فَلۡيَـعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰذَا الۡبَيۡتِۙ – سورۃ نمبر 106 قريش آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Saturday، 17 January 2026 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَلۡيَـعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰذَا الۡبَيۡتِۙ ۞
ترجمہ:
پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں
القریش : ٣ میں فرمایا : پس انہیں چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔
قریش پر انعام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں
اللہ تعالیٰ کے انعامات کی دو قسمیں ہیں : (١) ضرر کو دور کرنا (٢) نفع عطا فرمانا، اللہ تعالیٰ نے قریش پر دونوں قسم کے انعامات فرمائے اور چونکہ دفع ضرر، حصول نفع پر مقدم ہے، اس لئے سورة الفیل میں ان سے ان کے دشمن ابرھہ کے لشکر کو ہلاک کرنے کا ذکر فرمایا اور سورة القریش میں ان کو تجارتی سفر کے لئے راغب کرنے کا بیان فرمایا اور ہر نعت پر اس کا شکر کرنا واجب ہوتا ہے، اس لئے فرمایا : چونکہ ہم نے قریش کو یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں، اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کرنے کے لئے بیت اللہ کے رب کی عبادت کریں۔
اس عبادت کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عجز اور تذلل کا اظہار کریں یا اس بیت اللہ کے رب کی توحید کا اعتراف کریں کیونکہ صرف اسی نے اس گھر کی حفاظت کی ہے، نہ کہ ان بتوں نے جن کی وہ پسرتش کرتے ہیں اور اس آیت میں ” رب “ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا ہے کہ حضرت عبدالمطلب نے ابرھہ سے کہا تھا کہ اس بیت کا ایک رب ہے، جو اس کی حفاظت کرے گا اور کعبہ کی حفاظت کو بتوں کے حوالے نہیں کرے گا، سو اب قریش پر لازم تھا کہ اعتراف اور اقرار کی بناء پر صرف اللہ وحدہ کی عبادت کریں اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے قریش سے فرمایا کہ چونکہ تم نے کعبہ کی حفاظت کے لئے صرف اللہ وحدہ پر اعتماد کیا ہے، لہٰذا تم اس بیت میں صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ کرو۔
القرآن – سورۃ نمبر 106 قريش آیت نمبر 3