۲۲ – بَابُ إِذَا احْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ

جب عورت کو احتلام ہو

اس باب میں عورت کے احتلام کا حکم بیان کیا گیا ہے احتلام کا لفظ حلم سے بنا ہے اس کا معنی خواب ہے، یعنی انسان نیند میں جن چیزوں کو دیکھتا ہے، اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں کا تعلق غسل جنابت کے ساتھ ہے۔

اس عنوان پر یہ اعتراض ہے کہ احتلام تو مرد اور عورت دونوں کو ہوتا ہے، پھر اس باب کا عنوان عورت کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں عورت نے احتلام کے متعلق سوال کیا تھا، دوسرا جواب یہ ہے کہ اس عنوان سے امام بخاری کا مقصود ان لوگوں پر رد کرنا ہے، جو کہتے ہیں کہ عورت کے احتلام کا وہ حکم نہیں ہے جو مرد کے احتلام کا ہے۔

۲۸۲- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا  مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنتِ ابي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ انَّهَا قَالَت جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةٌ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ الله لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسل إِذَا هِيَ اخْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ، إِذَا رَاتِ الْمَاءِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد اللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں امام مالک نے خبر دی از ہشام بن عروه از والد خود از زینب بنت ابی سلمه از حضرت ام سلمه ام المؤمنين رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوطلحہ کی بیوی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پس انہوں نے کہا:یارسول اللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ حق سے حیا نہیں کرتا آیا عورت پر بھی غسل واجب ہوتا ہے جب اسے احتلام ہوجائے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! جب وہ پانی دیکھ لے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۳۰ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: علم میں حیاء کرنا اور یہاں اس کا عنوان ہے: جب عورت کو احتلام ہو۔