۳۰ – باب

باب

امام بخاری نے اس باب کا عنوان قائم نہیں کیا اور جب وہ باب کا عنوان قائم نہ کریں تو وہ باب باب سابق کے ساتھ لاحق اور اس کا تمتہ ہوتا ہے۔

۳۳۳- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى  بنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ اسْمُهُ الوَضَّاحُ مِنْ كتابه قَالَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا لا تُصَلَّى، وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُصَلَّى عَلى خمْرَتِهِ ،إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي بَعْضُ ثَوْبِهِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں الحسن بن مدرک نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن حماد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے خبر دی ان کا نام ان کی کتاب میں الوضاح ہے انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان شیبانی نے خبر دی از عبدالله بن شداد انہوں نے کہا: میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  رضی اللہ عنہا سے سنا کہ وہ حائض تھیں، نماز نہیں پڑھتی تھیں،اور وہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے سامنے لیٹی ہوئی تھیں اور آپ اپنے مصلی پر نماز پڑھ رہے تھے اور جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کچھ کپڑا مجھے لگتا ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) الحسن بن مدرک، ابوعلی السدوسی ،یہ حافظ بصری ہیں

(۲) یحیی بن حماد شیبانی : یہ ابوعوانہ کے داماد ہیں ۲۱۵ ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۳) ابوعوانہ : ان کا نام وضاح ہے ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۴) سلیمان بن ابی سنان فیروز ابو اسحاق الشیبانی

(۵) عبد الله بن شداد ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۶) حضرت میمونہ رضی الله عنہا  (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۷۰)

حائض کا نجس نہ ہونا، عورت کا نمازی کے سامنے ہونے کا جواز اور قیمتی جانمازوں پر نماز پڑھنے کی تحقیق

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ حائض نجس نہیں ہوتی کیونکہ اگر وہ نجس ہوتی تو حالت نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا ان پرنہ پڑتا۔

اسی طرح نفاس والی عورت بھی نجس نہیں ہوتی اور نہ جنبی نجس ہوتا ہے۔

اگر حائض نمازی کے قریب ہو تو اس سے نمازی کی نماز میں خلل نہیں پڑتا۔

نمازی کے سامنے بستر پر لیٹنا جائز ہے، اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ نمازی کے سامنے سے عورت گزر جائے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں:

اس حدیث میں ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خمرہ پر نماز پڑھ رہے تھے، خمرہ کا معنی چھپانا ہے، چونکہ مصلی نمازی کے چہرے کو چھپا لیتا ہے اس لیے اس کو خمرہ کہتے ہیں نیز جو مصلی کھجور کی شاخوں سے بنایا جائے اس کو خمرہ کہتے ہیں۔

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے کہ آپ کھجور کی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے اور امراء اور متکبرین قیمتی ریشم کی جانمازوں پر نماز پڑھتے ہیں اور قیمتی جانمازوں پر نماز پڑھنا مکروہ ہے اس میں تکبر اور سرکشی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۷۱)

میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص میں تکبر نہ ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہونے کے لیے اور ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے قالین کے بنے ہوئے مصلی اور قیمتی جانمازوں پر نماز پڑھے تو جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: جب

تمہیں اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے تو وسعت کو اختیار کرو۔ (صحیح البخاری:۳۶۵) اور حدیث میں ہے:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ کے برابر بھی تکبر ہو،  وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا’ ایک شخص نے کہا: آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی اچھی ہو آپ نے فرمایا: اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق کا انکار کرتا ہے اور لوگوں کو حقیر جانتا ہے۔

(صحیح مسلم : ۲۵۹ سنن ترمذی: ۱۹۹۹ سنن ابوداؤد : ۴۰۹۱ سنن ابن ماجه : ۵۹)

ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا کپڑے پہنے ہوئے گیا، آپ نے پوچھا: تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں! آپ نے پوچھا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ نے اونٹ بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں، آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کی نعمت اور کرامت کا اثر تم پر دکھائی دینا چاہیے۔ (سنن ابوداؤد : ۶۳ ۴۰ سنن نسائی:۵۲۳۹ )

عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمرو ) سے اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندہ پر دیکھے۔

(سنن ترمذی: ۲۸۱۹ مسند احمد ج ۲ ص ۱۸۱ طبع قدیم)

”کتاب الحیض‘ کا اختتام

الحمد لله رب العلمین ! آج ۲۶ جمادی الثانی ۱۴۲۷ھ / ۲۳ جولائی ۲۰۰۶ کو صحیح البخاری کی ”کتاب الحیض” مکمل ہوگئی ۔الہ العلمین! جس طرح آپ نے محض اپنے کرم سے صحیح البخاری کی یہ کتاب مکمل کرا دی ہے اس کی باقی کتب کی بھی تکمیل کرادیں امام بخاری، صحاح ستہ کے مؤلفین اور باقی ائمہ حدیث کے درجات بلند فرمائیں اور اس ناکارہ کی محض اپنے فضل سے مغفرت فرمادیں، مجھے اور جملہ قارئین کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے مامون اور محفوظ رکھیں اور دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آخرت میں آپ کی شفاعت عطا فرمائیں اور جنت الفردوس کو ہمارا ٹھکانا بنادیں! آمین یا رب العلمین! و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين قائد المرسلين شفيع المذنبين وعلى آله واصحابه وازواجه وذرياته وامته اجمعین۔