صحیح مسلم
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
صحیح مسلم
صحیح مسلم کتب صحاح ستہ میں صحیح بخاری کے بعد شمار کی جاتی ہے۔ امام مسلم بن حجاج نے اس کی احادیث کو انتہائی محنت اور کاوش سے ترتیب دیا ہے، جسن ترتیب اور تدوین کی عمدگی کے لحاظ سے یہ صحیح بخاری پر بھی فوقیت رکھتی ہے اور زمانہ تصنیف سے لے کر آج تک اس کو قبولیت عامہ کا شرف حاصل رہا ہے ۔
متقدمین میں سے بعض مغاربہ اور محققین نے صحیح مسلم کو بے حد پسند کیا ہے اور اس کو صحیح بخاری پر بھی ترجیح دی ہے ۔ چنانچہ ابوعلی حاکم نیشاپوری اور حافظ ابوبکر اسماعیلی صاحب مدخل کا یہی قول ہے اور امام عبدالرحمان نسائی نے کہا کہ امام مسلم کی صحیح، امام بخاری کی صحیح سے عمدہ ہے(الشيخ محي الدين ابوزكريا يحيى بن شرف النووى المتوفی ھ۶۷۶ ھ مقدمه شرح مسلم ص ۱۳ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱۳۷۵ ) اور مسلم بن قاسم قرطبی معاصر دارقطنی نے کہا کہ امام مسلم کی صحیح کی مثل کوئی شخص نہیں پیش کرسکتا۔ ابن حزم بھی صحیح مسلم کو صیح بخاری پر ترجیح دیتے تھے ۔( حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی المتوفی ھ۸۵۲ ہدی الساری جلد ا ص ۲۴، مطبوعہ مصر) اور خود امام مسلم نے اپنی کتاب سے بار ے میں فرمایا تھا کہ اگرمحدثین دو سو سال بھی احادیث لکھتے ہیں پھر بھی ان کا مدار اسی کتاب پر ہوگا۔( شیخ محی الدین ابو زکریا یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ مقدمه شرح مسلم ص ۱۳، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱۳۷۵ ) اور اب تو دو سو برس چھوڑ کر گیارہ سو برس ہونے کو آئے لیکن اس مرد خدا کے قول کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اور شاہ عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ ابو علی زعفرانی کو کسی شخص نے وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا کہ تمہاری بخشش کسی سبب سے ہوئی توانوں نے صحیح مسلم کے چند اجزا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ان اجزاء کے سبب اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا۔ (شاه عبدالعزیز محدث دہلوی متوفی ۱۲۲۹ھ، بستان المحدثین ص ۲۸۱ ، مطبوعہ سعید اینڈ کمپنی کراچی)اس خواب سے معلوم ہوا کہ صحیح مسلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرف قبولیت حاصل کرچکی ہے۔
سبب تالیف اور مدت
امام مسلم نے اپنی صحیح کی تالیف کا سب خود بیان فرمایا ہے وہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے میرے بعض تلامذہ نے درخواست کی کہ میں احادیث صحیحہ کا ایک ایسا مجموعہ تیار کروں جس میں بلا تکرار احادیث کوجمع کیا جائے۔ چنانچہ ان کی درخواست پر میں نے اپنی صحیح کی تالیف کی، امام مسلم نے تین لاکھ احادیث میں سے اپنی جامع صحیح کا انتخاب فرمایا اور جن مشائخ کی احادیث کو انھوں نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے روایت کیا ہے ان سب سے انھوں نے بالمشافہ اور براہ راست سماع کیا ہے اور اس تصنیف میں انھوں نے صرف اپنی ذاتی تحقیق پر ہی اکتفا نے نہیں کیا بلکہ مزید احتیاط کے پیش نظر اس مجموعہ میں صرف ان احادیث کو لائے ہیں جن کی صحت پر اس وقت کے اکابرین کا اتفاق تھا اور پھر اسی پربس نہیں کی بلکہ تحقیق مزید کے لیے کتاب کی تکمیل کے بعد اسے حافظ عسر ابوزرعہ کی خدمت پیش کیا جو اس زمانہ میں علل حدیث اور جرح و تعدیل کے فن میں امام گردانے جاتے تھے اور جس روایت کے بارے میں انھوں نے کسی علت کی نشاندہی کی، امام مسلم نے اس کوکتاب سے خارج کردیا، اس طرح پندرہ سال کی لگا تار جد وجہد اور شدید مشقت کے بعد صحیح مسلم کی صورت میں یہ مجموعہ احادیث تیار ہوگیا ہے۔( حافظ شمس الدين الذهبي المتوفی ۷۴۸ھ، و تذكرة الحفاظ جلد ۲ ص ۵۹۰، مطبوعہ ادارة الخيار التراث العربي بيروت)
تسمیہ
حاجی خلیفہ اور دیگر مورخین نے صحیح مسلم کا نام الجامع الصحیح بیان کیا ہے مگر اس نام پر بعض حضرات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جامع حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں تفسیر بھی ہو اور صحیح مسلم می تفسیر سے متعلق احادیث بہت کم ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ جامع کے تحقیق کے لیے کتاب میں نفس تفسیر کا لانا شرط ہے قلت یا کثرت م اما در بهت کم ن چنانچہ متقدمین میں سے سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ کی جو تصانیف قلت یا کثرت ملحوظ نہیں ہے ۔ ن بن عیینہ کی جو تصانیف جامع کے تحقق کے لیے کتاب میں نفس تفسیر کا لانا شرط ہے قلت یا کثرت ملحوظ نہیں ہے، چنانچہ متقدمین میں سے سفیان ثوری اور سفیان بن عینیہ کی جو تصانیف جامع کے نام سے مشہور ہیں ان میں بھی تفسیر بہت کم ہے۔
صحیح مسلم میں تفسیر اس قدر کم لانے کا سبب یہ ہے کہ تفسیر سے متعلق اکثر یہ روایات امام مسلم کتاب کے شروع میں لے آئے ہیں اور چونکہ اس کتاب میں انہوں نے حتی الامکان تکرار سے گریز کیا ہے اس لیے کتاب التفسیر میں ان روایات کو دوبارہ نہیں لائے۔
اسلوب
امام مسلم نے اپنی صحیح کی تالیف اور ترتیب میں انتہائی حزم واحتیاط اور کامل ورع اور تقویٰ سے کام لیا ہے ۔ امام ابن شہاب زہری، امام مالک اور امام بخاری حدثنا اور اخبرنا کے درمیان فرق نہیں کرتے،اور ابن جریح، اوزاعی ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل،یحیی بن یحیی، عبد الله بن مبارک اور دیگر تمام محدثین حدثنا اور اخبرنا میں فرق کرتے ہیں ۔ حدثنا کا استمال اس وقت کرتے ہیں جب استاذ حدیث کی قرأت کرے اور شاگرد سن رہے ہوں اور اخبرنا کا استعمال اس وقت کرتے ہیں جب شاگرد پڑھے اور استاد سن رہا ہو ۔ چونکہ اکثر محدثین اخبرنا اور حدثنا میں ایک کا استعمال دوسرے کی جگہ جائز نہیں رکھتے۔ اس لیے احتیاط کے پیش نظر امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہی طریقہ اختیار کی ہے اور حدثنا اور اخبرنا کے فرق کو قائم رکھا ہے۔
امام مسلم نے سند حدیث میں راویوں کے اسماء کے ضبط کا بھی بڑا خیال رکھا ہے جس راوی کا اصل سند میں صرف نام ذکر کیا گیا ہوا اور نسب کا ذکر نہ ہو جس کے سبب ابہام پیدا ہو تو وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ استاذ کے بیان کیے ہوئے الفاظ میں خلل نہ آئے۔ مثلاً انھوں نے ایک سند ذکر کی ۔ حدثنا سلیمان یعنی ابن بلال عن یحیی و هو ابن سعید، اس مقام پر استاذ نے سلیمان بن بلال کا نام صرف سلیمان اور یحییٰ بن سعید کا نام صرف یحیی ذکر کیا تھا اور ان کے نسب کو ظاہر نہیں کیا تھا ۔ امام مسلم چاہتے تو اس کو سلیمان بن بلال اور یحییٰ بن سعید کے نام سے ذکر کر سکتے تھے، لیکن اس صورت میں یہ وہم ہوتا کہ شاید استاد نے اپنی سند میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے اس لیے احتیاط امام سلم نے ایک نام کے ساتھ یعنی ابن بلال اور دوسرے کے نام کے ساتھ وہو ابن سعید لکھ۔
اسی طرح راوی کے اسم، صفت، کنیت یا نسب میں اختلاف ہوتو امام مسلم اس کا کا بھی بیان کردیتے ہیں۔ نیز جس اسناد میں کوئی علت خفیہ ہو اس کو بھی ظاہر کردیتے ہیں ۔ سند میں اگر اتصال یا ارسال اور متن میں زیادتی یا کمی کا اختلاف ہو تو اس کو واضح کردیتے ہیں الفاظ حدیث کے اختلاف کو واللفظ لفلان ان کے ساتھ اسی جگہ بیان کردیتے ہیں۔ صحیح مسلم ان خوبیوں میں منفرد ہے۔ امام بخاری کی صحیح میں یہ خوبیاں نہیں ہیں ۔
ایک متن حدیث جب اسانید متعدد سے مروی ہو تو امام مسلم ان تمام اسانید کو ان کی احادیث کے ساتھ ایک جگہ ذکر کردیتے ہیں وہ نہ ان احادیث کو متعدد ابواب میں متفرق کرتے ہیں نہ ایک حدیث کی مختلف ابواب میں تقطیع کرتے ہیں ۔ حدیث کو اس کے اصل الفاظ کے ساتھ وارد کرتے ہیں نہ روایت بالمعنی کرتے ہیں اور نہ حدیث کا اختصار کرتے ہیں نیز باب کے تحت صرف احادیث لاتے ہیں ۔ آثار صحابہ اور اقوال تابعین کے ساتھ احادیث کو مختلط نہیں کرتے ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں احادیث کو ترتیب دار ابواب کے لحاظ سے وارد کیا ہے لیکن تراجم اور عنوانات مقرر نہیں کیے۔
امام نووی فرماتے ہیں اس کا سبب یا تو اختصار تھا یا کوئی اور امرجس کوامام مسلم ہی بہتر جانتے تھے۔ بہرحال بعد کے لوگوں نے ان ابواب کے تراجم مقررکردیے ہیں جن کو صحیح مسلم کے حواشی میں ذکر کردیا گیا ہے۔ ان تراجم میں بعض بہت عمدہ ہیں اور بعض میں رکاکت اور تقصیر ہے۔
شرائط
امام مسلم نے اپنی جامع صحیح میں احادیث وارد کرنے کی یہ شرط مقرر کی ہے کہ حدیث کو نقل کر نے والے تمام راوی مسلم، عادل، ثقہ، متصل غیر شاذ اور غیر معلل ہوں ۔ ثقہ کا معیار امام مسلم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ راوی طبقہ اولیٰ اور ثانیہ سے ہوں ۔ یعنی کامل الضبط والاتقان اور کثیر الملازمت مع الشیخ ہوں یہ طبقہ اولیٰ ہے یا کامل الضبط اور قلیل الملازمت ہوں۔ یہ طبقہ ثانیہ ہے رہا طبقہ ثالثہ یعنی ناقص الضبط اور کثیر الملازمت توان کی روایات سے امام مسلم انتخاب کرتے ہیں اوراستیعاب فقط پہلے دو طبقوں سے کرتے ہیں اور اتصال کا معیار ان کے نزدیک یہ ہے کہ راوی اور مروی عنہ کے درمیان معاصرت کا ثبوت ہو۔( طاہر بن صلاح الجزائری الدمشقی توجیه النظر ص ۸۶ ، مطبوعہ مصر)
امام مسلم نے رواۃ حدیث کے تین طبقات مقرر کیے ہیں اوّل وہ ضبط اور اتقان میں اعلیٰ درجہ پر ہیں، ثانی متوسطین اور ثالث متروکین جو مہتم بالکذب ہوں اور امام مسلم نے اس کتاب میں حدیث لانے کی شرط یہ قائم کی ہے کہ وہ راوی پہلے طبقوں میں سے ہوں اور ان دونوں میں پہلے طبقہ کی روایات مقدم ہوں گی اور تیسرے طبقہ کے بارے میں انھوں نے تصریح کردی ہے کہ وہ اس طبقہ کی احادیث کی تخریج نہیں کریں گے۔( امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ۲۶۱ هـ مقدمه صحیح مسلم ص ۳ تا ۵ : مطبوعه نور محمد اصبح المطابع کراچی،۱۳۷۵ھ) اس کے باوجود صحیح مسلم میں تیسرے طبقہ کی روایات بھی موجود ہیں۔ اس کی توجیہ میں یہ کہا گیا ہے کہ امام مسلم نے اس طبقہ کی روایات اصالتہ وارد نہیں کیں بلکہ ان کو بالتبع تائید کے مرتبہ میں لائے ہیں یا اس طبقہ کی روایات کو اس وقت لائے ہیں جب وہ کسی زائد خوبی مثلاً علو اسناد پر مشتمل تھیں۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس ضعف کی وجہ سے ان راویوں کو طبقہ ثالثہ میں شمار کیا گیا ہے۔ ان میں وہ ضعف مثلاً نسیان یا اختلال وغیرہ صحیح مسلم میں ان کی احادیث کے اندراج کے بعد لاحق ہوا ہے۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں احادیث وارد کر نے کے لیے ایک شرط یہ بھی عائد کی ہے کہ اس حدیث کی صحت پر اجماع ہوچکا ہو کیونکہ جب ان سے حدیث ابوہریرہ فاذا أقرا فانصتوا۔ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آپ نے اس کو اپنی صحیح میں درج کیوں نہیں کیا آپ نے جواب دیا کہ میں نے ہراس حدیث کو کتاب میں درج نہیں کیا جوصرف میرے نزدیک صحیح بلکہ اس حدیث کو درج کیا ہے جس کی صحت پر اتفاق ہوچکا ہو۔ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ۲۶۱ صحیح مسلم ج ا ص ۱۷۴ صحیح مسلم مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ،۱۳۷۵ھ )
امام مسلم کی اس شرط پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ صحیح مسلم میں بہت سی ایسی احادیث ہیں جن کی صحت پر سب کا اتفاق نہیں امام نووی نے شرح مسلم میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جن احادیث کو امام سلم نے اپنی صحیح میں درج کیا ہے ان کے خیال میں ان کی صحت پر سب کا اتفاق ہوچکا تھا خواہ فی الواقع ایسا نہ ہوا ہو۔ اور حافظ ابن صلاح نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ جو احادیث مجمع علیہ نہیں ہیں ممکن ہے ان کو وارد کرتے وقت امام مسلم کو یہ شرط یاد نہ رہی ہو اور علامہ سیوطی نے اس کے جواب میں فرمایا ہے ہے کہ کہ اس اجماع سے اجماع اضافی مراد ہے یعنی امام احمد بن حنبل، یحیی بن معین،عثمان بن ابی شیبہ اور سعید بن منصور کا اجماع اور امام مسلم کی لائی ہوئی احادیث اس قسم کے اجماع سے بہرحال خالی نہیں ہیں۔
امام بخاری اور علی بن مدینی اتصال کے لیے صرف راوی اور مروی عنہ کی معاصرت کو کافی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان میں باہم ملاقات کی بھی شرط لگاتے تھے اس لیے امام مسلم نے مقدمہ صحیح میں ان لوگوں پر انتہائی شدید اور تند و تیز رد کیا ہے جس کا ذکر امام مسلم کے ذکر کردہ مقدمہ میں آرہا ہے ۔
تعلیقات
امام بخاری کی طرح امام مسلم نے اپنی صحیح میں تعلیقات کی کثرت نہیں کی، حافظ ابن صلاح نے صحیح مسلم کے صرف چودہ مقامات گنوائے ہیں جہاں مسلم نے سند معلق کے ساتھ احادیث وارد کی ہیں تفصیل یہ ہے :
۱۔ حدیث ابی جہم باب تیمم۔
۲۔ حديث ابى العلا باب صلاة النبي .
۳۔ حدیث یحي بن عسان باب سكوت بين التكبير والقرأة .
۴۔ حديث عائشہ کتاب الجنائز
ه – حدیث عائشہ باب الجوائح
۶۔ حدیث جعفر بن ربیعہ باب الجوائح ۔
۷۔ حديث كعب بن مالك في تقاضی ابن حدرد .
۸۔ حدیث معمر باب احتكار الطعام –
۹۔ حدیث ابی اسامہ باب فقہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
۱۰ – حدیث ابن عمر آخر باب الفضائل
اا۔ حدیث ابی سعید خدری آخر کتاب القدر .
۔۱۲ حدیث براء بن عازب في الصلواة الوسطى –
۱۳ – حدیث ابوہریرہ باب الرجم.
۱۴ حدیث عوف بن مالک کتاب الامارة .
حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں کہ یہ چودہ احادیث اگرچہ سند منقطع وارد ہیں لیکن یہ احادیث دوسرے طرق سے جہات صحیحہ سے سند موصول کے ساتھ بھی مروی ہیں اس لیے یہ روایات بھی حکما صحیح ہیں۔ ( شیخ محی الدین یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ مقدمه شرح مسلم جلد ا ص۱۴، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ، ۱۳۴۶ )
عدد مرویات
صحیح مسلم کی کل احادیث کی تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ ابو الفضل احمد بن سلمہ نے بیان کیا ہے کہ کہ صحیح مسلم کی کل احادیث بارہ ہزار ہیں اور ابو حفص نے بیان کیا ہے کہ آٹھ ہزار ہیں ۔ الجزائری نے اسی کی توثیق کی ہے اور حذف مکررات کے بعد صحیح مسلم میں بالا تفاق چار ہزار احادیث ہیں۔ (شیخ طاهر بن صلاح الجزائری توجیه المنظر ص ۹۳ ، مطبوعہ مصر)
حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں کہ حافظ ابوقریش بیان کرتے ہیں کہ ہم شیخ ابوزرعہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ امام مسلم آئے اور سلام کرکے مجلس میں بیٹھ گئے۔ پھر اپنی صحیح کو پیش کرکے کہا یہ چار ہزاراحادیث صحیحہ کا مجموعہ ہے۔ شیخ ابو زرعہ نے سن کر کہا باقی احادیث کسی کے لیے چھوڑ دیں ۔ حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں کہ چار ہزار احادیث سے امام مسلم کی مراد وہ احادیث تھیں جو غیر مکررہیں۔
مستخرجات
اصطلاح حدیث میں مستخرج حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں کسی کتاب کی احادیث کو دیگر اسانید کے ساتھ اس کے مصنف کی شرائط پرجمع کیا جائے۔ صحیح مسلم کی احادیث کی تخریج میں بہت سی کتب تصنیف کی گئی ہیں چند ازاں یہ ہیں :
یہ
(1) المسند الصحیح علی مسلم
حافظ ابوبکر محمد بن محمد النیشاپوری الاسفرائنی المتوفی ۲۸۶ ھ کی تصنیف ہے ۔ حافظ اسفرائنی اکثر شیوخ میں امام مسلم کے شریک ہیں ۔
(۲) التخریج علی صحیح مسلم
یہ ابو جعفر احمد بن حمدان علی النیشاپوری المتوفی ۳۱۱ ھ کی تالیف ہے ۔
(۳) االمختصر المسند الصحیح على مسلم
یه حافظ ابوعوانہ یعقوب بن اسحاق الاسفرائنی المتوفی ۳۱۶ ھ کی تصنیف ہے۔ انہوں نے یونس بن عبدالاعلی اور دوسرے شیوخ مسلم سے روایت کی ہے ۔
(۴) التخريج على مسلم
یہ ابونصر محمد بن محمد الطوسی الشافعی المتوفی ۳۴۴ ھ کی تالیف ہے۔
(۵) التخريج على مسلم
یہ ابوحامد احمد بن محمد الشاذلی الشافعی الہروی المتوفی ۳۵۵ ھ کی تالیف ہے ۔
(۶) المسند الصحيح علی مسلم
یہ ابوبکر محمد بن عبدالله الجوزقی النیشاپوری المتوفی ۳۸۸ مہ کی تالیف ہے (۷) المسند الصحیح علی مسلم
یہ حافظ ابو نعیم احمد بن عبدالله الاصفهانی المتوفی ۴۳۰ ھر کی تالیف ہے۔
(۸) المخرج علی صحیح مسلم
یہ ابوالولید حسان بن محمد القرشی المتوفی ۴۳۹ ھ کی تصنیف ہے ۔