#منحوســــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــں

مفتی تقی عثمانی کی کتاب “مقالات عثمانی ” پڑھنے کے بعد

ترکی کے معروف عالم کا اس متعلق موقف

ترک مذھبی اسکالر شیخ احمد محمود اونلو دام ظلہ جس کے ہاتھ خود دیوبندیوں کے متکلم مولوی الیاس گھمن نے چومے،جھک کر سلام کیا،ادب کیا۔اسی شیخ صاحب کے سامنے جب دیوبندیوں کی حقیقت کھلی تو دیوبندیوں کے خود ساختہ مفتی اعظم تقی عثمانی کے متعلق اور ان کے باطل افکار و نظریات کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟؟
ہم نے ان کی ترکش زبان میں دیے گئے بیانہ کا اردو ترجمہ کردیا ہے۔
`#ملاحظہ_فرمائیں !`

شیخ صاحب فرماتے ہیں:
دوستو! مثال کے طور پر ایک شخص ہے تقی عثمانی۔ اسے یہاں وہاں لے جاتے ہیں، اسماعیل آغا والوں کے ہاں بھی پیش کرتے ہیں۔اسی تقی عثمانی کی ایک کتاب ہے جس کا نام مقالاتِ عثمانی ہے۔مقالاتِ عثمانی میں کچھ ایسی باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ میلاد شرک ہے، یہ شرک ہے، وہ شرک ہے۔
تم کھڑے ہوگئے تو شرک، بیٹھ گئے تو شرک۔میلاد میں جو قیام کیا جاتا ہے، وہ بھی فلاں فلاں… آخر یہ لوگ کیسے ہیں؟ یہاں ان لوگوں کو اہلِ سنت کا امام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس کا چہرہ بالکل سیاہ نظر آتا ہے۔ میں بھی سوچتا تھا کہ مجھے اس آدمی سے ملنے کا موقع کیوں نہیں ملا۔
اس کا چہرہ بالکل سیاہ ہے۔ پھر کل اس کی کتاب مقالاتِ عثمانی میرے پاس آئی۔ اگر تم اسے پڑھ لو تو حیران رہ جاؤ گے۔وہ ہر چیز کو شرک کہتا ہے۔ یہ دراصل تکفیری ذہنیت کے لوگ ہیں۔ یہ ابن عبد الوہاب  کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ میں یہاں طالبان یا دوسرے گروہوں کی بات نہیں کر رہا…لیکن وہاں ایک ایسا حصہ بھی ہے جس میں کچھ لوگ متاثر ہوتے ہیں، اور میں اسے جھٹلا نہیں سکتا، انکار بھی نہیں کر سکتا۔ ہمیں سچ بولنا پڑتا ہے۔
اگر تم ان کی باتیں دیکھو تو بہت عجیب قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں… ایسے الفاظ کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں انتہائی نامناسب اور سخت انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں نبی ﷺ کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں وہ درست نہیں سمجھتے، اور پھر مثال دیتے ہیں کہ جیسے بعض جانور (کتے، بلی وغیرہ) زلزلے سے پہلے محسوس کر لیتے ہیں، انسان سے پہلے انہیں اندازہ ہو جاتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض علم یا احساسات میں انسان اور جانوروں میں کچھ مشترک چیزیں ہوتی ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تم رسول اللہ ﷺ کو جانوروں کے ساتھ کسی بھی درجے میں “مشترک” کہو، تو کیا ایک مسلمان ایسا تصور قبول کر سکتا ہے؟
دنیا کی سب سے بڑی علمی جماعت ہو، چاہے پاکستان ہو یا ہندوستان کی کوئی بڑی یونیورسٹی ہو، اگر وہ شخص بھی ہو تو بھی اس کی کیا حیثیت ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں کوئی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہمیشہ ادب اور احترام سے بات کرنی چاہیے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (معاذ اللہ) ماضی کی چیز ہیں یا ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نجات حاصل کرو، تو کیا اللہ اسے قبول کرے گا؟ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دے، وہ کامیاب ہو سکتا ہے؟
یہ لوگ علمی توازن اور عقل و شعور کھو بیٹھے ہیں۔ اصل میں یہ حسد اور بغض کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن انسان کو علمی دیانت اور توازن نہیں کھونا چاہیے۔ اگر کسی پر غصہ ہو تو اس کی دوسری باتیں بھی دیکھی جائیں۔
تم کہاں جا رہے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کو (معاذ اللہ) دنیاوی چیزوں یا غیر ضروری چیزوں کے ساتھ ملا رہے ہو؟ یا ان کے بارے میں ایسی باتیں کر رہے ہو؟ بہت سے لوگ اسی گمراہی میں گر جاتے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے، ان کی اصلاح کرے۔
میں بددعا دینے والا نہیں ہوں۔ اللہ انہیں اسلام کی طرف لوٹا دے، ایمان والی موت دے۔