کتاب الغسل باب 20 حدیث 278
sulemansubhani نے Monday، 29 December 2025 کو شائع کیا.
۲۰ – بَابُ مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا وَحْدَهُ فِي الْخَلْوَةِ ، وَمَنْ تَسَتَرَ فَالتَّسَتُّرُ أَفْضَلُ
جس نے تنہائی میں برہنہ غسل کیا اور جس نے ستر کیا تو ستر افضل ہے
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ ہر چند کہ تنہائی میں برہنہ غسل کرنا جائز ہے، لیکن اس میں بھی تہبند باندھ کر نہانا افضل ہے۔
سند ضعیف ہے یہ حدیث مروی ہے کہ پانی میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو کیونکہ پانی میں بھی مخلوق ہے۔
(اتحاف السادة المتقين ج ۲ ص ۴۰۱)
علامہ ابن بطال نے اپنی سند کے ساتھ بعض اہل شام سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس سمندر میں یا دریا میں بغیر تہبند کے غسل نہیں کرتے تھے، جب ان سے اس کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے : اس میں بھی ایک مخلوق ہے۔ (شرح ابن بطال ج اص ۳۹۹)
وَقَالَ بَهْرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيِي مِنْهُ مِنَ النَّاسِ.
اور بہر نے از والد خود از جد خود، یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی بہ نسبت اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے۔
اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے:
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم اپنی شرم گاہوں کو کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ نے فرمایا: اپنی شرم گاہ کو ہر ایک سے چھپاؤ ماسوا اپنی بیوی کے اور اپنی باندی کے، میں نے عرض کیا : جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں؟ آپ نے فرمایا: اگرتم یہ کر سکتے ہو کہ تمہاری شرم گاہ کو کوئی نہ دیکھے تو اس کو کوئی نہ دیکھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! جب ہم میں سے کوئی شخص اکیلا ہو؟ آپ نے فرمایا : لوگوں کی بہ نسبت اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے ۔ (سنن ابوداؤد : 4017، سنن ترمذی: ۲۷۹۴-۲۷۶۹ سنن ابن ماجہ : ۱۹۲۰، المستدرک ج ۲ ص ۱۸۰ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۹۹ – ج ۲ ص ۲۲۵ – ج ۷ ص 94، تاریخ بغداد : ۲۶۱۱۳، مسند احمد ج ۵ ص ۳،۴)
۲۷۸- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنْ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَر، عَنْ هَمَّام بن منبه ، عَنْ ابی ھریرہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةٌ ، يَنظُرُ بَعْضُهُمْ اِلی بَعْضٍ ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ ، فَقَالُوا وَاللهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ ادَرُ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ فَخَرَجَ مُوسَى فِي إِثْرِهِ ، يَقُولُ ثَوْبِى يَا حَجَرٌ ثوبِی یا حجر، حتی نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى مُوسى ، فَقَالُوا وَاللهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَاسٍ، وَاَخَذَ ثَوْبَهُ ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا فَقَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ وَاللهِ إِنَّهُ لَنَدَبٌ بِالْحَجَرِ سِتةٌ أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبًا بِالْحَجَرِ.
اطراف الحدیث: ۳۴۰۴-۳۷۹۹
صحیح مسلم : 339، الرقم المسلسل : ۷۵۴ سنن ترمذی:۳۲۲۱ صحیح ابن حبان : ۶۲۱۱ ، سنن بیہقی ج ۱ ص 98، مسند احمد ج ۲ ص ۳۱۵ طبع قدیم، مسند احمد : ۸۱۷۳- ج ۱۳ ص ۵۰۷ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق بن نصر نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی از معمر از همام بن منبه از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم وه بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل برہنہ غسل کرتے تھے، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرتے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے اور کوئی چیز مانع نہیں ہے سوا اس کے کہ ان کے خصیے سوجے ہوئے ہیں یا بہت بڑے ہیں، پس ایک دن حضرت موسیٰ غسل کررہے تھے اور انہوں نے اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیئے تھے تو وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا، پس حضرت موسیٰ اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے نکلے: اے پتھر ! میرے کپڑے اے پتھر ! میرے کپڑے حتی کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو دیکھ لیا، پھر وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم ! موسیٰ میں تو کوئی عیب نہیں ہے اور حضرت موسیٰ نے اپنے کپڑے لے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ نے کہا: اللہ کی قسم! پتھر میں چھ یا سات ضرب کے نشان تھے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہائی میں برہنہ ہو کر غسل کرتے تھے لیکن یہ ہم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی شریعت ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ شریعت سابقہ کی اتباع ہم پر بھی لازم ہے یانہیں زیادہ صحیح یہ ہے کہ اگر شریعت سابقہ کا قصہ مذمت کے ساتھ نہیں بیان کیا گیا تو وہ ہم پر بھی لازم ہے۔
تنہائی میں برہنہ غسل کرنے کا جواز اور تہبند باندھ کر نہانے کی فضیلت انبیاء علیہم السلام کی صورت —-اور سیرت کا بے عیب ہونا اور پھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ انسان اگر تنہائی میں لوگوں کو دیکھنے سے محفوظ ہوتو وہ برہنہ ہوکر غسل کر سکتا ہے۔
اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ ضرورت کے وقت انسان اپنی شرم گاہ دوسرے کو دکھا سکتا ہے مثلاً علاج کی ضرورت ہو یا عیب سے خود کو بری کرنے کی ضرورت ہو ۔۔
اس حدیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا ثبوت ہے کہ پتھر ان کے کپڑے لے بھاگا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر کو پکارنا اور اس کو مارنا اس میں یہ ثبوت ہے کہ اس پتھر میں شعور اور ایک قسم کا ادراک تھا۔
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو جسمانی لحاظ سے کامل اور بے عیب بنایا ہے اور ان کو عیوب اور نقائص سے منزہ بنایا ہے جس طرح ان کی سیرت بے داغ ہے اسی طرح ان کی صورت بھی بے عیب ہے۔
بنو اسرائیل ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوکر نہاتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو منع نہیں کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ یہ ان کی شریعت میں جائز تھا، لیکن مستحب یہ تھا کہ کسی کے سامنے برہنہ ہو کر غسل نہ کیا جائے، اسی لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہائی
میں کپڑے اتار کر غسل کرتے تھے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی کی شان کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہائی میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرتے’ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے انہوں نے کسی باریک کپڑے کا تہبند باندھا ہوا ہو جس سے بنی اسرائیل نے ان کا ستر دیکھ لیا ہوا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ عام طور پر تہبند باندھ کر غسل کرتے ہوں اور اس موقع پر ان کو تہبند باندھنا یاد نہ رہا ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت ہو کہ بنی اسرائیل پر حضرت موسی علیہ السلام کا بے عیب ہونا واضح ہو جائے۔
( شرح ابن بطال ج ا ص ۴۰۰ – 399، عمدۃ القاری ج ۳ ص 342، فتح الباری ج 1 ص ۸۰۴ – 803)
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۷۸ – ج اص۱۰۳۱ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے: تنہائی میں پردہ کے ساتھ غسل کرنے کی فضیلت ۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الغسل