أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : میں سب لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں

تفسیر:

آپ کہیے : میں سب لوگوں کے رب کی پنہ لیتا ہوں۔ سب لوگوں کے بادشاہ کی۔ سب لوگوں کے معبود کی ( پنہ لیتا ہوں) ۔ پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والے کے وسوسو ڈالنے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جو جنات اور انسانوں میں سے ہے۔ (الناس :1-6)

الناس :۱ْ،۳ آپ کہیے : میں سب لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں۔ سب لوگوں کے بادشاہ کی۔ سب لوگوں کے معبود کی ( پناہ لیتا ہوں) ۔

اس آیت میں انسانوں کے رب کی پناہ لینے کا حکم ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا رب ہے اور سب کا مالک، مربی اور مصلح ہے، اس میں یہ تنبیہ کرنا ہے کہ تمام مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو مخلوق سب سے افضل ہے وہ انسان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رب ہونے کی نسبت انسان کی طرف کی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کا ذکر فرمایا، اس میں یہ تنبیہ ہے کہ انسانوں کے بادشاہ بھی ہوتے ہیں، لیکن تمام انسانوں کا بادشاہ صرف اللہ ہے، اور معض انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عبادت کی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ عبادت کے مستحق نہیں ہیں، عبادت عکا مستحق وہ ہے جو تمام انسانوں کا معبود ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 1