب نزار مصطفی، مکه مکرمه 1417ھ)

علامہ ابوسلیمان حمد بن محمد خطابی متوفی ۳۸۸ھ نے لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک احرام باندھنے سے پہلے جسم پر خوشبو لگانا جائز ہے، خواہ اس کی خوشبو احرام باندھنے کے بعد بھی آتی رہے۔ (معالم السنن ج ۲ ص ۲۸۷ مع مختصر المنذری دار المعرفة بیروت)

علامہ بدرالدین عینی نے علامہ خطابی اور علامہ نووی کی عبارات کا خلاصہ لکھا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۲۸)