نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم

٦ – كِتَابُ الْحَيْضِ

حیض کا بیان

اس کتاب میں حیض کے احکام بیان کیے گئے ہیں، جب امام بخاری طہارت کے احکام سے فارغ ہوگئے تو اب انہوں نے انجاس کے احکام کے بیان کو شروع کیا اور حیض کو نفاس پر مقدم کیا کیونکہ نفاس کی بہ نسبت حیض کا وقوع زیادہ ہوتا ہے۔

حیض کا لغوی اور اصطلاحی معنی

لغت میں حیض کا معنی سیلان اور بہنا ہے اور شرع میں اس کا معنی وہ خون ہے جو کسی صحت مند عورت کے رحم سے نکلتا ہے الازہری نے کہا: حیض وہ خون ہے، جو عورت کے بالغ ہونے کے بعد رحم کے گڑھے سے نکلتا ہے حیض کی مدت کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے یا جو کسی عورت کی عادت معینہ ہو اور استحاضہ وہ خون ہے جو تین دن سے کم آئے یا دس دن سے زیادہ آئے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۷۷)

امام بخاری فرماتے ہیں:

وَقولُ اللَّهِ تَعَالَى وَيَسْئلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ إلى قَوْلِه وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ) (البقره: ۲۲۲)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور آپ سے (لوگ) حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں : آپ کہیے: وہ نجاست ہے سو تم ایام حیض میں عورتوں سے مجتنب رہو ( یہاں تک ) اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے O ( ابقرہ: ۲۲۲)

حیض کے متعلق قرآن مجید کی آیت کی تفسیر

اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہود کے ہاں کسی عورت کو حیض آجاتا تو وہ اس عورت کو اپنے گھر سے نکال دیتے وہ اس کے ساتھ کھاتے تھے نہ پیتے تھے نہ مجامعت کرتے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو اللہ تعالیٰ  نے البقرہ: ۲۲۲ نازل فرمادی، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے گھروں میں مل جل کر رہو اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ تمام کام کرو ۔ تب یہود نے کہا: یہ شخص ہر بات میں ہماری مخالفت کرتا ہے، پھر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! یہود اس طرح کہتے ہیں تو کیا ہم ایام حیض میں عورتوں سے جماع نہ کرلیا کریں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا اور ہم نے گمان کیا کہ آپ ان پر ناراض ہوگئے ہیں، پس وہ دونوں ( مجلس سے ) چلے گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور دودھ پلایا تب ہم نے گمان کیا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔ (صحیح مسلم : 302،  الرقم المسلسل : ۶۸۰ ، سنن ابوداؤد : ۲۵۸، سنن ترمذی : ۲۹۷۷، سنن نسائی: ۲۸۷ سنن ابن ماجہ: ۶۴۴ مسند احمد ج ۶ ص ۱۳۲)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ۳۱۰ھ” اذی” کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اذی‘اس گھناؤنی چیز کو کہتے ہیں: جس سے ایذاء پہنچے اور اس آیت میں حیض کو اذی‘اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس میں سخت بدبو ہوتی ہے اس میں نجاست ہوتی ہے اور اس سے گھن آتی ہے پس اذی ” کا لفظ کئی معانی کا جامع ہے اور بعض علماء نے کہا ہے کہ اذی“ کا معنی نجس ہے۔ ( دراصل اذی کا معنی ایذاء اور تکلیف ہے اور چونکہ نجاست سے بھی تکلیف ہوتی ہے اس لیے نجاست کو اذی” کہتے ہیں ۔ ) ( جامع البیان ج ۲ ص ۴۵۷ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۳۲۱ )

اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حیض نجاست ہے، پس ایام حیض میں مرد کو عورت کے ساتھ جماع کرنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

۱ – بَابٌ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْحَيْضِ، وَقَوْلُ النبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ ادَمَ

حیض کی ابتداء کس طرح ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ کا ارشاد : یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ نے آدم کیبیٹیو ں پر لکھ دیا ہے۔

اس تعلیق کو امام بخاری خود عنقریب سند متصل کے ساتھ بیان کریں گے ( حدیث: ۲۹۴ میں)

وقَالَ بَعْضُهُمْ كَانَ أَوَّلُ مَا أُرْسِلَ الْحَيْضُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ .

اور بعض نے کہا: سب سے پہلے حیض بنی اسرائیل پر بھیجا گیا تھا۔

اس تعلیق کی اصل حسب ذیل حدیث ہے:

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں مرد اور عورتیں اکٹھے نماز پڑھتے تھے، پس عورت کا کوئی دوست ہوتا تھا وہ اپنے دوست کے لیے عمدہ لباس پہن کر لمبی نماز پڑھتی تھی پھر ان عورتوں کے اوپر حیض ڈال دیا گیا تو حضرت ابن مسعود کہتے تھے ان کو اس طرح مؤخر کرو، جس طرح اللہ نے ان کو مؤخر کیا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۵۱۲۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۱ھ )

قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْثَرُ۔

امام ابو عبداللہ بخاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اکثر ہے۔

یعنی آپ کی حدیث صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال کی بہ نسبت زیادہ قوی اور زیادہ قبول کی جانے والی ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

اس کا معنی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمام بنات آدم کو شامل ہے،  لہذا وہ اسرائیلیات کو اور ان سے پہلے کی عورتوں کو بھی شامل ہے علامہ داؤدی نے کہا: حدیث میں اور حضرت ابن مسعود کے قول میں کوئی منافات نہیں ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کی عورتیں بھی بنات آدم سے ہیں، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ ان میں تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ بنی اسرائیل کی عورتوں میں بہت عرصہ تک حیض رہا اور یہ ان کی سزا تھی نہ کہ حیض کی ابتداء ان سے ہوئی اور حاکم اور ابن منذر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب حضرت حواء کو جنت سے زمین پر اتار دیا گیا تو ان سے حیض کی ابتداء ہوئی اور جب اس طرح ہے تو حضرت آدم کی بیٹیاں حضرت حواء کی بھی بیٹیاں ہیں۔ (فتح الباری ج ۱ ص ٬۸۱۵ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۶ھ )