کتاب التیمم باب 6 حدیث نمبر 344
٦ – بَاب الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءالْمُسْلِمِ، يَكْفِيهِ مِنَ الْمَاءِ
پاک مٹی مسلمان کے لیے آلہ طہارت ہے اور اس کو پانی سے کافی ہے
اس عنوان کی تائید میں یہ حدیث ہے:
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا طہور ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے اور جب وہ پانی کو پالے تو اپنی کھال کو پانی سے مس کرے بے شک یہ خیر ہے۔
( سنن ترمذی : ۱۲۴ سنن ابوداؤد: 322 سنن نسائی:321 مصنف عبدالرزاق: ۹۱۳)
امام بخاری اس تعلیق کو ذکر کرتے ہیں :
وَقَالَ الْحَسَنُ يُجْزِئهُ التَّيَممُ مَا لَمْ يُحْدِث.
اور حسن بصری نے کہا: جب تک کوئی آدمی بے وضوء نہ ہو اس کو تیمم کافی ہے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
از حسن بصری انہوں نے کہا: ایک تیمم کافی ہے جب تک کوئی شخص بے وضوء نہ ہو۔ (مصنف عبد الرزاق :۸۳۶)
وَأَمَّ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَيمم.
اور حضرت ابن عباس نے امامت کی اور وہ اس وقت متیمم تھے۔
اس تعلیق کی اصل ” مصنف ابن ابی شیبہ اور ” سنن بیہقی “ میں ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۶)
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَا بَأسَ بِالصَّلوةِ عَلَى السَّبَخَةِ، وَالتَّيَمُّمِ بِهَا.
اور یحیی بن سعید نے کہا: نمکین اور بنجر زمین پر نماز پڑھنے میں اور اس سے تیمم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٣٤٤- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حتی كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، وَقَعْنَا وَقَعَةً وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرِّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ . يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ فَنَسِيَ عَوْفٌ ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوْقَظٌ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِى مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظ عُمَرُ وَرَاى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا جَلِیدًا َفَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِى أَصَابَهُمْ ، قَالَ لَا ضَيْرَ أَوْلَا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُوْدِيَ بِالصَّلوةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلَ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ مَا مَنَعَكَ يَا فَلَانُ أنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ قَالَ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ ، قَالَ عَلَيْكَ بالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ . ثُمَّ سَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَلَ فَدَعَا فلَانًا كَانَ يُسَمِّيْهِ أَبُو رَجَاءٍ نَسِيَهُ عَوْقَ وَدَعَا عَلِيًّا فَقَالَ اذْهَبَا فَابْتَغِيَا الْمَاءَ . فَانَطَلَقَا فَتَلَقَّيَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَّاءٍ عَلَى بَعِيرلَهَا ، فَقَالا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ عَهْدِى بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَقَرُنَا حُلُوْفًا، قَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا قَالَت إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَتِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِيء؟ قَالَا هُوَ الَّذِى تَعْنِين فَانْطَلِقِيُّ ، فَجَاءَ ا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ، قَالَ فَاسْتَنْزَلُوْهَا عَنْ بَعِيرِهَا ، وَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَفَرَّعَ فِيْهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السطِيحَتین وَأَوْكَا أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ ، وَنُودِيَ فِی النَّاسِ اسْقُوا وَاسْتَقُوْا فَسَقَى مَنْ سَقَى ، وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَكَانَ اخِرُ ذَاكَ اَنْ اَعْطَى الَّذِى أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ اِنَاءً مِنْ مَّاءٍ ، قَالَ اِذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ . وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا ، وَايْمُ اللهِ ، لَقَدْ َأفَلعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلاةً مِنْهَا حِينَ ابتدا فِيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِجْمَعُوا لَهَا.فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيْقَةٍ وَسَوِيقَةٍ جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا، فَجَعَلُوْهُ فِي ثَوْبِ وَحَمَلُوْهَا عَلَی بَعِيرِهَا وَوَضَعُوا الثوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا ، قَالَ لَهَا تَعْلَمِيْن مَا رَزَلْنَا مِنْ مَالِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ هُوَ الَّذِي اسْقَانَا فَاتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ ، قَالُوا مَا حَبَسَك يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ الْعَجَبُ لَقِيَنِي رَجُلَانِ ، فَذَهَبا بی إلى هذا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِيءُ، فَفَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَاسْحَرُ النَّاسَ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وهذه وَقَالَتْ بِإِصْبَعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ ، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ تَغْنِي السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ الله حَقًّا فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، وَلَا يُصِيبُونَ الصرْمَ الَّذِی هِيَ مِنْهُ ، فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا مَا أَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَام فَأَطَاعُوْها فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ صَباً خَرج مِنْ دِينِ إِلَى غَيْرِهِ وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ الصَّابِئِينَ فِرْقَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَقْرَؤُونَ الزَّبُوْرَ۔
اطراف الحدیث : ۷۳۴۸-۳۵۷۱
(صحیح مسلم : 682 الرقم المسلسل :1535 دلائل النبوہ للبیہقی ج 4 ص ۲۷۹-۲۷۷ دلائل النبوۃ لابی نعیم : ۳۲۰ مسند البزار:3584، صحیح ابن خزیمه : ۹۹۷-۹۸۷-۲۷۱۔113، صحیح ابن حبان : ۳۰۲-۱۳۰۱ مصنف عبد الرزاق:20537، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۵۶ – ج ۲ ص ۶۷ ، سنن دارمی : ۷۴۳ ، المعجم الکبیر: ۲۷۶-۲۷۷ – ج ۱۸ سنن بیہقی ج ۱ ص ۳۲ شرح السنة : ۳۷۱۷ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۸۵۷ مسند احمد ج 4 ص ۴۳۵ – ۴۳۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۸۹۸ – ج ۳۳ ص ۱۳۱ – ۱۲۹ مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی : ۵۸۳۸ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے یحیی بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عوف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو رجاء نے حدیث بیان کی از عمران انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، بے شک ہم رات میں سفر کررہے تھے، حتی کہ ہم رات کے آخری حصہ میں پہنچے اور لیٹ کر سوگئے اور مسافر کے لیے رات کے آخری حصے میں سونے سے زیادہ اور کوئی میٹھی چیز نہیں ہوتی ، پھر ہم کو صرف سورج کی گرمی نے بیدار کیا سب سے پہلے فلاں شخص بیدار ہوا پھر فلاں شخص بیدار ہوا، پھر فلاں شخص بیدار ہوا ابو رجاء نے ان صحابہ کے نام لیے تھے لیکن عوف بھول گئے، پھر چوتھے حضرت عمر بن الخطاب بیدار ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سوئے ہوتے تھے تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ خود بیدار ہوں کیونکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ نیند میں آپ پر کیا کیفیات طاری ہیں، پس جب حضرت عمر بیدار ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ لوگوں پر کیا مصیبت آچکی ہے اور وہ بہت ہمت والے مرد تھے انہوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا پھر وہ مسلسل بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے رہے حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی آواز سے بیدار ہوگئے، جب آپ بیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ سے اس مصیبت کی شکایت کی جو انہیں پہنچی تھی، آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں کیا فرمایا : کوئی نقصان نہیں، یہاں سے روانہ ہو پس آپ چلے ابھی تھوڑی دور چلے تھے کہ آپ سواری سے اترے اور وضوء کے لیے پانی منگایا پھر آپ نے وضوء کیا اور نماز کے لیے اذان دی گئی، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے دیکھا، ایک شخص الگ کھڑا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی، آپ نے فرمایا: اے فلاں ! تم کولوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے کہا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور (غسل کے لیے ) پانی نہیں ہے آپ نے فرمایا : تم پاک مٹی کا قصد کرلو ( تیمم کرو ) وہ ( تمہاری طہارت کے لیے) کافی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے پھر لوگوں نے آپ سے پیاس کی شکایت کی، آپ سواری سے اترے اور آپ نے فلاں کو بلایا ابورجاء نے اس کا نام لیا تھا اور عوف بھول گئے اور حضرت علی کو بلایا اور فرمایا: تم دونوں جاؤ اور پانی کی تلاش کرو، پس وہ دونوں گئے ان کو ایک عورت ملی جس کے اونٹ پر پانی کی دو بڑی مشکیں رکھی ہوئی تھیں، ان دونوں نے اُس سے کہا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں کل سے اس وقت تک اس پانی کی حفاظت کر رہی ہوں اور ہمارے گھر والے پیچھے ہیں، ان دونوں نے کہا: تب تم ہمارے ساتھ چلو اس نے کہا: کہاں تک؟ ان دونوں نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس نے کہا: ان کے پاس جن کے متعلق کہاجاتا ہے انہوں نے اپنا دین بدل لیا ہے انہوں نے کہا: ہاں ! وہی جن کا تم ارادہ کررہی ہو’ پس روانہ ہو، پھر وہ اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا’ پھر مسلمانوں نے اس عورت کو اس کے اونٹ سے اتارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگایا اور ان بڑی مشکوں میں سے ایک کا منہ کھول کر برتن میں پانی انڈیلا پھر ان مشکوں کا منہ باندھ دیا پھر اس بڑی مشک کے نچلے حصہ کا منہ کھول دیا اور لوگوں میں اعلان فرما دیا کہ خوب پانی پیو اور پلاؤ پھر جس نے جتنا چاہا پیا اور جتنا چاہا پلایا اور آخر میں اس شخص کو برتن سے پانی دیا گیا، جو جنبی تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ اور اپنے اوپر پانی بہاؤ اور وہ عورت کھڑی ہوئی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے اور اللہ کی قسم ! ان بڑی مشکوں سے پانی نکالا گیا اور ہمیں معلوم ہو رہا تھا کہ جب ان مشکوں سے پانی نکالنے کی ابتداء کی گئی تھی، ان میں اس سے بھی زیادہ پانی بھرا ہوا ہے تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے ( کھانے کی چیزوں کو ) جمع کرو پھر اس کے لیے عجوہ کھجوریں’ گندم’ جو اور ستو وغیرہ جمع کرکے ان کو ایک پوٹلی میں باندھ دیا گیا اور اس کو اس کے اونٹ پر سوار کردیا گیا اور اس پوٹلی کو اس کے سامنے رکھ دیا آپ نے اس عورت سے فرمایا: تم جانتی ہو کہ ہم نے تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانی پلایا ہے، پھر وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس پہنچی اور وہ اتنی دیر ان سے غائب رہی تھی اس کے گھر والوں نے کہا: اے فلانہ ! تم اتنی دیر کہاں رکی رہی تھیں ؟ اس نے کہا: بہت تعجب خیز بات ہے مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جس کو صابئی (دین بدلنے والا ) کہا جاتا ہے، اس نے اس طرح اور اس طرح کیا اور اس نے اپنی درمیان والی انگلی اور شہادت کی انگلی سے زمین اور آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا: وہ اس کے اور اس کے درمیان لوگوں میں سب سے بڑا جادوگر ہے یا پھر وہ ضرور اللہ کا برحق رسول ہے اس کے بعد مسلمان اس کے اردگرد مشرکین پر حملے کرتے تھے، لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کرتے تھے جس میں وہ عورت رہتی تھی، ایک دن اس عورت نے اپنے لوگوں سے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ مسلمان تم لوگوں کو دانستہ چھوڑرہے ہیں، تو کیا تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی رغبت ہے؟ تو ان لوگوں نے اس عورت کی اطاعت کی اور اسلام میں داخل ہوگئے ۔ امام ابو عبداللہ ( بخاری ) نے کہا: ”صبا“ کا معنی ہے: ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں داخل ہونا اور ابو العالیہ نے کہا: الصابئین اہل کتاب کا فرقہ ہے جوز بور کی تلاوت کرتا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : تم پاک مٹی کا قصد کرلو وہ ( تمہاری ) طہارت کے لیے کافی ہے کیونکہ اس باب کا عنوان ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضوء ہے اس کو پانی سے کافی ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) مسدد بن مسرہد ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) یحیی بن سعد القطان’ بندار نے کہا: میرا گمان ہے انہوں نے کبھی اللہ تعالیٰ کی معصیت نہیں کی
(۳) عوف الاعرابی ان کو عوف الصدوق کہا جاتا ہے
(۴) ابورجاء العطاروی ان کا نام عمران بن ملحان ہے امام بخاری نے کہا: زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ ابن تیم ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ کی زیارت نہیں کی یہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے انہوں نے ۱۲۰ سال کی عمر پائی اور ۱۰۰ ھ کے بعد فوت ہوئے
(۵) حضرت عمران بن حصین، یہ غزوہ خیبر کے بعد اسلام لائے تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۸۰ احادیث روایت کی ہیں صحیح بخاری میں ان کی ۱۲ احادیث ہیں، حضرت عمر نے ان کو بصرہ میں فقہ کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا تھا فرشتے ان کو سلام کرتے تھے یہ بصرہ میں قاضی تھے اور ۵۲ھ میں فوت ہو گئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۸)
حدیث مذکور میں جس سفر کا ذکر ہے اس کی تعیین
اس حدیث میں مذکور ہے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اس سفر کی تعیین میں اختلاف ہے، امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ غزوہ خیبر سے واپسی کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ ( صحیح مسلم:۶۸۰) اور امام ابوداؤد نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے آئے، پس آپ ایک جگہ ٹھہرے تو آپ نے فرمایا: ہماری ( نماز کی) حفاظت کون کرے گا تو حضرت بلال نے کہا: میں۔ (سنن ابوداؤد : ۴۳۵) اور امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مکہ کے راستے سے آرہے تھے تو آپ نے حضرت بلال کو مقرر کیا کہ وہ ان کو نماز کے لیے بیدار کردیں پھر حضرت بلال سوگئے اور سب مسلمان سوگئے، حتی کہ سب اس وقت بیدار ہوئے جب ان پر سورج طلوع ہوچکا تھا۔(موطا امام مالک : ۲۶)
اس اعتراض کے متعدد جوابات کہ جب نیند میں آپ کا دل بیدار رہتا ہے تو آپ کو سورج۔۔۔۔۔۔۔کے طلوع کا پتا کیوں نہیں چلا
اس حدیث میں ہے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہوتے تھے تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے ! اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا تو اس وادی میں آپ کی نیند کی کیا توجیہ کی جائے گی حتی کہ سورج طلوع ہوگیا اور نماز کا وقت گزر گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں کی نیند اور قلب کی بیداری غالب اوقات میں ہے اور کبھی کبھی اس کے خلاف ہوجاتا تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث کے آخر میں ہے: اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اگر اللہ چاہتا تو ہماری روحوں کو اس وقت کے علاوہ لوٹا دیتا۔ (موطا امام مالک : ۲۶) اور “مسند احمد” میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے: اگر اللہ ارادہ فرماتا کہ تم نہ سوؤ تو تم نہ سوتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا یہ تمہارے بعد والوں کے لیے نمونہ ہوجائے ( کہ قضاء نماز کو کس طرح ادا کیا جاتا ہے، پس اسی طرح جو شخص سوجائے یا بھول جائے وہ بعد میں نماز پڑھ لے ) ۔ “مسند احمد” میں حضرت ابن عباس سے موقوفا روایت ہے کہ مجھے اس قضاء نماز کی رخصت کے بدلہ میں دنیا اور مافیہا مل جائے تو میں اس سے خوش نہیں ہوں اور امام ابن ابی شیبہ نے مسروق سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج طلوع ہونے کے بعد جو قضاء نماز پڑھی، مجھے اس رخصت کے مقابلہ میں دنیا اور مافیہا مل جائے تو وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ (تنویر الحوالک ص ۳۵ دار الکتب العلمیہ بیروت 1418ھ ) .
اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ کی نیند ایسی نہیں ہوتی تھی کہ آپ کے قلب پر محیط اور مستغرق ہو جائے اور آپ کو وضوء ٹوٹنے کا ادراک نہ ہو یعنی آپ کے قلب کو نیند کی حالت میں آپ کے جسم کا ادراک ہوتا تھا نہ کہ گرد و پیش کا لہذا طلوع شمس کا ادراک نہ ہونا آپ کے قلب کے بیدار رہنے کے منافی نہیں کیونکہ جس رات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آپ کے رات کے احوال کا مشاہدہ کررہے تھے اس حدیث کے آخر میں ہے: حضرت ابن عباس نے کہا: آپ سوگئے، حتی کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
اور اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ اس وادی کی نیند میں صرف آپ کی آنکھوں کے سونے کا ذکر ہے اور سورج کے طلوع کا ادراک آنکھوں سے ہوتا ہے اور وہ سوئی ہوئی تھیں، اس لیے آپ کو سورج کے طلوع کا ادراک نہیں ہوا اور یہ دل کا فعل نہیں ہے دل تو یاد الہی میں بیدار تھا۔
ابو عمر نے کہا: وادی میں نیند کا واقعہ ایک بار ہوا تھا، قاضی عیاض نے کہا ہے کہ دوبار ہوا تھا اور قاضی ابوبکر ابن العربی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ تین بار ہوا تھا۔
اگر انسان کی تقصیر کے بغیر نماز قضاء ہو جائے تو اس پر گرفت نہیں ہوگی
اس حدیث میں مذکور ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صحابہ کی تالیف قلب اور دل جوئی کے لیے فرمایا تھا کیونکہ صحابہ کو اس پر افسوس ہورہا تھا کہ وہ نماز فجر کو اس کے وقت پر نہیں پڑھ سکے، آپ نے ان کو تسلی دی کہ انہوں نے عمدا نماز کو قضاء نہیں کیا اور نیند سے وقت پر آنکھ نہ کھلنا، انسان کے اختیار میں نہیں ہے، پس اگر کسی غیر اختیاری سبب سے انسان کی نماز قضاء ہوجائے تو اس سے اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔
حدیث مذکور سے تیس سے زیادہ مسائل کا استنباط
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
(۱) حضرت عمر نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا اس سے معلوم ہوا کہ اکابر کو ادب سے جگانا چاہیے۔
(۲) صحابہ کرام کو صبح کی نماز کے قضاء ہونے پر افسوس ہوا اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کے فوت ہونے پر افسوس ہونا چاہیے۔
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی دل جوئی کے لیے فرمایا : کوئی حرج نہیں اس سے معلوم ہوا کہ اگر نماز کے قضاء ہونے میں انسان کی تقصیر نہ ہو تو پھر اس پر گرفت نہیں ہوگی ۔
(۴) ایک شخص جنبی تھا، پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس نے غسل نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پاک مٹی سے تیمم کرلو اس سے معلوم ہوا کہ جنبی بھی طہارت کے لیے تیمم کرسکتا ہے اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن وہ اس کو اسی طرح بھول گئے، جس طرح حضرت عمار بن یاسرضی اللہ عنہ کی حدیث کو بھول گئے تھے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر ایسے عظیم صحابی بھی بعض واقعات اور مسائل کو بھول جاتے تھے۔
(۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا: تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی اس نے بتایا کہ میں جنبی ہوں اور غسل کے لیے پانی نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جب عالم اور حاکم کوئی خلاف شرع کام دیکھے تو اس کا سبب معلوم کرے، پھر اس کا حکم اور حل بیان کرے۔
(6) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جماعت سے نماز نہ پڑھنے پر سرزنش اور ملامت نہیں کی بلکہ اس کو نرمی سے اس مسئلہ کا حل بتایا اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے کوئی خلاف شرع کام کرے تو اس کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔
(۷) اس واقعہ میں باجماعت نماز پڑھنے کی ترغیب اور تاکید ہے اور جو شخص جماعت سے نماز نہ پڑھے حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کا سبب معلوم کرے۔
(۸) جو شخص بغیر عذر کے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھئے اس پر انکار اور ملامت کرنی چاہیے۔
(۹) اس سے معلوم ہوا کہ جو نماز فوت ہوجائے اس کی قضاء کرنا واجب ہے اور اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے کیونکہ آپ نے اس شخص کو فوراً تیمم کرنے کا حکم دیا۔
(۱۰) اس وادی میں جس جگہ نماز فجر قضاء ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: اس جگہ شیطان کا اثر ہے اور فوراً وہاں سے روانہ ہونے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا کہ جس شہر میں کوئی فتنہ ہو جس سے دین اور عبادت میں خلل ہو تو اپنے دین کو بچانے کے لیے اور خود کو معصیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اس جگہ سے نکلنا واجب ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی سے نکلنے کا حکم دیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جس جگہ کوئی معصیت ہوئی ہو، خواہ وہ معصیت غیر اختیاری ہو، وہاں عبادت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی سے نکلنے کے بعد نماز قضاء کی ۔
(۱۱) جس شخص کو یاد آجائے کہ اس کی نماز قضاء ہو گئی ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی اصلاح کے لیے طہارت اور وضوء کرے اور اس جگہ کو تلاش کرے، جہاں نماز پڑھنے کے لیے اس کا دل مطمئن ہو جیسا کہ شارع علیہ السلام کو جب قضاء نماز یاد آئی تو آپ وہاں سے روانہ ہوگئے اور آپ نے بھی وضو کیا اور مسلمانوں نے بھی وضوء کیا۔
(۱۲) اس حدیث میں مذکور ہے کہ اس وادی سے روانہ ہونے کے بعد نماز کے لیے اذان دی گئی اس سے معلوم ہوا کہ قضاء نماز کے لیے اذان دینا مستحب ہے، لیکن اس کا مورد یہ ہے کہ کسی جنگل یا وادی میں نماز قضاء ہوئی ہو اگر شہر میں نماز قضاء ہو جیسے عموماً بعض لوگوں کی نماز قضاء ہوجاتی ہے اور وہ شہر میں اپنی قضاء نمازوں کے لیے اذان دیں گے تو خلاف معمول کام دیکھ کر لوگ اس کے متعلق سوال کریں گے اور وہ بتائیں گے کہ ہماری نماز قضاء ہوگئی ہے تو اس سے معصیت کا اعلان ہوگا کیونکہ عموما لوگوں کی اپنی تقصیر کی وجہ سے نماز قضاء ہوتی ہے اور معصیت کا اعلان کرنا جائز نہیں ہے۔
(۱۳) چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قضاء نماز کی جماعت کرائی اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک جماعت کی نماز قضاء ہوجائے تو وہ اس کو باجماعت ادا کریں۔
(۱۴) جب اس سفر میں لوگوں کے لیے پینے اور وضوء کے لیے پانی نہ رہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی اس سے معلوم ہوا کہ اگر قوم کو اس طرح کی کوئی مصیبت پہنچے تو اپنے امیر سے اس کی شکایت کرنی چاہیے اور امیر کو اس کے ازالہ کی کوشش کرنی چاہیے جس طرح آپ نے پانی کو تلاش کرانے کے لیے حضرت علی اور ایک اور شخص کو بھیجا۔
(۱۵) جو پانی ایک عورت کی ملکیت میں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو پانی پلانے کے لیے اور ان کے مویشیوں کو پانی پلانے کے لیے اور مسلمانوں کے وضو اور غسل کے لیے اس پانی کو لے لیا، اس میں یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کے مالک ہیں’ جو چیز چاہیں، جس سے چاہیں بغیر کسی ظاہری عوض کے لے سکتے ہیں۔
(۱۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو عجوہ کھجوریں، گندم، جو اور ستو وغیرہ دیئے، اس وقت وہ عورت مشرکہ تھی اس میں مشرکہ کو ہبہ کرنے کے جواز کی دلیل ہے اور چونکہ اس عورت نے پانی لینے پر کوئی انکار یا مزاحمت نہیں کی تھی اور یہ اس کی طرف سے نیکی تھی تو آپ نے اس کی نیکی کا بدلہ نیکی سے دیا اور اس آیت پر عمل کیا:هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ( الرحمن :60) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے 0
(۱۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے پانی کی ضرورت کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک اور صحابی کو بھیجا اس سے معلوم ہوا کہ پیاس کا ازالہ بھی وضوء اور طہارت کی طرح اہم ہے۔
(۱۸) حضرت علی اور دوسرے صحابی رضی اللہ عنہما تنہائی میں اس عورت سے ملے اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت شرعیہ کی وجہ سے تنہائی میں اجنبی عورت سے ملنا جائز ہے، جب کہ فتنہ کا خوف نہ ہو۔
(۱۹) آپ نے اس مشرکہ کی مشکوں سے طہارت اور پینے کے لیے پانی لیا اس سے پتا چلا کہ مشرکوں کے برتنوں کو استعمال کرنا جائز ہے، جب کہ برتنوں میں کوئی ظاہری نجاست نہ ہو۔
(۲۰) ضرورت شرعیہ کے وقت معاوضہ دے کر حربی مشرکوں کا مال لینا جائز ہے کیونکہ آپ نے پانی کے معاوضہ میں اس عورت کو عجوہ کھجوریں اور گندم وغیر ہ دے دیئے تھے۔
(۲۱) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کیا، اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام کا اجتہاد کرنا جائز ہے۔
(۲۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس وادی سے روانہ ہونے کے بعد فجر کی قضاء نماز ادا کی، اس سے پتا چلا کہ کسی شرعی وجہ سے قضاء نماز کو تاخیر سے ادا کرنا جائز ہے، جب کہ یہ تاخیر سستی، غفلت اور فوت شدہ نماز کی ادائیگی کو غیر اہم سمجھنے کی وجہ سے نہ ہو۔
(۲۳) جن مشرکین سے کوئی نیکی یا کوئی فائدہ حاصل ہوا ہو، ان کی رعایت اور ان کی حفاظت کرنے کا جواز، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس عورت کے پاس کی بستیوں پر حملہ کرتے اور اس بستی کو چھوڑ دیتے اور اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ از خود مسلمان ہوگئے ۔
(۲۴) اس حدیث کے راوی نے کہا: اللہ کی قسم ! ان بڑی مشکوں سے پانی نکالا گیا اور ہمیں لگ رہا تھا کہ اس میں پہلے سے بھی زیادہ پانی ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ بغیر قسم طلب کرنے کے بھی قسم کھانا جائز ہے اور کسی اہم اور غیر معمولی واقعہ کی اہمیت بیان کرنے کے لیے اس کو قسم کھاکر بیان کرنا جائز ہے۔
(۲۵) مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی اس میں یہ دلیل ہے کہ جب عوام پر کوئی آفت نازل ہو تو وہ حکام سے اس کے ازالہ کے لیے کہیں۔
(۲۶) میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے آخری حصہ میں سونے سے پہلے نماز کے وقت جگانے کے لیے حضرت بلال کو مقرر کیا تھا اس میں یہ دلیل ہے کہ جب نماز کے وقت آنکھ نہ کھلنے کا خطرہ ہو تو ایسا انتظام کرلیا جائے، جس سے آنکھ کھل جائے ۔ ( مثلا ٹائم پیس یا موبائل فون میں الارم سیٹ کردیا جائے ۔ سعیدی غفرلہ )
(۲۷) اس میں یہ دلیل ہے کہ اگر نماز فوت ہو جائے تو اس کی قضاء کرنا واجب ہے اور تاخیر سے قضاء ساقط نہیں ہوتی ۔
(۲۸) اس واقعہ سے یہ ثابت ہوا کہ ضرورت مند اپنی ضرورت کی چیز کسی سے لے سکتا ہے، خواہ وہ دینے پر راضی ہو یا نہ ہو بہ شرطیکہ اس کو اس کا معاوضہ ادا کردیا جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو اور اگر اس کو عام قرار دیا جائے تو پھر یہ اس صورت پر محمول ہے جب ضرورت اضطرار کے درجہ میں ہو اور پھر معاوضہ دینا بھی ضروری نہیں ہے۔
(۲۹) علامہ عینی نے کہا ہے : بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر عام لوگوں کی طرح نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور اس موقع پر اس میں یہ حکمت تھی کہ مسلمانوں کو قضاء نماز پڑھنے کا طریقہ معلوم ہوجائے اور میں یہ کہتا ہوں کہ دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ خواب میں اللہ تعالی کے حسن کے جلووں میں محو اور مستغرق تھے، اس لیے آپ کو سورج کے طلوع ہونے اور نماز کے قضاء ہونے کا پتا نہیں چل سکا اور صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی یہ نماز صورۃ قضاء تھی حقیقہ ادا تھی کیونکہ آپ کو اس دن کی نماز اسی وقت میں ادا کرنے کا حکم تھا’ قرآن مجید میں ہے: إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ. (يونس: ۱۵) میں صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں، جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ سو آپ کا کوئی فعل اتباع وحی کے بغیر نہیں ہوتا اور اس دن آپ کا نماز فجر کوطلوع آفتاب کے بعد پڑھنا’ یہ بھی وحی کے مطابق تھا سو آپ نے اس دن نماز فجر اپنے وقت میں پڑھی تھی یہ ادا تھی، قضاء نہیں تھی ۔ (سعیدی غفرلہ)
(۳۰) اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ دنوں کا تعین کیے بغیر بھی سفر کرنا جائز ہے۔
(۳۱) اس حدیث میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر عظیم معجزہ اور دلیل ہے کیونکہ ان مشکوں سے مسلمانوں نے پانی لے کر اپنے برتنوں میں بھرلیا وضوء کیا اور جنبی نے غسل کیا، مسلمانوں نے خود پانی پیا اور اپنے مویشیوں کو پانی پلایا اور وہ مشکیں پانی سے اسی طرح بھری رہیں، جس طرح پہلے بھری ہوئی تھیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ ان مسلمانوں کی تعداد چالیس تھی اس عورت کے پانی میں کسی چیز کو ملایا نہیں گیا، پھر ان مشکوں سے اتنا پانی نکالنے کے باوجود اس پانی کا پہلے سے زیادہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ عزوجل کا فعل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت حیرت انگیز معجزہ تھا۔(اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص ۶۷۷)
(۳۲) اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں سب مسلمانوں سے زیادہ سخت اور قوی تھے۔
(۳۳) جب مسلمان کفار پر غلبہ پالیں تو صرف غلبہ پانے سے ہی کفار کے مرد مسلمانوں کے غلام اور ان کی عورتیں مسلمانوں کی باندیاں ہوجاتی ہیں، سو وہ عورت بھی مسلمانوں کی باندی ہوگئی تھی، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور کھانا وغیرہ دے کر رخصت کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ساتھ آپ کا یہ حسن سلوک اس کے اور اس کے گھر کے دیگر افراد کے بہ طیب خاطر اسلام قبول کرنے کا باعث بنا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس عورت کو اس سے پہلے امان دے دی ہو یا وہ عورت ان لوگوں میں سے ہوا جن سے آپ نے اس سے پہلے معاہدہ کرلیا تھا۔
(۳۴) جب وہ عورت امان یا معاہدہ امن میں تھی تو پھر آپ نے اس کے پانی میں تصرف کرکے اس کا پانی کیوں لیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو پانی کی ضرورت تھی اور ضرورت کی وجہ سے ممنوع کام مباح ہو جاتے ہیں۔
(۳۵) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی سے بدشگونی لی کہ وہاں شیطان کا اثر ہے اور اس وادی سے نکلنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے بدفالی لینے سے منع فرمایا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بدفالی یا بدشگونی نہیں تھی بلکہ آپ نے نور نبوت سے جان لیا تھا کہ اس وادی میں شیطان کا اثر ہے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ نے اس پر متنبہ فرمایا کہ جس جگہ کوئی معصیت ہوئی ہو، خواہ غیر ارادی ہو، اس جگہ عبادت نہیں کرنی چاہیے اس لیے اگر کسی وادی میں مسلمانوں سے کوئی نماز فوت ہو جائے تو وہ اس وادی سے نکلنے کے بعد اس نماز کو قضاء کریں اور ایک قول یہ ہے کہ اس وادی سے نکل کر دوسری جگہ نماز پڑھنا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا۔
الصابئین کے معنی میں اختلاف اور البقرہ:۶۲ کی تفسیر
امام بخاری نے کہا ہے کہ صابی اس کو کہتے ہیں، جو ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں داخل ہوجائے اور ابو العالیہ نے کہا: الصائبین، اہل کتاب کا فرقہ ہے جو زبور کی تلاوت کرتا ہے۔ علامہ عینی فرماتے ہیں: صائبین کی تفسیر میں اختلاف ہے مجاہد نے کہا : وہ یہودی ہیں نہ نصرانی ہیں، ان کا کوئی دین نہیں ہے، ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا نہ ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا اور ابن زید نے کہا: الصابئون کا اہل ادیان میں سے ایک دین ہے وہ جزیرہ الموصل کے رہنے والے ہیں اور لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں، ان کا کوئی عمل نہیں ہے، ان کے پاس کتاب ہے نہ نبوت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے اور حسن بصری سے روایت ہے کہ زیاد نے خبر دی کہ الصابئون قبلہ کی طرف منہ کرکے پانچ نمازیں پڑھتے ہیں انہوں نے ان پر جزیہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا، پھر ان کو خبر دی گئی کہ وہ فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ البقرہ: ۶۲ میں ان کا ذکر ہے ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے جو ایمان لائے، وہ منافق تھے، انہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور ان کے دل میں کفر تھا اور جو یہودی ہیں، انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دین کو تبدیل کر لیا اور نصاری کافر ہیں، انہوں نے حضرت عیسی علی السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا اور الصابئون بھی کافر ہیں، وہ حق کے مخالف ہیں اور البقرہ :۶۲ کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “ان الذین امنوا” سے مراد وہ لوگ ہیں جو برحق مؤمن ہیں ” و الذین ھادوا” سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے دین میں تغیر کرنے سے توبہ کرلی یا تغیر نہیں کیا اور ” والنصاری” سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام کے انصار ہیں اور ” الصابئون” سے مراد وہ لوگ ہیں، جو باطل سے نکل کر حق کی طرف آگئے اور “من امن باللہ” کا معنی ہے: جوان میں سے اللہ پر ایمان رکھنے میں دائم رہے، پس ان ہی کے لیے اجر ہے اور پوری آیت کا معنی اس طرح ہے:
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصرى وَالصُّبِئِينَ مَنْ امَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمُ يَحْزَنُونَ (البقره: 62)
بے شک جو لوگ برحق مومن ہیں اور جن یہودیوں نے دین میں تغیر نہیں کیا اور انصار عیسی اور باطل سے حق کی طرف نکلنے والے ان میں سے جس کا بھی دائماً اللہ پر ایمان رہا اور اس نے نیک عمل کیے سو ان ہی کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
علامہ نسفی نے ” الصابئین” کے متعلق کہا ہے کہ امام ابو حنیفہ یہ فرماتے ہیں : وہ نبی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کے پاس کتاب ہے ان کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے اور ان کا ذبیحہ حلال ہے اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا ہے : وہ ستاروں کی تاثیر کا اعتقاد رکھتے ہیں، ان کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے اور نہ ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے۔
(عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۹-۴۷ ملخصاً ومزيدا ومخرجا دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
حدیث مذکور کی شرح شرح صحیح مسلم میں
حدیث مذکور شرح صحیح مسلم : ۱۴۶۱ – ۱۴۶۰ – ج ۲ ص ۳۴۰-۳۳۶ پر مذکور ہے اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
قلب رسالت کے بیدار رہنے کی تحقیق
واقعہ تعریس کی تعداد
آثار شر اور خیر کے ثمرات اور اوقات منہیہ میں مذاہب
احادیث میں تطبیق
(۵) قضاء نمازوں کی اذان میں مذاہب
حضور سے نماز فجر قضاء ہونے کی وجوہات
(2) مقام مصطفیٰ
سنتوں کی قضاء میں مذاہب ائمہ
(9) ائمہ ثلاثہ کے دلائل کا جواب
0 احناف کی دلیل
علم رسالت
(۴) دلائل الوہیت و نبوت
(۳) بعض شارحین کا تسامح )
کثیر نمازوں کی قضاء کا طریقہ
(۵) قضاء عمری
مزید مسائل۔
نوٹ : یہ شرح ۱۲ صفحات پر مشتمل ہے۔