کتاب التیمم باب 4 حدیث نمبر 338
۔بَابُ الْمُتَيَمِّمِ هَلْ يَنْفَخُ فِيهِمَا؟
کیا تیمم کرنے والا اپنے ہاتھوں پر پھونک مارے؟
اس باب میں یہ ذکر کیا جائے گا کہ آیا تیمم کرنے والا اپنے ہاتھوں میں پھونک مار سکتا ہے تا کہ اس کے ہاتھوں پر لگی ہوئی مٹی اڑجائے ۔ اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں کا تعلق تیمم کے احکام سے ہے۔
۳۳۸- حَدَّثَنَا ادَم قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ ذَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ابْزی ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّی اجنبْتُ فَلَمْ أَصِبِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِر لِعُمَر بن الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ انَّا كُنَّا فِى سَفَرٍ اَنَا وَانت،ََ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلَّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَكُثُ فَصَلَّيْتُ،فَذَكَرْتُ ذَالِكَ لِلنَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هكذا فَضَّرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ وَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَيْهِ
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الحکم نے حدیث بیان کی از ذر از سعید بن عبد الرحمن بن ابزی از والد خود انہوں نے کہا: ایک شخص حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس نے کہا: میں جنبی ہوگیا، پھر مجھے پانی نہیں ملا؟ پس حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اللہ سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے، ہم دونوں ایک سفر میں تھے، رہے آپ تو آپ نے نماز نہیں پڑھی اور رہا میں تو میں زمین میں لوٹ پوٹ ہوگیا، پس میں نے نماز پڑھ لی پھر میں نے اس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں صرف اس طرح کرنا کافی تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر ملا۔
اطراف الحدیث: ۳۳۹-340-341-342-343-345-346-347
(صحیح مسلم : 368، الرقم المسلسل : 796، سنن ابوداؤد:321، سنن نسائی:320، سنن ابن ماجه : ۵۶۹، سنن ابوداؤد :٬۳۲۶ السنن الکبری للنسائی:305-303 صحیح صحیح ابن خزیمہ: 268 صحیح ابن حبان : ۱۳۰۹-۱۳۰۶ مسند البزار: ۱۳۸۵ سنن دار قطنی ج ۱ ص ۱۸۳ سنن ابوداؤد الطیالسی: 638 المنتقی:125 مسند احمد ج 4 ص ۲۶۵ طبع قدیم مسند احمد : ۱۸۳۳۲ – ج ۳۰ ص 275 مؤسسة الرسالۃ، بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۶۶۴‘ مكتبة الرشد لابن الجوزی 1426ھ)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) آدم بن ابی ایاس
(۲) شعبہ بن الحجاج
(۳) الحکم بن عتیبہ
(۴) ذر بن عبد اللہ الہمدانی
(۵) سعید بن عبد الرحمان، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے
(۶) سعید کے والد عبد الرحمان بن ابزی، یہ صحابی خزاعی کوفی ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خراسان کا عامل بنایا تھا
(۷) حضرت عمر بن الخطاب رضی الله عنہ
(۸) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہوچکا ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۶)
حضرت عمر رضی اللہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کا جائز نہ ہونا
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں تھا کیونکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:رہے آپ تو آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ یہ حدیث مختصر ہے اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے:
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پس ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: ہم کسی جگہ ایک ماہ یا دو ماہ ٹھہرتے ہیں پھر حضرت عمر نے کہا: میں تو اس وقت تک نماز نہیں پڑھوں گا حتی کہ میں پانی کو پالوں، پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے کہ میں اور آپ اونٹوں پر سفر کر رہے تھے پھر ہم دونوں جنبی ہوگئے رہا میں تو میں زمین میں لوٹ پوٹ ہوگیا ، پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا:تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کر لیتے، آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری، پھر ان ہاتھوں سے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر نصف ہاتھ تک مسح کیا تب حضرت عمر نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو حضرت عمار نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو اللہ کی قسم! میں کبھی اس کا ذکر نہیں کروں گا’ حضرت عمر نے کہا: ہر گز نہیں! اللہ کی قسم! ہم اس معاملہ میں تم کو تمہارے موقف پر قائم رہنے دیں گے۔ (سنن ابوداؤد: 322، صحیح مسلم :368، الرقم المسلسل : ۷۹۸ ‘سنن نسائی: ۳۱۵)
قیاس اور اجتہاد پر دلیل
اس حدیث میں قیاس کی دلیل ہے کیونکہ حضرت عمار نے کہا: میں زمین میں لوٹ پوٹ ہوگیا، انہوں نے اجتہاد کیا کہ حدث اصغر میں تو صرف چہرے اور ہاتھوں پر مٹی سے مسح کیا جاتا ہے اور یہ تیمم وضوء کا قائم مقام ہوتا ہے اور حدث اکبر یعنی جنابت میں تو پورے جسم پر مٹی سے مسح ہونا چاہیے تا کہ وہ غسل کا قائم مقام ہو کیونکہ غسل میں پورے جسم پر پانی بہایا جاتا ہے تو تیمم میں پورے جسم پر مسح ہونا چاہیے، پھر جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے انہیں بتایا کہ حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں میں تیمم کی ایک صفت ہے یعنی مٹی یا پتھر پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ حضور کے زمانہ میں اجتہاد کرتے تھے اور کبھی صحابہ کو اجتہاد میں خطاء واقع ہوجاتی تھی، نیز خطاء منکشف ہونے کے بعد اجتہاد کرنے والے پر اس تیمم سے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ نہیں ہے۔
تیمم کی کیفیت میں مذاہب ائمہ
امام احمد کے نزدیک تیمم میں صرف ایک بار پاک مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا ہے علامہ ابن عبد البر نے کہا: یہ حضرت عمار سے سب سے زیادہ ثابت روایت ہے اور حضرت عمار کی باقی روایات میں بہت اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا وضوء میں فرض کیا ہے پھر تیمم میں فرمایا:
فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ.
(النساء: ۴۳ المائدہ : ۶)
اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو۔
اور ظاہر ہے یہاں پر ہاتھوں پر وہیں تک مسح کرنے کا حکم دیا ہے جہاں تک وضوء میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم دیا تھا اور وضوء میں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونے کا حکم دیا تھا تو تیمم میں بھی کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح کرنا مراد ہے۔
علماء کا کیفیت تیمم میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ امام مالک امام شافعی اور ان کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ ایک بار پاک مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے پر مسح کیا جائے اور دوسری بار پاک مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کیا جائے البتہ امام مالک کے نزدیک پہنچوں تک مسح کرنا فرض ہے اور کہنیوں تک مسح کرنے میں اختیار ہے۔
حسن بن حی اور ابن ابی لیلی نے کہا: تیمم میں دوبار ہاتھ مارنا ہے اور ہر بار چہرے اور ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کیا جائے اور الزہری نے کہا: ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کیا جائے۔
ابن سیرین نے کہا: تیمم میں تین ضربات ہیں، ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے دوسری ضرب سے ہتھیلیوں پر مسح کیا جائے اور تیسری ضرب سے کلائیوں پر مسح کیا جائے۔
تیمم کی کیفیت میں حضرت عمار سے مختلف اور مضطرب روایات ہیں اور ہر روایت کے موافق کسی نہ کسی مجتہد نے اپنا مذہب بنالیا ہے اس لیے صحیح یہ ہے کہ اس میں ظاہر کتاب کی طرف رجوع کیا جائے اور ظاہر کتاب سے یہ پتا چلتا ہے کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور دوسری ضرب سے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کیا جائے جیسا کہ وضوء میں ایک بار چہرے کو دھویا جاتا ہے اور دوسری بار ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا جاتا ہے اور ان احادیث کی اتباع کرتے ہوئے جن میں یہ ذکر ہے کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۹ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )
دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنے کے متعلق احادیث اور آثار
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کلائیوں پر کہنیوں تک ہے۔ اس حدیث کے تمام رجال ثقات ہیں ۔ (سنن دار قطنی : ۶۷۹ المستدرک ج ا ص ۱۸۰ سنن بیہقی ج ا ص ۲۰۷)
ابوالزبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص نے آکر کہا: میں جنبی ہوگیا اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا’حضرت جابر نے فرمایا: تم زمین پر ہاتھ مارو اور چہرے پر مسح کرو پھر دوسری بار زمین پر ہاتھ مارو اور اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کرو۔ (سنن دار قطنی : ۶۸۰ – ج ۱ ص ۴۲۱ دار المعرفه بیروت 1424ھ )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے ۔ (سنن دارقطبی : ۶۷۳ المستدرک ج ا ص ۱۷۹ مجمع الزوائد ج اص ۲۶۷ سنن بیہقی ج ا ص ۲۰۷)
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کہتے تھے کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں، ایک چہرے کے لیے اور ایک ضرب ہتھیلیوں سے کہنیوں تک کے لیے ۔ (سنن دارقطنی : ۶۷۴ سنن بیہقی ج ا ص ۲۰۷)
سالم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ضربوں سے تیمم کیا ہے ایک ضرب چہرے اور ہتھیلیوں کے لیے اور ایک ضرب کلائیوں سے کہنیوں تک کے لیے۔ (سنن دار قطنی : ۶۷۷ سنن بیہقی ج اص ۲۰۷)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ کی گلیوں میں سے کسی گلی میں گزرا’ آپ اس وقت بیت الخلاء سے آئے تھے اس نے آپ کو سلام کیا’ آپ نے اس کو جواب نہیں دیا حتی کہ قریب تھا وہ شخص غائب ہوجاتا’ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور ان کے ساتھ چہرے پر مسح کیا، پھر دوسری بار دیوار پر ہاتھ مارے اور ان کے ساتھ اپنی کلائیوں پر مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے اور کوئی چیز مانع نہیں تھی مگر یہ کہ میں طہر پر نہیں تھا۔ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے مگر یہ محمد بن ثابت العبدی کی روایت ہے اور وہ اکثر اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہے۔ (سنن ابوداود:۳۳۰ معرفته السنن والآثار :۳۰۹ السنن الکبری ج 1 ص 206 تلخیص الحبیر ج ۱ ص ۲۳۶)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کلائیوں کے لیے ہے۔ (سنن دار قطنی : ۶۸۳ سنن بیہقی ج ا ص 213 مصنف عبد الرزاق: ۸۲۴)
حسن بصری نے کہا : تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب ہاتھوں کے لیے ہے۔مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۵۸ ادارۃ القرآن’ کراچی ۱۴۰۶ھ )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: تیمم میں اپنے دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی پر مارا جائے پھر ان کے ساتھ چہرے پر مسح کیا جائے، پھر دوسری بار ہاتھوں کو مارا جائے اور ان کے ساتھ اپنی کلائیوں پر کہنیوں تک مسح کیا جائے۔( مسند البزار : ۳۱۰ مؤسسة الرسالة بیروت، 1404ھ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیمم میں دوضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور دوسری ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے۔ (مسند البزار ۳۱۱ مؤسسة الرسالة برات 1404ھ)
طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تیمم میں دوضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۶۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )
ابن ابی ذئب بیان کرتے ہیں کہ الزہری نے کہا: تیمم میں دوضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کلائیوں کے لیے ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۶۸۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )
ابوالزبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور ان کے ساتھ اپنے چہرے پر مسح کیا، پھر دوسری بار اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان کے ساتھ کہنیوں سمیت اپنی کلائیوں پر مسح کیا۔مصنف ابن ابی شیبه : ۱۶۸۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ )
ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: تیمم میں دو ضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کے لیے ہے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت کلائیوں کے لیے ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 1690 دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
چہرے پر مٹی کا لیپ نہ کیا جائے
باب مذکور کی حدیث میں مذکور ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر ان پر پھونک ماری، پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر مسح کیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پھونک مار کر مٹی اڑانا سنت یا مستحب ہے اور جس پتھر پر مٹی نہ ہو اس پر ہاتھ مارکر تیمم کرنا بھی صحیح ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۲۳ – ج ۱ ص ۱۰۴۹ پر ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔
[…] حدیث کی مکمل شرح گزشتہ حدیث : ۳۳۸ کے تحت گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ […]
[…] حدیث کی شرح کے لیے بھی صحیح البخاری : ۳۳۸ کا مطالعہ […]
[…] حدیث کی مفصل شرح بھی صحیح البخاری : ۳۳۸ میں گزر چکی ہے اور مزید شرح ہم یہاں بیان کر رہے […]