شارح صحیح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ
sulemansubhani نے Saturday، 3 January 2026 کو شائع کیا.
شارح صحیح مسلم
از مخدوم زاده سید محمد اشرف جیلانی، کراچی
حضرت استاذ محترم استاذ العلماعلامہ غلام رسول سعیدی دامت برکاتہم العالیہ کا شمار ان جید علما میں ہوتا ہے جو اپنے علم وفضل اور تحقیق و تدقیق کے لحاظ سے دنیائے اسلام میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں، آپ بیک وقت ایک مستند عالم دین، ماہر مدرس ، عظیم محدث ، بے بدل فقیہ، عمدہ خطیب اور صاحب طرز مصنف ہیں۔
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی ۱۴ نومبر ۱۹۳۷ء میں دہلی کے متمول اشراف میں متولد ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا اسم گرامی محمد منیر تھا ، جو آپ کے عہد طفولیت میں وفات پاگئےتھے، آپ نے ناظرہ قرآن مجید چھ سال کی عمر میں اپنی والدہ محترمہ سے پڑھ کر ختم کیا، دس سال کی عمر میں پنجابی اسلامیہ ہائی اسلامیہ ہائی سکول دہلی سے پرائمری پاس کر کے مڈل کلاس میں داخلہ لیا تو برصغیر کی تقسیم ہوگئی، ۱۹۴۷ میں آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور یہاں کراچی میں مقیم ہوئے، یہاں اگر حوادث روزگار کی وجہ س تعلیم جاری نہ رکھ سکے اورکمپوزنگ کا کام کیا اورآٹھ سال تک کراچی کے مختلف پریسوں میں بہ طور کمپوزیٹر کام کرتے رہے ، لیکن قدرت کو آپ کے ذریعہ دین اسلام کی خدمت اور مسلک حق اہل سنت و جماعت کی ترویح و اشاعت مقصود تھی، اس لیے ایک مرتبہ پھر آپ کا رجحان حصول تعلیم کی طرف ہوگیا۔
۱۹۵۸ء میں علماء دین کی متضاد تقریروں اور قرآن مجید کے مختلف تراجم سے آپ کے ذہن میں یہ الجھن پیدا ہوئی کہ کون سا نظریہ صحیح ہے اور کون سا ترجمہ برحق ہے ، اسی تحبسس کے عالم میں آپ نے علم دین حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے آپ جامعہ محمدیہ رحیم یارخاں گئے وہاں مولانا محمد نواز اویسی مدظلہ نے آپ کو کریما فارسی اور قرآن مجید کا ترجمہ شروع کرایا ، اس کے بعد آپ کو حضرت مولانا عبد المجید اویسی دامت برکاتہم کے سپرد کردیا جن سے آپ نے فارسی کی بقیہ کتابیں اور صرف نحو پڑھی، مولانا عبد المجید اویسی کے پاس آپ ڈیڑھ سال رہے، اور ان کے ہمراہ سکندر آباد اور سراج العلوم خانپور گئے ، خانپور سے جامعہ نعیمیہ لاہور چلے گئے ، وہاں مولانا عبد الغفور مدظلہ سے کافیہ، شرح تہذیب ، اصول الشاشی اور نورالانوار پڑھیں ، اور مفتی محمد حسین نعیمی مدظلہ سے شرح جامی ، قطبی ، جلالین اور ہدایة الحکمہ پڑھیں ، مفتی عزیز احمد رحمہ اللہ سے تلخیص کے چند اسباق پڑھے، بعد ازاں بندیال چلے گئے ، وہاں حضرت رئیس الاساتذہ مولانا عطا محمد بندیالوی دامت فیوضہم سے میبذی ، صدا شمس بازفہ مختصر معانی، مطول، ملاحسن ، زواہد ثلثه ، قاضی مبارک، حمد الله، ہدایہ اخرین، شرح نخبۃ الفکر اور جامع ترمذی پڑھیں ، اخیر میں جامعہ قادریہ فیصل آباد آگئے وہاں حضرت مولانا ولی النبی رحمہ اللہ سے اقلیدسی اور تصریح پڑھی ، اور حضرت مولانا مختار حق مدظلہ سے سراجی پڑھی ۔
۱۹۵۸ء میں جب حضرت استاذ محترم رحیم یارخاں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو آپ کے استاذ گرامی حضرت مولانا عبدالمجید اویسی نے آپ کو غزالی زمان رازی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ کے دست حق پرست پر بیعت کرایا، انھی کے نام کی نسبت سے استاذ محترم خود کو سعیدی لکھتے ہیں اور حضرت قبلہ غزالی زماں سے بیعت کو اپنے لیے باعث صد افتخارگردانتے ہیں۔
نومبر ۱۹۶۵ء میں حضرت استاذ محترم نے جامعہ نعیمیہ لاہور میں پڑھانا شروع کیا ۔ پہلے چار سال مشکوتہ ، جلالین اور دیگر علوم و فنون کی کتابیں پڑھائیں اور ۱۹۷۰ سے باقاعدہ مکمل دورہ حدیث پڑھانا شروع کرایا، اور یہ سلسلہ تادم تحریر جاری ہے ۔ ۱۹۶۶ ء میں آپ نے حافظ عبد القادر روپڑی سے محفل میلاد کے جواز پر مناظرہ کیا اور بھری محفل میں حافظ مذکور کو لاجواب کردیا اور انھوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ اگر تعیین شرعی نہ ہو تو بارہ ربیع الاول کو اس سے پہلے اور اس کے بعد کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے فضائل اور آپ کی سیرت طیبہ کو بیان کرنا جائز ہے، جس کو عرف میں میلادالنبی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ تحریہ آپ کو لکھ کر دے دی، اس مناظرہ میں شرف الملت حضرت مولانا عبدالحکیم شرف قادری نقشبندی بھی تشریف فرما تھے ، ان کے علاوہ اور بہت سے علماء اہل سنت تھے، ۱۹۶۹ء میں حافظ مذکور سے علم غیب پر مناظرہ ہوا، اس مناظرہ میں جب استاذ محترم نے نواب صدیق حسن خاں بھوپالی کی فتح البیان سے علم ما کان وما یکون کے ثبوت میں ابن کیسان کا قول پیش کیا تو حافظ مذکورہ بدحواس ہوگئے ، اور انھوں نے مناظرہ کرنے سے انکار کردیا ، یہ دونوں مناظرے عصر کے بعد سے عشاء کے بعد تک جاری رہے تھے اور اس میں طرفین کے بہ کثرت علماء شریک تھے ، دونوں مناظرے طبع ہو چکے ہیں ۔ ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۸ء کے وسط تک آپ جامعہ نعیمیہ لاہور بھی پڑھاتے رہے ، ۱۹۷۸ء کے وسط میں آپ حضرت مفتی سید شجاعت علی قادری رحمہ اللہ کی دعوت پر کراچی آئے اور ایک سال تک دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں درجہ حدیث کے اسباق پڑھاتے رہے ، بعد ازاں حضرت علامہ مفتی محمد حسین نعیمی کی خواہش پر دوبارہ لاہور چلے گئے اور جولائی ۱۹۸۵ء تک پھر وہاں پڑھاتے رہے ۔ ۱۹۸۳ء میں آپ کو کمر کا درد لاحق ہوا، بعد ازاں شوگر ہوگئی، اور اس کے بعد بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ چونکہ لاہور میں آپ کافی بیمار تھے ، اور حضرت ، اور حضرت مفتی سید شجاعت علی قادری رحمہ اللہ کا شدید اصرار تھا کہ آپ کراچی آجائیں ، آپ کا علاج ہوجائے گا ، سو آپ ۶ جولائی ۱۹۸۵ ء کو بالاخر دوبارہ کراچی آگئے اور تادم تحریر یہیں اقامت پذیر ہیں۔
آپ کی کہ بہ کثرت تصانیف ہیں جو متعدد بار طبع ہوکر قارئین سے سے خراج تحسین وصول کرچکی ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں وفاقی شرعی عدالت، لاہور میں سود سے متعلق ایک رٹ کی سماعت کررہی تھی ، اس وقت یه سوال در پیش تھا کہ اگر قرض پر سود نه لیا جائے اور قرض خواہ کو چند سال بعد اس کی صرف اصل رقم واپس ملے تو افراط زر کی وجہ سے چند سال بعد وہ رقم چوتھائی مالیت کی یا اس سے بھی کم ہو جائے گی ، اسلام میں اس کا کیا حل ہے ؟ ایک وکیل نے حضرت استاد محترم کی مقالات سعیدی سے اس مسئلہ کا حل پیش کیا ، اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس مولانا تنزیل الرحمان تھے ، وہ اس حل سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے متعدد ذرائع سے ایک سال میں تک مسلسل کوشش کی کہ معضرت استاذ محترم وفاقی شرعی عدات میں جسٹس کا عہدہ قبول کرلیں ، لیکن حضرت استاذ محترم نے اس پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ میں عدالت کی ذمہ داریاں (جسٹس تنزیل الرحمان نے سود کی ممانعت پر جو تاریخ ساز فیصلہ لکھا ہے اس میں بھی مقالات سعیدی کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا ہے ، یہ فیصلہ ہفت روزہ زندگی ۱۰ جنوری ۱۹۹۲ ء کے شمارے میں شائع ہو چکا ہے) قبول کرنے کے بعد شرح صحیح مسلم کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکوں گا ۔
آپ کی تصانیف اور تلامذہ کا حلقہ برصغیر، یورپ اور افریقہ کے دور دراز علاقوں تک پھیلا ہوا ہے ، برطانیہ میں بھی آپ کے تلامذہ اور معتقدین کی کافی تعداد ہے ، ۱۹۹۰ء میں آپ حضرت صاحبزادہ محمد حبیب الرحمان محبوبی زیب سجادہ ڈھانگری شریف مقیم برطانیہ کی دعوت پر برطانیہ گئے اور تین ماہ تک برطانیہ کے متعدد شہروں میں دینی جلسوں سے خطاب کیا اور واپسی میں حرمین طیبین کی زیارت اور عمرہ کی سعادت سے سرفراز ہوکروطن واپس ہوئے، اہل برطانیہ کی خواہش اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعوت پر ۱۹۹۳ء میں آپ دوبارہ برطانیہ تشریف لے گئے اور متعدد دینی اجتماعات سے خطاب کیا ۔
حضرت استاذ محترم کے شرح صحیح مسلم مکمل فرمالی ہے اور اب تبیان القرآن ” کے نام سے قرآن مجید کی تفسیرلکھنا چاہتے ہیں اور وہ ان شاء اللہ رمضان المبارک ۱۴۱۴ ھ کے کسی مبارک دن میں اس کی تصنیف کا آغاز کردیں گے ، شرح صحیح مسلم کی شہرت اور مقبولیت دیکھ کر بہت سے اشاعتی اداروں نے حضرت سے درخواست کی کہ ان کے اداروں کو تفسیر شائع کرنے کا موقع دیں، لیکن حضرت استاذ محترم نے فرید بک سٹال لاہور سے پیمانِ وفا کو برقرار رکھا اور بہت سی پر کشمش پیش کشوں سے معذرت کر لی ۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ حضرت کو ” “تبیان القرآن مکمل کرنے کی سعادت عطا فرمائے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو حدیث پاک کی خدمت سے مسعود کیا ہے اسی طرح آپ کی قرآن مجید کی خدمت سے بھی مشکور فرمائے اور تبیان القرآن کو اسم با القرآن کو اسم با مسمی کر دے، اور ان دونوں کتابوں کو قبول دوام عطا فرما
سید محمد اشرف جیلانی
ٹیگز:-
علامہ غلام رسول سعیدی , الصحیح مسلم , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم