۱۳ – بَابٌ دَلْكِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ، وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةٌ مُمَسَّكَةٌ ، فَتَتَّبِعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ

جب عورت حیض سے طہارت حاصل کرے تو اس کا اپنے جسم کو ملنا اور وہ کیسے غسل کرے اور وہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس خون کے نشان کو صاف کرے

سابق باب کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں خوشبو کے استعمال کا ذکر ہے۔

٣١٤- حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَن منصور بن صَفِيَّةَ ، عَنْ أمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةٌ سَالَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ، قَالَ خُذِى فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ، فَتَطَهَّرِى بِهَا . قَالَتْ كَيْفَ اَتَطَهَّرُ ؟ قَالَ تَطَهَّرِى بِهَا قَالَتْ كَيْف؟َ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ تَطَهَّرِي ، فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَى، فَقُلْتُ تَتَبَّعِى بِهَا أَثَرَ الدَّمِ۔

اطراف الحدیث: ۳۱۵ ۷۳۵۷

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں ابن عیینہ نے حدیث بیان کی از منصور بن صفیه از والده خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض سے غسل کے متعلق سوال کیا؟

آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ کیسے غسل کرے، آپ نے فرمایا کہ تم مشک کا ٹکڑا لو اور اس سے طہارت حاصل کرو اس نے کہا: کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: اس سے طہارت حاصل کرو اس نے کہا: کیسے؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کرو حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر کہا: اس مشک کے ٹکڑے سے خون کے نشان کو (مل کر) صاف کرو ۔

(صحیح مسلم : 232، الرقم المسلسل : ۷۳۲ سنن نسائی : ۴۲۷-۲۵۱ مسند ابویعلی : 4733، صحیح ابن حبان : ۱۲۰۰ – ۱۱۹۹ سنن بیہقی ج اص ۱۸۳ شرح السنة : ۲۵۲ مسند احمد ج 6 ص ۱۲۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۹۰۷ – ج ۴۱ ص ۳۹۳- 392، مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید ابن الجوزی : ۷۳۷۰ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: مشک کے ٹکڑے سے خون کے نشان کو صاف کرو، البتہ اس حدیث میں صراحتہ غسل کے وقت جسم کو ملنے کا ذکر نہیں ہے سو عنوان کے ایک جز کے ساتھ حدیث کی مطابقت ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث کی سند میں صرف یحی مذکور ہے ابن السکن نے کہا: یہ یحیی بن موسیٰ بلخی ہے، بیہقی نے کہا: یہ یحیی بن جعفر ہے،  الغسانی نے  کہا: یہ یحیی بن عیینہ ہے ابن السکن نے کہا: جہاں بھی امام بخاری صرف یحیی کہیں اس سے مراد یحی بن موسی بلخی ہے جو بخت کے ساتھ معروف ہے یہ نیک مسلمانوں میں سے تھے اور ۲۴۰ ھ میں فوت ہوگئے تھے علامہ کرمانی نے کہا: ہمارے پاس بعض نسخوں میں يحي بن البیکندی لکھا ہوا ہے صاحب التوضیح نے کہا: ہمارے بعض شیوخ کی شرح میں یحیی بن معاویہ بن امین ہے۔

دیگر رجال کا تعارف اس سے پہلے کیا جاچکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۲۳)

سوال کرنے والی عورت کی تعیین، حیض کی بدبو زائل کرنے کے لیے فرج (اندام نہانی ) پر غسل ۔۔۔۔ کے وقت خوشبو لگانا اور دیگر مسائل

اس حدیث میں مذکور ہے: ایک عورت نے سوال کیا، وہب کی روایت میں ہے کہ وہ عورت انصاری تھی، امام مسلم نے اس کا نام اسماء بنت شکل لکھا ہے الخطیب نے کہا: اس کا نام اسماء بنت یزید ہے۔

علامہ نووی نے لکھا ہے کہ جمہور علماء نے یہ کہا کہ اس کی فرج کے اوپر جو خون کا نشان ہے اس کو مشک کے ٹکڑے سے صاف کرے تاکہ حیض کے خون کی بدبو زائل ہو جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبعی حیاء کی وجہ سے ایک اجنبی عورت کے سامنے اس کو صراحت کے ساتھ نہیں بیان فرمایا اس لیے حضرت عائشہ نے اس کو سمجھادیا اگر مشک کا ٹکڑا میسر نہ ہو تو کسی کپڑے کے ٹکڑے میں خوشبو لگاکر اس سے حیض کے خون کی بدبو کو زائل کیا جائے ۔ ( صحیح مسلم بشرح النوادی ج ۲ ص ۱۳۹۲ ۱۳۹۱ کتب نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)

اس حدیث سے معلوم ہونے والے دیگر مسائل یہ ہیں :

(1) دینی مسائل کو معلوم کرنے میں حیاء نہیں کرنی چاہیے اور اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو معلم سے بار بار پوچھنا چاہیے۔

(۲) کسی خوشبو دار چیز کو فرج پر لگا کر حیض کے خون کی بدبو زائل کرنی چاہیے۔

(۳) جن چیزوں کا تعلق شرم گاہ سے ہو ان کا صراحت سے ذکر کرنے کے بجائے، کنایہ اور تعریض سے ذکر کرنا چاہیے۔

(۴) اجنبی خواتین کے سامنے شرم گاہ کے ذکر سے احتراز کرنا چاہیے، جس طرح آپ نے اس عورت کے سامنے فرج کا ذکر نہیں کیا۔

(۵) عورت دوسری عورتوں کو شرم گاہ کا ذکر کر کے مسئلہ سمجھا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ نے اس عورت کو سمجھایا۔

(6) متعلم کو اگر بات سمجھ میں نہ آئے تو نرمی سے دوبارہ سہ بارہ سمجھانا چاہیے اور اس سے تنگ نہیں ہونا چاہیے اور تعجب کے موقع پر سبحان اللہ کہنا چاہیے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کا پتا چلتا ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۵۶ – ج ا ص 1024 پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔