کتاب الحیض باب 11 حدیث نمبر 312
۱۱ – بَابُ هَلْ تُصَلَّى الْمَرْأَةُ فِي ثَوْبِ حَاضَتْ فِيهِ؟
آیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اس کو حیض آیا تھا ؟
اس باب کے عنوان میں یہ سوال ہے کہ آیا عورت اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے، جس میں اس کو حیض آیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں پڑھ سکتی ہے باب سابق میں مستحاضہ کے نماز پڑھنے کا ذکر تھا اور اس باب میں حائض کے غسل کے بعد اس کے حیض والے کپڑے کو پاک کرنے کے بعد اس کپڑے میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور نماز پڑھنا ان دونوں بابوں میں قدر مشترک ہے۔
۳۱۲- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَاكَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، تَحِيضُ فِيهِ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ، قَالَتْ بِرِيْقِهَا ، فَقَضَعَتْهُ بِظُفْرِهَا . (سنن ابوداؤد: ۳۵۸)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن نافع نے حدیث بیان کی از ابن ابی نجیخ از مجاہد، انہوں نے بیان کیا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ہم میں سے کسی ایک کے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جس میں اس کو حیض آجاتا تھا، پس جب اس کپڑے میں کچھ خون لگ جاتا تو وہ اس پر اپنا تھوک لگاتی ، پھر اس کو اپنے ناخن سے کھرچ دیتی۔
اس حدیث کی مطابقت باب کے عنوان کے ساتھ اس طرح ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، اس میں اس کو حیض آجاتا وہ اس کو دھولیتی اور ظاہر ہے کہ وہ صرف اس میں نماز پڑھتی تھی اور یہی اس باب کا عنوان ہے۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ وہ اس خون پر اپنا تھوک لگاتی، یعنی تھوک سے اس خون کو بھگولیتی اور اس میں یہ دلیل ہے کہ پانی کے علاوہ کسی بھی مائع چیز سے نجاست کو دھویا جاسکتا ہے اور یہی احناف کا مذہب ہے۔