صحیح بخاری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے تعلق سے ایک واھی متن پر مشتمل روایت کی تحقیق
صحیح بخاری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے تعلق سے ایک واھی متن پر مشتمل روایت کی تحقیق!!
امام مسلم نے جس طرح اپنی صحیح مسلم میں مناکیر اور واھی متن پر مشتمل روایات کی تخریج کی ہے ۔
اور بر صغیر میں لوگوں کا یہ دعویٰ عام ہے کہ بخاری میں کوئی بھی روایت ضعیف نہیں یہ سوائے خوش فہمی کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔
اس پر امام دارقطنی سے لیکر متاخرین ائمہ تک نے کلام کیا ہے ۔ اور صحیحین کی روایات میں بھی نقائص کو واضح کیا ہے ۔
اسی تعلق سے ایک روایت جسکو امام بخاری نے اپنی صحیح میں شامل کیا جبکہ متنا وہ روایت منکر اور شاذ بھی ہے اوثق رواتہ کی مخالفت کے سبب۔ جس میں حضرت عمر رضی اللہ کو معاذ اللہ ڈرنے والا ثابت کیا جا رہا ہے۔
امام بخاری جب سیدنا عمر رضی اللہ کے اسلام لانے کی روایات کی تخریج کرتے ہیں تو ایک روایت لاتے ہیں :
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي جَدِّي زَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:” بَيْنَمَا هُوَ فِي الدَّارِ خَائِفًا إِذْ جَاءَهُ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ أَبُو عَمْرٍو عَلَيْهِ حُلَّةُ حِبَرَةٍ , وَقَمِيصٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ وَهُوَ مِنْ بَنِي سَهْمٍ وَهُمْ حُلَفَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ: مَا بَالُكَ؟ قَالَ: زَعَمَ قَوْمُكَ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي إِنْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَمِنْتُ فَخَرَجَ الْعَاصِ فَلَقِيَ النَّاسَ قَدْ سَالَ بِهِمْ الْوَادِي، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ فَقَالُوا: نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي صَبَا، قَالَ: لَا سَبِيلَ إِلَيْهِ , فَكَرَّ النَّاسُ”.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے کے بعد قریش سے)
“ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے”
کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ قبیلہ بنو سہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے۔ عاص نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ عاص نے کہا ”تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے۔
[صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3864]
اس روایت کی سند کی طرف بعد میں آتے ہیں پہلا متنا اس روایت کا باطل ہونا ثابت کرتے ہیں:
یعنی وہ عمر رضی اللہ جو اسلام لانے سے پہلے اتنے نڈر اور پورا عرب کا قبیلہ ان سے ڈرنے والا تھا۔ وہ اسلام لانے کے بعد کیا معاذ اللہ اتنے بزدل ہو گئے تھے کہ گھر میں ڈرے سہمے بیٹھ گئے ؟
ایک تو یہ روایت دیگر صحیح و مشہور روایات کے خلاف ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
جیسا کہ خود امام بخاری نے اسی باب میں پہلی روایت حضرت ابن مسعود سے نقل کی ہے :
حدثني محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، قال: «ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر»
حضرت ابن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں :
جب سے حضرت عمرؓ اسلام لائے، ہم برابر معزز اور طاقتور ہی رہے
[صحيح البخاري 3684]
وہ حضرت عمر رضی اللہ جن سے مرد اور عورتیں حضور اکرمﷺ کی موجودگی میں ڈرتے تھے ۔ جیسا کہ مذکورہ روایت ہے :
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ، فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ) قَالَ عُمَرُ؟ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ! أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقُلْنَ: نَعَمْ؟ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: زَادَ الْبَرْقَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا أَضْحَكَكَ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، اس وقت آپ کے پاس قریش کی چند خواتین (آپ کی ازواج مطہرات) تھیں، وہ آپ سے بلند آواز میں گفتگو کر رہیں تھیں اور آپ سے نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہی تھیں، جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ کھڑی ہوئیں اور جلدی سے پردے میں چلی گئیں، عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس رہے تھے، انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ آپ کو سدا خوش رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ان پر تعجب ہے کہ وہ میرے پاس تھیں، جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ فوراً حجاب میں چلی گئیں۔ “ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو، انہوں نے فرمایا: ہاں، آپ سخت مزاج اور سخت دل ہیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابن خطاب! اور کچھ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا مل جاتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے۔
[صحیحین متفق علیہ]
اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا رعب و دبدبہ کا حال یہ تھا:
حدثنا عبد الله قال: نا محمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة أبو عمرو قال: أنا أبو معاوية، عن عاصم، عن أبي عثمان، أنه كان يقول: والذي لو شاء أن ينطق قناتي هذه لنطقت، لو أن عمر كان ميزانا ما كان فيه ميط شعرة، يعني: ميل.
حضرت ابو عثمان نھدی رضی اللہ عنہ (جنہوں نے دور جہالت میں حضور اکرمﷺ کا دیدار کیا ہواتھا) فرماتےہیں:
خدا کی قسم! اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میری اس لاٹھی کو بھی بلوانا چاہتے تو یہ (حضرت عمرؓ کے دبدبہ و رعب کے سبب) ضرور بولتی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اگر میزان ہوتے تو انؓ میں ایک بال برابر بھی جھکاو نہ ہوتا۔
[فضائل صحابہ،وسندہ صحیح ، برقم:67]
جس شخص کو نبی اکرمﷺ نے اللہ کی رضا کے لیے مانگا ہی اس لیے ہو کہ وہ اسلام کو تقویت دیگا ۔ تو کیا قبولیت اسلام کے وقت وہ خود جان کے ڈر سے گھر میں بیٹھ سکتا ہے؟
دعا مصطفیٰ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ , أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ “، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
[سنن ترمذي: 3681 وسندہ صحیح]
اب آتے ہیں امام بخاری پیش کردہ روایت کی سند کی طرف
امام بخاری کا شیخ مشکل سے حسن الحدیث راوی ہے لیکن صاحب منکرات تھا اور امام بخاری نے کو معلوم نہیں کیا ہوا کہ ایسے بندے کے تفرد پر واھی متن پر مشتمل روایت کو اپنی صحیح میں گھسیڑ دیا۔
جیسا کہ انکا شیخ کا مکمل نام ہے ـ
يحيى بن سليمان بن يحيى بن سعيد بن مسلم بن عبيد بن مسلم
امام ذھبی تو اسکو صالح الحدیث قرار دیتے ہیں کہ جسکی روایت متابعت و شواہد میں قبول ہوتی ہے ۔
يحيى بن سليمان الجعفي الكوفي أبو سعيد
صويلح
(الکاشف)
اسی طرح امام ابن حجر نے لسان میں اس کی تضعیف پر حکم لگایا اور تقریب میں اسکو غلطیاں کرنے والا صدوق راوی قرار دیا ۔
صدوق يخطئ
(تقریب التہذیب)
اور دگیر ائمہ کا کلام درج ذیل ہے :
وقال النسائي: ليس بثقة
وكان عند العقيلي ثقة وله أحاديث مناكير
وقال مسلمة بن قاسم: لا بأس به
وقال الدارقطني: ثقة
وقال أبو حاتم: شيخ
وذكره ابن حبان في ” الثقات “، وقال: ربما أغرب
(تھذیب التھذیب)
یعنی اس پر لیس بثقہ جیسی جروحات سے لیکر غرائب اور مناکیر بیان کرنے پر ائمہ کا کلام ہے اور جنہوں نے ثقہ و صدوق کہا بھی تو انہوں نے بھی اسکی نکارت اور غریب روایات بیان کرنے کا حکم لگایا ہے ۔
ایسا منفرد راوی کی روایت کو اپنی جیسی کتاب میں امام بخاری کا شامل کرنا سخت تسامح کے سوا کچھ نہیں جس میں خلیفہ دوم کی طرف بزدلی منسوب کی جا رہی ہو ۔
ویسے یہ روایت منکر اور باطل ہے ۔ اور اگر اس راوی کو صدوق بھی قرار دیا جائے تو یہ روایت شاذ ہے ۔ اور اسکی معتبر سند ہم اوثق روایت سے آگے جا کر پیش کرینگے ۔
نوٹ:
اگر اعتراض کیا جائے کہ امام بخاری نے ایک دوسری سند بھی بیان کی ہے ۔
تو جواب ہے دوسری روایت میں کوئی ڈر کے الفاظ نہیں
جو کہ درج ذیل ہے ـ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:” لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ، وَقَالُوا: صَبَا عُمَرُ وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي , فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ، فَقَالَ: قَدْ صَبَا عُمَرُ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا لَهُ جَارٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ”.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیسا ہے؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں۔
[صحيح البخاري: 3865]
اس میں نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ کے گھر کے اندر ہونے کے الفاظ ہیں اور نہی ہی خوفزدہ ہونے کے ۔ اور حضرت ابن عمر چھت پر موجود یہ واقعہ دیکھ رہے تھے ۔
اور یہ بالمعنی اور مختصر روایت ہے ۔
اس کو تفصیل سے امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے جسکو امام ابن ھشام نے اپنی مشہور تصنیف سیرہ میں نقل کیا ہے ۔
اور جو بات امام بخاری نے ایک گرے پڑے راوی سے لائے کہ حضرت عمر گھر میں ڈر کے مارے چھپ گئے ۔
جبکہ اصل متن یہ تھا کہ حضرت عمر نے جب اسلام قبول کیا تو جو جو کفار حضرت عمر رضی اللہ کے بارے باتیں کر رہے تھے حضرت عمر اسکے گھر جا جا کر دروازہ بجا کر انکو بتا رہے تھے کہ میں نے اسلام قبول کیا ہے ۔
جسکو امام ابن ھشام روایت کرتے ہیں :
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:
لَمَّا أَسْلَمَ أَبِي: عُمَرُ قَالَ: أَيُّ قُرَيْشٍ أَنْقَلُ لِلْحَدِيثِ؟ فَقِيلَ لَهُ: جَمِيلُ بْنُ مَعْمر3 الجُمحي. قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَغَدَوْتُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ، وَأَنْظُرُ مَا يَفْعَلُ، وَأَنَا غُلَامٌ أَعْقِلُ كُلَّ مَا رَأَيْتُ، حَتَّى جَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَعَلِمْتَ يَا جَمِيلُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَدَخَلْتُ فِي دِينِ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: فَوَاَللَّهِ مَا رَاجَعَهُ حَتَّى قَامَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَاتَّبَعَهُ عُمَرُ، وَاتَّبَعْتُ أَبِي، حَتَّى إذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ صَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، وَهُمْ فِي أَنْدِيَتِهِمْ حَوْلَ الْكَعْبَةِ، أَلَا إنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبا. قال: يَقُولُ عُمَرُ مِنْ خَلْفِهِ: كَذَب، وَلَكِنِّي قَدْ أسلمتُ، وشهدتُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. وَثَارُوا إلَيْهِ، فَمَا برح يقاتلهم ويقاتلونه حتى قامت الشمس عَلَى رُءُوسِهِمْ. قَالَ: وَطَلِحَ1، فَقَعَدَ وَقَامُوا عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ: افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فأحلف بالله أن لو قد كنا ثلثمائة رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ، أَوْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا، قال: فبينما هم على ذلك، إذا أَقْبَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ، عَلَيْهِ حُلة حبْرة2، وَقَمِيصٌ مُوَشى، حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: صَبَا عُمَرُ؛ فَقَالَ: فَمَهْ، رَجُلٌ اخْتَارَ لِنَفْسِهِ أَمْرًا فَمَاذَا تُرِيدُونَ؟ أَتَرَوْنَ بَنِي عدي بن كعب يُسلمون لكم صاحبكم هَكَذَا! خَلُّوا عَنْ الرَّجُلِ. قَالَ: فَوَاَللَّهِ لَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا كُشط عَنْهُ. قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي بَعْدَ أَنْ هَاجَرَ إلَى الْمَدِينَةِ: يَا أَبَتْ، مَنْ الرَّجُلُ: الَّذِي زَجَرَ الْقَوْمَ عَنْكَ بِمَكَّةَ يَوْمَ أَسْلَمْتُ، وَهُمْ يُقَاتِلُونَكَ؟ فَقَالَ: ذَاكَ، أَيْ بُني، الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عمر کے مولیٰ نافع نے ابن عمر سے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ جب میرے والد حضرت عمر اسلام لائے تو انہوں نے پوچھا کہ قریش میں سب سے زیادہ بات پھیلانے والا کون ہے؟ تو انہیں بتایا گیا کہ جمیل بن معمر جمحی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پس وہ صبح سویرے اس کے پاس گئے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کرتے ہیں، اور میں اس وقت ایک سمجھدار لڑکا تھا اور جو کچھ دیکھتا تھا اسے اچھی طرح سمجھتا تھا، یہاں تک کہ وہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ پس انہوں نے اس سے کہا کہ اے جمیل، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں اسلام لے آیا ہوں اور محمد کے دین میں داخل ہو گیا ہوں؟
انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم، اس نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے (ڈر کے مارے ) اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت عمر اس کے پیچھے چل دیے، اور میں بھی اپنے والد کے پیچھے چل پڑا۔ یہاں تک کہ جب وہ مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اپنی پوری طاقت سے چلایا کہ اے قریش کے گروہ، اور وہ کعبہ کے گرد اپنی مجلسوں میں موجود تھے، سن لو کہ عمر بن خطاب بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر اس کے پیچھے سے کہہ رہے تھے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے، بلکہ میں اسلام لایا ہوں اور میں نے گواہی دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اور لوگ ان پر ٹوٹ پڑے، پس وہ (حضرت عمر) ان سے لڑتے رہے اور وہ (کفار)ان سے لڑتے رہے یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر آ گیا۔ (یعنی اکیلے حضرت عمر پورے جتھے سے لڑتے رہے کئی گھنٹوں)
انہوں نے کہا کہ اور عمر تھک گئے، پس وہ بیٹھ گئے اور لوگ ان کے سر پر کھڑے ہو گئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ جو تمہارا جی چاہے کرو، میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر ہم تین سو مرد ہوتے تو ہم یہ شہر تمہارے لیے چھوڑ دیتے یا تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دیتے۔ انہوں نے کہا کہ پس جب وہ اسی حال میں تھے کہ اسی اثنا میں قریش کا ایک بوڑھا شخص آیا، جس پر دھاری دار یمنی چادر اور کڑھائی دار قمیص تھی، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمر بے دین ہو گیا ہے۔ تو اس نے کہا کہ پھر کیا ہوا، ایک شخص نے اپنے لیے ایک راہ کا انتخاب کر لیا ہے تو تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ بنو عدی بن کعب اپنے ساتھی کو اس طرح تمہارے حوالے کر دیں گے؟ اس شخص کا پیچھا چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم، وہ لوگ ایسے دور ہو گئے جیسے کوئی کپڑا اتار دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پس میں نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد اپنے والد سے پوچھا کہ اے ابا جان، وہ کون شخص تھا جس نے مکہ میں آپ کے اسلام لانے کے دن، جب لوگ آپ سے لڑ رہے تھے، انہیں آپ سے دور بھگایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے، وہ عاص بن وائل سہمی تھا۔
(السيرة النبوية لابن هشام )
یہ سند ایک تو امام بخاری کی سند سے عالی ہے ۔ اور جید بھی ۔
جیسا کہ امام ابن ہشام کے پاس امام محمد بن اسحاق کی کتاب تھی جو انہوں نے امام ابن اسحاق کے اوثق شاگرد سے نقل کی تھی ۔اور اسی کتاب کی تلخیص و تنقیح کرکے امام ابن شھام نے اس کتاب کا نام سیرہ ابن ھشام رکھا۔
جیسا کہ امام ذھبی انکے ترجمہ میں لکھتے ہیں :
عبد الملك بن هشام بن أيوب،
نزيل مصر، ومهذب ” السيرة النبوية “، سمعها من زياد بن عبد الله البكائي صاحب ابن إسحاق ونقّحها،
نہوں نے ہی ابن اسحاق کی “السيرة النبوية” کو اپنے استاد زیاد بن عبد اللہ البکائی سے سنا، اس کی تلخیص و تنقیح کی، اور اسے “سیرت ابن ہشام” کے نام سے مرتب کیا جو تاریخِ اسلام کے اہم ترین مآخذ میں سے ایک ہے۔
(تاریخ اسلام الذھبی)
نیز زیاد بن عبداللہ بکائی جن سے امام ابن ہشام نے امام محمد بن اسحاق کی کتاب نقل کی اسکے بارے امام ذھبی ائمہ سے نقل کرتے ہیں:
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بنُ إِدْرِيْسَ: مَا أَحَدٌ فِي ابْنِ إِسْحَاقَ أَثْبَتُ مِنْ زِيَادٍ البَكَّائِيِّ؛ لأَنَّهُ أَمْلَى عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ.
وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ فِي ابْنِ إِسْحَاقَ.
عبداللہ بن ادریس کہتے ہیں کہ ابن اسحاق کی روایات کے معاملے میں زیاد البکائی سے زیادہ ثبت کوئی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابن اسحاق سے دو مرتبہ ان روایات کو املا کیا (لکھا) تھا۔
اور یحییٰ بن معین نے فرمایا کہ ابن اسحاق کی روایات کے باب میں وہ ثقہ ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء)
یعنی اس روایت کی اصل سند امام ابن اسحاق سے شروع ہوتی ہے ۔ اور وہ امام نافع سے اور وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں
اور انکی روایت کردہ حدیث کا متن بالکل عین حضرت عمر رضی اللہ کی بہادری اور شجاعت کے مطابق اور دیگر مشہور صحیح اخبار کے بھی موافق ہے ۔
پس تحقیقا یہ ثابت ہوا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک صالح الحدیث درجہ کے راوی سے تفرد میں ایسی روایت لائے جو ثقات کے مخالف تھی ۔ اور اصولا شاذ تھی۔
تحقیق: اسد الطحاوی