تقی عثمانی کی حقیقت ایک عرب عالم کی زبانی

الشیخ احمد الشریف الازھری مدظلہ العالی( Sch. Ahmed Alsharif  الشيخ أحمد الشريف ) جوکہ ”مصر“ کے ہیں۔دیوبندیوں کے خود ساختہ مفتی اعظم تقی عثمانی کے متعلق شیخ صاحب کیا فرماتے ہیں؟
ان کی گفتگو کا خلاصہ ہے کہ ”تقی عثمانی وہابی ہے،تکفیری ہے،علماء ازھر کو کاف،ر سمجھتا ہے،افغانی غنڈوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے،ان کے ساتھ مالی معاونت میں ملوث رہا ہے،عرب علماء کو مفتی پاکستان کہہ کر جھوٹ بولتا ہے، جشن میلاد النبی ﷺ کو حرام کہتا ہے،میلاد منانے والے (سنیوں) کو مشر،ک کہتا ہے،تقی عثمانی کا چہرہ بےنور ہے۔((خلاصہ۔۔۔از ناقل))

★ بہرکیف ہم نے عربی متن نقل کردیا ہے اور ساتھ ہی اردو ترجمہ بھی لگادیا ہے۔آپ پڑھیے؛

• شیخ صاحب فرماتے ہیں:

تقي الدين العثماني هذا أقرب في عقائده للوهابية، وهو تكفيري يكفر علماء الأزهر، وله تاريخ طويل من التعاون مع جماعة الإخوان، بل كان يعرف نفسه في سيرته الذاتية على أنه عضو جماعة الإخوان، وهو داعم بالسلاح والمال والرجال للعنف والتطرف في أفغانستان لسنين طويلة، بل يعده كثير من الأفغان عدوهم الأول وسببا مباشرا في قتل أبناء شعبهم، كان على فضيلة الشيخ الجليل عبد العزيز الشهاوي الأشعري الشافعي الصوفي حفظه الله ومعاونيه أن يسألوا عنه قبل اللقاء معه.
وهو ممنوع من دخول مصر لسجله في دعم الإرهاب. وهو كذاب يدعي أنه مفتي باكستان وهذا كذب محض.
وهو يحرم الاحتفال بمولد سيدنا النبي صلى الله عليه وآله وسلم ويرى فاعل ذلك أقرب للشرك، ويصرح بكفر علماء الأزهر مدعيا أنهم علماء سلطة وأباحوا الحرام للناس، وغير ذلك من المخزيات كثير.
انظر إلى النور على وجه الشيخين حفظهما الله وانظر إلى الإرهابي العثماني هذا لترى الفرق مباشرة بدون تأمل.

#ترجمہ:
تقی الدین عثمانی اپنے عقائد کے اعتبار سے وہابیت کے زیادہ قریب ہیں، اور وہ تکفیری ہیں جو ازہر کے علماء کی تکفیر کرتے ہیں۔ ان کا جماعتِ اخوان المسلمین کے ساتھ طویل تعاون کا پس منظر رہا ہے، بلکہ انہوں نے اپنی سوانحِ حیات میں خود کو اخوان کا رکن بھی لکھا تھا۔
مزید یہ کہ وہ کئی برسوں تک افغانستان میں تشدد اور انتہاپسندی کی مالی، عسکری اور افرادی معاونت کرتے رہے۔ بلکہ بہت سے افغان انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن اور اپنے لوگوں کے قتل کا براہِ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
حضرتِ شیخِ جلیل عبدالعزیز الشہاوی الاشعری الشافعی الصوفی حفظہ اللہ اور ان کے معاونین کے لیے مناسب تھا کہ ملاقات سے پہلے ان کے بارے میں تحقیق کر لیتے۔
ان پر دہشت گردی کی حمایت کے ریکارڈ کے باعث مصر میں داخلے پر پابندی ہے۔ اور وہ جھوٹ بولتے ہوئے اپنے آپ کو ’’مفتیِ پاکستان‘‘ کہتے ہیں، حالانکہ یہ محض جھوٹ ہے۔

وہ سیدنا نبی کریم ﷺ کے میلادِ مبارک کے جشن کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس کے کرنے والوں کو شرک کے قریب سمجھتے ہیں۔ نیز وہ علماءِ ازہر کو ’’سرکاری علماء‘‘ کہہ کر ان کی تکفیر کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے لیے حرام چیزوں کو جائز قرار دیا ہے، اور اس کے علاوہ بھی ان سے بہت سی قابلِ شرم باتیں منسوب ہیں۔
شیخین حفظہما اللہ کے چہروں کے نور کو دیکھیے، اور اس عثمانی شخص کو دیکھیے، آپ بغیر کسی گہری غور و فکر کے فوراً فرق محسوس کر لیں گے۔

#نوٹ : شیخ صاحب کی اس پوسٹ کا لنک یہ ہے:
https://www.facebook.com/share/p/1DjCCsPfBN/

کاوش: ابوالحسن محمد شعیب رضوی