کتاب الغسل باب 29 حدیث 293
۲۹۳- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِى قَالَ أَخْبَرَنِی ابو أيُّوبَ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبَيُّ بْنَ كَعْبِ انَّهُ قَالَ يَارَسُولَ اللهِ ، إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلُ؟قَالَ يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ ، ثُمَّ يَتَوَضَا وَيُصَلَّی قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ الْغُسْلُ اَحْوَطُ، وَذَاكَ الْاخِيرُ وَإِنَّمَا بينا لاختلافهم. (صحیح ابن حبان : 1169، سنن بیہقی : ج ا ص ۱۶۴ جامع المسانيد لابن الجوزی ۶ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از ہشام بن عروہ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابو ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یارسول الله ! جب کوئی مرد اپنی بیوی سے جماع کرے، پس اس کو انزال نہ ہو، آپ نے فرمایا: عورت کے ساتھ جماع کرنے سے جو رطوبت اس کے جسم پر لگی ہو اس کو دھولے، پھر وضوء کرے اور نماز پڑھے۔ امام ابو عبداللہ نے کہا: غسل کرنے میں زیادہ احتیاط ہے اور یہی آخری حکم ہے، ہم نے اس کو صرف ان کے اختلاف کی وجہ سے بیان کیا ہے۔
کتاب الغسل میں امام بخاری کی عبارت پر بحث و نظر
امام بخاری نے فرمایا : یہی آخری حکم ہے یعنی یہ حکم غیر منسوخ ہے اور شارع علیہ السلام نے پہلے وضوء کرنے کا اور بعد میں غسل کرنے کا حکم دیا ہے ان دو حکموں میں یہ آخری حکم ہے امام بخاری نے جو کہا ہے اس میں زیادہ احتیاط ہے، اس سے معلوم ہوا کہ امام بخاری کے نزدیک غسل کرنا مستحب ہے، اس وجہ سے علامہ ابن العربی نے امام بخاری پر رد کیا ہے کہ جمہور فقہاء نے اس صورت میں غسل کو واجب کہا ہے ماسوا داؤد ظاہری کے اور جمہور کے مقابلہ میں اس کے خلاف کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
علامہ ابن العربی کے امام بخاری پر دو اعتراض کہ امام بخاری نے اس صورت میں غسل کو مستحب کہا ہے حالانکہ یہ غسل واجب ہے اور انہوں نے ضعیف السند حدیث کو اپنی صحیح میں داخل کیا.
علامہ ابوبکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی المالکی لکھتے ہیں:
اس مسئلہ میں مشکل چیز امام بخاری کا اختلاف ہے انہوں نے کہا ہے : یہ غسل مستحب ہے حالانکہ وہ ائمہ دین میں سے ہیں اور اس مسئلہ میں کوئی خفا نہیں ہے کیونکہ صحابہ نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا تھا پھر رجوع کرلیا اور وہ اس پر متفق ہوگئے کہ دو شرم گاہوں کے ملنے سے غسل واجب ہوجاتا ہے خواہ انزال نہ ہو اور حضرت عثمان اور حضرت ابی بن کعب نے اس مسئلہ میں رجوع کرلیا تھا اور انہوں نے اس مسئلہ میں حضرت عائشہ سے رجوع کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اس صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔ امام بخاری پر تعجب ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ کی حدیث کو اثبات غسل میں اور حضرت عثمان کی اور حضرت ابی بن کعب کی حدیث کو نفی غسل میں برابر قرار دیا ہے، حالانکہ حضرت عثمان کی حدیث ضعیف ہے، کیونکہ اس کا مرجع الحسین بن ذکوان المعلم کی طرف ہے جو یحیی بن ابی کثیر از ابی سلمه از عطاء بن سیار از زید بن الحسین سے روایت کرتا ہے اور اس کا یحیی سے سماع نہیں ہے اس نے اس سے صرف نقل کیا ہے اور امام بخاری نے اس کو قطعی صیغہ کے ساتھ داخل کیا ہے، اس حدیث میں یہ علت قادحہ ہے اور حسین کی یحییٰ روایت میں مخالفت کی گئی ہے کیونکہ الحسین کے غیر نے اس حدیث کی حضرت عثمان سے موقوفا روایت کی ہے اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا ذکر نہیں ہے اور یہ اس حدیث میں دوسری علت قادحہ ہے اور اس حدیث میں ابوسلمہ کی بھی مخالفت کی گئی ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کی از زید بن اسلم از عطاء بن یسار از زید بن خالد روایت کی ہے کہ انہوں نے پانچ یا چار اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو انہوں نے اس صورت میں وضوء کا حکم دیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا ذکر نہیں کیا اور یہ اس حدیث میں تیسری علت قادحہ ہے، اس حدیث میں یہ تین عمل قادحہ ہیں ان میں سے اگر ایک علت قادحہ بھی ہو تو امام بخاری اس حدیث کو اپنی صحیح میں داخل نہیں کرتے تو جس حدیث میں یہ تین علل قائمہ ہیں، اس کو امام بخاری نے کیسے اپنی صحیح میں داخل کر لیا حضرت ابی بن کعب کی حدیث کو داخل کرنا بھی ضعیف ہے کیونکہ اس مسئلہ میں ان کا رجوع ثابت ہے۔
امام بخاری نے جو کہا ہے کہ غسل میں زیادہ احتیاط ہے اس کی تاویل ہو سکتی ہے کیونکہ جب دو حدیثوں میں تعارض ہو تو اس حدیث پر عمل کیا جائے، جس کی وجہ سے دین میں احتیاط ہو سو وجوب غسل کے حکم میں احتیاط ہے اور امام بخاری ایسے امام کی طرف سے ایسی ہی تاویل لائق ہے۔ (عارضتہ الاحوذی ج1 ص 453، ۱۳۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۵۱۴۱۸)
حافظ ابن حجر کی طرف سے امام بخاری پر پہلے اعتراض کا جواب
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ امام بخاری کی طرف سے جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
علامہ ابن العربی نے جو امام بخاری کی طرف سے تاویل کی ہے اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ امام بخاری کے تصرف سے ہی ظاہر ہے، کیونکہ انہوں نے اس باب کا یہ عنوان قائم نہیں کیا کہ غسل کو ترک کرنا جائز ہے انہوں نے اس باب کی حدیث سے رطوبت فرج کے دھونے پر استدلال کیا ہے جو ایک اور مسئلہ ہے، ہاں! علامہ ابن العربی نے جو یہ کہا ہے کہ التقاء ختنین کی صورت میں غسل کے وجوب پر صحابہ کا اتفاق ہوگیا تھا، اس پر اعتراض ہے کیونکہ اس مسئلہ میں صحابہ کا اختلاف مشہور ہے اور تابعین کا بھی اس مسئلہ میں اختلاف رہا ہے، امام شافعی کی عبارت سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس حدیث میں ہے: پانی پانی سے واجب ہوتا ہے، وہ ثابت ہے لیکن وہ منسوخ ہے اس میں بعض تابعین کا اختلاف ہے، جمہور نے یہ کہا ہے کہ اس صورت میں غسل واجب ہے اور یہی صحیح ہے۔
(فتح الباری ج۱ ص ۸۱۳ دار المعرفة بیروت (1426ھ)
حافظ ابن حجر کے جواب پر علامہ عینی کی جرح
علامہ بدرالدین حافظ محمود بن احمد عینی نے حافظ ابن حجر کے جواب پر جرح کی ہے وہ لکھتے ہیں:
امام بخاری نے جو اس حدیث کا عنوان قائم کیا ہے اس سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ دو شرم گاہوں کے صرف ملنے کی صورت میں غسل کو ترک کرنا جائز ہے، کیونکہ اس باب کے عنوان میں انہوں نے صرف رطوبت فرج کے دھونے پر اقتصار کیا ہے کہ اس کو دھونا واجب ہے اور غسل غیر واجب ہے لیکن وہ احتیاط کی وجہ سے مستحب ہے اور اس قائل نے جو یہ کہا ہے کہ صحابہ کا اس مسئلہ میں اختلاف مشہور ہے، یہ بھی مردود ہے کیونکہ امام بخاری نے (اور اسی طرح امام ابن ابی شیبہ نے) ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے سامنے اس مسئلہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آدمی بھیج کر معلوم کرایا تو حضرت عائشہ نے یہ حدیث سنائی کہ جب ایک ختنہ کی جگہ دوسری ختنہ کی جگہ سے تجاوز کرجائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اس موقع پر حضرت عمر نے کہا: اب اگر میں نے کسی سے یہ سنا کہ غسل صرف انزال سے واجب ہوتا ہے تو میں اس کو عبرت ناک سزا دوں گا یہ واقعہ رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے سامنے ہوا اور کسی نے اس پر اعتراض یا انکار نہیں کیا ۔ ( شرح معانی الآثار : 324، مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۸۷) پس اس مسئلہ میں صحابہ کا اتفاق ثابت ہوگیا اور علامہ ابن العربی کا یہ لکھنا صحیح ہے کہ صحابہ کا پہلے اس میں اختلاف تھا پھر انہوں نے رجوع کرلیا اور وہ سب اس پر متفق ہوگئے کہ اس صورت میں غسل واجب ہوتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۷۶- ۳۷۵ ملخصا’ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)
حافظ ابن حجر کا علامہ ابن العربی کے دوسرے اعتراض کے جواب سے گریز
میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن العربی کا امام بخاری پر اصل اعتراض یہ نہیں ہے کہ ان کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں غسل مستحب ہے حالانکہ اس صورت میں غسل واجب ہے کیونکہ انہوں نے خود امام بخاری کی طرف سے تاویل کردی، جس کو حافظ ابن حجر نے بھی قبول کرلیا ہے علامہ ابن العربی کا امام بخاری پر اصل اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں جو حدیث : ۲۹۲ درج کی ہے، جس میں الحسین کی حضرت عثمان سے روایت ہے اس میں تین علل قادحہ ہیں، جب کہ ایک علت قادحہ بھی ہو تو وہ حدیث ضعیف السند ہوتی ہے اور اس کو امام بخاری اپنی صحیح میں درج نہیں کرتے، پھر اس حدیث کو انہوں نے اپنی صحیح میں کیسے درج کردیا؟ حافظ ابن حجر امام بخاری کے بہت بڑے حامی اور زبردست وکیل ہیں، ان کو چاہیے تھا کہ وہ یا تو علامہ ابن العربی کے اس اعتراض کا جواب دیتے یا پھر انصاف کے تقاضے سے تسلیم کرلیتے کہ یہ حدیث ضعیف السند ہے اور اس کو امام بخاری کا اپنی صحیح میں داخل کرنا صحیح نہیں ہے، لیکن حیرت ہے کہ حافظ ابن حجر نے علامہ ابن العربی کے اس اعتراض کا ذکر تک نہیں کیا اور بلاوجہ اس بحث میں الجھ گئے کہ علامہ ابن العربی نے کہا ہے کہ صحابہ کا اس مسئلہ میں اتفاق ہو گیا تھا، حالانکہ ان کا اختلاف مشہور ہے اور حافظ ابن حجر کا یہ جواب بھی مردود ہے جیسا کہ علامہ عینی نے امام طحاوی کے حوالے سے ثابت کردیا ہے۔
رطوبت فرج کی طہارت یا نجاست کے متعلق فقہاء شافعیہ کے دوقول
علامہ ابو اسحاق ابراہیم بن علی شیرازی شافعی متوفی ۴۵۵ ھ لکھتے ہیں:
رہی عورت کی فرج کی رطوبت تو منصوص یہ ہے کہ وہ نجس ہے کیونکہ یہ وہ رطوبت ہے جو محل نجاست میں پیدا ہوتی ہے لہذا یہ نجس ہے اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ کہا ہے کہ یہ طاہر ہے جیسے بدن کی دیگر رطوبات پاک ہیں۔
(المہذب ج ا ص 48، دارالفکر بیروت )
علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
رطوبت فرج وہ سفید پانی ہے، جو مذی اور پسینہ کے درمیان متردد ہے اسی وجہ سے اس میں اختلاف ہے، علامہ شیرازی نے اس کتاب میں اور” التنبیہ” میں اس کو ترجیح دی ہے کہ یہ نجس ہے اور علامہ البند نیجی نے بھی اس کو نجس کہا ہے اور علامہ بغوی اور علامہ رافعی نے یہ کہا ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ طاہر ہے علامہ ماوردی نے بھی اس کو طاہر کہا ہے اور امام شافعی نے اپنی بعض کتابوں میں اس کی طہارت کی تصریح کی ہے اور ابن سریج نے امام شافعی سے اس کی نجاست کو نقل کیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں دو قول امام شافعی سے منصوص ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ طاہر ہے۔
رطوبت فرج کی نجاست پر حضرت زید بن خالد کی حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے انہوں نے حضرت عثمان بن عفان سے سوال کیا : یہ بتائیے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے اور منی نہ نکلے، حضرت عثمان نے کہا: وہ نماز کا وضوء کرے اور اپنے آلہ کو دھولے حضرت عثمان نے کہا: میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ (صحیح البخاری : ۲۹۲-۱۷۹ صحیح مسلم: ۳۴۷) اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! جب ایک آدمی عورت سے جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: اس عورت کی جو رطوبت اس کے جسم پر لگی ہے اس کو دھولے پھر وضوء کرے اور نماز پڑھے ۔ (صحیح البخاری: ۲۹۳ صحیح مسلم:۳۴۶)
یہ دونوں حدیثیں صرف وضو ء سے نماز کے جواز کے حق میں منسوخ ہیں اور مرد کے آلہ کو دھونے اور اس پر جو عورت کی رطوبت لگی ہے اس کے دھونے کے حق میں ثابت ہیں اور منسوخ نہیں ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کی فرج کی رطوبت نجس ہے اور دوسرا قائل اس کو استحباب پر محمول کرے گا لیکن جمہور فقہاء کے نزدیک مطلق امر وجوب کے لیے ہے۔
المجموع شرح المہذب ج ۳ ص ۶۱۳ – ۶۱۲ دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ)
رطوبت فرج کی طہارت اور نجاست کے متعلق مذہب احناف
علامہ نووی شافعی نے اس حدیث سے مطلقاً رطوبت فرج کو نجس قرار دیا ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں اس رطوبت کو دھونے کا حکم دیا ہے جو جماع کے وقت عورت کی فرج داخل سے نکلتی ہے وہ بلاشبہ نجس ہے کیونکہ اس سے مذی یا منی مختلط ہوتی ہے اور ہم صحیح البخاری :179 کی شرح میں علامہ شامی حنفی کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ جو رطوبت فرج خارج سے نکلتی ہے وہ طاہر ہے وہ جسم کی دیگر رطوبات لعاب دہن اور پسینہ کی طرح ہے اور جو رطوبت جماع کے وقت فرج داخل سے نکلتی ہے وہ نجس ہے۔
(ردالمختار ج ا ص ۲۷۴ ۲۷۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
علامہ ابراہیم حلبی حنفی متوفی ۹۵۶ ھ لکھتے ہیں:
عورت پر غسل کے وجوب کی شرط یہ ہے کہ اس کی منی فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نکلے، حتی کہ اس کی منی اپنے مقام سے نکلے اور فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نہ نکلے تو اس پر غسل واجب نہیں ہوگا اس مسئلہ کو تاتارخانیہ نے ” ظاہر الروایہ” کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ (غنیہ المستملی ص ۴۶ سہیل اکیڈمی لاہور ۱۴۱۲ھ )
ہماری اس تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ فقہاء شافعیہ میں سے بعض کا مطلقاً رطوبت فرج کو طاہر قرار دینا اور بعض کا اس کو مطلقا نجس قرار دینا محض عبث ہے اور بلا دلیل ہے اور صحیح یہ ہے کہ فرج خارج سے جو رطوبت نکلتی ہے وہ طاہر ہے اور جماع کے وقت فرج داخل سے جو رطوبت نکلتی ہے وہ نجس ہے کیونکہ وہ منی یا مذی کے ساتھ مختلط ہوتی ہے اور وہ نجس ہیں اس لیے یہ رطوبت بھی نجس ہوجائے گی۔
کتاب الغسل کا اختتام
الحمد لله رب العالمین ! آج ۱۹ جمادی الثانی ۱۶/1427ھ جولائی ۲۰۰۶ کو کتاب الغسل ختم ہوگئی الہ العالمین ! جس طرح آپ نے صحیح بخاری کی اس ” کتاب الغسل ” کی شرح کو مکمل کرنے کی توفیق دی ہے اس کی باقی کتب کی تکمیل کی بھی توفیق عطا فرمائیں میری میرے والدین کی میرے اساتذہ میرے احباب اور میرے تلامذہ کی اس کتاب کے ناشر کمپوزر مصحح اور بائنڈر کی تمام قارئین اور تمام مسلمین کی مغفرت فرمادیں، ہمیں دنیا اور آخرت میں عزت اور وجاہت عطا فرمائیں اور دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ اور مامون رکھیں دنیا میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آخرت میں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائیں۔
و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين قائد المرسلين شفیع المذنبين وعلى آله واصحابه وازواجه وذريته وامته اجمعين.