اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ ختم، مدارس کا وجود خطرے میں
اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ ختم، مدارس کا وجود خطرے میں !!
غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمی
اس وقت تقریباً پورے صوبے میں یاس کا ماحول ہے، پولیس اور ایل آئی یو مدرسوں کی نگرانی کر رہے ہیں، اگر یکم جولائی تک اہل مدارس حکومت کی بنائی گیی نئی تعلیمی تعلیمی اتھارٹی سے رجوع نہیں ہوتے تو مدارس کو بند کر دیا جائے گا۔اس اتھارٹی کے ضوابط اس قدر سخت بنائے گیے ہیں کہ اس میں مندرج ہوتے ہی مدرسہ کی روح ختم ہو جائے گی۔اہم قوانین اس طرح ہیں:
🔶ہر مدرسے کو دہری منظوری لینا ہوگی. پہلے صوبائی تعلیمی بورڈ سے پھر مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی سے۔دونوں ہی بورڈوں کے مانَک پورے کرنا لازم ہیں۔
🔶صبح سات سے دوپہر ایک بجے تک مذہبی تعلیم ممنوع رہے گی۔
🔶 کسی بھی طالب علم یااستاذ کو مذہبی کام کرنے پر زور نہیں دیا جا سکتا، بصورت دیگر مقدمہ اور منظوری منسوخ۔
🔶 نصاب خود اتھارٹی منظور کرے گی، وہی پڑھانا ہوگا… مزے دار بات یہ ہے کہ مذکورہ اتھارٹی کے گیارہ ارکان میں سے دس غیر مسلم ہیں، بس ایک مسلمان ہے۔
🔶 ہر ادارے کے پاس EPF اور ESI کا رجسٹریشن ضروری ہے۔
کل 26 سخت شرطوں کا ایسا پٹارا ہے جسے پورا کر پانا اداروں کے حد درجہ مشکل ہے۔جیسے تیسے پورا کر بھی لیں تو یہ طے ہے کہ درس نظامی اور حفظ و قرأت کی تعلیم کا اللہ ہی حافظ ہے۔مدارس بس رسمی مکتب بھر رہ جائیں گے۔
27/06/2026