حکمِ یزید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)
*حکمِ یزید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید (فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں)*
امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں: “یزید پلید علیہ ما یستحقہ من العزیز المجید قطعاً یقیناً باجماعِ اہلِ سنت فاسق و فاجر و جری علی الکبائر تھا، اس قدر پر ائمۂ اہلِ سنت کا اطباق و اتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر و لعن میں اختلاف فرمایا۔” امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اتباع و موافقین اسے کافر کہتے ہیں اور بالتخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں۔۔۔ لہٰذا امام احمد اور ان کے موافقین اس پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لعن و تکفیر سے احتیاطاً سکوت فرمایا کہ اس سے فسق و فجور متواتر ہیں، کفر متواتر نہیں۔۔۔۔
مگر “اس کے فسق و فجور سے انکار کرنا اور امامِ مظلوم پر الزام رکھنا ضروریاتِ مذہبِ اہلِ سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہے، بلکہ انصافاً یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبتِ سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شمّہ ہو۔۔۔ شک نہیں کہ اس کا قائل ناصبی مردود اور اہلِ سنت کا عدو و عنود ہے” ۔۔۔۔۔
اس نے قولِ صحیح کا خلاف کیا۔۔۔ مگر “وہ تو ان کلماتِ ملعونہ سے حضرت بتولِ زہرا و علی مرتضیٰ اور خود حضور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کا دل دکھا چکا ہے، اللہ واحد قہار کو ایذا دے چکا ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 591، ملتقطاً)
نوٹ: دلائل و دیگر تفصیلات کے لیے اس مقام کا مطالعہ کیجیے۔
ایک اور مقام پر امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں:
“یزید بیشک پلید تھا، اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے، اور اسے رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلِ بیتِ رسالت کا دشمن ہے، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 602)
امامِ اہلِ سنت ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
“و ما را بایزید و افعال و اقوالِ ظالمانہ و منافقانہ آں پلید کارے نیست، اعاذنا اللہ تعالیٰ منہ و امثالہ۔”
ہمیں یزید پلید اور اس کے ظالمانہ اور منافقانہ افعال و اقوال سے کوئی سروکار نہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اور اس کی امثال سے پناہ عطا فرمائے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 134)
اور ایک مقام پر فرماتے ہیں:
“بالجملہ اس طائفۂ حائفہ خصوصاً ان کے پیشوا کا حال مثلِ یزید پلید علیہ ما علیہ ہے کہ محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا، ہاں یزید مرید اور ان کے امامِ عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم و فسق و فجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں۔ اور ان حضرت سے یہ سب کلماتِ کفر اعلیٰ درجے کے تواتر پر ہیں، پھر اگرچہ براہِ احتیاط سے زبان روکے، ان کے خسار و بوار کو یہ کیا کم ہے کہ جمہور ائمۂ کرام فقہائے اسلام کے نزدیک ان پر بوجوہِ کثیرہ کفر لازم۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 257)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
“یزید پلید کے بارے میں ائمۂ اہلِ سنت کے تین قول ہیں:”
(1) امام احمد وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں، تو ہرگز بخشش نہ ہوگی۔
(2) امام غزالی وغیرہ مسلمان جانتے ہیں، تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو، بالآخر بخشش ضرور ہوگی۔
(3) ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ نہ ہم مسلمان کہیں گے نہ کافر، لہٰذا ہم بھی سکوت کریں گے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 16، ص 682)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
ان (خلفاء) میں یزید پلید علیہ ما علیہ کو بھی گن دیا حالانکہ اُس خبیث کے زمانہ کو قوتِ دین و صلاح سے کیا تعلق۔۔۔ اور حق یہ کہ اُس خبیث پر اجتماعِ اہلِ حل و عقد کب ہوا؟ ریحانۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُس کے دستِ ناپاک پر بیعت نہ کرنے ہی کے باعث شہید ہوئے، اہلِ مدینہ نے اُس پر خروج کیا۔
عبد اللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
وَاللہِ مَا خَرَجْنَا عَلٰی یَزِیدَ حَتّٰی خِفْنَا أَنْ نُرْمٰی بِالْحِجَارَۃِ مِنَ السَّمَاءِ، إِنَّ رَجُلًا یَنْکِحُ أُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ وَالْبَنَاتِ وَالْأَخَوَاتِ وَیَشْرَبُ الْخَمْرَ وَیَدَعُ الصَّلَاۃَ۔
خدا کی قسم! ہم نے یزید پر خروج نہ کیا جب تک یہ خوف نہ ہوا کہ آسمان سے پتھر برسیں، ایسا شخص کہ بہن بیٹی کی آبرو ریزی کرے اور شراب پئے اور تارکِ صلوٰۃ ہو۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 29، ص 218)
ایک اور مقام پر اس کے متعلق ہے:
“پلید، مرید، خبیث، عنید، نجس یزید۔”
(فتاویٰ رضویہ، ج 14، ص 234)
امام اہل سنت کے مذکورہ اقتباسات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک یزید کا ظلم، فسق اور فجور مسلّم اور متواتر ثابت ہے، اور اس کے جرائم کا انکار یا سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام تراشی ضروریات مسلک اہلِ سنت کے خلاف ہے۔ البتہ مسئلۂ تکفیر میں ائمۂ اہلِ سنت کے مختلف اقوال نقل کرتے ہوئے آپ نے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلکِ احتیاط کے مطابق سکوت کو اختیار فرمایا۔
ترتیب و پیشکش: ابو الحسن محمد شعیب خان
٢٠ جون ٢٠٢٦