کتاب الصلوۃ باب 1 حدیث نمبر 350
٣٥٠ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ امِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَرَضَ الله الصَّلوةَ حِيْنَ فَرَضْهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَاقِرَّتْ صَلُوةُ السَّفَرِ وَزِيْدَ فِي صَلوةِ الْحَضَرِ. اطراف الحدیث : ۱۰۹۰-۳۹۳۵)
(صحیح مسلم : 685، الرقم المسلسل : 1542، سنن ابوداؤد : ۱۱۹۸ سنن نسائی: 453، موطا امام مالک-کتاب قصر الصلوۃ: ۸ شرح معانی الآثار: 2348، صحیح ابن حبان :۲۷۳۶ المعجم الاوسط : ۷۸۹۷ مصنف ابن ابی شیبه ج ۲ ص 451، سنن دارمی : ۱۵۰۹ سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۴۳ سنن کبری للنسائی: 317، مسند احمد ج 6 ص ۲۷۲ طبع قدیم مسند احمد : ۲۶۳۳۸ – ج ۴۳ ص ٬۳۵۵ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از صالح بن کیسان از عروه بن الزبیر از حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ نے نماز فرض کی، جب نماز کو فرض کیا تو دو دو رکعت فرض کیس حضر میں اور سفر میں، پھر سفر کی نماز برقرار رہی اور حضر میں نماز زیادہ کردی گئی۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، جن کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
باب کے عنوان سے مطابقت اس جملہ میں ہے: جب نماز کو فرض کیا گیا۔
علامہ ابن بطال مالکی کا امام ابوحنیفہ پر اعتراض کہ انہوں نے وتر کو فرض کہہ کر چھ فرائض بنادیئے
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
فرض نماز کے عدد پر امت کا اجماع ہے کہ وہ پانچ نمازیں ہیں اور نمازوں کے رکوع اور سجود کے عدد پر بھی امت کا اجماع ہے سوائے امام ابوحنیفہ کے ان کا شاذ قول ہے انہوں نے فرائض میں وتر کو زیادہ کیا ہے اور معراج کی حدیث میں وتر کا ذکر نہیں ہے۔
شرح ابن بطال ج ۲ ص ۶ دار الکتب العلمیہ بیروت (1424ھ )
مصنف کی طرف سے علامہ ابن بطال کے اعتراض کا جواب
میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے وتر کو فرض نہیں کہا بلکہ وتر کو واجب کہا اور وجوب کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر فوت ہونے کی صورت میں اس کی قضا کرنے کا حکم دیا ہے حدیث میں ہے:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وتر سے سوگیا یا اس کو بھول گیا تو اس کو جب یاد آئے تو وتر پڑھ لے یا جب بیدار ہو تو پڑھ لے۔ (سنن ترمذی :465، سنن ابوداؤد: 1431، سنن ابن ماجه: ۱۱۸۸ مسند احمد ج ۳ ص 31)
ائمہ ثلاثہ وتر کوسنت یا نفل کہتے ہیں اور یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے کیونکہ سنت یا نفل فوت ہوجائے تو اس کی قضاء نہیں ہوتی اور فرائض میں وتر داخل نہیں ہے، جیسا کہ حدیث معراج میں تصریح ہے کہ فرض صرف پانچ نمازیں ہیں، پس لامحالہ وتر کو واجب قرار دینا ہوگا۔
رہا یہ کہ علامہ ابن بطال نے یہ کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے وتر کو فرض قرار دیا ہے تو بہ ظاہر یہ امام ابوحنیفہ پر افتراء ہے، فقہاء احناف کی تمام کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک وتر واجب ہے اور علامہ ابن بطال نے جو اس کو فرض سے تعبیر کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ فرض اور واجب میں فرق نہیں کرتے اور اسی طرح حرام اور مکروہ تحریمی میں فرق نہیں کرتے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان میں فرق ہے فرض وہ ہے جس کے فعل کا لزوم ایسی دلیل سے ثابت ہو جس کا ثبوت بھی قطعی ہو اور اس کی لزوم پر دلالت بھی قطعی ہو اور اگر ان میں سے کوئی ایک چیز ظنی ہو تو پھر وہ واجب ہوگا، مثلا نماز پڑھنے کا قرآن مجید میں حکم ہے اس کا ثبوت بھی قطعی ہے اور اس کی لزوم پر دلالت بھی قطعی ہے لہذا نماز فرض ہے اور وتر کی قضاء کرنے کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اس کی لزوم پر دلالت تو قطعی ہے، لیکن اس کا ثبوت قطعی نہیں کیونکہ اس کا ثبوت خبر واحد سے ہے اور وہ ظنی ہے اس لیے وتر واجب ہے فرض نہیں ہے
اور چونکہ ائمہ ثلاثہ اور ان کے متبعین فرض اور واجب میں فرق نہیں کرتے اس لیے علامہ ابن بطال نے لکھ دیا کہ امام ابوحنیفہ وتر کو فرض کہتے ہیں حالانکہ امام ابوحنیفہ وتر کو فرض نہیں کہتے، واجب کہتے ہیں اور یہ امام ابوحنیفہ کی دقت نظر ہے جس سے یہ ظاہر بین لوگ عاری ہیں اور اپنی لاعلمی کی وجہ سے امام ابوحنیفہ پر اعتراض کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ علامہ عینی نے ابن بطال کا یہ اعتراض دیکھا نہیں، ورنہ وہ اس کا جواب ضرور لکھتے ۔
حافظ ابن حجر شافعی کا سفر میں نماز کے قصر کے وجوب اور عزیمت کی نفی کرنا
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
حضر (شہر) کی نمازوں میں دو رکعت کا اضافہ مدینہ منورہ میں کیا گیا ہے جیسا کہ حسب ذیل حدیث میں اس کی تصریح ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مکہ میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی ، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو آپ نے ہر دو رکعت نماز کے ساتھ دو رکعت بڑھادیں ماسوا مغرب کے کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں اور ماسوا فجر کی نماز کے کیونکہ اس میں طویل قراءت ہوتی ہے ( اور جب آپ سفر کرتے تو پہلے طریقہ سے نماز پڑھتے ) ۔ ( صحیح ابن خزیمہ : ۹۴۴- 305، صحیح ابن حبان : ۲۷۳۸ مصنف ابن ابی شیبه ج ۱۴ ص ۱۳۲ مسند احمد ج 6 ص ۲۴۱ طبع قدیم، مسند احمد : 26042 – ج ۴۳ ص ۱۶۷ مؤسسة الرسالة بیروت )
اس حدیث کے ظاہر سے فقہاء احناف نے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا عزیمت ہے (یعنی واجب ہے ) رخصت نہیں ہے اور ان کے مخالفین ( ائمہ ثلاثہ ) نے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا. (النساء: ١٠١ )
ْ اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم کو یہ خوف ہو کہ کفار تم کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے ( یعنی تم پر حملہ کریں گے )۔
اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ قصر کرنے سے تم کو گناہ نہیں ہوگا سو یہ آیت قصر کی عزیمت اور وجوب پر دلالت نہیں کرتی بلکہ قصر کی رخصت پر دلالت کرتی ہے اور قصر کے رخصت ہونے پر یہ حدیث بھی دلیل ہے:
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ یہ بتائیں کہ لوگ نماز قصر کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم کو کفار کے حملہ کا خوف ہو تو نماز قصر کرو اور اب کفار کے حملہ کا خوف نہیں ہے حضرت عمر نے فرمایا: جس طرح تم کو اس پر تعجب ہوا مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، اللہ نے تم پر صدقہ کیا ہے تم اس کے صدقہ کو قبول کرو۔
( صحیح مسلم : ۶ ۶۸ سنن ابوداؤد : ۱۱۹۹ سنن ترمذی: 3034، سنن نسائی: ۱۴۳۲ سنن ابن ماجه : ۱۰۶۵ سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۴۱ مسند احمد ج ا ص ۲۵)
صحیح بخاری: ۳۵۰ میں یہ دلیل ہے کہ سفر کی نماز دو رکعت ہی ہے اس کا ائمہ ثلاثہ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہق کا قول ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے اور حضرت عائشہ نے وہ زمانہ نہیں پایا جب نمازیں فرض ہوئی تھیں۔ ائمہ ثلاثہ کی طرف سے جواب دو وجہ سے کمزور ہے اولا اس لیے کہ یہ بات اپنی رائے سے نہیں کہی جاسکتی اس لیے حضرت عائشہ کا قول حکما مرفوع ہے۔
ثانیا اس لیے کہ اگر حضرت عائشہ اس وقت موجود نہیں تھیں تو انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی اور صحابی سے سنی ہوگی’ سو یہ حدیث مرسل صحابی ہے امام الحرمین نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ حدیث ثابت ہوتی تو اس کو تواتر سے منقول ہونا چاہیے تھا یہ جواب بھی کمزور ہے کیونکہ اس کی مثل میں تواتر لازم نہیں ہے ائمہ ثلاثہ نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ کی حدیث کے یہ حدیث معارض ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان سے حضر (شہر) میں چار رکعت نماز فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعت اور خوف کی حالت میں ایک رکعت (صحیح مسلم: ۶۸۷ – الرقم المسلسل : ۱۵۴۶ سنن ابوداؤد: 1247، سنن نسائی: ۴۵۵ سنن ابن ماجه: ۱۰۷۸)
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی حدیث کا یہ محمل ہے کہ اضافہ کے بعد حضر میں نماز چار رکعت ہوگئی لہذا یہ حضرت عائشہ کی حدیث کے معارض نہیں ہے۔ انہوں نے ایک دلیل یہ قائم کی ہے کہ فقہاء احناف کا قاعدہ ہے کہ جب راوی کی روایت اور اس کی رائے میں تعارض ہو تو اس کی رائے کا اعتبار کیا جاتا ہے، نہ کہ اس کی روایت کا اور حضرت عائشہ کی روایت اگرچہ یہ ہے کہ سفر میں دو رکعت نماز ہے، لیکن حضرت عائشہ کی رائے یہ ہے کہ سفر میں پوری نماز پڑھنی چاہیے اس لیے ان کی روایت غیر ثابت ہے اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ عروہ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ سے سوال کیا گیا کہ سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی ہیں؟ تو انہوں نے وہی تاویل کی جو حضرت عثمان نے تاویل کی تھی۔ (صحیح البخاری : ۱۰۹۰‘سنن ابوداؤد: ۱۲۰۰) ( کہ انہوں نے مکہ میں بھی اپنا گھر بنالیا تھا) لہذا حضرت عائشہ کی روایت اور ان کی رائے میں کوئی تعارض نہیں ہے پس ان کی روایت صحیح ہے اور ان کی رائے ان کی تاویل پر مبنی ہے۔
جو چیز مجھ پر منکشف ہوئی ہے وہ اس کے مطابق ہے جو اس حدیث میں ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مکہ میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو آپ نے ہر دو رکعت نماز کے ساتھ دور کعت بڑھا دیں ماسوا مغرب کے کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں اور ماسوا فجر کی نماز کے کیونکہ اس میں طویل قراءت ہوتی ہے۔ ( صحیح ابن خزیمہ : ۹۴۴-305 صحیح ابن حبان : 2738، مصنف ابن ابی شیبہ ج 14 ص ۱۳۴ مسند احمد ج 6 ص ۲۴۱)
پھر جب فرض کی چار رکعت نماز مستحکم ہوگئی تو النساء ۱۰۱ کے نازل ہونے کے بعد سفر کے اندر نماز میں تخفیف کردی گئی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ علامہ ابن الاثیر نے شرح المسند میں ذکر کیا ہے کہ ۴ھ میں نماز قصر کی گئی ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا ہے کہ ۴ھ میں نماز قصر کی گئی ہے البتہ الدولابی نے یہ ذکر کیا ہے کہ ۲ ھ میں نماز کو قصر کیا گیا ہے اور سہیلی نے ذکر کیا ہے کہ ہجرت کے ایک سال بعد نماز کو قصر کیا گیا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ہجرت کے چالیس دن بعد نماز کو قصر کیا گیا ہے اس لحاظ سے حضرت عائشہ نے جو فرمایا ہے کہ سفر میں نماز دو رکعت برقرار رکھی گئی’ اس کا معنی ہے: سفر میں تخفیف کی وجہ سے دو رکعت نماز کردی گئی اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ شروع سے دو رکعت پر برقرار رہی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قصر عزیمت ہے۔
فتح الباری ج ۲ ص 32، دار المعرفة بیروت 1426ھ)
سفر میں وجوب قصر پر مصنف کے پیش کردہ دلائل اور حافظ ابن حجر کے اعتراض کے جوابات
میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا عزیمت نہیں ہے رخصت ہے بلکہ سفر میں نماز کو قصر کرنا واجب ہے کیونکہ خود حافظ ابن حجر نے سنن ابوداؤد اور دیگر کتب حدیث کے حوالہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ جب حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ سفر میں نماز کو اس وقت قصر کیا جائے، جب کفار کے حملہ کا خوف ہو اور اب ان کے حملہ کا خوف نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صدقہ ہے اللہ نے تم پر صدقہ کیا ہے تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ۔ ( صحیح مسلم: ۶۸۲)
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرنے کا امر کیا ہے اور امر پر عمل کرنا واجب ہے لہذا سفر میں نماز کو قصر کرنا واجب ہے۔
ائمہ ثلاثہ کی طرف سے یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے النساء : 101 میں فرمایا ہے: جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا مباح ہے نہ کہ نماز کو قصر کرنا واجب ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قصر کرنا مباح تب ہوتا جب اس آیت میں یوں فرمایا جاتا: جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کو قصر نہ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جب یوں فرمایا ہے کہ نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے تو یہ قصر کے وجوب کے منافی نہیں ہے اس کی نظیر یہ حدیث ہے:
عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أو اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوف بِهِمَا . ( البقرہ:۱۵۸)
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں’ سو جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا، اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عروہ نے کہا: پس اللہ کی قسم ! اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ( یعنی ان کی سعی واجب نہیں ہے) حضرت عائشہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے ! تم نے بری بات کہی ہے اگر ایسا ہوتا جس طرح تم نے اس آیت کی تاویل کی ہے تو اللہ تعالٰی اس طرح فرماتا: جو شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت انصار کے لیے نازل فرمائی ہے وہ اسلام لانے سے پہلے مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے پاس اس کی عبادت کرتے تھے اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج سمجھتے تھے جب وہ اسلام لے آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم پہلے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج سمجھتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں سو جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ : :۱۵۸)
حضرت عائشہ نے فرمایا : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنا ثابت ہے، پس کسی شخص کے لیے ان کے درمیان طواف کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ (صحیح البخاری : 1643، صحیح مسلم: ۱۲۷۷ سنن ترمذی:۰۲۹۷۶ سنن نسائی: ۰۲۹۶۵ سنن ابن ماجہ : ۲۹۸۶، مسند احمد ج 6 ص ۱۴۴ جامع المسانید لابن الجوزی: ۷۳۶۷ مکتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسلوب پر ہم کہتے ہیں کہ النساء : 101 میں فرمایا ہے : ” جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یہ آیت قصر کے وجوب کے منافی نہیں ہے یہ آیت قصر کے وجوب کے اس وقت منافی ہوتی جب اس آیت میں اس طرح ہوتا: ” جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر نماز کو قصر نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ باقی رہا یہ کہ اس اسلوب سے کیوں فرمایا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان دائما حضر میں چار رکعت نماز پڑھتے تھے، جب انہیں سفر میں دورکعت نماز پڑھنے کے لیے کہا گیا تو ان کو یہ وہم ہوسکتا تھا کہ چار رکعت کی بجائے دورکعت نماز پڑھنے کی وجہ سے ان کی عبادت میں کوئی کمی ہوگئی ہے یا شاید اس میں کوئی گناہ یا حرج ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسلی کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔ (النساء: (101)
النساء: ۱۰۱ سے جو ائمہ ثلاثہ کا استدلال تھا’ اس کا ایک جواب ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اسلوب سے دیا ہے اور اس استدلال کا دوسرا جواب ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے پیش کررہے ہیں: امیہ بن عبداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے کہا: ہم قرآن مجید میں صلوۃ الحضر اور صلوۃ الخوف کا ذکر پڑھتے ہیں اور ہمیں اس میں صلوٰۃ السفر کا ذکر نہیں ملا حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہم اور کچھ نہیں جانتے ہم صرف وہی کرتے ہیں جو ہم نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے (یعنی آپ سفر میں قصر کرتے تھے، سو ہم سفر میں قصر کرتے ہیں۔ سعیدی غفرلہ ) ۔ (سنن ابن ماجه : 1066، سنن نسائی: ۴۵۴)
قصر کے وجوب پر اس حدیث سے بھی اعتراض کیا جاتا ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز کو قصر بھی کرتے تھے اور پوری نماز بھی پڑھتے تھے اور روزہ چھوڑتے بھی تھے اور روزہ رکھتے بھی تھے۔ امام دار قطنی نے کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
(سنن دار قطنی : 2266، دار المعرفة بیروت 1422ھ سنن بیہقی ج ۳ ص 141 ملتان)
اس حدیث کی سند متعدد وجوہ سے ضعیف ہے، جن وجوہ کو ہم نے شرح صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۷۹ میں بیان کیا ہے، برسبیل تنزل اس کا جواب یہ ہے کہ قوی حدیث اس حدیث کے معارض ہے:
عیسی بن حفص بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں مکہ کے راستہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے چلے، ہم بھی ان کے ساتھ تھے وہ اپنی قیام گام پر آئے اور بیٹھ گئے ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے، پھر ان کی لوگوں پر نظر پڑی جو نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ نفل پڑھ رہے ہیں، حضرت ابن عمر نے کہا: اگر میں نفل نماز پڑھوں تو میں فرض نماز پوری نہ پڑھ لوں! اے میرے بھتیجے ! میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں رہا ہوں’ آپ نے کبھی سفر میں دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کرلیا اور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں انہوں نے کبھی سفر میں دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی حتی کہ اللہ نے ان کی روح کو قبض کرلیا اور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں انہوں نے کبھی سفر میں دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھی، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو قبض کرلیا اور تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
لقد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
(الاحزاب : ۲۱)
البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ میں حسین نمونہ ہے۔
(صحیح البخاری: 1102-1101 سنن ابوداؤد : ۱۲۲۲ سنن نسائی: ۱۳۵۷ سنن ابن ماجہ : ۱۰۷۱)
اس حدیث سے آفتاب سے زیادہ روشن طریقہ سے واضح ہو گیا کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا واجب ہے۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۴۶۷ – ج ۲ ص ۳۵۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
وجوب قصر میں مذاہب
(۲) ائمہ ثلاثہ کے دلائل اور ان کے جوابات
منی میں حضرت عثمان کے قصر نہ کرنے کی وجہ
(۴) دیگر دلائل کا جواب
وطن کی اقسام اور احکام
(3) سفر معصیت کے احکام
(ع) سنن کا حکم
کیا ہوائی جہاز سے کم وقت میں بغیر مشقت کے سفر کرنا رخصت قصر کے منافی ہے؟