وَالۡعَصۡرِۙ سورۃ نمبر 103 العصر آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Saturday، 3 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالۡعَصۡرِۙ ۞
ترجمہ:
زمانہ کی قسم
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : زمانہ کی قسم۔ بیشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور انہوں نے ایک دور سے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ (العصر : ٣-١)
زمانہ کی قسم کھانے کی وجوہ
(١) زمانہ بہت عجیب و غریب چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس میں خوشی اور غم کا، اور صحت اور بیماری کا خوش حالی اور تنگ دستی کا ظہور ہوتا ہے، عقل حیران ہے کہ زمانہ کو موجود کہے یا معدوم کہے، معدوم اس لئے نہیں کہہ سکتی کہ زمانہ سال، مہینہ، ہفتہ، دن اور گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے اور زمانہ کم اور زیادہ ہوتا ہے اور جو چیز اس طرح ہو وہ معدوم نہیں ہو کتی اور موجود اس لئے نہیں کہہ سکتی کہ زمانہ یا ماضی ہے یا مستقبل، ماضی گزر چکا ہے وہ موجود نہیں ہے اور مستقبل ابھی آیا نہیں وہ بھی موجود نہیں ہے اور رہا حاضر تو وہ ناقابل تقسیم ہے۔
(٢) انسان ساری زندگی گناہ کرتا رہے اور عمر کے آخری لمحہ میں توبہ کرلے تو اس کو جنت مل جائے گی، جس میں وہ ابدالا باد تک رہے گا، تو انسان کی پوری زندگی کا وہی قیمتی لمحہ ہے اور اس سے پہلے کی زندگی کو انسان محض ضائع کرتا رہا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :(الفرقان : ٦٢) اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا اس کے لئے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔
(٣) لوگوں کی عادت ہے کہ ان پر جو مصائب آتے ہیں یا ان کو جو نقصان ہوتے ہیں وہ ان کو زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے زمانہ کی قسم کھا کر یہ ظاہر فرمایا کہ زمانہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس میں کوئی عیب نہیں ہے، عیب تو انسان میں ہے، وہ اپنے کرتوتوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے اور اس نقصان کی نسبت زمانہ کی طرف کردیتا ہے۔
(٤) زمانہ کے گزرنے سے انسان کی عمر کم ہوتی رہتی ہے، اگر وہ اس زمان ہمیں نیک کام نہیں کرے گا تو اس کو سراسر نقصان ہوگا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے زمانہ کی قسم کھا کر فرمایا : بیشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے۔ سو ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے۔
” العصر “ کی تفسیر میں اقوال
” العصر “ کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :
روایت ہے کہ ” العصر “ سے مراد دہر اور زمانہ ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہے : رب عصر کی قسم ہے، ابن کیسان نے کہا، اس سے مراد دن اور رات ہے، حسن بصری نے کہا : اس سے مراد زوال شمس سے لے کر غروب شمس تک کا وقت ہے، قتادہ نے کہا، اس سے مراد دن کی ساعات میں سے آخری ساعت ہے، مقاتل نے کہا، اس سے مراد عصر کی نماز ہے کیونکہ وہ صلوۃ وسطیٰ ہے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص 302 داراحیاء التراث العربی، بیروت، 1420 ھ)
مقاتل نے جو کہا ہے کہ ” والعصر “ سے مراد عصر کی نماز ہے، اس کی مفسرین نے حسب ذیل وجوہ ذکر کی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز کی قسم کھا کر اس پر تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عصر کی نماز میں بہت فضیلت ہے، اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد ہے :” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “ (البقرہ :238) تمام نمازوں کی حفاظت کرو، خصوصاً درمیانی نماز کی۔
(٢) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی عصر کی نماز کی بہت فضیلت اور اہمیت بیان فرمائی ہے :
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل اور اس کا مال ہلاک ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٢٦ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤١٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥١١ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٨٥)
حضرت بریدہ نے ایک ابر آلود دن میں فرمایا : عصر کی نماز جلدی پڑھ لو، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جس نے عصر کی نماز کو ترک کردیا اس کا عمل ضائع ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :553، مسند حمد ج ٥ ص 349-350)
حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، آپ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا : تم عنقریب اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے، جس طرح چاند کو دیکھ رہے ہو، تم کو اسے دیکھنے سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی، اگر تم سے ہو سکے تو طلوع شمس اور غروب شمس سے پہلے کی نمازوں میں کوتاہی نہ کرو، یہ نمازیں تم سے قضا نہ ہوجائیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٤ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٣، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٧٢٩ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس رات کے فرشتے اور دن کے فرتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر جو فرشتے تمہارے پاس رات میں تھے وہ اوپر جاتے ہیں ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے، وہ فرماتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں : جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس آئے تھے اس وقت بھی وہ نما زپڑھ رہے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٣٢، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٨٧-٤٨٦)
(٣) عصر کے وقت نماز پڑھنا نفس پر بہت بھاری ہوتا ہے کیونکہ اس وقت کاروباری لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں اور جو عبادت بھاری ہو، اس کو ادا کرنے کا بہت ثواب ہوتا ہے۔
(٤) عصر کی نماز کے بعد ان کی عبادت ختم ہوجاتی ہے، سو اس وقت نماز پڑھنا مرتے وقت توبہ کرنے کے مشابہ ہے۔
(٥) عصر کا وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مقدس ہے، اس وقت جھوٹ بول کر سودا بیچنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناراضگی کا موجب ہے، حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمیوں کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ان کے باطن کو پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا : ایک وہ شخص جس کے پاس راستہ کا فالتو پانی ہو اور وہ اپنے پڑوسی کو دینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جو کسی حاکم سے دنیاوی غرض کی خاطر بیعت کرے، اگر وہ اس کو دنیا میں سے کچھ دے تو وہ اس سے راضی ہو اور اگر وہ اس کو نہ دے تو اس سے ناراض ہو اور تیسرا وہ شخص ہے جو عصر کے بعد سودا فروخت کرے اور کہے : اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، مجھے یہ چیز اتنے اتنے کی ملی ہے اور اس کی خریدار تصدیق کر دے اور اس نے جھوٹی قسم کھائی ہو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :(آل عمران : ٧٧) بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور پانی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر (رحمت) فرمائے گا اور نہ ان کے باطن کو صاف کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
” والعصر “ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ مراد ہونا
اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کی قسم کھائی ہے اور اس پر دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں اور یہود اور نصاریٰ کی مثال اس طرح ہے، جیسے ایک شخص نے کچھ لوگوں کو اجرت پر کام کے لئے رکھا اور ان سے کہا، رات تک کام کرنا، انہوں نے آدھے دن تک کام کیا، پھر کہا : ہمیں تمہاری اجرت کی ضرورت نہیں اور کام چھوڑ کر چلے گئے، پھر اس نے دور سے آدمیوں کو لگایا اور ان سے کہا : تم بقیہ دن تک کام کرنا اور تم کو وہ اجر ملے گا، انہوں نے عصر کی نماز کے وقت تک کام کیا اور کہا، بس ہم اتنا ہی کام کرسکتے ہیں، پھر اس نے اور لوگوں کو بلایا اور انہوں نے بقیہ دن غروب آفتاب تک کام کیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور انہوں نے دونوں فریقوں کا اجر حاصل کرلیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٨، مسند حمد ج ٢ ص ٦ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٥٦٥ )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر وہ زمانہ ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کے ساتھ مختص ہے لہٰذا ” والعصر “ کا معنی ہے : اس زمانہ کی قسم جس میں آپ ہیں، یہ آپ کے زمانہ کی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے شہر کی قسم کھائی : ” انت حل بھذا البلد۔ “ (البلد : ٢) اس شہر کی قسم جس میں آپ مقیم ہیں اور آپ کی زندگی کی قسم کھائی :” لعمرک “ (الحجر : ٧٢) پس گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کے زمانہ کی قسم ! آپ کے شہر کی قسم ! آپ کی زندگی کی قسم ! سوچیے اللہ تعالیٰ آپ کی نسبتوں کی قسم کھا رہا ہے اور آپ کی نسبتیں اللہ کے نزدیک اتنی مکرم ہیں تو خود آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر مکرم ہوگی ! (تفسیر کبیرج ١١ ص ٢٧٩ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 103 العصر آیت نمبر 1