٣٥٨ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ ابِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلوة فى ثوب وَاحِد، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَولِكُلِكُمْ ثوبان ؟ [ طرف الحديث : ۳۶۵)

صحیح مسلم : 515، الرقم المسلسل : 1128، سنن ابوداؤد : ۶۸۵ سنن نسائی: ۷۶۳ ، سنن ابن ماجہ: ۷ ۱۰۴ مسند الحمیدی : ۷ ۹۳ مسند ابویعلی : ۵۸۸۳ المنتقی : ۱۷۰ صحیح ابن خزیمہ: ۷۵۸، صحیح ابن حبان: 2296،  شرح السنته :511،  سنن بیہقی ج ۲ ص 336،337 مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۹ طبع قدیم، مسند احمد : 7251  – ج 12 ص ۱۹۳ مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید : ۴۷۶۵ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابن شہاب از سعید بن المسیب از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ که ایک شخص نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ اس کا مفاد یہ ہے کہ ایک کپڑے میں بھی نماز ہوجاتی ہے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کا جواز اور ایک سے زیادہ کپڑے پہن کر نماز پڑھنے کا استحباب

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم کا اس میں اختلاف ہے۔

امام عبدالرزاق نے از ابن عینیه از عمرو از حسن بصری روایت کی ہے کہ حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا اس میں اختلاف ہوا کہ ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت ابی بن کعب نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھی ہے لہذا آج بھی ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے حضرت ابن مسعود نے کہا: یہ اس وقت جائز تھا۔ جب لوگوں کے پاس زیادہ کپڑے نہیں تھے لیکن اب جب کہ لوگوں کو زیادہ کپڑے میسر ہیں تو دو کپڑوں میں نماز پڑھی جائے گی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: صحیح بات وہ ہے جو حضرت ابی بن کعب نے کہی ہے اور حضرت ابن مسعود نے بھی اپنے اجتہاد میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔

امام طحاوی نے کہا: احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو اپنے گرد لپیٹ کر نماز پڑھی ہے جب کہ دوسرا کپڑا بھی موجود تھا، کیونکہ جب کسی شخص نے سوال کیا کہ آیا ایک کپڑے کے ساتھ نماز ہوجاتی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟ اور یہ جواب اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس کے پاس دو کپڑے ہوں اس کا بھی ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا وہی حکم ہے جس کو صرف ایک کپڑا میسر ہو۔

اور دوسرے فقہاء نے یہ کہاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ کیا تم میں سے ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک سے زیادہ کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صحیح تو وہ ہے جو حضرت ابی بن کعب نے کہا ہے لیکن حضرت ابن مسعود نے بھی اپنے اجتہاد میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور حضرت عمر کا یہ قول حضرت ابن عمر کے اس قول سے اولی ہے، جو ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کو ناجائز کہتے ہیں۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۶ دار الکتب العلمیہ، بیرت 1424ھ )