کتاب التیمم باب 1 حدیث نمبر 334
sulemansubhani نے Sunday، 25 January 2026 کو شائع کیا.
نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم
٧- كِتَابُ التيمم
تیمم کا بیان
اس سے پہلے” کتاب الوضوء” تھی اور تیمم وضوء کی فرع ہے، اس لیے ” کتاب الوضوء‘ کے بعد کتاب التيمم‘ کو شروع کیا۔
تیمم ” کی اصل الام” ہے اس کا معنی قصد کرنا ہے کیونکہ تیمم میں مٹی کا قصد کرکے اس سے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنے کا قصد کیا جاتا ہے اس کا شرعی معنی ہے : نماز یا اور کسی عبادت کے لیے پاک مٹی کا قصد کرکے چہرے اور ہاتھوں پر ملنا۔ تیمم کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے:
فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا . ( النساء: ۴۳ المائده: ۶)
پس تم پاک مٹی کا قصد کرو۔
اور اس کی دلیل میں بہ کثرت احادیث ہیں، جن کا اس کتاب میں ذکر کیا جائے گا اور بے وضوء اور جنبی کے لیے تیمم کے جواز پر اجماع ہے، حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود اور تابعین میں سے ابراہیم نخعی، جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے قائل نہیں تھے لیکن بعد میں انہوں نے رجوع کرلیا۔
تیمم کا جواز اس امت کی فضیلت اور خصوصیت ہے پچھلی امتوں کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی ۔
۱ – بَابٌ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ ﴾ (النساء:٤٣)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو، پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو (النساء: ۴۳۔ المائدہ:۶)
٣٣٤- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی بَعْضٍ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، أو بذاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقَدْ لِي ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ ، فَقَالُوا ألا ترى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍوَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أَبُوبَكْر ، وَرَسُولُ اللہ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَ رَاسَهُ عَلَى فَخِذِى قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمُ مَاءً فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَعَاتَبَنِي أَبُوبَكْرٍ ، وَقَالَ مَا شَاءَاللهُ أَنْ يَقُولُ، وَجَعَلَ يَطْعَننِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِی ، فَلا يَمْنَعْنِى مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِى ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ اصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَانْزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ (فَتَيَمَّمُوا) فَقَالَ اسَيْدُ بْنُ الْحُضیَرِ مَا هِىَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا إِلَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ فَبَعَثْنَا الْبَعِير الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَأَصَبْنَا الْعِقَدَ تَحْتَهُ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبردی از عبدالرحمن بن القاسم از والد خود از حضرت عائشہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں نکلے حتی کہ جب ہم مقام البيداء یا ذات الحبیش میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ڈھونڈنے کے لیے ٹہرگئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹہرگئے اور لوگ پانی کے پاس نہیں تھے پھر لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ حضرت عائشہ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹہرا لیا، اور لوگ پانی کے پاس نہیں ہیں اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے! پھر حضرت ابوبکر آئے اور اس وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میرے زانو پر سر رکھ کر سوچکے تھے انہوں نے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ٹھہرالیا حالانکہ لوگ پانی کے پاس نہیں ہیں اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے! حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : حضرت ابوبکر نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہتے رہے اور وہ اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں چٹکی لے رہے تھے اور مجھے ہلنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی، سوا اس کے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میرے زانو پر تھا، پھر صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس وقت وہاں پانی نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمادی: “پس تم تیمم کرو ” پھر اسید بن الحضیر نے کہا: اے آل ابی بکر ! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت تو نہیں ہے! حضرت عائشہ نے کہا: پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا، جس پر میں تھی تو ہم نے ہار کو اس کے نیچے پالیا۔
اطراف الحدیث: ۳۳۶ – ۳۶۷۲- ۳۶۷۳-4583-4608 – ۵۱۶۴ – ۵۲۵۰ – ۵۸۸۲ – ۶۸۴۴ – ۶۸۴۴ – ۶۸۴۵] ( صحیح مسلم: 367، الرقم المسلسل : ۷۹۴، سنن نسائی: ۳۱۰، السنن الکبری للنسائی : ۲۹۹ موطا امام مالک : ۸۹ تنویر الحوالک ص ۷۳ ، مصنف عبد الرزاق: 880، صحیح ابن خزیمہ: ۲۶۲ صحیح ابن حبان : ۱۳۰۰ المعجم الکبیر :۱۲۹ – ج ۲۳، سنن بیہقی ج 1 ص ۲۰۵ – ۲۰۴ شرح السنته : 307 مسند احمد ج 6 ص ۱۷۹ طبع قدیم مسند احمد:25455، – ج 41 ص ۲۸۶ – ۲۸۵ مؤسسة الرسالة بيروت ‘جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۵۶۴ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، جن کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔
البيداء اور ذات الحبیش کا تعین اور غزوة بنو المصطلق اور غزوۃ المریسیع کی تاریخ
اس حدیث میں البیداء اور ذات الحبیش کا ذکر ہے یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان دو مقام ہیں۔
کسی سفر میں علامہ ابن عبد البر نے التمہید اور الاستذکار میں لکھا ہے : یہ سفر غزوہ بنو المصطلق کا تھا، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
اور امام ابن سعد اور امام ابن حبان نے لکھا ہے کہ غزوہ بنو المصطلق ہی غزوۃ المریسیع تھا، جس میں منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر حضرت صفوان بن المعطل رضی اللہ عنہ کے ساتھ تہمت لگائی تھی اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: میرا سیپیوں کا ہار ٹوٹ گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ڈھونڈنے کے لیے لوگوں کو ٹھہرالیا، امام ابن سعد نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن ۴ رمضان ۵ ھ کو غزوہ مریسیع کے لیے نکلے تھے اور امام بخاری نے امام ابن اسحاق سے 6ھ کو نقل کیا ہے اور موسیٰ بن عقبہ سے 4ھ کو نقل کیا ہے اور تہمت لگانے کا واقعہ غزوہ مریسیع یا غزوہ بنو المصطلق میں ہوا تھا اور آیت تیمم کے نزول کا واقعہ اس کے بعد کسی غزوہ کے سفر میں ہوا ہے جیسا کہ ہم ان شاء اللہ عنقریب بیان کریں گے۔
ہار ملنے کے سلسلہ میں دو حدیثوں میں تعارض کا جواب
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عبداللہ بن نمیر کی ہشام سے روایت ہے: آپ نے ایک شخص کو بھیجا تو اس نے ہار کو پالیا اور امام مالک کی روایت میں ہے: ہم نے اونٹ کو اٹھایا تو ہم نے ہار کو پالیا اور ان میں تضاد ہے میں کہتا ہوں کہ المہلب نے کہا ہے کہ ان میں تناقض نہیں ہے، کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے اسید بن حضیر کو بھیجا ہو اور انہوں نے ہار کی تلاش سے لوٹنے کے بعد اس کو پالیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہار کی تلاش میں بھیجنے کے بعد آپ نے اونٹ کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہارمل گیا ہوا پس ان میں تعارض نہیں رہے گا۔
علامہ عینی فرماتے ہیں : یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، کیونکہ ایک روایت میں عقد “ کا لفظ ہے اور دوسری روایت میں قلادة “ کا لفظ ہے لہذا ان دو روایتوں میں تعارض نہیں رہا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ آپ نے ایک آدمی کو بھیجا، پس اس نے ہار کو پالیا، اس سے حضرت عائشہ کی مراد یہ تھی کہ آپ نے ہار کو پالیا، لہذا تعارض نہیں رہا۔
آیت تیمم کے نزول کا واقعہ، منافقوں کے تہمت لگانے کے واقعہ کے بعد کسی غزوہ کا ہے
ہشام بن عروہ کی اس کے بعد جو روایت ہے، اس میں مذکور ہے: پس اللہ کی قسم ! جب بھی آپ پر کوئی ایسی مصیبت نازل ہوئی جس کو آپ ناپسند کرتی ہوں تو اللہ نے اس میں مسلمانوں کے لیے خیر رکھ دی اور “کتاب النکاح “ میں یہ الفاظ ہیں : مگر اللہ نے اس میں آپ کے لیے نجات کی راہ اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی اور اس میں یہ خبر ہے کہ تیمم کا واقعہ تہمت لگائے جانے کے بعد کا واقعہ ہے اور اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ امام ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: حضرت ابوہریرہ نے کہا: جب آیت تیمم نازل ہوئی تو مجھے پتا نہیں چلا کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں اور حضرت ابو ہریرہ غزوہ بنو المصطلق کے بعد ۷ھ میں اسلام لائے تھے اور کتاب المغازی میں آئے گا ان شاء اللہ تعالی کہ غزوہ ذات الرقاع، حضرت ابو موسیٰ اشعری کے آنے کے بعد ہوا ہے اور وہ اس وقت آئے تھے جب حضرت ابوہریرہ اسلام لائے تھے نیز امام طبرانی نے روایت کیا ہے کہ منافقوں کی تہمت لگانے کا واقعہ آیت تیمم کے نزول کے واقعہ سے پہلے کا ہے کیونکہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا:جب میرے ہار کے واقعہ میں جو ہوا سو ہوا اور تہمت لگانے والوں نے جو کہا سو کہا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور غزوہ میں گئی اور اس میں بھی میرا ہار گرگیا، حتی کہ لوگ اس کو ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے اور فجر طلوع ہوگئی پھر حضرت ابوبکر سے مجھے عتاب کا سامنا ہوا اور انہوں نے کہا: اے بیٹی! ہر وہ سفر جس میں تم ہوتی ہو اس میں کوئی پریشانی اور مصیبت ہوتی ہے، لوگوں کے پاس پانی نہیں ہے پھر اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت نازل فرمادی تو حضرت ابوبکر نے کہا: بے شک تمہارا عمل برکت والا تھا۔
(المعجم الکبیر: ۱۵۹ – ج ۲۳ ص ۱۲۱ دار احیاء التراث العربی بیروت )
علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند جید حسن ہے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۶)
حدیث مذکور سے ہیں مسائل کا استنباط
علامہ بدرالدین عینی نے لکھا ہے: اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی جگہ پر قیام کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو اور نہ اس وقت لوگوں کے ساتھ پانی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے پاس پینے کے لیے تو پانی ہو مگر وضوء کے لیے پانی نہ ہو۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ کسی شادی شدہ عورت کی شکایت اس کے والد سے کرنی جائز ہے کیونکہ لوگوں نے حضرت عائشہ کی شکایت حضرت ابوبکر سے کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لیے شکایت نہیں کی کہ آپ سوئے ہوئے تھے یا حضرت عائشہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرنا آپ کی ناراضگی کا موجب تھا۔
(۳) کسی فعل کی نسبت اس فعل کے سبب کی طرف کرنا جائز ہے، لوگوں نے ایسی جگہ ٹھہرانے کی نسبت حضرت عائشہ کی طرف کی حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس جگہ ٹھہرایا تھا کیونکہ ٹھہرانے کا سبب حضرت عائشہ کے ہار کو تلاش کرنا تھا۔
(۴) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا جائز ہے خواہ اس وقت اس کا شوہر اس کے زانو پر سر رکھ کر سورہا ہو۔
(۵) کسی شخص کا اپنی شادی شدہ بیٹی کو ڈانٹنا جائز ہے خواہ اس وقت وہ اپنے شوہر کے پاس ہو۔
(۶) حضرت ابوبکر حضرت عائشہ کی کوکھ میں چٹکیاں لے رہے تھے، اس سے انسان کا جسم مضطرب ہوجاتا ہے لیکن حضرت عائشہ بلی بھی نہیں، مبادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل جائے اس سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عائشہ کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا احترام تھا اور آپ سے کس قدر محبت تھی ۔
(۷) اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کو تجد کی نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ آپ پر تہجد کی نماز فرض نہیں تھی اور کبھی کبھی آپ تہجد کو ترک بھی کر دیتے تھے۔
(۸) اس کے بعد کی روایت میں ہے کہ نماز کا وقت آیا تو پانی کو تلاش کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا وقت آنے سے پہلے وضوء کے لیے پانی کو تلاش کرنا ضروری نہیں ہے۔
(۹) اس واقعہ کے بعد المائدہ: 4 نازل ہوئی ہے جس میں وضوء کرنے کا حکم ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرنے کا حکم ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آیت وضوء نازل ہونے سے پہلے بھی مسلمانوں پر وضوء کرنا فرض تھا، یہی وجہ ہے کہ جب وہ ایسی جگہ ٹھہرے جہاں پانی نہیں تھا وہ پریشان اور مضطرب ہوئے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جگہ ٹھہرالیا جہاں پانی نہیں ہے اور انہوں نے اس بات کی حضرت ابوبکر سے شکایت کی اور حضرت ابوبکر نے اس بات پر حضرت عائشہ کو ڈانٹا اوران کی کوکھ میں چٹکیاں لیں ۔ علامہ ابن عبد البر نے کہا ہے کہ تمام اہل مغازی کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی ہے، آپ نےکوئی نماز بغیر وضوء کے نہیں پڑھی اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں آیات کے نزول سے پہلے بھی وحی خفی کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احکام شرعیہ کا علم ہوتا تھا، اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب آپ کو پہلے علم تھا کہ نماز کے لیے وضوء کرنا فرض ہے تو پھر بعد میں یہ آیت کس لیے نازل ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضوء کی فرضیت کا علم وحی جلی سے بھی حاصل ہو جس طرح اس کا علم پہلے وحی خفی سے ہوا تھا اور اس میں منکرین حدیث کا بھی رد ہے جو وحی خفی اور حجیت حدیث کے قائل نہیں ہیں اور ورنہ وہ بتائیں کہ المائدہ:6 کے نزول سے پہلے وضوء کی فرضیت کس دلیل سے ثابت تھی۔
(۱۰) اس میں یہ دلیل ہے کہ تیمم میں طہارت کی نیت کرنا واجب ہے کیونکہ تیمم کا معنی قصد کرنا ہے۔
(11) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ تمیم کے حکم میں تندرست اور مریض بے وضوء اور جنبی سب مساوی ہیں، حجاز، عراق، شام اور مشرق اور مغرب کے تمام علما ء کا اس پر اجماع ہے، حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے کہ جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے اور اس کی طہارت صرف غسل سے ہو سکتی ہے، کیونکہ قرآن مجید میں یہ حکم ہے: وَإِن كُنتُمْ جُنَّبًا فَاطَهَرُوا (المائده:6) اور اگر تم جنبی ہو تو غسل کرو۔ وَلَا جُنَّبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيْلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا اور تم حالت جنابت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ مگر راستہ عبور کرنے کے لیے حتی کہ تم غسل کرلو۔ النساء: ۴۳ اور جمہور صحابہ، فقہاء تابعین اور بعد کے علماء نے جنبی کے لیے تیمم کے جواز پر اس آیت سے استدلال کیا ہے: وَإِن كُنتُمْ مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَم تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا.اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء سے آیا ہو یا تم نے بیویوں سے جماع کیا ہو پھر تم کو پانی میسر نہ ہو تو پھر تم پاک مٹی سے تیمم کرو۔ (النساء : ۴۳ المائده:6 :)
(۱۲) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز پر دلیل ہے، اور اس پر اجماع ہے، جب کہ شہر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے امام مالک اور ان کے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ شہر میں اور سفر میں تیمم کرنا برابر ہے جب پانی نہ ہو یا مرض یا شدید خوف ہو یا وقت نکلنے کی وجہ سے پانی کا استعمال مشکل ہو ابوعمر نے کہا: امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے اور امام شافعی نے کہا: شہر میں تندرست آدمی کے لیے تمیم کرنا جائز نہیں ہے سوا اس کے کہ اس کو پانی کے استعمال سے ہلاکت کا خطرہ ہو اور امام ابو یوسف اور امام زفر نے کہا: شہر میں تیمم کرنا کسی حال میں جائز نہیں ہے، نہ مرض کی وجہ سے، نہ وقت نکلنے کے خوف کی وجہ سے امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے اور لیث اور طبری نے کہا ہے : جب شہر میں پانی نہ ہو اور وقت نکلنے کا خطرہ ہوتو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں وہ نماز پڑھ کر دہرائیں گے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک وقت نکلنے کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔
(۱۳) جب امن کا زمانہ ہو تو عورتوں کے ساتھ غزوات وغیرہ کا سفر کرنا جائز ہے اور اگر ایک شخص کے نکاح میں کئی ازواج ہوں تو وہ جس کو چاہے ساتھ لے کر سفر پر جا سکتا ہے اور اگر ان کے درمیان قرعہ اندازی کرلے تو بہتر ہے اور جس کے نام قرعہ نکل آئے اس کو ساتھ لے کر سفر میں چلا جائے۔
(۱۴) اس حدیث میں مال حلال کی عزت و حرمت پر دلیل ہے اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے خواہ وہ چیز کم قیمت کی ہو، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ ہار بارہ درہم کا تھا۔
(۱۵) مال کی حفاظت کرنی چاہیے اور اگر وہ گم جائے تو اس کو تلاش کرنا چاہیئے خواہ اس کی تلاش میں نماز کا وقت آجائے اور گم شدہ چیز کو تلاش کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ ایک فرد کا نقصان پوری قوم کا نقصان ہےکیونکہ اس ہار کو سب نے مل کر تلاش کیا تھا۔
(۱۶) اس میں کسی چیز کو عاریہ لینا اور اس کو لے کر اس کی اجازت سے سفر کرنے کا ثبوت ہے’ کیونکہ حضرت عائشہ نے یہ ہار حضرت اسماء سے عاریہ لیا تھا۔
(۱۷) عورتوں کے زیورات پہننے کا جواز ،کیونکہ ہا ر زینت کے لیے پہنا جاتا ہے۔
(۱۸) اس میں مرد کا اپنی بیوی کے زانو پر سر رکھنے کا جواز ہے۔
(19) رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مشقت برداشت کرنے کا ثبوت ہے، کیونکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : جب حضرت ابوبکر میری چٹکیاں لے رہے تھے تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے نیند میں خلل پڑنے کی وجہ سے میں نے اپنے آپ کو ہلنے سے بھی روکا ہوا تھا۔
(۲۰) اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ جب غزوہ بنو مصطلق کے سفر میں آپ کا ہارگم ہوا اور آپ قافلہ کے ساتھ نہ مل سکیں اور منافقین نے حضرت صفوان بن معطل کے ساتھ آپ پر تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی پاک دامنی اور براءت میں سورۂ نور کی دس آیات نازل فرمائیں اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں پر اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم نازل ہوا اور مسلمان عورتوں کی عزت کی حفاظت کا قانون نازل ہوا اور اس کے بعد اس سفر میں جب آپ کے ہار کی تلاش میں نماز کا وقت نکل گیا اور مسلمانوں نے آپ پر طعن کیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں تخفیف کے لیے تیمّم کا حکم نازل کر دیا، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں کوئی تہمت اور کوئی طعن گوارا نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس طعن سے آپ کی خلاصی کی صورت بنادی اور مسلمانوں پر آپ کی وجہ سے احسان کردیا تا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ حضرت عائشہ کی وجہ سے ان کی نماز کا وقت نکل گیا، بلکہ یہ کہے کہ حضرت عائشہ کی برکت کی وجہ سے قیامت تک کے مسلمانوں کو تیمم کی رخصت اور سہولت حاصل ہوگئی اور یہ وہ رخصت ہے جو اس سے پہلے کسی نبی کی امت کو حاصل نہیں ہوئی۔
(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۱- ۹ ملخصاً وموضحا و مرتباً دار الكتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
النساء: ۴۳ اور المائدہ:۶ دونوں میں آیت تیمم ہے اور ہر چند کہ سورۃ النساء سورہ مائدہ پر مقدم ہے، لیکن آیت تیمم خواہ سورۃ النساء کی ہو یا سورۃ المائدہ کی ہو اس واقعہ سے پہلے نازل نہیں ہوئی تھی، اسی وجہ سے تمیم کے حکم کی سہولت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برکت سے حاصل ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب پر ایک اعتراض کا جواب
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ فوراً بتا دیتے کہ فلاں جگہ ہار پڑا ہوا ہے اور جب آپ نے اس طرح نہیں بتایا تو معلوم ہوا کہ آپ کو علم غیب نہیں ہے۔ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:
(1) کسی چیز کے علم کو یہ لازم نہیں ہے کہ اس کا اظہار بھی کیا جائے اللہ تعالیٰ کو قیامت کے وقوع کا علم ہے اور کفار بار بار پوچھتے تھے کہ قیامت کب آئے گی مگر اللہ تعالیٰ نے نہیں بتایا۔
(۲) اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فورا بتادیتے کہ ہار کہاں پڑا ہوا ہے تو ہار کو تلاش نہ کیا جاتا، اس کو ڈھونڈنے میں دیر نہ ہوتی لوگ حضرت عائشہ کو ملامت نہ کرتے آیت تیمم کے نزول کا سبب متحقق نہ ہوتا’ حضرت عائشہ کی فضیلت ظاہر نہ ہوتی اور وہ بیس مسائل معلوم نہ ہوتے جن کا علامہ عینی نے اس حدیث سے استنباط اور استخراج کیا ہے۔
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقبل میں واقع ہونے والے ہر ہر جزئی امر کا علم نہیں دیا گیا اور نہ یہ نبوت کا تقاضا ہے بلکہ آپ کو گزشتہ امور اور مستقبل میں واقع ہونے والے امور کا علم تمام مخلوق سے زیادہ دیا گیا ہے اور یہ علم بھی تدریجی ہے اور نزول قرآن کے ضمن میں مکمل ہوا ہے اسی کے اعتبار سے آپ کو عالم ماکان و ما یکون کہا جاتا ہے، ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آپ کو ہر وقت تمام جزئیات کا علم محیط حاصل ہوا ایسا علم تو اللہ عزوجل کا خاصہ ہے اللہ عزوجل کا علم غیر متناہی ہے اور آپ کا علم متناہی ہے آپ کے علم کو اللہ کے علم کے مقابلہ میں وہ نسبت بھی نہیں ہے جو قطرہ کی نسبت سمندر کے مقابلہ میں ہوتی ہے کیونکہ قطرہ کی سمندر کے ساتھ جو نسبت ہے وہ متناہی کی متناہی کی طرف نسبت ہے اور آپ کے علم کی جو نسبت اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں ہے وہ متناہی کی غیر متناہی کی طرف نسبت ہے اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی بے عطاء غیر ہے، ازلی ابدی ہے واجب ہے، اس کا سلب ممکن نہیں، اقصیٰ غایت کمال پر ہے، معلوم کی ذات، ذاتیات، اعراض، احوال، لازمه، مفارقہ، ذاتیہ، اضافیہ ماضیہ، مستقبلہ، موجودہ، ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ سے اس سے مخفی نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم عطائی ہے، حادث ہے، ممکن ہے اس کا سلب ممکن ہے اور معلوم کے تمام احوال کو محیط نہیں۔
باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۲۰ – ج ا ص ۱۰۴۷ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
تیمم کی شرائط اور شرعی احکام میں فقہاء کے نظریات
حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل
حضرت عائشہ کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی بحث
تیمم کے بعض مسائل ۔
ٹیگز:-
نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب التیمم , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۳۳۴ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان ذکر نہیں کیا گیا تھا اور […]