کتاب الحیض باب 26 حدیث نمبر 327
٢٦ – بَابُ عِرْقِ الْإِسْتِحَاضَةِ
استحاضہ کی رگ
اس باب میں استحاضہ کی رگ کو بیان کیا گیا ہے اور باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب استحاضہ کے حکم مشتمل ہیں۔
۳۲۷- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنْ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِى ذِئبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَالَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذلِكَ ، فَاَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ ، فَقَالَ هَذَا عِرْقٌ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلّ صَلوة.
صحیح مسلم : 334، الرقم المسلسل : ۷۳۹ سنن ابوداؤد : ۲۹۰ سفن ترمذی:۱۲۹ سنن نسائی : ۲۰۵ جامع المسانيد لابن الجوزی : ۷۲۰۶ مکتبة الرشد ریاض (1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں معن نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی از ابن شهاب از عروه از عمره از حضرت عائشہ رضی الله عنہا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں کہ حضرت ام حبیبہ کو سات سال سے خون جاری تھا، انہوں نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا آپ نے فرمایا : یہ رگ ( کا خون ) ہے پھر وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔
اس حدیث کے سات رجال ہیں اور عمرہ کے سوا سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے، عمرہ کا نام عمرہ بنت عبدالرحمان بن سعد الانصاریہ ہے یہ ثقہ، حجتہ اور عالمہ ہیں یہ ۹۸ھ میں فوت ہوگئی تھیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۶۰)
باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت واضح ہے کیونکہ اس میں رگ کا ذکر ہے، اس حدیث میں دو امر تحقیق طلب ہیں:
(۱) مستحاضہ کے نام کی تحقیق
(۲) ہر نماز کے بعد مستحاضہ کے غسل کی تحقیق ۔
حدیث مذکور میں مستحاضہ کے نام میں ائمہ حدیث کا اختلاف
علامہ زین الدین عبدالرحمان بن شہاب ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں مستحاضہ کے نام میں اختلاف ہے، اکثرین کی روایت میں ان کا نام ام حبیبہ ہے اور بعض نے کہا: وہ ام حبیبہ بنت جحش ہیں، امام مسلم کی روایت : ۷۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمشیر نسبتی ہیں،یہ حضرت عبدالرحمن بھی عوف کے نکاح میں تھیں، ان کا سات سال خون جاری رہا اور امام ابوداؤد الطیالسی نے از ابن ابی ذئب از الزہری روایت کیا ہے کہ یہ حضرت زینب بنت جحش تھیں، جن کا خون سات سال جاری رہا۔
اور ان کو زینب کے نام میں وہم ہوا ہے امام ابوداؤد اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش کا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خون جاری رہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کریں۔ (سنن ابوداؤد: ۲۹۲)
(فتح الباری لابن رجب ج ۱ ص ۵۲۴ دار ابن الجوزی ریاض ۱۴۱۷ھ )
امام ابوداؤد فرماتے ہیں : اس حدیث کو امام ابوداؤد الطیالسی (متوفی ۲۰۴ھ) نے روایت کیا ہے، میں نے اس حدیث کا ان سے سماع نہیں کیا، انہوں نے از سلیمان بن کثیر از الزهری از عروه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت زینب بنت جحش کا خون جاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے لیے غسل کرو اور حدیث بیان کی امام ابوداؤد نے کہا:اس حدیث کو عبد الصمد نے از سلیمان بن کثیر روایت کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضوء کرو امام ابوداؤد نے کہا: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس میں قول ابوالولید کا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ۱ ص ۱۳۳ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۲ھ)
اس حدیث کو امام مسلم نے از عمرہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا جو آپ کی ہمشیر نسبتی تھیں، کا سات سال سے خون جاری تھا۔ آپ نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے رگ کا خون ہے تم غسل کرکے نماز پڑھو۔
(صحیح مسلم : 334، الرقم المسلسل :۷۴۰)
امام مالک نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت زینب بنت جحش، جو حضرت عبدالرحمان بن عوف کے نکاح میں تھیں، ان کا خون جاری تھا اور وہ غسل کرکے نماز پڑھتی تھیں ۔ (موطا امام مالک: 106، تنویر الحوالک ص ۸۰ دار الکتب العلمیہ بیروت 1418ھ)
حافظ ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن عبدالبر مالکی اندلسی متوفی ۴۶۳ نے اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اسی طرح یحیی وغیرہ نے اس حدیث کو امام مالک سے موطا میں روایت کیا ہے اور یہ امام مالک کا وہم ہے کیونکہ حضرت زینب بنت جحش حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں بالکل نہیں تھیں، وہ پہلے حضرت زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں، پھر ان کے طلاق دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور جو حضرت عبدالرحمان بن عوف کے نکاح میں تھیں، وہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش تھیں یہ تین بہنیں تھیں : حضرت زینب، حضرت ام حبیبہ اور حضرت حمنہ بنت جحش جو حضرت طلحہ بن عبیداللہ کے نکاح میں تھیں ایک قول یہ ہے کہ ان تینوں کو استحاضہ آیا تھا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ صرف حضرت ام حبیبہ اور حضرت حمنہ کو استحاضہ آیا تھا۔
( الاستذکار ج ۳ ص ۲۲۸ ۲۲۷ مؤسسة الرسالة بیروت)
جس کا خون مسلسل جاری ہو، آیا وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے گی یا دو نمازوں کے لیے یا ہر روز غسل کرے گی؟
امام مسلم نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا خون جاری رہتا ہے آپ نے فرمایا: یہ رگ کا خون ہے، تم غسل کرو اور نماز پڑھو تو وہ نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔
( صحیح مسلم : 334، الرقم المسلسل : ۷۳۹ سنن ابوداود:۲۹۰ ، سنن ترمذی :۱۲۹ سنن نسائی:۲۰۵)
اس حدیث کی شرح میں کہا گیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اس سے یہ سمجھا کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کریں۔
دوسروں نے کہا کہ ان پر یہ واجب تھا کہ وہ ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرلیں اور مغرب اور عشاء کے لیے غسل کرلیں، ظہر کو اس کے آخر وقت میں پڑھیں اور عصر کو اس کے اول وقت میں پڑھ لیں، اسی طرح مغرب کو آخر وقت میں اور عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیں اور صبح کے لیے ایک غسل کرلیں ۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اس کی مثل مروی ہے اور یہ ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا قول ہے۔
دیگر فقہاء نے کہا ہے کہ وہ ہر دن میں ایک بار غسل کرلے، جس وقت میں چاہے اس کو معقل بن یسار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، حضرت علی نے فرمایا : جب اس کا حیض ختم ہوجائے تو وہ ہر روز غسل کرے۔
فقہاء کی ایک اور جماعت نے کہا: وہ ایک طہر سے لے کر دوسرے طہر تک کے لیے غسل کرے۔
(الاستذکار ج ۳ ص ۲۳۱ – ۲۲۸ مؤسسة الرسالة بیروت 1413ھ)
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ اس مسئلہ کے متعلق لکھتے ہیں :
یہ حدیث حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش کی حدیث ( صحیح البخاری : ۲۲۸) سے منسوخ ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ کی حدیث سے فتویٰ دیا کہ وہ ہر نماز کے لیے وضوء کرلیں اور حضرت ام حبیبہ کی حدیث کی مخالفت کی اسی وجہ سے ابو محمد اشبیلی نے کہا ہے کہ حضرت فاطمہ کی حدیث استحاضہ کے باب میں سب سے صحیح حدیث ہے اور امام شافعی نے کہا ہے کہ آپ نے حضرت ام حبیبہ کو غسل کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اور وہ ہر نماز کے لیے نفلی طور پر غسل کرتی تھیں اور ابن شباب الزہری نے یہ ذکر نہیں کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن وہ اپنی طرف سے ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں، اور جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے کہ مستحاضہ پر یہ واجب نہیں ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے لیکن اس پر یہ واجب ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضوء کرے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۶۲ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
امام ابوداؤد نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حضرت ام حبیبہ بنت جحش کا مسلسل خون جاری ہوا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابو داؤد : ۲۹۲)
حفاظ نے اس حدیث میں اس زیادتی پر طعن کیا ہے کیونکہ الزہری کے اثبات اصحاب سے یہ زیادتی ثابت نہیں ہے، تاہم اگر اس حدیث میں غسل کے امر کو استحباب پر محمول کردیا جائے تو دونوں حدیثوں میں تطبیق ہوجائے گی اس حدیث کی توجیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد غسل نہیں ہے بلکہ یہ لفظ غسل ہے یعنی ہر نماز کے وقت فرج سے خون اور نجاست کو دھولیا کریں، کیونکہ نجاست کو زائل کرنا نماز کی صحت کے لیے شرط ہے۔ امام طحاوی نے کہا ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش کی حدیث میں جو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم ہے وہ حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش کی حدیث سے منسوخ ہے، جس میں ہر نماز کے لیے وضوء کرنے کا حکم ہے، لیکن دونوں حدیثوں کو جمع کرنا اور حضرت ام حبیبہ کی حدیث میں غسل کو استحباب پر محمول کرنا اولی ہے۔
(فتح الباری ج ا ص ٬۸۳۸ دار المعرفه بیروت 1426ھ )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۶۳ – ج ا ص ۱۰۲۷ – ۱۰۲۶ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔