تاثرات از قلم : قاری عبدالمجید شرقپوری، برسٹل برطانیه
sulemansubhani نے Sunday، 25 January 2026 کو شائع کیا.
شرح صحیح مسلم
تاثرات
از قلم : قاری عبدالمجید شرقپوری، برسٹل برطانیه
۱۹۷۶ میں پہلی بارمیں نےعلامہ غلام رسول سعیدی کو دیکھا، کچھ علما ان کے متعلق گفتگو کر رہے تھے کہ یہ واحد علم دین ہیں جو اس کم عمری میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں، کچھ عرصہ بعد میں نے حضرت علامہ کی ایک کتاب ضیا کنز الایمان پڑھی اور پھر یہ نام میرے ذہن سے محو ہوگیا ، ۱۹۸۲ ء میں میں پاکستان سے برطانیہ آگیا ، مولانا احمد نثار بیگ نے مانچسٹر میں ایک ماہنامہ نکالا جس میں انھوں نے وجود باری پر حضرت علامہ سعیدی کا ایک مضمون شائع کیا، یہ مضمون پڑھ کہ مجھے حضرت علامہ کے علم و فضل کا کا اندازہ ہوا، اس کے بعد پھر یہ نام ذہن سے غائب ہو گیا۔
۱۹۹۰ میں میں نے پاکستان سے بعض دینی کتابیں منگوائیں جن میں سے ایک کتاب کا نام ” شرح صحیح مسلم تھا اورمصنف کا نام تھا علامہ غلام رسول سعیدی، میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا ، اس کے پڑھنے میں اتنا لطف آیا کہ جب تک چاروں جلدیں ختم نہیں کرلیں ، چین نہیں آیا ، اسکی وجہ یہ تھی کہ برطانیہ میں ہر روز نت نئے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، کبھی عقائد پر، کبھی عبادات پر اور کبھی معاملات پر غیر مسلموں کے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب شرح صحیح مسلم کا مطالعہ کیا تو خدا کے فضل سے ان کے بہت سے اعتراضات کے جوابات مل گئے، پھر پانچویں جلد آگئی اس میں اور دوسرے بہت سے مسائل کی تحقیق تھی اب جب سے میرے پاس شرح صحیح مسلم ہے، مجھے کسی اور کتاب کو دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ایک دن کا واقعہ ہے میرے ایک نو مسلم دوست محمد خلیل نے مجھے فون کیا کہ میں نے ایک یہودی پروفیسر کو بتایا کہ جو شخص حوض کوثر سے پانی پیئے گا اس کو دوبارہ پیاس نہیں لگے گی ، اس یہودی پروفیسر نے اعتراض کیا تو پھر جنت میں نہریں کس لیے بنائی ہیں ؟ میں نے اپنے نو مسلم دوست سے سے کہا ایک گھنٹہ بعد فون کرنا، پھر میں نے شرح صحیح مسلم کی پانچوں جلدوں کی فہرست دیکھ ڈالی مگر وہ مسئلہ نہ ملا، میں سخت پریشان ہورہا تھا کہ دروازہ پر دستک ہوئی ، میں نے دروازہ کھولا تو ڈاکیہ تھا، اس نے کہا تمہارا پاکستان سے پارسل ہے۔ میں نے پارسل کھولا تو وہ شرح مسلم کی جلد سادس تھی ، میں ملنے جلد از جلد فہرست دیکھی تو اس میں حوض کوثر کی بحث مل گئی، اور اس بحث میں اس سوال کا جواب بھی لکھا ہوا تھا کہ حوض کوثر کا پانی پینے کے بعد پیاس تو کبھی نہیں لگے گی اور جنت کی نہروں کا پانی پیاس بجھانے کے لیے نہیں، حصول لذت کے لیے پیا جائے گا۔ اس سال جب علامہ صاحب برطانیہ آتے تھے تو میں نے ان سے چند چند مسائل کا ذکر کیا جو یہاں کے مسلمانوں کو درپیش ہیں آپ نے فرمایا میں نے شرح صحیح مسلم کی ساتویں جلد میں ان مسائل پر بڑی تفصیل سے لکھا ہے ۔ ان شاء الله
صحیح مسلم کی تکمیل کے بعد کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہے گا جس کا حل شرح صحیح مسلم میں نہ ہو ۔
حضرت علامہ کا شرح صحیح مسلم میں اسلوب یہ ہے کہ آپ جس مسئلہ پر بحث کرتے ہیں تو پہلے قرآن مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، پھر احادیث صحیحہ سے استشہاد کرتے ہیں، پھر ائمہ اربعہ کے اقوال ان کے اصل مآخذ سے پیش کرتے ہیں اس کے بعد اس پر اٹھنے والے جدید و قدیم اعتراضات کے جوابات دیتے ہیں، اس کتاب کو پڑھنے سے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے اس کو لکھتے وقت صدہا کتابوں کا عمیق مطالعہ کیا ہے، پھر آپ اپنے معاصر علماء سے مذاکرہ کرتے ہیں، تب کہیں جاکر اس مسئلہ کے متعلق اپنی رائے قائم کرتے ہیں اور عصری مسائل میں جس تازہ مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کرتے ہیں اس کے آخر میں لکھ دیتے ہیں اگر یہ رائے حق اور صواب ہے کو یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلے اللہ علیہ وسلم کیا جانب سے القا ہے ورنہ یہ میری فکر کی کوتا ہی اور مطالعہ کی کمی ہے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں .
عام طور پر لکھنے والوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی مشہور مصنف کو کسی حوالے سے کوئی سہوا لاحق ہوگیا تو یہ بھی اسی طرح مکھی پر مکھی مار دیتے ہیں، زمانہ قریب کے اور معاصر مصنفین تو الگ رہے۔ حضرت علامہ سعیدی نے شرح صحیح مسلم میں متنبہ کیا ہے کہ علامہ نووی، علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابن تیمیہ وغیرہم کو بھی بعض مقامات پر حنفی مذہب کو نقل کرنے میں سہو ہوا ہے، اس کے برعکس حضرت علامہ جب کسی امام کا مذہب نقل کرتے ہیں تو کسی دوسرے مذہب کی کتاب پر اعتماد نہیں کرتے ہیں بلکہ اس مذہب کے محررین سے حوالہ جات نقل کرتے ہیں۔
حضرت علامہ جب کسی مسئلہ میں دوسروں سے اختلاف کرتے ہیں تو اپنے موقف پر بکثرت عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتے ہیں اور جس کا تعاقب کرتے ہیں اس کا بڑی عزت اور احترام سے ذکر کرتے ہیں شمس الائمہ علامہ سرخسی حنفی کا نظریہ یہ ہے کہ اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو عورت کے چہرے اور ہاتھوں کی طرف دیکھنا جائز ہے اور حضرت علامہ کے نزدیک مواضع ضرورت کے علاوہ عورت کا چہرہ اور ہاتھ بھی واجب الستر ہے ۔ اس مقام پر علامہ سرخسی سے اختلاف کرتے ہوئے علامہ سعیدی لکھتے ہیں ہم علامہ سرخسی کی گرد نعلین کو بھی نہیں پہنچتے ، فقہ حنفی کی خدمت کرکے علامہ سرخسی نے جو ملت اسلامیہ پر عظیم احسان کیا ہے اس کے بوجھ سے ہم کبھی سر نہیں اٹھا سکتے، لیکن علامہ سرخسی کے تمام علم وفضل کے باوجود ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ عورت کے چہرے اور ہاتھوں کو ستر سے مستثنی کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل عورت کو بغیر کسی استثنا کے واجب الستر قرار دیا ہے ، امام ترمذی روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت (سرتا پا) واجب الستر ہے۔ شرح صحیح مسلم ج ۵ ص ۶۵۰ – ۶۴۹
اس سےپہلے صحیح مسلم کی جس قدر شروع لکھی گئی ہیں، ان میں سب سے زیادہ مفصل اورمشہور شرح علامہ نووی کی ہے۔ لیکن اس شرح میں آپ دیکھیں گے کہ علامہ نووی ہر جگہ مذہب شافعی کی برتری بیان فرماتے ہیں اور اکثر مقامات پر مذہب احناف کا رد کرتے ہیں اور ان پر بہت قوی اور علمی اعتراضات کرتے ہیں، لہندا فقہاء احناف پر یہ قرض تھا کہ علما احناف میں سے کوئی ایسا مرد میدان پیدا ہو جو اس قرض کو اتار دے اورصحیح مسلم کی ایسی شرح لکھے جس میں علامہ نووی کے تمام اعتراضات کے جوابات ہوں اور تمام مذاہب پر مذہب حنفی کی برتری کا بیان ہو، قسام ازل نے یہ سعادت حضرت علامہ سعیدی کے نصیب میں لکھ دی تھی ۔ علامہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ صحیح بخاری کے ابواب کے تراجم کی احادیث کے ساتھ مطابقت بیان کرتا یہ امام بخاری کا امت مسلمہ پر قرض ہے اور علماء نے لکھا ہے کہ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری لکھ کراس قرض کو اتار دیا ہے، سو جس طرح علامہ عینی نے صحیح بخاری کی شرح لکھ کر امام بخاری کا قرض اتارا ہے،علامہ سعیدی نے صحیح مسلم کی شرح لکھ کر علامہ نووی کا قرض کا ہے اور ان دونوں شرحوں کی وجہ سے الحمد لله ہم کم از کم شیخین کے قرض سے تو بری ہوگئے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ شرح صحیح مسلم صرف صحیح مسلم ہی کی شرح نہیں ہے بلکہ یہ پوری صحاح ستہ کی احادیث کی شرح ہے، کیونکہ صحاح ستہ کی احادیث کم و بیش مشترک ہیں صرف اسانید اور ابواب کی ترتیب کے لحاظ سے فرق ہے ۔
اب میں چند مسائل کا بہ طور تبرک ذکر کر رہا ہوں مثلاً فاسق کی امامت ایک ایسا عنوان ہے جس پر اس سے پہلے آج تک اتنی تفصیل سے نہیں لکھا گیا، اسی طرح مسافت قصر کی جس طرح حضرت نے تحقیق کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ، اس مسئلہ پر انھوں نے اپنے معاصرعلماء سے مذاکرہ بھی کیا اورہر ممکن طریقہ سے اس مسئلہ کو منقح فرمایا، عصری مسائل میں سے ایلو پیتھک دواؤں سے علاج ، انتقال خون، پوسٹ مارٹم اور اعضاء کی پیوندکاری پر بہت مبسوط بحث کی ہے ، خلاقیات میں سے کی علم غیب، نور و بشر، بدعت اور میلاد النبی صلی الله علیہ وسلم کا بہت معروضی تجزیہ کیا ہے ، راقم الحروف برسٹل میں رہتا ۔ اس شہر کی یونیورسٹی بہت مشہور ہے ، اس لیے سعودی عرب کویت، بحرین، ابوظہبی وغیرہ کے طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یہاں سکالر شپ پر آتے ہیں، اور وہ اپنے دینی اجتماعات میں معروف علماء کو دعوت دیتے ہیں، اس طرح مجھے اکثر و بیشتر ریاض، جدہ، طائف اور حرمین طیبین کے علماء سے ملاقات کا موقع میسر آتا ہے، میں نے ان کے سامنے شرح صحیح مسلم سے یہ چاروں مسائل بیان کیے تو انھوں نے کہا اگر واقعی علماء اہلسنت کے یہی نظریات ہیں تو پھر ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے، اس لیے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ کوئی صاحب عزیمت شرح صحیح مسلم کو عربی میں منتقل کر دے تا کہ دنیائے عرب میں ہمارے مسلک کی صحیح ترجمانی ہوسکے، اور وہ لوگ ہیں وہ لوگ جو ہمیں وثنی اور قبوری (بت پرست، قبر پرست) کے القاب سے ملقب کرتے ہیں اور بریلویوں کو مرزائیوں کی طرح کوئی گمراہ فرقہ قرار دیتے ہیں اس کا قرار واقعی سد باب ہوسکے ۔ میں نے ایک یر غیرمقلد عالم کو شرح صحیح مسلم کے چند اقتباسات سنا ئے تو اس نے بے ساختہ کہا میرا دل چاہتا ہے کراچی جا کہ اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلوں ۔
ضبط ولادت پر سید مودودی کی کتاب موجود ہے مگر اس میں انھوں نے فقہ ظاہری کی تمام روایات جمع کی ہیں علامہ سعیدی نے اس مسئلہ پر ائمہ اربعہ کے اقوال بیان کیے اور ظواہر کے تمام اعتراضات کے جوابات دیے ہیں ، اس سے پہلے اس موضوع پر کراچی کے ایک عالم نے نے بھی کتاب لکھی تھی مگر اس میں زیادہ تر حوالے سید مودودی کی کتاب سے لیے گئے ہیں ، شرح صحیح مسلم میں علامہ سعیدی کی تحقیق سب سے زیادہ جامع ہے ۔
Test tube baby پر بھی حضرت علامہ نے بہت مبسوط بحث کی ہے، میں نے جب اس کا مطالعہ کیا تو بہت محظوظ ہوا، چند دنوں کے بعد میں ایک میٹنگ میں شریک ہوا ، جس میں ایک درجن کے قریب انگریز سکالر بھی تھے ۔ اس مجلس میں میں نے اسلام کی حقانیت پر چند باتیں پیش کیں، میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماضی اور مستقبل کی خبریں دینا تو الگ رہا میں تم کو ان کے ایک غلام کی کرامت بیان کرتا ہوں ، علامہ شمس الدین شرخسی نے لکھا ہے کہ : جس شخص کا آلہ تناسل کٹا ہوا ہو وہ جماع نہیں کرسکتا، ایسے شوہر کا نطفہ اگر بغیر جماع کے کسی اور ذریعہ سےعورت کی اندام نہانی میں پہنچے گا، اور بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نسب اس عورت کے کے شوہر سے ثابت ہوگا اور چونکہ وہ شخص جماع نہیں کرسکتا اس لیے فقہا نے عورت کو علیحدگی کے مطالبہ کی اجازت و کے شوہر سے ثابت ہوگا ، اور سے مطالبہ کی اجازت دی ہے۔ شرح صحیح مسلم ج ۳ ص ۹۳۸
میں نے کہا میڈیکل سائنس کو آج معلوم ہوا ہے کہ بغیر جماع کے بچہ پیدا ہوسکتا ہے اور ہمارے فقہاء نے ایک ہزار سال پہلے یہ مسئلہ بتا دیا تھا۔ جب انھوں نے یہ تقریر سنی تو ان میں سے دو انگریزوں نے اسلام قبول کرلیا، میں نے ایک کا نام محمد سلیم اور دوسرے کا نام محمد عابد رکھا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ دونوں نماز وغیرہ سیکھ رہے ہیں ۔
علامہ سرخسی کی جس عبارت کا حوالہ سن کر دو انگریز سکالر مسلمان ہوگئے وہ تقریبا ایک ہزار سال سے مبسوط میں چھپ رہی ہے، لیکن اس عبارت کو منظر عام پر لانے اور اس کو ٹیسٹ ٹیوب پر منطبق کرنے اور اسلامی فقہ کی ہمہ گیری اور آفاقیت کو اجاگر کرنے کا سہرا شرح صحیح مسلم کے سر ہے ، تین طلاقوں کے مسئلہ پر ایک مصری عالم کی تحقیق پڑھ کر ہمارے ایک حنفی عالم دین نے لندن میں کہہ دیا کہ اس مسئلہ میں فقہا احناف کا مسلک درست نہیں ہے، لیکن جب انھوں نے شرح صحیح مسلم میں تمام اعتراضات کے جوابات پڑھے تو اب انھوں نے پھر رجوع کرلیا ہے اور اب وہ کہتے ہیں کہ فقہاء احناف کا موقف ہی برحق ہے ۔
علامہ سعیدی وہ واحد عالم دین ہیں جنھوں نے غزوہ بدر میں فرشتوں کے نزول کی ایسی تحقیق کی ہے جس سے منکرین ملائکہ کے تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔ اس پر گفتگو تو بہت سے علماء نے کی ہے مگر تسلی بخش جواب صرف حضرت علامہ سعیدی نے لکھا ہے کیونکہ منکرین ملائکہ غزوہ بدر میں نزول ملائکہ کے واقعہ سے ملائکہ کے وجود کی نفی کرتے ہیں ، خود راقم الحروف سے کئی بار افکار سرسید کے متبعین نے اس مسئلہ پر بحث کی مگر میں ان کو کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر پاتا تھا، لیکن جب سے میں نے شرح صحیح مسلم میں اس بحث کو پڑھا ہے منکرین ملائکہ کو مسکت جواب دیتا ہوں ۔
ایک اور اہم موضوع ہے اسلامی سیاست ، پاکستان کتنے سیاسی رہنما ہیں جو عالم دین بھی ہیں اور وہ یہ بیان کرتے ہیں اسلام اورجمہوریت ایک ہی ہی چیز ہے، ہے۔ خلیفہ کا قریشی ہونا شرط نہیں ایک حبشی بھی خلیفہ ہو سکتا ہے، بادشاہت کا اسلام میں وجود نہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ علامہ سعیدی نے اس موضوع کو نکھار کر بہت تفصیل سے پیش کیا ہے ، میں سیاسی
رہنماؤں کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ شرح صحیح مسلم میں اس بحث کو ضرور پڑھ لیں ۔
فقہ کی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ علاج کی غرض سے خون یا پیشاب کے ساتھ سورہ فاتحہ کو لکھنا جائز ہے، راقم الحروف نے اکثر علماء سے اس کے متعلق پوچھا مگرچونکہ یہ بات بڑے بڑے فقہاء نے لکھی تھی، اس لیے سب نے اس مسئلہ پرسکوت اختیار کیا، علامہ سعیدی نے پہلی بار اس جمود کو توڑا وہ لکھتے ہیں :
میں کہتا ہوں کہ خون یا پیشاب کے ساتھ سورہ فاتحہ لکھنے والے کا ایمان خطرہ میں ہے اگر کسی آدمی کو روز روشن سے زیادہ یقین ہو کہ اس عمل سے اس کو شفاء ہوجائے گی تب بھی اس کا مرجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ خون یا پیشاب کے ساتھ سورہ فاتحہ لکھنے کی جرات کرے ، اللہ تعالی ان فقہاء کو معاف کرے بال کی کھال نکالنے اور جزئیات مستنبط کر نے لے کی عادت کی وجہ سے ان سے یہ قول شنیع سرزد ہو گیا ۔ ورنہ ان کے دلوں میں قرآن مجید کی عزت و حرمت بہت زیادہ تھی۔ (شرح صحیح مسلم ج ۶ ص ، ۵۵۷
آپ نے دیکھا حضرت علامہ سعیدی نے فقہاء کے اعزاز و اکرام کو بھی برقرار رکھا اور اصل مسئلہ بھی حکیمانہ طریقہ سے بیان کر دیا !۔
یزید کی بیعت ، سوشلزم اور سرمایہ داری، انعامی بانڈز ، رجم ، عورت کی شہادت، انشورنس اور کتاب الحدود کے متعلق تبصرہ کرنا چاہتا تھا، مگر طوالت کی وجہ سے میں نے ارادہ ترک کردیا، میری رائے میں شرح صحیح مسلم، مشرق اور مغرب کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے اور علامہ غلام رسول سعیدی کا نام ان شاء اللہ تاریخ میں اسی طرح زندہ رہے گا، جس طرح علامہ نووی، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ بدرالدین عینی، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ علی قاری اور دیگر اکابر علما کا نام زندہ ہے ۔
بلاشک و شبہ شرح صحیح مسلم، علامہ غلام رسول سعیدی کی محنت اور کاوش کا شاہکار ہے لیکن اس عظیم کام کی تکمیل میں دارالعلوم نعیمیہ اور اس کے ٹرسٹیز کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، جنھوں نے علامہ سعیدی کو اس قدر سہولتیں فراہم کی ہیں کہ وہ آسانی کے ساتھ شرح صحیح مسلم کی تصنیف میں مصروف ہیں ، خود علامہ سعیدی نے مجھے بتایا تھا کہ حضرت جسٹس علامہ مفتی سید شجاعت علی قادری نے ان کو صرف دو پیریڈ پڑھانے کا مکلف کیا ہے، وہ حدیث شریف کے دو سبق پڑھاتے ہیں اور باقی تمام اوقات شرح صحیح مسلم کیے لیے وقت ہیں، اس کے علاوہ انھوں نے اپنی دارالعلوم کی تمام کتابوں کی چابیاں حضرت علامہ کے حوالے کردی ہیں تاکہ ان کو تحقیق و تدقیق کے دوران کوئی رکاوٹ نہ ہو، اللہ تعالی حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اور ان کی تمام حسنات کو مقبول فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ کر دے ۔
اس سلسلہ میں دوسرا نام حضرت پروفیسر مفتی منیب الرحمان مہتمم دارالعلوم نعیمیہ کا ہے، جن کے متعلق حضرت علامہ سعیدی نے مجھے بتایا کہ دارالعلوم نعیمیہ میں وہ ان کے سب سے بڑے حلیف اور خیرخواہ ہیں، اور محض للہ فی اللہ ان سے دلی محبت رکھتے ہیں اور ان کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہیں، شرح صحیح مسلم کے کام میں وہ روز اول سے ان کے معاون ہیں، فرید بک سٹال سے تمام معاملات انھی کی وساطت سے طے پاتے ہیں، اور شرح صحیح مسلم سے بعض مباحث میں حضرت علامہ ان سے مشورہ بھی کرتے رہے ہیں۔
اس سلسلہ میں تیسرا نام سید محمد اعجاز مالک فرید بک اسٹال کا ہے جنھوں نے اپنی بیماری کے باوجود انتہائی سرعت اور برق رفتاری کے ساتھ شرح صحیح مسلم کی طباعت کی ، کاغذ ، طباعت اور جلد بندی میں مثالی حسن کو قائم رکھا اور اس کی متوازن کی قیمت رکھی اس وقت مارکیٹ میں اتنے صفحات کی جس قدر کتابیں ہیں شرح صحیح مسلم کی قمیت ان سب سے کم ہے، اور کاغذ، طباعت اور جلد کا معیار ان سب سے بہتر ہے ۔
اخیر میں اللہ تعالے سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ علامہ غلام رسول سعیدی اور ان کے معاونین کی اس محنت اور کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کو اپنے فضل سے اجر جزیل عطا فرمائے ۔ آمین !
عبد المجید شرقپوری برسٹل برطانیہ
26 Britannia Ra Easton
Bristol B 856DA
Tel: 0272-351318
England.