أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۤءُوْنَ ۞

ترجمہ:

جو ریا کاری کرتے ہیں

الماعون : ٦ میں فرمایا : جو ریا کاری کرتے ہیں۔

ریکاکاری کی تعریف

یعنی وہ لوگوں کو دکھاتے ہیں کہ وہ اطاعت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ وہ تقیہ سے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، جیسے فاسق اس لئے نماز پڑھتا ہے کہ اس کو نمازی کہا جائے اور ریا کا رعبادت سے دنیا طلب کرتا ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بناتا ہے اور وہ لوگوں سے تعریف اور تحسین کی توقع کرتا ہے، ریا کارکا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ موٹے کپڑے پہنتا ہے تاکہ یہ ظاہر کرے کہ اس کو دنیا میں کوئی رغبت نہیں ہے اور تیسرا طریقہ ی ہے کہ وہ اپنی باتوں سے ریا کاری کرتا ہے، وہ اہل دنیا کی مذمت کرتا ہے اور نیکی اور عبادت کے ضائع ہونے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور چوتھا طریقہ یہ یہ کہ وہ لمبی لمبی نمازیں پڑھتا ہے اور لوگوں کو دکھا کر بہت خیرات اور صدقات دیتا ہے۔

فرائض کو دکھا کر ادا کیا جائے اور نوافل کو چھپا کر

جو اعمال صالحہ فرئاض میں سے ہیں ان کو دکھا کر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ فرائض کا حق یہ ہے کہ ان کو دکھا کر ادا کیا جائے اور ان کی تشہیر کی جائے کیونکہ فرائض اسلام کی علامات ہیں اور دین کے شعائر ہیں اور فرائض کا تارک ملامت اور مذمت کا مستحق ہوتا ہے، پس فرائض کو دکھا کر ادا کیا جائے تاکہ اس پر ترک فرائض کی تہمت نہ لگے، اور نفلی عبادات کا حق یہ ہے کہ ان کو چھپا کر ادا کیا جائے کیونکہ نوافل کو ادا نہ کرنے پر انسان کو ملامت نہیں کی جاتی اور نہ اس پر کوئی تہمت لگتی ہے اور اگر کوئی شخص قصداً نفلی عبادات دکھا کر کرے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے تو یہ اچھی بات ہے، ریاء اس وقت ہوتا ہے جب اس کا قصد یہ ہو کہ لوگ اس کی نفلی عبادات دیکھ کر اس کی تعریف اور تحسین کریں اور اس کی عزت اور احترام کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 107 الماعون آیت نمبر 6