کتاب الصلوۃ باب 13 حدیث نمبر 372
۱۳ – بَابٌ فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ مِنَ الثيَابِ؟
عورت کتنے کپڑے پہن کر نماز پڑھ سکتی ہے؟
امام بخاری اس تعلیق کو ذکر کرتے ہیں:
وقَالَ عِكْرِمَةٌ لَوْ وَارَتْ جَسَدَهَا فِي ثَوْب لاجزته.
اور عکرمہ نے کہا: اگر عورت اپنے پورے جسم کو ایک کپڑے میں چھپالے تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔
اس سلسلہ میں حضرت عکرمہ کا اثر اور دیگر آثار حسب ذیل ہیں:
امام عبدالرزاق نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عکرمہ سے روایت کیا ، اگر عورت ایک کپڑے کو سر پر اوڑھ لے حتی کہ اس کا کوئی بال دکھائی نہ دے تو یہ اس کے لیے دوپٹہ سے کافی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق : ۵۰۴۷- ج ۳ ص ۴۴ دار الکتب العلمیہ بیروت )
محمد بن ابی بکر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ انہوں نے فرمایا: دوپٹہ میں اور اتنی لمبی قمیص میں جو اس کے پیروں کی پشت کو چھپالے۔ (مصنف عبدالرزاق: 5042 – ج ۳ ص ۴۴)
مکحول بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے انہوں نے فرمایا:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرو، پھر مجھے آکر بتاؤ انہوں نے کیا جواب دیا ہے پھر انہوں نے حضرت علی سے سوال کیا انہوں نے فرمایا: دوپٹے میں اور لمبی قمیص میں، پھر انہوں نے حضرت عائشہ کو آکر بتایا تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔(مصنف عبدالرزاق: ۵۰۴۳)
عطاء نے کہا : عورت قمیص میں اور دوپٹہ میں اور تہبند میں نماز پڑھے۔ (مصنف عبدالرزاق:۵۰۵۰)
-۳۷۲- حدثنا أبو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزهري قَالَ أَخْبَرَنِي عَرْوَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَد كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلّی الْفَجْر،َ فَيَشْهَدُ مَعَهُ نِسَاء مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ ، مُتَلَفِعَاتٍ فِي مُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ مَا يَعْرِفُهُنَّ احد۔ اطراف الحدیث: ۵۷۸۔867 – ۸۷۲ |
صحیح مسلم : 645، الرقم المسلسل : 1430، سنن نسائی:۵۴۶، سنن ابن ماجہ :۶۶۹ السنن الکبری للنسائی: ۱۴۴۳ مسند الحمیدی : ۱۷۴ سنن دارمی:1219، صحیح ابن خزیمہ :350، مسند ابوداؤد الطیالسی: 1459، مصنف ابن ابی شیبه ج اص 320، مسند ابویعلی : ۴۴۱۵، صحیح ابن حبان : 1499- ۱۵۰۰ المعجم الاوسط : ۸۷۵۴ سنن بیہقی ج 1 ص ۴۵۴ مسند احمد ج ۶ ص ۳۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۰۵۱ – ج ۶ ص ۵۶ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھاتے، آپ کے ساتھ مسلمان عورتیں بھی نماز پڑھتیں جو اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں ان کو کوئی بھی نہیں پہچانتا تھا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس جملہ میں ہے: مسلمان عورتیں بھی نماز پڑھتیں جو اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی ہوتی تھیں اور یہ صرف ایک چادر ہوتی تھی، لیکن ظاہر یہ ہے کہ وہ یہ چادر، قمیص اور دوپٹہ کے اوپر اوڑھتی تھیں اور یہ چادر برقع کے قائم مقام ہوتی تھی۔
اس حدیث کے پانچ رجال میں اور ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
متلفعات “ اور ”مروط “ کا معنی اور ان عورتوں کو نہ پہچاننے کا سبب
اس حدیث میں متلفعات “ کا لفظ ہے التلفع“ کا معنی یہ ہے کہ سر پر کپڑا ڈالا جائے، پھر اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا جائے سور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ موٹی چادر ہوتی تھی۔
مروط” یہ مرط“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے: اون کی یا سوت کی موٹی چادر جس کو بہ طور تہبند باندھ لیا جائے سیاہ یا سبز چادر کو بھی مرط“ کہتے ہیں۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ انہیں کوئی نہیں پہچانتا تھا انکو نہ پہچاننا یا تو چار میں لپٹی ہونے کی وجہ سے تھا یا اندھیرے کی وجہ سے، دور سے ان کا صرف جسم دکھائی دیتا تھا اور یہ نہیں پتا چلتا تھا کہ یہ کون ہیں۔ صحیح مسلم میں یہ اضافہ ہے: اندھیرے کی وجہ ہے۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت اگر ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھلے تو جائز ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس چادر کے نیچے عورتوں نے دوپٹہ قمیص اور تہبند باندھا ہوا ہوتا ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باب کی حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے اور اس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔
نماز میں عورت کے ضروری کپڑوں میں مذاہب فقہاء
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
عورت کے لیے نماز میں کتنے کپڑے پہننا ضروری ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ، حضرت ابن عباس، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ وہ لمبی قمیص پہن کر اور دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، عبیدہ اور عطاء نے یہ کہا ہے کہ وہ قمیص دوپٹہ اور تہبند کے ساتھ نماز پڑھے مجاہد اور ابن سیرین نے یہ کہا ہے کہ وہ چار کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنے قمیص دوپٹہ تہبند اور اس کے اوپر ایک بڑی چادر ہو ۔
علامہ ابن المنذر نے کہا : عورت پر لازم ہے کہ اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا اپنے تمام بدن کو چھپائے، خواہ ایک کپڑے کے ساتھ چھپائے یا زیادہ کپڑوں کے ساتھ متقدمین نے تین یا چار کپڑوں کا جو حکم دیا ہے وہ صرف استحباب کے طور پر ہے۔
امام احمد بن حنبل نے کہا: عورت کا پورا جسم واجب الستر ہے حتی کہ اس کے ناخن بھی، امام مالک اور امام شافعی نے کہا: عورت کے قدم بھی واجب الستر ہیں، اگر اس نے نماز پڑھی اور اس کے قدم کھلے ہوئے تھے وہ وقت میں نماز دہرائے گی اسی طرح اگر اس نے نماز پڑھی اور اس کے بال کھلے ہوئے تھے تب بھی وہ نماز وقت میں دہرائے گی اور امام شافعی کے نزدیک وہ ہمیشہ نماز دہرائے گی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورت کے قدم واجب الستر نہیں ہیں، اگر اس نے نماز پڑھی اور اس کے قدم کھلے ہوئے تھے تو اس کی نماز درست ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۳۸ ۳۷ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1415ھ )
علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ خلیلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:
جب آزاد عورت کا چہرے کے سوا نماز میں کوئی عضو کھلا ہوا ہوتو وہ نماز دہرائے گی، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عورت نماز میں اپنا چہرہ کھول سکتی ہے اور چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا اور کسی عضو کا کھولنا جائز نہیں ہے اور ہتھیلیوں کے متعلق دو قول ہیں اور مستحب یہ ہے کہ عورت اتنی لمبی قمیص میں نماز پڑھے جو اس کے پیروں کو ڈھانپ لے اور دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے جو اس کے سر اور گردن کو ڈھانپ لے اور قمیص کے اوپر ایک بڑی چادر اوڑھے حضرت عمر، حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے امام شافعی کا بھی یہی قول ہے امام احمد فرماتے ہیں: اس کے لیے دوپٹہ اوڑھنا اور اتنی لمبی قمیص پہننا ضروری ہے، جو اس کے قدموں کو چھپالے۔ (المغنی ج ۲ ص ۱۵۷ – ۱۵۵ ملتقطا وملخصا دار الحديث قاہرہ ۱۴۲۵ھ )
فجر کے مستحب وقت میں مذاہب فقہاء
ہم نے بیان کیا ہے کہ صحیح مسلم : ۶۴۵ میں مذکور ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے عورتوں کو کوئی نہیں پہچانتا تھا، اس وجہ سے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ فجر کی نماز بالکل اول وقت میں پڑھی جائے جب اندھیرا پھیلا ہوا ہو اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ فجر کی نماز ذرا تاخیر سے پڑھی جائے جب روشنی ہوجائے ہماری دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبح کی نماز روشن وقت میں پڑھو کیونکہ اس میں زیادہ اجر ہے۔ (سنن ترمذی: 154، سنن ابوداؤد : ۴۲۴ ، سنن ابن ماجه : ۶۷۲ مسند احمد ج ۳ ص ۴۶-ج 4ص 140)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۳۵۷- ج ۲ ص ۲۷۰ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے فجر کے مستحب وقت میں مذاہب ائمہ