کتاب التیمم باب 1 حدیث نمبر 335
٣٣٥- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْم (ح). قَالَ وَحَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْم قَالَ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، هُوَ ابْنُ صهَيْبِ الْفَقِيرُ ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللهِ ، اَنّا النبی صلی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أعْطِيتُ خَمْسًا لَم يُعْطَهُنَّ اَحَدٌ قَبْلِى نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةً شَهرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَايْمَا رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَوةُ فَلَيْصَلَّ ، وَاحِلَّتْ لَى الْعَنائِم وَلَمْ تَحِلَّ لَاحَدٍ قَبْلِي ، وَاعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامة. اطراف الحديث : ۴۳۸ – ۳۱۲۲
صحیح مسلم : 521 ارقم المسلسل : 1143 سنن نسائی: ۷۳۵-۴۳۲ مصنف ابن ابی شیبه ج ۲ ص ۴۰۲- ج 11 ص ۴۳۲ سنن دارمی: 1389 صحیح ابن حبان : ۶۳۹۸ ، سنن بیہقی ج ۱ ص ۲۱۲ – ج ۲ ص 329 دلائل النبوة ج ۵ ص ۴۷۳-۴۷۲ شرح السنته :3616، مسند احمد ج ۳ ص ۳۰۴ طبع قدیم مسند احمد : ۱۴۲۶۴ – ج ۲۲ ص 167-165 مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لا بن الجوزی: ۹۲۴ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ح، ( امام بخاری دوسری سند کی طرف متحول ہوئے) کہا: اور مجھے سعید بن نضر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں سیار نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یزید نے حدیث بیان کی اور وہ ابن صہیب الفقیر ہے انہوں نے کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی پانچ چیز میں دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، میری ایسے رعب سے مدد کی گئی ہے جو ایک ماہ کی مسافت سے طاری ہوتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے، پس میری امت میں سے جو شخص بھی جس جگہ بھی نماز کا وقت پائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے ان کو حلال نہیں کیا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے اور(پہلے) نبی کو کسی خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن سنان العوقی، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) ہشیم ابو معاویہ الواسطی، ابن عون نے بیان کیا کہ ہمشیم عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز دس سال تک پڑھتے رہے، پھر ان کی وفات ہوگئی یہ بغداد میں ۱۸۳ ھ میں فوت ہوئے
(۳) سعید بن النضر ابوعثمان البغدادی ،یہ ساحل جیحون میں فوت ہوئے
(۴) سیار بن ابی یسار ابوالحکم الواسطی، یہ واسط میں ۱۲۲ھ میں فوت ہوئے
(۵) یزید بن صہیب الفقير ” ابو عثمان الکوفی ،یہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مشائخ میں سے ایک ہیں، ان کو فقیر اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنی پشت کی فقار نامی ہڈی کی شکایت کرتے تھے ورنہ یہ مال کے اعتبار سے فقیر نہیں تھے
(۶) حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما ان کا تعارف ہوچکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۴ ص ۱۱)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزید بارہ خصائص
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنے پانچ خصائص بیان فرمائے ہیں علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ نے احادیث کا تتبع کرکے آپ کے مزید بارہ خصائص ذکر کیے ہیں، جن کا ذکر حسب ذیل ہے:
(۱۲) صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے انبیاء علیہم السلام پر چھ وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے: مجھے جامع الکلم دیئے گئے ہیں (یعنی ایسا کلام جس میں الفاظ کم ہوں اور معانی زیادہ ہوں) اور مجھ پر نبوت کو ختم کردیا گیا ہے۔(صحیح مسلم : ۵۲۳ ارقم مسلسل : ۷ ۱۱۴)
(۳۴) نیز صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے لوگوں پر تین وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کر دی گئی ہیں اور ہمارے لیے تمام روئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے اور اس کی مٹی کو پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے۔ ( صحیح مسلم : 522 الرقم المسلسل : 1145)
(۵) امام نسائی کی روایت میں ان خصائص کا ذکر ہے: مجھے سورہ بقرہ کی آخری آیات عرش کے خزانے کے نیچے سے دی گئیں’ جو مجھ سے پہلے کسی کو دی گئی ہیں اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی ۔ (السنن الکبری للنسائی : ۸۰۲۲)
(۲-۷) امام عبد اللہ بن علی بن الجارد و نیشاپوری متوفی ۳۰۷ ھ کی حضرت انس سے روایت ہے:میرے لیے ہر پاک زمین مسجد اور طہور بنادی گئی ہے۔ ( المنتقی : ۱۲۴) اور حضرت ابو امامہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے انبیاء پر چار وجوہ سے فضیلت دی ہے تمام روئے زمین کو میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور طہور بنادیا، پس میری امت میں سے جو شخص جہاں بھی نماز کو پائے تو وہیں اس کی مسجد اور طہور ہے اور رعب سے میری مدد کی گئی ہے ایک ماہ کی مسافت سے میرے دشمنوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیا گیا ہے۔ الحدیث (مسند احمد : ۲۲۲۰۹ – ج ۵ ص ۵۶)
(۸) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے کوثر دی گئی ہے۔ (مسند احمد : ۱۲۵۴۲ – ج ۳ ص ۱۵۲)
(۹-۱۱) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ خصلتیں دی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے تمام روئے زمین کی چابیاں دی گئی ہیں اور میرا نام احمد رکھا گیا ہے اور میری امت کو خیر الامم بنایا گیا ہے۔(مسند احمد : ۷۶۳۔ ج ا ص ۹۸)
(۱۲) حضرت السائب بن یزید روایت کرتے ہیں: مجھے انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے مجھے تمام لوگوں کی طرف رسول بنایا گیا ہے اور میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت کے لیے ذخیرہ کرلیا ہے۔ (بسیار تلاش کے باوجود مجھے اس حدیث کا حوالہ نہیں مل سکا۔ سعیدی غفرله )
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان احادیث میں تعارض ہے بعض احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین خصائص کا ذکر ہے، بعض احادیث میں چار خصائص کا ، بعض میں پانچ کا اور بعض میں چھ خصائص کا ذکر ہے علامہ قرطبی نے اس کے جواب میں کہا: یہ تعارض نہیں ہے تعارض جب ہوتا جب آپ نے حصر کے ساتھ یہ خصائص بیان کیے ہوں، مثلاً بعض میں فرماتے : مجھے صرف تین وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے اور بعض احادیث میں فرماتے: مجھے صرف چار وجوہ سے فضیلت دی گئی ہے عدد کا ذکر حصر کو مستلزم نہیں ہوتا، مثلاً کوئی شخص کہے : میرے پاس پندرہ درہم ہیں پھر کہے: میرے پاس بیس درہم ہیں تو ان میں تعارض نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی جیسے جیسے آپ کو خصائص عطا فرماتا رہا’ آپ ویسے ویسے اس کی خبر دیتے رہے۔ المفہم ج ۲ ص ۱۱۶ – ۱۱۵ دار ابن کثیر، بیروت ۱۴۲۰ھ ) (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۳- ۱۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ۸۵ خصائص
امام محمد بن ابراہیم الخرکوشی نیشاپوری متوفی ۴۰۶ ھ لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کل ۸۵ خصائص ہیں، جن سے آپ دوسرے انبیاء علیہم السلام سے ممتاز ہیں، تفصیل حسب ذیل ہے:
وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دس خصائص
(۱) نبی صلی اللہ علیہ وسلم افضل المرسلین ہیں
(۲) آپ خاتم الانبیاء ہیں
(۳) آپ سب سے پہلے زمین سے اٹھیں گے
(۴) قیامت کےدن آپ کی امت سب نبیوں کی امتوں سے زیادہ ہوگی
(۵) آپ تمام نبیوں کے حق میں شہادت دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کردی تھی
(1) آپ شفاعت کبری کریں گے یعنی سب سے پہلے آپ سب کی شفاعت کریں گے
(۷) حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں ہوگا
(۸) حوض مورود اور نہر کوثر آپ ہی کے لیے ہے
(۹) آپ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے
(۱۰) ہر شخص سےخود اس کی ذات کے متعلق سوال ہو گا اور آپ سے آپ کی ذات کے بجائے دوسروں کے متعلق سوال ہوگا۔
باب نبوت کے ساتھ متعلق آٹھ خصائص
(11) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا
(۱۲) آپ کا تمام مخلوق کی طرف مبعوث ہونا
( ۱۳ ) آپ کی کتاب کا معجز ہونا اور اس کی مثل کا محال ہونا
(۱۴) آپ کی انگلیوں سے پانی کا چشمہ کی طرح ابل کر نکلنا
(۱۵) آپ کو لیلۃ القدر کا عطا کیا جانا
(۱۲) یوم جمعہ کا آپ کے اور آپ کی امت کے لیے عید ہونا
(۱۷) آپ کے حق میں شعر گوئی کا ممنوع ہونا
( ۱۸ ) آپ کا پس پشت بھی سامنے کی طرح دیکھنا۔
شریعت کے ساتھ مختص نو خصائص
(۱۹) آثار وضوء کا غرمحجل ہونا
(۲۰) تیمم
(۲۱) مسواک کا سنت مؤکدہ ہونا
( ۲۳ – ۲۲) تمام روئے زمین کا مسجد اور اس کی مٹی کا ظہور ہونا
(۲۴) آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے اور نیند سے آپ کے وضوء کا نہ ٹوٹنا
(۲۵) پانی سے استنجاء کا مستحب ہونا
(۲۶) کثیر پانی اور جاری پانی میں نجاست کا مؤثر نہ ہونا
(۲۷) نجاست کو پانی سے دھونا، یعنی طہارت کے لیے کپڑے یا کھال کو نہ کاٹنا۔
نماز کے ساتھ مختص نو خصائص
(۲۸) آپ کو عشاء کی نماز دی گئی جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی
(۲۹) آپ کو جمعہ کی نماز دی گئی وہ بھی آپ کا خاصہ ہے
(۳۰) نماز باجماعت پڑھنا
(۳۱) عیدین کی نماز
(۳۲) تہجد کی نماز
(۳۳) سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز
(۳۴) نماز استسقاء
(۳۵) اذان اور اقامت
(۳۶) وتر، یہ تمام امور اس امت کی خصوصیت ہیں۔
جہاد سے متعلق نو خصائص
(۳۷) آپ کے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا، جو اس سے پہلی امتوں میں حرام تھا
(۳۸) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو مال غنیمت
سے حاصل کرکے ان کے ساتھ نکاح کیا
(۳۹) آپ سب سے تیز رفتار شہسوار تھے
(۴۰) آپ جب جنگ کے لیے جاتے تو کبھی رجوع نہیں کرتے تھے
(۴۱) آپ قتال کے بغیر ہتھیار نہیں اتارتے تھے
(۴۲) خواہ دشمن کی تعداد زیادہ ہو آپ شکست نہیں کھاتے تھے
(۴۳) اپنے لیے زمین رکھنا اور دوسروں کو عطاء کرنا، آپ کے ساتھ مخصوص تھا
(۴۴) وصال کے روزے آپ کی خصوصیت تھی یہ خصوصیت جہاد بالنفس کے اعتبار سے ہے۔ سعیدی غفرلہ)
(۴۵) آپ آنکھ سے خفیہ اشارہ نہیں کرتے تھے۔
نکاح کے باب میں پندرہ خصائص
(۴۶) لفظ ہبہ سے نکاح کا جواز آپ کے ساتھ مخصوص ہے
(۴۷) آپ سے مہر کو ساقط کر دیا گیا اور آپ کے لیے بغیر کسی عوض کے نکاح حلال ہے
(۴۸) بغیر ولی اور بغیر گواہ کے آپ کے ساتھ نکاح کا جواز
(۴۹) آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کا حرام ہونا
(۵۰) آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج کے نفقہ کا وجوب
(۵۱) ازواج میں آپ پر باریوں کی تقسیم کا واجب نہ ہونا
(۵۲) جب آپ کسی باندی سے دخول کرلیں تو اس کی ماں اور بیٹی کا آپ پر حرام نہ ہونا ( یہ صحیح نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ )
(۵۳) چار سے زیادہ عورتوں کو نکاح میں رکھنا
(۵۴) کسی عورت کو طلاق مغلظہ دے کر بغیر حلالہ کے اس سے دوبارہ نکاح کرنا (اس کا وقوع نہیں ہوا۔ سعیدی غفرلہ )
(۵۵) ازواج کے سامنے تخییر پیش کرنے کا آپ پر وجوب
(۵۶) تخییر کے بعد آپ پر دوسری عورتوں سے نکاح کا حرام ہونا، ایک قول یہ ہے کہ پھر بھی آپ کے لیے دوسری عورتوں سے نکاح مباح تھا
(۵۷) آپ ہر ایک کے کفو تھے خواہ عورت کسی قدر معزز ہو
(۵۸) باندیوں کے ساتھ نکاح کا آپ پر حرام ہونا، الا یہ کہ آپ ان کو آزاد کر کے نکاح کریں
(۵۹) آپ پر ذمیات کے ساتھ نکاح کا حرام ہونا
(۶۰) اگر به فرض محال آپ کی کوئی زوجہ بدکاری کرے تو اس پر دگنا عذاب ہونا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پچیس جامع خصائص
(۶۱) جب مسلمانوں کے پاس نفقہ نہ ہو تو آپ پر ان کی کفالت کا واجب ہونا
(۶۲) آپ پر تہجد وتر اور مسواک کا واجب ہونا
(صحیح یہ ہے کہ ابتداء میں آپ پر تہجد واجب تھی بعد میں اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اور وتر امت پر بھی واجب ہے، لیکن شافعیہ کے نزدیک امت پر وتر واجب نہیں ہے سعیدی غفرلہ)
( ۶۳ ) آپ پر زکوۃ اور نفلی صدقہ کا حرام ہونا
( ۶۴ ) کسی ناجائز بات کو سن کر آپ پر واجب ہے کہ اس کا رد کریں اور آپ کا کوئی کام ناجائز نہیں ہے
(۶۵) تمام لوگوں کو جتنے علوم کا مکلف کیا گیا ہے، آپ تنہا ان تمام علوم کے مکلف ہیں
(۶۶) آپ ہر روز ستر بار استغفار کرتے ہیں ( بلکہ سو بار سعیدی غفرلہ )
(۶۷) آپ اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتے
(۶۸) آپ ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے
(۶۹) آپ کچا لہسن پیاز اور گندنا نہیں کھاتے تھے
(۷۰) آپ گوہ نہیں کھاتے تھے
(۷۱ ) آپ مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے تاوقتیکہ اس کے قرض کا کوئی کفیل نہ ہوجائے
(۷۲) آپ کے لیے وصول کے روزوں کا جواب
(۷۳) حالت احرام میں آپ کے لیے نکاح کرنا جائز تھا
(۷۴) آپ کے لیے مکہ میں قتال کرنا جائز کردیا گیا تھا
(۷۵) آپ کی وجہ سے مدینہ کو حرم بنا دیا گیا
(۷۶) آپ کو تنہا تمام کفار سے قتال کا مکلف کیا گیا
(۷۷) آپ سو جاتے حتی کہ خراٹے لیتے، پھر اٹھ کر بغیر وضوء کے نماز پڑھتے
(۷۸) آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اس کا اجر بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے برابر تھا
(۷۹) آپ اگر کسی نمازی کو دوران نماز بلاتے تو اس پر آپ کے بلانے پر آنا واجب تھا
(۸۰) آپ کے متعلق میت سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے
(۸۱) آپ نے کسی کو اپنا وارث نہیں بنایا آپ کی وفات کے بعد آپ کا مال صدقہ تھا
(۸۲) آپ کے لیے حالت جنابت میں مسجد میں دخول کو مباح کر دیا گیا
(۸۳) آپ کے لیے یہ مباح کر دیا گیا کہ آپ اپنے حق میں فیصلہ کردیں اسی طرح آپ کے لیے مباح کر دیا گیا کہ آپ اپنی اولاد کے حق میں فیصلہ کردیں
(۸۴) آپ کے لعاب مبارک کا موجب شفا ہونا
(۸۵) آپ کے پیشاب اور خون کا طاہر ہونا اور صحابہ کرام کا ان کو پینا پیشاب پینے والی کے لیے فرمایا: تمہارے پیٹ میں بھی درد نہیں ہوگا اور خون پینے والے کے متعلق فرمایا: تم پر دوزخ حرام کر دی گئی۔
( شرف المصطفیٰ ج 4 ص ۷ ۲۷ – ۲۴۴ ملخصا وموضحا ومضيفاً دار البشائر الاسلامیه مکه مکرمه ۱۴۲۳ھ)
یہ تمام خصائص قرآن اور سنت سے ثابت ہیں ہم نے طوالت کی وجہ سے ان کے دلائل کو ذکر نہیں کیا۔
حدیث مذکور شرح صحیح مسلم میں
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۶۵ – ج ۲ ص ۳۸ پر مذکور ہے اور چونکہ اس حدیث میں مذکور ہے: مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے تو وہاں اس کی شرح میں شفاعت پر بحث کی گئی اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
شفاعت
(۲) شفاعت کا لغوی اور اصطلاحی معنی
(۳) اہل قبلہ کے شفاعت میں نظریات
(۴) خوارج کے شبہ کا ازالہ
(۵) معتزلہ کے شبہ کا ازالہ
۶ بعض مخالفین کے شبہ کا ازالہ
۷ انبیاء علیہم السلام کی حضور الوہیت میں وجاہت
(۸) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حضور الوہیت میں وجاہت قرآن سے
(9) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وجاہت احادیث سے
(۱۰) شفاعت پر قرآن کریم سے دلائل (۵۱ آیات )
( شفاعت پر احادیث سے دلائل (۴۰ احادیث )
۱۲ اقسام شفاعت (۴۹) اقسام )
۱۳ نظریہ کفار و مسیح اور شفاعت میں فرق
(۱۴) استشفاع ۔