#استاد #طالب #علم

🔹بغیر استاد کے علم حاصل کرنا🔹

مولانا جلال الدین رومی رحمہ اللہ (سال وفات 672ھ) فرماتے ہیں :

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد

اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کو بھی مبعوث فرمانا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ جاہل انسان کے لیے کتب ہی سب کچھ نہیں۔

جس شخص کو اساتذہ کی تربیت میسر نہیں آئی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قدم قدم پر ڈگمگاتا ہی رہا اور اسی تربیت کی کمی کے باعث ہی یضل بہ کثیرا کا مصداق بن گیا

▪️امام  ابراہیم بن موسی شاطبی رحمہ اللہ (سال وفات 790ھ) فرماتے ہیں:

النَّاسُ قَدِ اخْتَلَفُوا: هَلْ يُمْكِنُ حُصُولُ الْعِلْمِ دُونَ مُعَلِّمٍ أَمْ لَا؟ فَالْإِمْكَانُ مُسَلَّمٌ، ولكن الواقع في مجاري العادات أن لا بد مِنَ الْمُعَلِّمِ، وَهُوَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

مفہوم:

اس میں اختلاف ہے کہ کیا بغیر استاد کے علم کا حصول ممکن ہے؟
تو اگر چہ یہ ممکن تو ہے لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ واقع میں عادتاً استاد کا ہونا ضروری ہے۔

[الشاطبي، الموافقات،140/1]

▪️امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (سال وفات 852ھ) ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

أن بقاء الكتب بعد رفع العلم بموت العلماء لا يغني من ليس بعالم شيئا

مفہوم:

راسخ علماء کرام کے مرنے کے بعد کتابوں کا باقی رہنا جاہل شخص کو  مفید نہیں ( وہ کتابیں عالم کی جگہ نہیں لے سکتیں)

[ فتح الباري لابن حجر، 286/13]
[المناوي، فيض القدير، ٢٧٣/٢]

▪️ امام ابن جماعہ. رحمہ اللہ (سال وفات 733ھ) فرماتے ہیں :

من أعظم البلية تشييخ الصحيفة

مفہوم :

سب سے بڑی بلا اور  آزمائش صرف کتاب کو استاد بنالینا ہے

[ابن جماعة، تذكرة السامع, 87]

▪️ائمہ کرام فرماتے ہیں:

“من كان شيخه كتابه كان خطأه أكثر من صوابه

مفہوم:

جس کا استاد اس کی کتاب ہو اس کی غلطیاں درستگیوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

[عبد الكريم الخضير، شرح ألفية العراقي ، 32/9]

▪️امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ (سال وفات 204ھ) فرماتے ہیں:

«مَنْ تَفَقَّهَ مِنْ الْكُتُبِ ضَيَّعَ الأَحْكَامَ».

مفہوم:

جس نے صرف کتابوں سے فقہ حاصل کی اس نے احکام کو ضائع کردیا

[البقاعي، النكت الوفية بما في شرح الألفية، 363/2]

▪️امام ابراہیم بن موسی شاطبی رحمہ اللہ (سال وفات 790ھ)نقل  فرماتے ہیں:

“إِنَّ الْعِلْمَ كَانَ فِي صُدُورِ الرِّجَالِ، ثُمَّ انْتَقَلَ إِلَى الْكُتُبِ، وَصَارَتْ مَفَاتِحُهُ بِأَيْدِي الرِّجَالِ”.

مفہوم:

پہلے علم علماء کے سینوں میں تھا لیکن (اب)  کتابوں میں منتقل ہوچکا ہے اور اس کی چابیاں علماء کے ہاتھوں میں ہیں۔

[الشاطبي، ,الموافقات ,1/140]
[ابن الأزرق، بدائع السلك في طبائع الملك، ٣٣٦/٢]

اسی میں ہے:

قَلَّمَا وُجِدَتْ فِرْقَةٌ زَائِغَةٌ، وَلَا أَحَدٌ مُخَالِفٌ لِلسَّنَةِ إِلَّا وَهُوَ مُفَارِقٌ لِهَذَا الْوَصْفِ، وَبِهَذَا الْوَجْهِ وَقَعَ التَّشْنِيعُ عَلَى ابْنِ حَزْمٍ الظَّاهِرِيِّ وَأَنَّهُ لَمْ يُلَازِمِ الْأَخْذَ عَنِ الشُّيُوخِ، وَلَا تَأَدَّبَ بِآدَابِهِمْ،

مفہوم:

اکثر اسی وصف(استاد کی تربیت) کی کمی کی وجہ سے فرقے گمراہ ہوجاتے ہیں اور اسی وصف سے دوری کے باعث انسان مخالف سنت (تک) بن جاتا ہے
اسی وجہ سے ابن حزم ظاہری(سال وفات 456ھ)پر تشنیع کی گئی کیونکہ اس نے  اساتذہ کی صحبت نہیں اختیار کی اور نہ ہی ان کے طریقے پہ چلا۔

[الشاطبي، الموافقات،144/1]

اسی وجہ سے امام اوزاعی رحمہ اللہ (سال وفات 157ھ)فرماتے ہیں :

قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: كَانَ هَذَا الْعِلْمُ شَيْئًا شَرِيفًا إِذْ كَانُوا يَتَلَقَّوْنَهُ وَيَتَذَاكَرُونَهُ بَيْنَهُمْ وَفِي حَدِيثِ صَفْوَانَ , إِذْ كَانَ مِنْ أَفْوَاهِ الرِّجَالِ يَتَلَاقَونَهُ وَيَتَذَاكَرُونَهُ , فَلَمَّا صَارَ إِلَى الْكُتُبِ , وَقَالَ صَفْوَانُ , فِي الْكُتُبِ ذَهَبَ نُورُهُ وَصَارَ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ

مفہوم :

علم کو ہمیشہ معزز اور شریف  سمجھا جاتا رہا جب تک لوگ ایک دوسرے سے زبانی لیتے رہے لیکن جب یہ علم کتابوں میں آگیا تو اب اس میں غیر اہل بھی داخل. ہوگئے ہیں اور علم. کا. نور چلا گیا

[ تقييد العلم للخطيب البغدادي، ٦٤]

▪️امام محیی الدين نووی شافعی (سال وفات 676ھ) رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں :

لَا تَأْخُذْ الْعِلْمَ مِمَّنْ كَانَ أَخْذُهُ لَهُ مِنْ بُطُونِ الْكُتُبِ مِنْ غَيْرِ قِرَاءَةٍ عَلَى شُيُوخٍ أَوْ شَيْخٍ حَاذِقٍ

مفہوم:

اس شخص سے علم نہ لو جس شخص نے بغیر ماہر اساتذہ سے پڑھے صرف کتابوں سے ہی علم حاصل کیا ہو

[النووي، المجموع شرح المهذب، 36/1]

▪️امام شاطبی مالکی (سال وفات 790ھ) رحمہ اللہ کامل محقق عالم دین کی تین علامات ذکر فرمائی ہیں ان میں دوسری علامت بیان کرتے ہوئے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الثانية:
أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ رَبَّاهُ الشُّيُوخُ فِي ذَلِكَ الْعِلْمِ؛ لِأَخْذِهِ عَنْهُمْ، وَمُلَازَمَتِهِ لَهُمْ؛ فَهُوَ الْجَدِيرُ بِأَنْ يَتَّصِفَ بِمَا اتَّصَفُوا بِهِ مِنْ ذَلِكَ هكذا كان شأن السلف الصالح

مفہوم:

دوسری علامت یہ ہے کہ وہ عالم اس علم میں اساتذہ کا تربیت یافتہ ہو اور اساتذہ کی شاگردی میں ان سے علم حاصل کیا ہو(اگر ایسا ہو) تو وہ اس لائق ہے کہ اساتذہ کی طرح وہ بھی اس علم کے ساتھ متصف ہوجائے
یہی سلف وصالحین کا طریقہ  ہے

[الشاطبی ،ابراهيم بن موسى ،الموافقات، 142/1]

▪️امام اعظم رضی اللہ عنہ(سال وفات 150ھ)سے پوچھا گیا مسجد میں ایک کچھ لوگوں حلقہ. کی صورت میں فقہ پڑھ رہے ہیں ان کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا : ان کا کوئی استاد ہے عرض کی گئی نہیں فرمایا :جن کا استاد نہ ہو وہ کبھی فقیہ نہیں بن سکتے

[الفقيه والمتفقه للخطيب البغدادي، ١٦٢/٢]

▪️امام وکیع بن الجراح رحمہ اللہ(سال وفات 197ھ) فرماتے ہیں :

وَلَا بُدَّ لِلْمُتَفَقِّهِ مِنْ أُسْتَاذٍ يَدْرُسُ عَلَيْهِ , وَيَرْجِعُ فِي تَفْسِيرِ مَا أَشْكَلَ إِلَيْهِ , وَيَتَعَرَّفُ مِنْهُ طُرُقَ الِاجْتِهَادِ , وَمَا يُفَرِّقُ بِهِ بَيْنَ الصِّحَّةِ وَالْفَسَاد

مفہوم :

فقہ حاصل. کرنے والے طالب کے لیے  ایسا ایک استاد انتہائی ضروری ہے جن کے پاس وہ پڑھے، مشکل مقامات میں اس کی طرف رجوع کرے اس سے  اجتہاد کے طریقے جانے اور یہ جانے کہ  کس چیز سے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کیا جاتا ہے

[ نصيحة أهل الحديث، ٤٢]

▪️امام بن جماعہ رحمہ اللہ (سال وفات 733ھ) لکھتے ہیں :

وليجتهد على أن يكون الشيخ ممن له على العلوم الشرعية تمام الاطلاع، وله مع من يوثق به من مشايخ عصره كثرة بحث وطول اجتماع، لا ممن أخذ عن بطون الأوراق، ولم يعرف بصحبة المشائخ الحذاق

مفہوم :

طالب علم کو چاہیے کہ ایسے استاد کو ڈھونڈے جس کو علوم شرعیہ پر اطلاع کامل حاصل ہو اور اس نے اپنے زمانے کے ثقہ اور کامل علماء کی ملازمت اختیار کی ہو اور ان کی صحبت اٹھائی ہو
ایسے شخص کو. استاد نہیں بناسکتے جس نے صرف کتابوں کے اوراق سے علم لیا اور ماہر علماء کی صحبت نہ پائی

[ابن جماعة تذكرة السامع ، صفحة 87]

▪️حافظ ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ (سال وفات 264ھ) فرماتے ہیں :

لا يُفتي الناسَ صُحُفيٌّ

مفہوم :

صرف کتابوں سے علم لینا والا شخص کسی کو فتوی نہ دے

[ الفقيه والمتفقه للخطيب البغدادي، ١٩٣/٢]

اسی سے ملتا جلتا اقوال کئی ائمہ سے مروی ہیں

ثور بن یزید(سال وفات 153ھ)

«لَا يُفْتِي النَّاسَ الصَّحَفِيُّوَنَ»

[ الفقيه والمتفقه للخطيب البغدادي

سلیمان بن موسی (سال وفات 119 ھ)

لَا تَأْخُذُوا الْعِلْمَ مِنَ الصَّحَفِيِّينَ»

[ الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، ١٦٢]

قَالَ الْعلمَاء لَا تَأْخُذُوا الْعلم من صحفي وَلَا مصحفي يَعْنِي لَا يقْرَأ الْقُرْآن على من قَرَأَ من الْمُصحف وَلَا الحَدِيث وَغَيره على من أَخذ ذَلِك من الصُّحُف

[الصفدي، الوافي بالوفيات، ٧٥/٢١]

▪️امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ (سال وفات 179ھ) نے فرمایا :

وَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ حِفْظُهُ مَأْخُوذًا عَنِ الْعُلَمَاءِ لَا عَنِ الصُّحُفِ

مفہوم :

علم. ایسے محدث سے لیا جائے گا جس کا حفظ علمائے کرام سے ہو جس کا حفظ صرف کتابوں سے ہو اس سے علم. نہیں لیا جاسکتا

[ الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، ١٦٢]

▪️امام احمد(سال وفات 241ھ) سے پوچھا گیا اگر کسی شخص کے پاس حدیث کی کتاب ہو لیکن اس کو ان احادیث کی صحت و ضعف کا علم نہیں تو اس پر عمل کرسکتا ہے تو آپ نے فرمایا :اس پر لازم ہے کہ اہل علم کی صحبت میں رہے اور ان سے پوچھیں  کہ کتاب سے کونسی چیز لینی ہے کونسی چیز چھورنی ہے

[الفقيه والمتفقه للخطيب البغدادي، ١٩٤/٢]

▪️امام عبد الرحمن بن یزید ازدی رحمہ اللہ (سال وفات 154ھ)  فرماتے ہیں :

«لَا يُؤْخَذُ الْعِلْمُ إِلَّا عَمَّنْ شُهِدَ لَهُ بِطَلَبِ الْحَدِيثِ»

مفہوم :

علم اسی محدث سے حاصل. کیا جائے گا جس کے طلب ِ حدیث کی گواہی دی گئی ہو (یعنی مشہور ہو کہ. اس سے علم. کے لیے سفر اختیار کیے اور علماء کی صحبت پائی ہے)

[ الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، صفحة ١٦١]

▪️امام عبد اللہ بن عون رحمہ اللہ (سال وفات 150ھ) فرماتے ہیں :

لَا نَكْتُبُ الْحَدِيثَ إِلَّا مِمَّنْ كَانَ عِنْدَنَا مَعْرُوفًا بِالطَّلَبِ

مفہوم :

ہم صرف اسی شخص سے حدیث لکھتے تھے جو علم کی طلب میں مشہور ہوتا تھا

[ الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، ١٦١]

اس سے معلوم ہوا کہ صرف کتابوں سے علم حاصل کرنا علماء کے ہاں باقاعدہ ایک عیب و خامی ہے

▪️اسی ضمن میں قاضی ریاض رحمہ اللہ (سال وفات 544 ھ) نے ایک قص نقل. کیا ہے

ابو جعفر داؤدی اسدی رحمہ اللہ (سال وفات 402ھ) نے اکیلے ہی علم حاصل کیا تھا اور اکثر علوم میں مشہور شیوخ سے تلمذ حاصل نہیں کیا آپ اپنے زمانے کے قیروانی علمائے کرام پر تنقید کرتے رہتے ایک بار آپ نے ان کو خط لکھا اور ان کو اپنے مؤقف کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی لیکن ان ائمہ نے جوابا کہا:

اسكت لا شيخ لك! أي: لأن درسه كان وحده، ولم يتفقه في أكثر علمه عند إمام مشهور

مفہوم :

خاموش رہ تیرا تو کوئی استاد ہی نہیں

[ ترتيب المدارك وتقريب المسالك، ١٠٣/٧]

▪️اسی طرح امام ذہبی رحمہ اللہ (سال وفات 748ھ)ابن رضوان مصری (سال وفات 453ھ)کے متعلق لکھتے ہیں:

ولم يكن له شيخ، بل أخذ من الكُتُب، وألَّف كتابًا أنَّ تحصيل الصِّناعة من الكُتُب أوفق من المعلّمين، وغلط في ذلك.

[الذهبي، تاريخ الإسلام ، ٣٨/١٠]

▪️اسی طرح امام. ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ (سال وفات 745ھ)کے ہاں جب ابن مالک نحوی رحمہ اللہ (سال وفات 672ھ) کا ذکر کیا جاتا تو آپ فرماتے :
أين شيوخه
مفہوم :
اس کے اساتذہ کہاں ہیں (یعنی اس نے بغیر استاد کے علم حاصل کیا ہے)

[الإعلام بحرمة أهل العلم والإسلام،  ٣٤٤]

▪️آپ فرماتے ہیں

وكانَ ابْن مالك لا يحْتَمل المباحثة، ولا يثبت للمناقشة، لِأنَّهُ إنَّما أخذ هَذا العلم بِالنّظرِ فِيهِ بِخاصَّة نَفسه،

ابن مالک رحمہ اللہ مباحثہ اور مناقشہ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ انہوں نے باقاعدہ کسی استاد سے تعلیم حاصل. نہیں کی

[السيوطي، بغية الوعاة، ١٣١/١]

دراصل علم کی مجالس میں انوار سکینہ کا. نزول ہوتا ہے جس کی وجہ سے طالب علم کے لیے وہ چیزیں منکشف ہوجاتی ہیں جو اکیلے پڑھنے میں نہیں آتیں
إذ يُفتح للمتعلّم بين أيديهم ما لا يُفتح له دونهم

[الإعلام بحرمة أهل العلم والإسلام ٣٣٩]
واللہ اعلم بالصواب