جاوید احمدغامدی اور علامہ  حسن الیاس سے  ڈیلاس امریکہ میں ایک ملاقات

جناب   علامہ حسن الیاس صاحب کی دعوت پرہم نے  ڈیلاس ،امریکہ میں  ’المورد‘غامدی سینٹر  کا دورہ کیا  اور جاوید احمد غامدی  سے ان کے گھر پر  ہماری پہلی ملاقات ہوئی جس پر ہم حسن الیاس صاحب کے شکر گزار ہیں۔اس ملاقات میں  جاوید احمد غامدی سے انکار عقیدہ ختم نبوت  ، مسئلہ تکفیر، منکر ختم نبوت  امام کے پیچھے نماز ادا کرنا ،نزول مسیح علیہ السلام اور دیگر مختلف عنوانات پر  گفتگو ہوئی اور تبادلہ خیال ہوا۔اس نشست کے اختتام پر راقم نے   غامدی صاحب کو عقیدہ ٔ ختم نبوت کے عنوان پر انگریزی زبان میں اپنی کتاب  بھی پیش کی ۔اس ملاقات میں مفتی حسن رضا صاحب بھی موجود تھے ۔
اس ملاقات میں غامدی صاحب  سے ہم نے ان کے  ویڈیو بیان کے بارے میں سوال کیا کہ
آپ  سے ایک سوال کیا گیا ’’ اگر ہم  احمدی /قادیانی کے پاس گئے ہوں تو کیا ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں  کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں۔؟ تو اس کے جواب میں آپ نے کہا کہ اگر وہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نماز پڑھ رہے ہیں اور نماز میں کوئی بدعت داخل نہیں کر دی  تو بے تکلف  نماز پڑھیے۔جو شخص امامت کی جگہ پر کھڑا ہواہے اور وہ اگر اپنے آپ کو  مسلمان کہتا ہے تو مجھ کو یا آپ کو  کیا حق ہے کہ ہم اس کے اسلام کا انکار کریں ۔نماز رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کہ مطابق  پڑھی جا رہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس سے الگ ہوں۔‘‘   اس سے یہ محسوس ہوتا ہے  آپ کے نزدیک  امامت کے لیے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔اس بارے میں آپ  کی کیا رائے ہے ؟
جاوید احمد غامدی  نے بہت صراحت کے ساتھ  جو جواب دیا  اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص ہندو ہو، عیسائی ہو،احمدی/قادیانی ہو ،مستشرق ہو  یاملحد ہو ، اگر وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے  اور اس نے نماز میں کوئی بدعت داخل نہیں کر دی ہے تو اس کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز ہے ۔امامت کے لیے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے ۔
جب ہم نے ان سے یہ سوال کیا کہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام  سے خاتم الرسل محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام ، خلفاء راشدین  یا تابعین و اتباع تابعین میں سے کسی نے بھی  کافر  کے پیچھے نماز ادا  نہیں کی ۔صلوا خلف کل بر و فاجر بیان جواز کے لیے فرمایا گیا ہے اس میں بھی کافر کا ذکر نہیں ہے ۔گویا کہ سنت ابراہیمی اور رسول اللہ ﷺ کے عملی تواتر سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ کافر کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جائے گی چاہے وہ اتفاقاً ہی کسی  وقت اپنے دعویٰ اسلام کے ساتھ مصلی امامت پر کھڑا ہو جائے ۔تو انہوں نے کہا کہ  اس کی ممانعت قرآن و سنت میں کہاں ذکر ہے  اور یہ کہ امامت کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے یہ قرآن و سنت میں کہاں ہے ؟
ہم نے ان سے کہا کہ نماز کی امامت  اور اقتداء میں بحیثیت مکلف اسلام  کی شرط شامل ہے  اور اس طرح تو قیام میں قراءت کے بجائے درود شریف پڑھنے کی ممانعت بھی قرآن میں کہیں نہیں ہے  تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ  ہم قیام  میں قراءت کے بجائے  درود شریف پڑھ سکتے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرما دیا ہے کہ قیام میں قراءت کی جائے نہ کہ درود۔اس کے جواب میں  راقم نے ان سے کہا کہ مگر آپ کے مطابق تو ممانعت کا ذکر نہ ہو تو اصولا اس کو جائز ہونا چاہیے۔نماز کی جماعت اور امامت ایک دینی مسئلہ ہے آپ کے نزدیک بھی اس کا ملت ابراہیمی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں جاری ہونا ضروری ہے جبکہ  نبی کریم ﷺ  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نعوذ باللہ کبھی بھی  کسی کافر کے پیچھے نماز ادا نہیں کی ۔رسول اللہ ﷺ کا  ہمیشہ مسلمان کو ہی امام بنانا  اس کے عملی تواتر اور دینی امر ہونے کا ثبوت ہے ۔ایک طرف آپ جہاں عمل میں بدعت کو قبول نہیں کر رہے وہاں دوسری طرف عقیدہ میں بدعت کو امامت میں مانع تسلیم نہیں کر رہے  ہیں مگر غامدی صاحب نے  اس سنت کے جاری ہونے کا انکار کیا  اور بہت واضح طور پر اس  بات کو بیان کیا کہ ہمیں نیکی  اور تقویٰ پر تعاون کا بموجب ’تعاونوا علی البر و التقویٰ‘ کا حکم دیا گیا ہے لہذا   کوئی نصرانی،ہندو  ،ملحدیا مستشرق بھی      نماز میں بدعت داخل کیے  بغیرنماز کی دعوت دیتا ہے تو اس کی اقتداء کی جا سکتی ہے  بلکہ  اس کا تو شکریہ ادا کرنا  چاہئے کہ وہ نماز کی امامت  کر رہا ہے ۔
جاوید احمد غامدی  نے بہت واضح طور پر  اپنی اس رائے کا اظہار کیا کہ وہ ختم نبوت کے انکار کو کفر سمجھتے ہیں البتہ  منکر ختم نبوت  کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ اس کے دعویٰ اسلام کو قبول کرتے ہوئے انکار ختم نبوت کے باوجود مسلمان کہتے ہیں۔ ہم نے اس سوال کو دوسرے انداز سے ان کے سامنے رکھا کہ بعض ملحدین جو صاف لفظوں میں خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں مگر معاشرتی طور پر نماز، روزہ،زکوٰۃ ، حج ،  نکاح ، ذبیحہ ، میراث کی تقسیم  وغیرہ معاشرتی حیثیت میں مسلمان ہونے کے دعویٰ کےساتھ کرتے ہیں   تو کیا  اس ملحد کے پیچھے بھی نماز ہو جائے گی جو خدا کے وجود کا انکار کر دے  تو انہوں نے اپنے موقف کا  صراحت کے ساتھ اظہار کیا کہ اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہتا ہے  اور اسی طرح اس کے ساتھ نکاح قائم رکھنا   ، اس کا ذ بیحہ اور دیگر امور  بھی جائز ہوں گے۔یہی جواب  انہوں نے اس عورت کے بارے میں دیا جس کا شوہربعد میں خدا کے وجود یا   ختم نبوت کا انکار کر دے  کہ اس کا نکاح پھر بھی قائم ہے کیونکہ ہم اسے کافر نہیں کہہ سکتے ۔
اس تحریر کا مقصد محض ان کے موقف کا بیان ہے جو انہوں نے اس نشست میں بیان کیا ۔ جاوید احمد غامدی   کی کتب کے مطالعہ  اور ان کے افکار پر ویڈیو بیانات کے ذریعے مطلع ہونے کے بعد  ہم’حرمت تکفیر مسلم ‘ کا پہلا باب ریاست کا حق تکفیر ،شیخ اکبر محی الدین ابن العربی کا تصور نبوت اور عقیدۂ ختم نبوت ،غامدی صاحب کا  ارتداد کی سزاسے متعلق نظریہ اور اس کا تنقیدی تجزیہ کے عنوان سے  غامدی صاحب کے افکار و نظریات کے بارےمیں کتب اور مضامین لکھنے  کے علاوہ کئی ویڈیوز میں تفصیل  دے چکے ہیں   اسےوہاں دیکھا جا سکتا ہے ۔
نشست کے اختتام پر ہم نے غامدی صاحب کو دعوت فکر دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائیں جو امت مسلمہ کے راستے کے بر خلاف ہے۔

نور خان صاحب کا تصاویر بنانے پر شکریہ