٣٤١- حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ مِنْ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةٌ ، عَن الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمنِ بنِ ابزی عَنْ عَبْدِالرَّحْمَن قَالَ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ تَمَعَكْتُ فَاتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَكْفِيكَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّان

(جامع المسانيد لابن الجوزی : 5664 )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن کثیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی از الحکم از ذر از ابن عبدالرحمن بن ابزی از عبدالرحمان وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں (زمین پر) لوٹ پوٹ ہوگیا تھا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تمہیں ( تیمم)چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرنا کافی تھا۔

 

اس حدیث کی مفصل شرح بھی صحیح البخاری : ۳۳۸ میں گزر چکی ہے اور مزید شرح ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔

تیمم کی کیفیت میں مذاہب ائمہ

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیمم میں صرف چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرنا ہوتا ہے اور کسی چیز پر  مسح نہیں کیا جاتا اور امام احمد اور اسحاق کا یہی مذہب ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 34، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

علامہ یحیی بن شرف نووی شافعی متوفی ۶۷۶ نے اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

تیمم کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے، ہمارا اور اکثرین کا مذہب یہ ہے کہ تیمم میں دو ضربیں ضروری ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لیے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم، حسن بصری، شعبی، سالم بن عبداللہ بن عمر، سفیان ثوری، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اور دیگر فقہا ء رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔

اور ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ تیمم میں صرف ایک ضرب واجب ہے، جس سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا جائے یہ مذہب ان فقہاء کا ہے: عطاء، مکحول، الاوزاعی، امام احمد، اسحاق ابن المنذر اور عام محدثین ۔ زہری سے منقول ہے کہ ہاتھوں سے بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے اسی طرح ہمارے اصحاب نے کتب مذہب میں بیان کیا ہے اور امام ابوسلیمان الخطابی نے کہا ہے کہ ہمارے علماء میں سے کسی ایک کا بھی اس میں اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے آگے ہاتھ پر تیمم میں مسح کرنا لازم نہیں ہے نیز ہمارے اصحاب نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے کہ تیمم میں تین ضربات سے کم جائز نہیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے، دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لیے۔

حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں کے لیے تیمم کا جواز

تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ( بے وضوء ہونا) کے لیے تیم جائز ہے اسی طرح تمام زمانوں کے فقہاء اور ان سے پہلے علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جنبی، حائض اور نفاس والی کے لیے تیمم کرنا جائز ہے اور متقدمین اور متاخرین میں سے کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے سوا حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے۔ اس کی مثل امام ابراہیم نخعی تابعی سے منقول ہے ایک قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور جنبی کے لیے تیمم کے جواز میں احادیث صحیحہ مشہورہ وارد ہیں۔

جنبی تیمم کرکے نماز پڑھے تو نماز کے اعادہ کی تفصیل

جب جنبی تیمم کرکے نماز پڑھے، پھر اس کو پانی مل جائے تو علماء کا اجماع ہے کہ اس پر غسل کرنا واجب ہے سوا اس کے کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمان امام تابعی نے کہا ہے کہ اس پر غسل لازم نہیں ہے اور اس مذہب کے متروک ہونے پر متقدمین اور متاخرین کا اجماع ہے اور احادیث مشہورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو حکم دیا ہے کہ جب اسے پانی مل جائے تو وہ غسل کرے واللہ اعلم ۔ مسافر اور شہری کو جب پانی نہ ملے تو اس کا اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز ہے، وہ اپنی شرم گاہوں کو دھولیں اور نماز پڑھیں اور ان کے لیے تیمم کرنا کافی ہے اور جب انہوں نے اپنی شرم گاہوں کو دھولیا ہے تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور اگر انہوں نے اپنی شرم گاہوں کو نہیں دھویا ہے تو ان پر نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے، بشرطیکہ ہم یہ کہیں کہ رطوبت فرج نجس ہے اور اگر ہم یہ کہیں کہ رطوبت فرج نجس نہیں ہے تو پھر ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ ( میں کہتا ہوں کہ جماع کے بعد جو فرج سے رطوبت نکلی ہے وہ قطعی طور پر نجس ہے اس لیے ان پر مطلق نماز کا اعادہ واجب ہے ۔ سعیدی غفرلہ )

محدث کے اعضاء یا کپڑوں پر نجاست ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھنے کی تفصیل

جب محدث کے بعض اعضاء پر نجاست ہو اور وہ وضوء کے بدلے تیمم کا ارادہ کرے تو ہمارے اور جمہور فقہاء کے نزدیک اس کا تیمم کرنا جائز نہیں ہے اور امام احمد بن حنبل نے یہ کہا ہے کہ جب اس کے بدن پر نجاست ہو اور اس کے کپڑوں پر نجاست نہ ہو تو اس کا تیمم کرنا جائز ہے اور اگر اس کے کپڑوں پر نجاست ہو تو پھر اس کا تیمم کرنا جائز نہیں ہے اور نماز کا اعادہ کرنے میں امام احمد کے اصحاب کا اختلاف ہے۔ ابن المنذر نے یہ کہا ہے کہ وہ شخص نجاست کی جگہ پر مٹی سے مسح کرلے اور نماز پڑھ لے یہ ثوری، اوزاعی اور ابوثور کا مذہب ہے۔

اس کی تفصیل کہ کسی عذر کی وجہ سے تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد اس کا اعادہ نہیں ہے جس شخص نے مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کرکے نماز پڑھی ہے تو ہمارا مذہب یہ ہے کہ اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس شخص نے پانی سے عاجز ہونے کی وجہ سے تیمم کرکے نماز پڑھی ہے تو اگر وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں غالباً پانی نہیں ملتا مثلا سفر میں تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے اور اگر وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں نادرا پانی نہیں ملتا، مثلا شہر میں تو مذہب صحیح کے مطابق اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے۔

زمین کی جنس سے تیمم کرنے کے جواز میں مذاہب ائمہ

جس چیز کی جنس سے تیمم کیا جائے اس میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے امام شافعی، امام احمد، ابن المنذر، داؤد ظاہری کے نزدیک صرف اس مٹی سے تیمم کرنا جائز ہے جس کا غبار ہو اور اس سے جسم آلودہ ہوجائے اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک زمین کی تمام چیزوں سے تیمم کرنا جائز ہے حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے (میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ کی دلیل صحیح البخاری :338 ہے، اس میں یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ  علیہ  وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان میں پھونک ماری تا کہ خاک یا غبار اٹھ جائے اس سے معلوم ہوا کہ صاف پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔ سعیدی غفرلہ ) اور بعض اصحاب مالک کا یہ مذہب ہے کہ جو چیز زمین سے متصل ہو مثلا لکڑی وغیرہ اس سے بھی تیمم کرنا جائز ہے، اور برف سے تیمم کرنے میں امام مالک سے دو روایتیں ہیں، اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا ہے کہ برف سے اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو، اس سے تیمم کرنا جائز ہے۔

تیمم کرکے فرض نماز نوافل اور نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ

رہا تیمم کا حکم تو ہمارا اور اکثرین کا مذہب یہ ہے کہ تیمم حدث کو زائل نہیں کرتا بلکہ نماز کو مباح کرتا ہے، پس اس سے فرض نماز اور جس قدر نوافل پڑھنا چاہے وہ مباح ہیں اور ایک تیمم کے ساتھ دو فرضوں کو جمع نہ کرے اور اگر اس نے تیمم سے فرض کی نیت کی ہے تو اس سے فرض اور نفل دونوں پڑھنا جائز ہیں اور اگر اس نے تیمم سے نفل کی نیت کی ہے تو اس سے فرض نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور اس کے لیے ایک تیمم کرکے کئی جنازوں پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اس کے لیے ایک تیمم سے فرض نماز اور نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اور وقت سے پہلے وہ تیمم نہ کرے اور جس شخص نے پانی نہ ملنے کی وجہ سے تمیم کیا، پھر اس نے حالت نماز میں پانی دیکھ لیا تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے نماز کو مکمل کرنا جائز ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج ۲ ص 1471- 1469 مکتبہ نزار مصطفی الباز، مکه مکرمه 1417ھ)

فقہاء احناف کے نزدیک ایک تیمم سے دو فرض نمازوں کے پڑھنے کا جواز اور اس پر دلائل

علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ۹۷۰ھ لکھتے ہیں:

وقت سے پہلے تیمم کرنا جائز ہے اور دو فرضوں کے لیے بھی تیمم کرنا جائز ہے، کیونکہ جب پانی نہ ہو تو ہمارے نزدیک تیمم وضوء کا بدل مطلق ہے اور جب تک پانی نہ ملے، اس سے حدث مرتفع ہو جاتا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ یہ نماز کو مباح کرتا ہو اور حدث قائم رہتا ہو، جیسا کہ امام شافعی نے کہا ہے کہ تیمم وضوء کا بدل ضروری ہے اور اس کے باوجود حدث قائم رہتا ہے، اس وقت سے پہلے تیمم کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ایک تیمم سے ایک سے زیادہ فرض پڑھنے جائز ہیں، ہمارے نزدیک تیم حدث کو اٹھانے والا ہے ان کے نزدیک تیمم حدث کو نہیں اٹھاتا، صرف نماز کو مباح کر دیتا ہے ہماری دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا وضوء ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے اور جب وہ پانی کو پالے تو اس سے اپنے جسم کو گیلا کرے۔ (سنن ابوداؤد :332 سنن ترمذی: ۱۲۴ سنن نسائی:۳۲۱، سنن دار قطنی ج ۱ ص ۱۸۷۔186 المستدرک ج ا ص ۱۸۶ سنن بیہقی ج ۱ ص ۲۳۰ – ۲۱۷ – ۲۱۲ مسند احمد ج ۵ ص ۱۸۰ – ۱۵۵)

نیز حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے خواہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ پس جب تم پانی کو پالو تو اس سے اپنی جلد کو مس کرو ۔ (سنن ابوداؤد: ۳۳۳)

امام ترمذی کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: پاک مٹی مسلمان کا طہور ہے، خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے اور جب وہ پانی کو پالے تو اپنی کھال کو پانی سے مس کرے، بےشک یہ خیر ہے۔ (سن ترمذی : ۱۲۴)

امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور جمہور فقہاء نے یہ کہا ہے کہ جب جنبی اور حائض کو پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھیں، حضرت ابن مسعود جنبی کے لیے تیمم کو جائز نہیں کہتے تھے خواہ اس کو پانی نہ ملے اور انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا اور کہا: جب جنبی کو پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرلے۔ (سنن ترمذی ص ۷۰ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۳ھ )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور طہور بنادیا گیا ہے۔ ( صحیح مسلم : ۵۲۲ ‘ مسند احمد ج ۵ ص 383 سنن بیہقی ج ۱ ص ۲۱۳)

طہور کا معنی مطہر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت یہ ہے کہ تمام زمین کو آپ کے لیے مطہر بنادیا گیا’ ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ جب تک پانی نہ ملے تیمم طہارت مطلقہ ہے اور طہارت ضروریہ نہیں ہے اس سے دو فرض بھی پڑھے جاسکتے ہیں اور وقت سے پہلے تیمم بھی کیا جاسکتا ہے۔ (البحر الرائق ج ۱ ص ۱۵۶ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ کا فقہاء شافعیہ کے برعکس تیمم میں۔۔۔۔کلائیوں کے بجائے ہتھیلیوں پر مسح کو صحیح قرار دینا

اس حدیث میں مذکور ہے کہ تمہارے لیے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرنا کافی ہے۔

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

علامہ نووی نے اس حدیث کی توجیہ میں لکھا ہے: اس حدیث سے ضرب کی صورت کی تعلیم دینا مراد ہے یعنی کس طرح زمین پر ہاتھ مارا جائے اور پورا تیمم کس کیفیت سے کیا جائے یہ مراد نہیں ہے، لیکن اس پر یہ رد کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے یہی مراد ہے کہ پورا تیمم کس طرح کیا جائے کیونکہ آپ نے فرمایا: تمہارے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ تم چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرو اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جس طرح وضوء میں پوری کلائیوں کو دھونا فرض ہے اسی طرح تیمم میں پوری کلائیوں پر مسح کرنا فرض ہے تو یہ نص کے مقابلہ میں قیاس کرنا ہے اور یہ فاسد الاعتبار ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۶ دار المعرفہ بیروت 1426ھ)

امام ترمذی کا کلائیوں کے بجائے ہتھیلیوں پر مسح کی روایت کو بعض اہل علم کے حوالے سے ضعیف قرار دینا

حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ حافظ ابن حجر کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد تیمم میں ضرب کی صورت کی تعلیم دینا ہے، نہ کہ اس حدیث میں پورے تمیم کی تعلیم دینا مراد ہے کیونکہ امام طحاوی اور دوسرے ائمہ نے یہ کہا ہے کہ حضرت عمار کی حدیث تیمم میں حجت کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ اس حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ تیمم صرف ہتھیلیوں پر مسح ہے یا صرف پہنچوں تک ہے یا صرف کہنیوں تک ہے یا صرف کندھوں تک ہے یا صرف بغلوں تک ہے جیسا کہ اہل علم کی ایک جماعت ان میں سے ہر ایک احتمال کی طرف گئی ہے اسی وجہ سے امام ترمذی نے کہا ہے کہ حضرت عمار کی جس حدیث میں ہے: تیمم چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے، اس کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حضرت عمار سے تیمم میں کندھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کی بھی روایت ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 34 دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )

میں کہتا ہوں: صحیح بخاری کی حدیث مذکور سنن ترمذی: ۱۴۴ پر ہے، امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد اس پر حسب ذیل تبصرہ کیا ہے:

بعض اہل علم نے کہا ہے جن میں حضرت ابن عمر، حضرت جابر، ابراہیم نخعی اور حسن بصری ہیں کہ تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لیے ہے، سفیان ثوری، امام مالک، ابن المبارک، امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔ (اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد کا بھی یہی مذہب ہے۔ سعیدی غفرله )

اور حضرت عمار سے یہ حدیث : تیمم چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے ہے دیگر اسانید سے بھی مروی ہے اور حضرت عمار سے تیمم میں کندھوں اور بغلوں تک مسح کرنے کی بھی حدیث مروی ہے، پس بعض اہل علم نے حضرت عمار کی اس حدیث کہ تیمم چہرے اور ہتھیلیوں پر ہے کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ حضرت عمار سے کندھوں اور بغلوں تک مسح کرنا بھی مروی ہے۔ سنن ترمذی ص ۸۱ دار المعرفه بیروت ۱۴۲۳ھ 

میں کہتا ہوں کہ ایک ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی حدیث اس لیے بھی ضعیف اور مرجوح ہے کہ یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے، جس میں مذکور ہے : تیمم میں دوضربیں ہیں ایک ضرب سے چہرے پر مسح ہے اور دوسری ضرب سے کہنیوں سمیت کلائیوں پر مسح ہے اور امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے اور مجتہدین جس حدیث سے استدلال کریں وہ اس حدیث کی صحت پر دلیل ہوتی ہے حیرت ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے شافعی المذہب ہونے کے باوجود اپنے مذہب کے خلاف اس حدیث کو صحیح اور راجح قرار دیا ہے جس میں ایک ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کا ذکر ہے حالانکہ وہ حدیث مضطرب اور ضعیف ہے اب ہم اس حدیث کے خلاف فقہاء شافعیہ کے دلائل ذکر کر رہے ہیں:

امام شافعی اور فقہاء شافعیہ کا ایک ضرب سے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت کو رد کرنا۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کو اجماع مسلمین کے خلاف قرار دینا

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں:

مزنی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی نے کہا ہے کہ تیمم میں زمین پر ایک ہاتھ مارا جائے اور اس سے چہرے پر مسح کیا جائے، پھر دوسری بار زمین پر ہاتھ مارا جائے اور اس سے کہنیوں سمیت کلائیوں پر مسح کیا جائے ۔ (مختصر المزنی ص ۶)

الماوردی نے کہا: یہی صیح ہے کہ تیمم میں چہرے اور کلائیوں پر مسح ہے اور امام شافعی کا مذہب ہے کہ تیمم میں دو ضربوں سے کم کافی نہیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب کلائیوں کے لیے کیونکہ حدیث میں ہے:

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیمم میں دوضربیں ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے۔ (سنن دارقطنی : ۶۷۳ المستدرک ج ا ص ۱۷۹)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے۔ (سنن دار قطنی : ۶۷۹ المستدرک ج اس ۱۸۰ )

الماوردی کہتے ہیں کہ جب ثابت ہوگیا کہ تیمم میں دوضربیں ہیں تو دوضربوں سے کم تیمم میں کفایت نہیں کریں گے ۔

( الحاوی الکبیر ج ا ص ۲۹۹ – ۲۹۸ دار الفکر بیروت 1414ھ )

علامہ یحیی بن شرف نووی الشافعی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے آیت وضوء میں چار اعضاء کی طہارت کو واجب کیا ہے پھر آیت وضوء کے آخر میں تیمم میں دو اعضاء کی طہارت کو ساقط کر دیا، پس تیمم میں وہ دو اعضاء باقی رہے جن کا وضوء میں ذکر کیا ہے اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم میں چہرے اور

ہاتھوں پر پورا پور مسح کیا جاتا ہے اور امام بیہقی نے بیان کیا ہے کہ امام شافعی نے کہا ہے کہ حضرت عمار کی چہرے اور ہتھیلیوں پر ایک ضرب سے مسح کی جو روایت ہے ہم نے اس پر عمل کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ یہ حدیث ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوضربوں سے چہرے اور کلائیوں پر مسح کیا ہے اور یہ حدیث قرآن مجید کے زیادہ مشابہ ہے اور اس کے بہت شواہد ہیں۔

معرفة السنن والآثار ج ۱ ص ۲۹۲ دار الکتب العلمیة بیروت 1412ھ)

اس کے بعد علامہ نووی نے تفصیل کے ساتھ ان شواہد کا ذکر کیا ہے۔ (شرح المہذب ج ۳ ص ۲۰۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ )

علامہ نووی شافعی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر کا چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کی روایت کو اختیار کرنا نہ صرف جمہور کے خلاف ہے بلکہ یہ قول مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے اور اپنے امام سے انحراف ہے۔