عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کا ڈیٹا دیکھیے
عالمی سطح پر بچوں کے اغوا کا ڈیٹا دیکھیے “
لیکن اس سے پہلے بطورِ تمہید ایک دو باتیں سمجھ لیجئے تاکہ آپکو معلوم ہو کہ ہم یہ ڈیٹا آپ کے سامنے رکھ کر آپکو سمجھانا اور بتانا کیا چاہتے ہیں!
عالمی اداروں (ICMEC اور UNICEF) کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 80 لاکھ (8 Million) بچے لاپتہ ہوتے ہیں۔
مختصرا ملک ، خطہ ، سالانہ لاپتہ بچے (اوسط) اہم وجہ اور مقصد بھی ساتھ جان لیجئے ۔
امریکہ 460,000 سے 500,000 جنسی استحصال، ڈارک ویب، نجی نیٹ ورکس
برطانیہ (UK) 112,000 سے 140,000 جبری مشقت، منشیات کی اسمگلنگ، بدفعلی
یورپی یونین (EU) 250,000 (ہر 2 منٹ میں ایک) سرحد پار اسمگلنگ، غیر قانونی گود لینا
کینیڈا 45,000 سے 50,000 بھاگے ہوئے بچے جو شکاریوں کے ہتھے چڑھتے ہیں
برازیل / لاطینی امریکہ 40,000 سے 50,000 اعضاء کی اسمگلنگ اور مشقت
روس 45,000 انٹرنیٹ پر مبنی جنسی جرائم
چونکہ ہم جس کیس پر اسٹدی کر رہے ہیں اسکا تعلق خصوصاً ان تین ممالک سے اور اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک سے بھی ہے ۔
ایک بار ان تین کا اعداد و شمار پھر دیکھ لیجئے ۔
امریکہ : سالانہ تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار بچے۔
بھارت : سالانہ تقریباً 1 لاکھ بچے۔
پاکستان : سالانہ 3 سے 5 ہزار (صرف رپورٹ شدہ)۔
پھر پاکستان، بنگلہ دیش اور سوڈان سے 4 سے 7 سال کے ہزاروں بچے اغوا یا خرید کر عرب ممالک اسمگل کیے گئے۔ ان بچوں کو جان بوجھ کر “بھوکا” رکھا جاتا تھا تاکہ ان کا وزن نہ بڑھے اور وہ اونٹ پر تیز دوڑ سکیں۔
ابھی بہت کچھ ہم آپ سے پڑھوانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ محض ماضی کا قصہ نہیں ، بلکہ آج بھی دبئی پورٹا پوٹی (Porta Potty) جیسے اسکینڈلز اور نجی جزیروں پر ہونے والی پارٹیاں ثابت کرتی ہیں کہ تیل کی دولت نے انسانوں کو مالِ تجارت بنا دیا ہے۔
پورٹا پورٹی کیا ہے ؟
یہ ایک ایسی اصطلاح جس کا مطلب ہے موبائل ٹوائلٹ سیٹ ، جسے کہیں بھی لایا جا سکتا ہے۔
اس اسکینڈل میں یہ اصطلاح ان خواتین (ماڈلز، انفلوئنسرز اور انسٹاگرام اسٹارز) کے لیے استعمال کی گئی جنہیں عرب شہزادے اور ارب پتی محض اپنی “غلاظت” نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس اسکینڈل کے مطابق ، دولت کے نشے میں چور یہ لوگ ان ماڈلز کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں۔ اس میں انسانی فضلہ (Feces) کھانا ، پیشاب پینا اور دیگر ایسی حرکات شامل ہیں جنہیں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ ان لڑکیوں کو لفظی طور پر “انسانی ٹوائلٹ” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اسی لیے اس کا نام “پورٹا پورٹی” پڑا۔
بی سی کی اصل رپورٹ کا لنک : BBC World Service – Death in Dubai
(نوٹ: یہ بی بی سی کے “World of Secrets” پوڈ کاسٹ کا سیزن 9 ہے ، جس کا عنوان ہے “Death in Dubai”)
رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کس طرح افریقی اور یورپی لڑکیوں کو “دولت اور چکا چوند” کے نام پر دبئی بلایا جاتا ہے۔ وہاں ان کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک (انسانی فضلہ کھلانے وغیرہ) کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، وہ محض افواہ نہیں تھیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ اس رپورٹ کا مرکزی کردار مونک نامی لڑکی ہے ، جس کی موت دبئی میں ہوئی اور اس کے گرد وہی پورٹا پوٹی کی گھناؤنی کہانیاں تھیں۔ بی بی سی نے اس کے “باس” تک پہنچنے کی کوشش کی اور اس پورے کالے دھندے کو بے نقاب کیا جس میں طاقتور لوگ ملوث ہیں۔
جب بی بی سی جیسا ادارہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہاں ان لڑکیوں کی بولیاں لگتی ہیں اور انہیں بدترین جنسی و جسمانی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تو پھر کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ عالمی اشرافیہ کے ارادے کیا ہیں؟
خیر چلئے ، اب یہاں سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں!
کیوں یہ ڈیٹا سامنے نہیں آتا ؟
پہلی وجہ چونکہ مغربی میڈیا (جو کہ خود ان فائلوں میں ملوث ہے) عرب شہزادوں کے خلاف اس لیے نہیں لکھتا کیونکہ ان کے مالی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
دوسری وجہ یہ کہ ان نیٹ ورکس میں شامل عربوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ عالمی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کے منہ بند کر دیتے ہیں۔
اب آجائیے واپس اپنے موضوع پر کہ جب بچے اغوا ہوتے ہیں۔۔۔
تو یہ بچے کہاں جاتے ہیں؟
عالمی تحقیقات (Global Report on Trafficking in Persons) کے مطابق اغوا شدہ بچوں کو ان چار بنیادی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:
جبری مشقت اور بھیک (Forced Labor): تقریباً 30% بچے سستی لیبر یا گداگری کے لیے اسمگل ہوتے ہیں۔
جنسی استحصال (Sexual Exploitation): یہ سب سے ہولناک پہلو ہے جس میں بچوں کو ڈارک ویب (Dark Web) اور پورنوگرافی کی عالمی منڈی میں جھونکا جاتا ہے۔
غیر قانونی گود لینا (Illegal Adoption): بہت سے بچے امیر ممالک کے جوڑوں کو بھاری قیمت پر بیچ دیے جاتے ہیں۔
اعضاء کی اسمگلنگ (Organ Trafficking): WHO کے مطابق، عالمی سطح پر گردوں اور دیگر اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری کا بڑا حصہ ان لاپتہ بچوں یا لاوارث افراد سے حاصل کیا جاتا ہے۔
حالیہ “فائلوں” کا ان سے کیا لنک ہے؟
حالیہ برسوں میں “ایپسٹین لسٹ” (Epstein Files) اور اس جیسے دیگر انکشافات نے وہ کڑی واضح کر دی ہے جو اب تک چھپی ہوئی تھی:
لنک 1 (طاقتور سرپرستی) ، یہ فائلیں ثابت کرتی ہیں کہ بچوں کا اغوا محض چھوٹے گروہوں کا کام نہیں، بلکہ اس کے پیچھے عالمی اشرافیہ (Elite)، سیاستدان اور بڑے کاروباری لوگ شامل ہیں جو ان بچوں کو اپنی شیطانی جبلتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
لنک 2 (سپلائی چین) ، یہ طاقتور لوگ ایسے قوانین کی پشت پناہی کرتے ہیں جو خاندانی نظام کو کمزور کریں۔ جب خاندان ٹوٹتا ہے تو “لاوارث” بچوں کی تعداد بڑھتی ہے، جس سے اس عالمی مافیا کو “سستا اور بے نام خام مال” ملتا رہتا ہے۔
لنک 3 (تحفظ کا خاتمہ) ، یہ فائلیں بتاتی ہیں کہ کیوں بڑے بڑے ادارے ان جرائم پر خاموش رہتے ہیں؛ کیونکہ مجرم خود ان اداروں کو کنٹرول کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔
یہ سب کیسے ہوتا ہے؟
آئیے ، اس “انسانی شکار” کے عمل کو بالکل نچلی سطح سے شروع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ گلی کے کونے سے اٹھ کر بین الاقوامی فائلوں تک کیسے پہنچتا ہے :
ایک عام آدمی کے آس پاس یہ کھیل یوں شروع ہوتا ہے:
پہلی دستک (ڈیجیٹل) آپ کا بچہ موبائل پر گیم کھیل رہا ہے یا ویڈیو دیکھ رہا ہے۔
وہاں کوئی انجان “دوست” بنتا ہے ، اسے تحفے یا توجہ کا لالچ دیتا ہے۔
یہ پہلا قدم ہے اسے ذہنی طور پر گھر سے توڑنے کا۔
چونکہ آج کی ماں معاشی بوجھ تلے دبی کام پر ہے ، باپ رزق کی تگ و دو میں باہر ہے۔ بچہ گلی میں تنہا ہے یا کسی ایسے “بڑے” کے پاس ہے جسے آپ “بھروسہ مند” سمجھتے ہیں۔
بچہ زبردستی نہیں اٹھایا جاتا، اکثر اسے ورغلا کر، کسی بہانے سے یا نشہ آور چیز سنگھا کر خاموشی سے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اب وہ آپ کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔
پہلا مرحلہ ختم اب دوسرا شروع اسکے بعد وہ بچہ گلی سے نکل کر شہر کے کسی “گودام” یا “محفوظ ٹھکانے” پر پہنچتا ہے وہاں اس کے بال کاٹ دیے جاتے ہیں ، اس کے کپڑے بدل دیے جاتے ہیں تاکہ وہ پہچانا نہ جا سکے۔
پھر یہاں مقامی ایجنٹ اس کے جعلی کاغذات (ب فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ) تیار کرتے ہیں۔ اسے کسی “لاوارث یتیم خانے” یا “این جی او” کے ریکارڈ میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ قانونی طور پر اسے منتقل کرنا آسان ہو۔
اسکے بعد وہ مقام آتا ہے جہاں یہ کھیل بین الاقوامی ہو جاتا ہے ان بچوں کو سمندری کنٹینرز، نجی طیاروں یا غیر قانونی زمینی راستوں (مثلاً ایران سے ترکی اور پھر یورپ) کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔
اسکے بعد وہ “فائلیں” حرکت میں آتی ہیں جن کا ہم ذکر کر رہے تھے۔
طاقتور لوگ بارڈرز اور ایئرپورٹس پر ایسی “کھڑکیاں” کھلی رکھتے ہیں جہاں سے یہ انسانی گوشت خاموشی سے پار ہو جاتا ہے۔
جب بچہ باہر پہنچ جاتا ہے، تو اب وہ ان ہاتھوں میں ہے جن کا ذکر عالمی تحقیقات میں ہے۔
یہاں سے وہ ان لنکس سے جڑتا ہے:
کیسے ؟
کہ اگر بچہ بہت چھوٹا ہے یا اس کی مانگ نہیں ، تو اسے “اعضاء” نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اعضاء امیر ممالک کے ہسپتالوں میں لاکھوں ڈالرز میں بکتے ہیں۔
اور وہ بچے جو شکل و صورت میں بہتر ہوتے ہیں، انہیں ان طاقتور لوگوں کے “نجی جزیروں” یا “خفیہ اڈوں” پر پہنچایا جاتا ہے جن کا نام ایپسٹین فائلوں میں موجود ہے۔ وہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کی ویڈیوز بنا کر بڑے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اور باقی بچوں کو جبری مشقت یا جدید غلامی کی منڈیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔
آپ کو یاد ہو اگر تو قصور کے “زینب الرٹ” کیس کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے تھے کہ یہ محض ایک فرد (عمران) کا کام نہیں تھا۔
اس وقت کے کئی سینئر صحافیوں اور محققین نے دعویٰ کیا تھا کہ قصور سے اغوا ہونے والے بچوں کی ویڈیوز “ڈارک ویب” پر بیچی جاتی تھیں اور اس نیٹ ورک کے تانے بانے بااثر سیاسی شخصیات سے ملتے تھے۔
اسی لیے اصل “ماسٹر مائنڈز” کبھی سامنے نہیں آئے۔
اگر آپکو یاد ہو 2019 میں ایف آئی اے نے ایک انکوائری رپورٹ مرتب کی تھی جس میں 629 پاکستانی لڑکیوں کی فہرست دی گئی تھی جنہیں چین اسمگل کیا گیا۔
رپورٹ کے الفاظ تھے کہ “اسمگلروں نے غریب خاندانوں کو ‘خوشحال مستقبل’ کا جھانسہ دے کر نکاح کے نام پر انسانی سودے بازی کی۔
اسی رپورٹ کے حوالے سے اس وقت کے ایف آئی اے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ “حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ ان کیسز کو دبا دیا جائے تاکہ پاک-چین تعلقات پر اثر نہ پڑے ، جی ۔
اور تو اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی TIP رپورٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے بااثر طبقے ان اسمگلروں کے سہولت کار ہیں۔
اب پھر سؤال کیجئے ، یہ سب آپس میں کیسے جڑا ہوا ہے؟ (The Master Link)
اب ایک عام آدمی سوچے کہ ان تمام لنکس کا آپس میں تعلق کیا ہے؟
یوں کہ پہلے قانون آپ کے گھر کی دیوار کمزور کرتا ہے (محافظ کو بے اختیار کر کے) ، معیشت ماں کو بچے سے دور کرتی ہے ، ٹیکنالوجی شکاری کو آپ کے بیڈروم تک رسائی دیتی ہے ، عالمی اشرافیہ ان بچوں کو خریدتی ہے تاکہ اپنی شیطانی خواہشات پوری کر سکے۔
مدثر فاروقی ✒️