۲۷۹ – وعن أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ  النبی صَلَّى اللهُ  عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَیوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا فَخَرَّ عَلَيْهِ جَرَادُ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْتَثى فِي ثوبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَیوبُ ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرى ؟قَالَ بَلَى وَعِزَّتِكَ، وَلَكِنْ لَا غني بِي عَنْ بَرَكَتِكَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَاناً ۔

اطراف الحدیث : ۳۳۹۱ -7493

امام بخاری روایت کرتے ہیں: اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گرگئی حضرت ایوب ( پکڑنے کے لیے ) اس پر کپڑا ڈالنے لگے تو ان کو ان کے رب نے ندا ء کی : اے ایوب ! آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں کیا میں نے آپ کو اس سے مستغنی نہیں کردیا؟ حضرت ایوب نے کہا: کیوں نہیں ! تیری عزت کی قسم ! لیکن میں تیری برکت سے مستغنی نہیں ہوں ۔ اس حدیث کو ابراہیم نے روایت کیا ہے از موسی بن عقبه از صفوان بن سلیم از عطاء بن سیار از حضرت ابوهریره از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا : حضرت ایوب برہنہ غسل کررہے تھے ۔

( سنن نسائی: ۴۰۷ صحیح ابن حبان : ۶۲۲۹ سنن بیہقی ج ا ص ۱۹۸ کتاب الاسماء والصفات ص ۲۰۶ شرح السنته: ۲۰۲۷، مسند احمد ج ۲ ص 314 طبع قدیم مسند احمد :8159 – ج ۱۳ ص ۴۹۶ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث میں برکت کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کثرت خیر ۔

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ برہنہ غسل کرنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر ٹڈی پکڑنے پر تو عتاب کیا،لیکن برہنہ غسل کرنے پر عتاب نہیں کیا۔

علامه داؤدی نے کہا ہے کہ انسان کو حالت فقر میں بہ قدر ضرورت جو رزق مل جائے، وہ اس کے لیے نعمت اور فضیلت ہے کیونکہ حضرت ایوب علیہ السلام سونے کی ٹڈی کو مال میں کثرت یا اظہار فخر کے لیے نہیں پکڑ رہے تھے بلکہ اپنی اہم ضروریات پر خرچ کرنے کے لیے پکڑ رہے تھے ۔ اس حدیث میں حلال مال کی حرص ہے اور غنا کی فضیلت ہے کیونکہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اس کو برکت فرمایا۔ ( شرح ابن بطال ج ا ص 399 عمدة القاری ج ۳ ص ۳۴۵)