قربانی کی کھال کا حکم اور اس کا مصرف
قربانی کی کھال کا حکم اور اس کا مصرف
شیخ محمد افتخار الحسن
قربانی کے جانور کی کھال کے متعلق عام طور پر لوگوں میں مختلف قسم کی الجھنیں پائی جاتی ہیں، اس لیے اس مسئلے کو مختصر اور آسان انداز میں سمجھنا مناسب ہے۔
قربانی کی کھال کا حکم زکوٰۃ یا صدقۂ فطر جیسا نہیں ہے، بلکہ اس کے مصرف میں وسعت پائی جاتی ہے۔ قربانی کرنے والا چاہے تو کھال اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، مثلاً اس سے جائے نماز، چٹائی یا دیگر جائز اشیاء بنوا سکتا ہے، یا اسے کسی اور نیک مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اسی طرح کھال یا اس کی قیمت مسجد کو دینا بھی جائز اور باعثِ ثواب ہے تاکہ مسجد کے اخراجات، تعمیر و مرمت، فرش، روشنی، مؤذن اور امام کی تنخواہ یا دیگر دینی ضروریات میں استعمال کیا جا سکے۔
شیخ الاسلام امام احمد رضا خان حنفی ہندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’قربانی کے چمڑوں کو للہ مسجد میں دے دینا کہ انہیں یا ان کی قیمت کو متولی یا منتظمانِ مسجد، مسجد کے کاموں مثلاً ڈول، رسی، چراغ، بتی، فرش، مرمت، تنخواہِ مؤذن، تنخواہِ امام وغیرہ میں صرف کریں، بلا شبہ جائز و باعثِ اجر و کارِ ثواب ہے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 476)
اسی طرح اگر کوئی قریبی رشتہ دار یا محلے کا ضرورت مند شخص ہو تو اسے بھی کھال دی جا سکتی ہے۔
بعض علاقوں، خصوصاً وسطی ایشیا کے بعض خطوں میں، آج بھی بھیڑ کی کھال کو خشک کرکے مختلف مفید کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسے ٹوپیاں، جائے نماز اور دیگر گھریلو ضروریات کی اشیاء بنانا۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ قربانی کی کھال میں کسی فقیرِ شرعی کو مالک بنانا ضروری نہیں ہے۔ فقیر کو مالک بنانا (تملیکِ فقیر) زکوٰۃ اور بعض واجب صدقات میں شرط ہوتی ہے، جبکہ قربانی کی کھال کا صدقہ سرے سے واجب ہی نہیں، بلکہ نفلی صدقہ کے درجے میں ہے۔ اسی لیے اسے ہر ایسے کام میں صرف کرنا جائز ہے جو دینی، فلاحی اور باعثِ قربت ہو۔
شیخ الاسلام امام احمد رضا خان حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’چرمِ قربانی کا تصدق اصلاً واجب نہیں، بلکہ یہ صدقۂ نافلہ ہے، اس میں تملیکِ فقیر کی شرط نہیں۔ ہر ایسا مصرف جو قربت اور نیکی پر مشتمل ہو، جائز ہے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحات 488، 497)
ہمارے ہاں برطانیہ اور یورپ میں قربانی کی کھالوں کو منظم انداز میں جمع کرنے کا رواج کم ہے، حالانکہ اگر قانونی اور انتظامی طریقے سے ان سے مالی فائدہ حاصل کیا جائے تو دینی و فلاحی اداروں کی بڑی خدمت ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں اگر کوئی اپنی کھال دینی یا فلاحی اداروں کو دینا چاہے تو دعوت اسلامی اور جامعۃ المصطفٰی جیسے معتبر اداروں کو دے سکتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دونوں جماعتیں دینی، تعلیمی اور فلاحی کام کرنے والی ہیں۔ تاہم آپ کسی بھی ایسے مستند ادارے اور فرد کو دے سکتے ہیں جو آپ کو بہتر محسوس ہوں۔
محمد افتخار الحسن
8 ذوالحجہ 1447 بمطابق 25 مئی 2026
#Qurbaniقربانی #eiduladha
#shaykhiftikharulhassan