کتاب التیمم باب 2 حدیث نمبر 336
– بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلَا تُرَابًا
جب کوئی شخص پانی پائے نہ مٹی
اس باب میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب کسی شخص کو پانی نہ ملے جس سے وہ وضوء کر سکے اور نہ اس کو مٹی ملے جس سے وہ تیمم کرسکے اس کا جواب مقدر ہے کہ آیا وہ بغیر وضوء اور بغیر تیمم کے نماز پڑھے گا یا نہیں اور اس میں علماء کے کئی مذاہب ہیں، جن کو ہم ان شاءاللہ شرح میں ذکر کریں گے۔
كتاب التیمیم کی گزشتہ احادیث کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ پہلے امام بخاری نے وہ احادیث ذکر کیں کہ جس شخص کو پانی نہ ملے تو وہ شخص پاک مٹی سے تمیمم کر لے اور اب یہ بیان کیا کہ جس شخص کو پانی ملے نہ مٹی، وہ کیا کرے؟
٣٣٦- حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْداللهِ بُنْ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَوَجَدَهَا ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَوةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاء فَصَلَّوْا فَشَكُوا ذلِكَ إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْزَلَ اللهُ ايَةَ التَّيَمم ، فَقَالَ أسيد بن حُضَيْر لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا فَوَ اللهِ مَا نَزَل بك أمرٌ تَكْرَهِيْنَهُ ، إِلَّا جَعَلَ اللهُ ذَلِكَ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِینَ فیہ خیرا۔
جامع المسانيد لابن الجوزی : 7564 مكتبة الرشدریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں زکریا بن یحیی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتہ ہار لیا وہ (گر کر ) گم ہوگیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا’ پھر اس نے (یا آپ نے) اس ہار کو پالیا، پھر نماز کا وقت آگیا اور لوگوں کے پاس پانی نہیں تھا، پس لوگوں نے (بغیر وضوء کے ) نماز پڑھ لی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کردی۔ پس حضرت اسید بن حضیر نے حضرت عائشہ سے کہا: اللہ آپ کو اچھی جزاء دے پس اللہ کی قسم! جب بھی آپ پر کوئی ایسی چیز پیش آئی جو آپ کو ناپسند ہو تو اللہ نے اس میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر رکھ دی۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۳۳۴ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان ذکر نہیں کیا گیا تھا اور زائد امور کی شرح ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔
حدیث میں اس کی تصریح کہ صحابہ نے بغیر وضوء اور بغیر تیم کے نماز پڑھی تھی
علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں :
امام بخاری نے اس عنوان میں مٹی کے نہ ملنے کا ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ نے بغیر وضوء کے نماز پڑھی کیونکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے تیمم کیا تھا کیونکہ اس وقت تک انہیں تیمم کرنے کا علم نہیں تھا، پس گویا کہ انہوں نے نہ پانی پایا اور نہ مٹی ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
امام طبرانی از عروه از حضرت عائشہ رضی الله عنہا روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بار عاریتہ لیا وہ ان کی گردن سے گرگیا، حضرت عائشہ نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ نے اسے ڈھونڈنے کے لیے لوگوں کو بھیجا، انہوں نے اس کو تلاش کیا اور پالیا، پھر نماز کا وقت آگیا تو لوگوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھ لی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹے اور اس کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل فرمادی، تب حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ سے کہا: اللہ آپ کو جزاء خیر دے پس اللہ کی قسم جب بھی آپ پر کوئی ایسی مصیبت آئی جو آپ کو ناگوار گزری تو اللہ تعالی نے آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے اس میں خیر کر دی۔ المعجم الکبیر : 131 – ج ۲۳ ص ۵۰ دار احیاء التراث العربی بیروت )
” فاقد الطهورين ( جو شخص وضوء اور تیمم پر قادر نہ ہو ) کے متعلق فقہاء مالکیہ کا موقف
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
علامہ حنون مالکی اور مزنی شافعی نے یہ کہا ہے کہ جو شخص کسی ایسی جگہ قید ہو جہاں اس کو پانی میسر ہو نہ مٹی اور نماز کا وقت آجائے تو وہ بغیر وضوء اور تیمم کے اشاروں سے نماز پڑھے جیسے وہ اشخاص نماز پڑھتے ہیں جو دشمن کا پیچھا کر رہے ہوں اور ان پر اس نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ ابن قاسم مالکی، امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی نے کہا ہے: ان پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔
ابن خويز منداد نے کہا ہے کہ اہل مدینہ نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ جو لوگ پانی اور مٹی پر قادر نہ ہوں، حتی کہ نماز کا وقت نکل جائے وہ نماز نہ پڑھیں اور ان پر اس نماز کا اعادہ نہیں ہے اور ان سے نماز ساقط ہے اور یہی امام مالک کا صحیح مذہب ہے۔
جن فقہاء نے کہا ہے کہ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اس نماز کی قضاء نہیں ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ جو صحابہ ہار ڈھونڈ نے گئے تھے اور انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ تیمم کرکے نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔
المبلب نے کہا ہے کہ جب بغیر وضوء کے تیمم کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے تو ہمارے لیے پانی اور مٹی نہ ملنے کی صورت میں بغیر تیمم اور بغیر وضوء کے بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔
ابوثور نے کہا: اس مسئلہ کا قیاس اس شخص پر ہے، جس کو کپڑے نہ ملیں تو اس کا برہنہ نماز پڑھنا جائز ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے۔
اسی طرح جس کو پانی اور مٹی نہ ملے اس کا وضوء اور تیمم کے بغیر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس پر اعادہ نہیں ہے وہ اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق نماز ادا کرے گا۔
ابن القصار مالکی نے کہا: جو لوگ اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق بے وضو، نماز پڑھیں، ان پر اعادہ نہیں ہے جیسے مستحاضہ اور جس کو سلس البول ہو ( یعنی ہر وقت پیشاب کے قطرات گرتے رہیں ) علی ہذا القیاس اور جس مسافر کو پیاس کا خوف ہو اور وہ پانی کے ہوتے ہوئے تمیم کرکے نماز پڑھے یہ مسئلہ بھی اسی قیاس پر ہے۔
اور جن فقہاء نے یہ کہا ہے کہ جس کو پانی اور مٹی میسر نہ ہو، وہ نماز پڑھ لے اور بعد میں اعادہ کرے انہوں نے احتیاط پر عمل کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالی بغیر طہور کے نماز قبول نہیں کرتا۔
( سنن ترمذی :1 صحیح مسلم: 224 سنن ابن ماجہ: ۲۷۲، مسند احمد ج ۲ ص ۱۹ ) ( شرح ابن بطال ج ۱ ص 466 – ۴۶۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
” فاقد الطهورين “ کے متعلق فقہاء شافعیہ کا موقف
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ” فاقد الطهورین” کے اوپر نماز پڑھنا واجب ہے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ کر نماز پڑھی کہ ان پر نماز پڑھنا فرض ہے اور اگر اس حالت میں نماز پڑھنا ممنوع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر انکار فرمادیتے، امام شافعی، امام احمد، جمہور محدثین اور اکثر اصحاب مالک کا یہی موقف ہے، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ آیا ان پر اعادہ واجب ہے یا نہیں امام شافعی نے یہ تصریح کی ہے کہ ان پر اعادہ واجب ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ عذر نادر ہے اس لیے ان سے اعادہ ساقط نہیں ہوگا امام احمد کے قول مشہور کے مطابق نیز سحنون مالکی اور ابن المنذر کا مؤقف یہ ہے کہ ان پر اعادہ واجب نہیں ہے ان کی دلیل اس باب کی حدیث ہے اگر ان پر اعادہ واجب ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بیان فرمادیتے کیونکہ وقت حاجت سے بیان کو مؤخر کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس دلیل کو رد کردیا گیا ہے کہ اعادہ فورا تو واجب نہیں ہے اس لیے وجوب اعادہ کی الگ دلیل ہونی چاہیے امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ وہ نماز نہ پڑھے اور اگر نماز پڑھ لی ہے تو ان پر اعادہ واجب ہے اور علامہ نووی نے “شرح المہذب” میں لکھا ہے کہ ان کا نماز پڑھنا مستحب ہے اور اعادہ واجب ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۲ دار المعرفة بیروت 1424ھ )
میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اعادہ فورا واجب نہیں ہوتا بلکہ نماز کو فورا قضاء کرنا واجب ہے کیونکہ موت کا کوئی پتا نہیں اور کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ان کو نماز قضاء کرنے کا حکم دیا ہو اس لیے صحیح یہ ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان پر اس نماز کا اعادہ نہیں تھا۔
’ فاقد الطهورین“ کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا موقف
اگر کوئی شخص وضوء کے لیے پانی اور تیمم کے لیے مٹی نہ پائے تو وہ اپنے حال کے موافق نماز پڑھے ہماری دلیل یہ حدیث ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا تو آپ نے چند صحابہ کو ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا پھر نماز کا وقت آگیا تو انہوں نے بغیر وضوء کے نماز پڑھ لی پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو یہ ماجر بتایا تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر انکار نہیں کیا اور ان کو اعادہ کرنے کا حکم نہیں دیا ۔ (صحیح البخاری: ۳۳۶) اس سے معلوم ہوا کہ اعادہ واجب نہیں ہے اور اس لیے کہ طہارت شرط ہے پس طہارت نہ ہونے کی وجہ سے نماز کو مؤخر نہیں کیا جائے گا جیسے ستر اور استقبال قبلہ کا حکم ہے اور جب یہ ثابت ہوگیا تو جس شخص نے اپنے حال کے موافق نماز پڑھی، پھر اس کو پانی مل گیا یا مٹی مل گئی تو وہ نماز نہیں دہرائے گا اور امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ وہ نماز دہرائے گا کیونکہ نماز کی ایک شرط مفقود ہوگئی اور پہلا قول صحیح ہے کیونکہ وہ حدیث کے موافق ہے نیز اس لیے کہ اس کو جو حکم دیا گیا تھا اس نے اس پر عمل کرلیا پس وہ اپنے ذمہ سے بری ہوگیا اور اس لیے کہ یہ نماز کی ایک شرط ہے جو عجز کی وجہ سے ساقط ہوجائے گی اور اس لیے کہ اس نے اپنی طاقت کے مطابق فرض ادا کرلیا اب اس پر اعادہ نہیں ہوگا، جیسے کوئی شخص ستر سے عاجز تھا، اس نے برہنہ نماز پڑھ لی یا جس شخص کو سمت قبلہ کا علم نہیں تھا، اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لی یا جو شخص قیام سے عاجز تھا، اس نے بیٹھ کر نماز پڑھ لی تو ان سب پر نماز کا اعادہ نہیں ہے کیونکہ حدیث میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس حال پر چھوڑ دو جس پر میں نے تم کو چھوڑ دیا ہے، تم سے پہلی امتیں اپنے انبیاء سے سوال کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں، پس جب میں تم کو کسی کام سے منع کروں تو اس سے باز آجاؤ اور جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو اس پر اپنی طاقت کے مطابق عمل کرو۔
( صحیح البخاری : ۷۲۸۸ صحیح مسلم: ۱۳۳۷ مسند احمد : ۹۷۸۷ دار الفکر )
اور نماز کی باقی شرائط پر طہارت کو قیاس کرنا اولی ہے۔ (المغنی ج ص ۳۲۵- 324 دارالحدیث قاہرہ 1425ھ )
’ فاقد الطهورين“ کے متعلق فقہاء احناف کا موقف
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
امام ابوحنیفہ نے کہا: جو شخص شہر میں قید ہو، جب اس کو پانی ملے نہ مٹی ملے تو وہ نماز نہ پڑھے اور جب کوئی چیز مل جائے تو وہ نماز پڑھ لے امام ابو یوسف امام محمد اور امام شافعی نے کہا ہے: وہ نماز پڑھ لے اور بعد میں دہرائے ۔
(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
علامہ محمد امین عمر بن عبد العزیز شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ ” در مختار“ کی شرح میں لکھتے ہیں:
جس شخص کو پانی اور مٹی میسر نہ ہو بایں طور کہ اس کو کسی نجس جگہ میں قید کر دیا گیا ہو اور پاک مٹی کی طرف اس کا نکلنا ممکن نہ ہو امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ نماز کو موخر کرے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : بغیر طہور کے نماز نہیں ہے۔ (صحیح مسلم : 224، سنن ابوداؤد:1874 مسند احمد ج ۲ ص 20 سنن بیہقی ج ۱ص ۴۲) اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے کہا کہ وہ وقت کے احترام میں نمازیوں کے ساتھ تشبہ کرے یہ واجب ہے اگر اس کو خشک جگہ مل جائے تو وہ رکوع اور سجود کرے ورنہ کھڑے ہوکر اشارہ سے نماز پڑھے اور اس میں نماز کی نیت نہ کرے کیونکہ یہ نماز کے ساتھ مشابہت ہے حقیقت میں نماز نہیں ہے جیسے جب حائض رمضان میں پاک ہوجائے تو وہ رمضان کے مہینہ کی حرمت کی وجہ سے دن میں کھانے پینے سے رکی رہے گی اور یہ روزہ کی مشابہت ہے روزہ نہیں ہے بعد میں اس کی قضاء کرے گی اسی طرح فاقد الطهورین “ بھی نماز کے وقت کے احترام کی وجہ سے نماز کے مشابہ رکوع اور سجود کرے گا اور وہ حقیقت میں نماز نہیں ہے بعد میں اس نماز کو قضاء کرے گا۔ (ردالمختار والدر المختار ج1 ص ۳۷۵-۳۷۴ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
مذاہب اربعہ کا خلاصہ اور مصنف کی تحقیق
میں کہتا ہوں کہ امام مالک اور امام احمد کا مشہور قول یہ ہے کہ ” فاقد الطهورین، نماز پڑھے گا اور اس پر اعادہ نہیں ہے جیسا کہ صحیح البخاری :۳۳۶ میں ہے اور قوت دلیل کے اعتبار سے ان کا مذہب راجح ہے امام شافعی نے کہا ہے کہ وہ نماز پڑھے اور اس پر اعادہ واجب ہے اور وجوب اعادہ پر کوئی دلیل نہیں ہے امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے کہ وہ نماز نہ پڑھے ان کی دلیل وہ حدیث ہے کہ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی، مگر تحقیق یہ ہے کہ عذر کی صورت میں طہارت کی شرط ساقط ہوجاتی ہے اور جیسے مستحاضہ اور دیگر معذورین سے طہارت کی شرط ساقط ہوجاتی ہے ان کے خون کے یا پیشاب کے قطرات گرتے رہیں، پھر بھی ان کی نماز صحیح ہے اور قوی ترین دلیل صحابہ کا پانی نہ ملنے کی صورت میں نماز پڑھنا اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرنا ہے اور ہمارے فقہاء احناف نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا اس لیے صحیح یہی ہے کہ فاقد الطهورین نماز پڑھے اور اس پر اعادہ واجب نہیں ہے۔ لعل الله يحدث بعد ذالك امرا. امام اعظم فرماتے ہیں: جب کوئی حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذ ہب ہے اور صحیح بخاری کی یہ حدیث صحیح ہے۔
اس حدیث کی تخریج حسب ذیل ہے:
صحیح البخاری: ۵۱۶۴ – ۴۵۸۳ – ۳۷۷۳- ۱۵۰۴-۳۳۶، صحیح مسلم : ۳۶۷ الرقم المسلسل : ۷۹۵، سنن ابوداؤد : ۳۱۷ سنن نسائی: ۳۲۲، سنن ابن ماجہ : ۵۶۸ سنن الکبری : ۳۱۲ مسند الحمیدی: ۱۶۵ سنن دارمی :546، صحیح ابن خزیمہ ۲۶۱ صحیح ابن حبان : ۱۷۰۹ المعجم الکبیر 131 – ج ۲۳، سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۴ شرح السنة: ۴۳ ، مصنف عبد الرزاق : ۸۷۹‘ مسند احمد ج ۶ ص ۵۷ طبع قدیم مسند احمد ج 40 ص ۳۴۲ مؤسسة الرسالۃ بیروت نحب الافکار ج ا ص ۶۷۹ – ۶۷۸ -۶۷۶ قدیمی کتب خانہ کراچی۔
یہ حدیث تمام کتب صحاح اور سنن میں مذکور ہے پھر اس کی صحت میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔
تاہم امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام اعظم نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح قول ہے کہ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی اور ائمہ ثلاثہ نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں صحابہ نے بغیر وضوء کے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا یہ آپ کی تقریر ہے اور جب آپ کے صریح قول اور آپ کی تقریر میں تعارض ہو تو آپ کے قول کو ترجیح دی جائے گی ۔ یہ جواب صرف میری خصوصیت ہے کسی حنفی عالم نے امام اعظم کی طرف سے اس حدیث کا کوئی جواب نہیں دیا۔
فالحمد لله حمدًا كثيرًا طيبًا مباركًا فيه كما يحب ربنا ويرضى.
نوٹ: اگر کوئی شخص پانی میسر ہونے کے باوجود بے وضو، نماز پڑھے تو یہ گناہ کبیرہ ہے اور اگر وضوء کو غیر ضروری سمجھ کر بے وضو، نماز پڑھے تو یہ کفر ہے۔