وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۱۲)

اور بےشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (ف۱۳) کہ اللہ کا شکر کر (ف۱۴) اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۱۵) اور جو ناشکری کرے تو بےشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہا

(ف13)

محمّد بن اسحٰق نے کہا کہ لقمان کا نسب یہ ہے لقمان بن باعور بن ناحور بن تارخ ۔ وہب کا قول ہے کہ حضرت لقمان حضرت ایّوب علیہ السلام کے بھانجے تھے ۔ مقاتل نے کہا کہ حضرت ایّوب علیہ السلام کی خالہ کے فرزند تھے ۔ واقدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ہزار سال زندہ رہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ پایا اور ان سے علم اخذ کیا اور ان کے زمانہ میں فتوٰی دینا ترک کر دیا اگرچہ پہلے سے فتوٰی دیتے تھے ، آپ کی نبوّت میں اختلاف ہے اکثر عُلَماء اسی طرف ہیں کہ آپ حکیم تھے نبی نہ تھے ، حکمت عقل و فہم کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ حکمت وہ علم ہے جس کے مطابق عمل کیا جائے ۔ بعض نے کہا کہ حکمت معرفت اور اصابت فی الامور کو کہتے ہیں اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ حکمت ایسی شئ ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو جس کے دل میں رکھتا ہے اس کے دل کو روشن کر دیتی ہے ۔

(ف14)

اس نعمت پر کہ اللہ تعالٰی نے حکمت عطا کی ۔

(ف15)

کیونکہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ۔

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)

اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا (ف۱۶) اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا ۔ بےشک شرک بڑا ظلم ہے (ف۱۷)

(ف16)
حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کے ان صاحبزادے کا نام انعم یا اشکم تھا اور انسان کا اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہو اور دوسرے کی تکمیل کرے تو حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا کامل ہونا تو ”اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ” میں بیان فرما دیا اور دوسرے کی تکمیل کرنا ”وَھُوَ یَعِظُہٗ ”سے ظاہر فرمایا اور نصیحت بیٹے کو کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت میں گھر والوں اور قریب تر لوگوں کو مقدم کرنا چاہئے اور نصیحت کی ابتداء منعِ شرک سے فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ یہ نہایت اہم ہے ۔
(ف17)
کیونکہ اس میں غیرِ مستحقِ عبادت کو مستحقِ عبادت کے برابر قرار دینا ہے اور عبادت کو اس کے محل کے خلاف رکھنا یہ دونوں باتیں ظلمِ عظیم ہیں ۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴)

اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی (ف۱۸) اُس کی ماں نے اُسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی (ف۱۹) اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا (ف۲۰) آخر مجھی تک آنا ہے

(ف18)
کہ ان کا فرمانبردار رہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ (جیسا کہ اسی آیت میں آگے ارشاد ہے)
(ف19)
یعنی اس کا ضعف دَم بدَم ترقی پر ہوتا ہے جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے بار زیادہ ہوتا ہے اور ضعف ترقی کرتا ہے ، عورت کو حاملہ ہونے کے بعد ضعف اور تعب اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں ، حمل خود ضعیف کرنے والاہے دردِ زہ ضعف پر ضعف ہے اور وضع اس پر اور مزید شدّت ہے ، دودھ پلانا ان سب پر مزید برآں ہے ۔
(ف20)
یہ وہ تاکید ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا تھا ۔ سفیان بن عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جس نے پنج گانہ نمازیں ادا کیں وہ اللہ تعالٰی کا شکر بجا لایا اور جس نے پنجگانہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کیں اس نے والدین کی شکر گزاری کی ۔

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌۙ-فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘-وَّ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵)

اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں (ف۲۱) تو ان کا کہنا نہ مان (ف۲۲) اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے (ف۲۳) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (ف۲۴) پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵)

(ف21)
یعنی علم سے تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ہی نہیں سکتے کیونکہ میرا شریک محال ہے ہو ہی نہیں سکتا ، اب جو کوئی بھی کہے گا تو بے علمی ہی سے کسی چیز کے شریک ٹھہرانے کو کہے گا ، ایسا اگر ماں باپ بھی کہیں ۔
(ف22)
نخعی نے کہا کہ والدین کی طاعت واجب ہے لیکن اگر وہ شرک کا حکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کر کیونکہ خالِق کی نافرمانی کرنے میں کسی مخلوق کی طاعت روا نہیں ۔
(ف23)
حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک اور احسان و تحمّل کے ساتھ ۔
(ف24)
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب کی راہ اسی کو مذہبِ سنّت و جماعت کہتے ہیں ۔
(ف25)
تمہارے اعمال کی جزا دے کر ۔ ”وَصَّیْنَا الْاِ نْسَانَ” سے یہاں تک جو مضمون ہے یہ حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو اللہ تعالٰی کے شکرِ نعمت کا حکم دیا تھا اور شرک کی ممانعت کی تھی تو اللہ تعالٰی نے والدین کی طاعت اور اس کا محل ارشاد فرما دیا ، اس کے بعد پھر حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا مقولہ ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے فرمایا ۔

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ(۱۶)

اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو (ف۲۶) اللہ اُسے لے آئے گا (ف۲۷) بےشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (ف۲۸)

(ف26)
کیسی ہی پوشیدہ جگہ ہو اللہ تعالٰی سے نہیں چُھپ سکتی ۔
(ف27)
روزِ قیامت اور اس کاحساب فرمائے گا ۔
(ف28)
یعنی ہر صغیر و کبیر اس کے احاطۂ علمی میں ہے ۔

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَؕ-اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ(۱۷)

اے میرے بیٹے نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بُری بات سے منع کر اور جو افتاد(مصیبت) تجھ پر پڑے (ف۲۹) اس پر صبر کر بےشک یہ ہمت کے کام ہیں (ف۳۰)

(ف29)
امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کرنے سے ۔
(ف30)
ان کا کرنا لازم ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز اور امربالمعروف اور نہی عن المنکَر اور صبر بر ایذا یہ ایسی طاعتیں ہیں جن کا تمام اُمّتوں میں حکم تھا ۔

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)

اور کسی سے بات کرنے میں (ف۳۱) اپنا رخسارہ کج نہ کر (ف۳۲) اور زمین میں اِتراتا نہ چل بےشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا

(ف31)
براہِ تکبُّر ۔
(ف32)
یعنی جب آدمی بات کریں تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا جیسا متکبِّرین کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا ، غنی و فقیر سب کے ساتھ بتواضُع پیش آنا ۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَؕ-اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠(۱۹)

اور میانہ چال چل (ف۳۳) اور اپنی آواز کچھ پست کر (ف۳۴) بےشک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز (ف۳۵)

(ف33)
نہ بہت تیز نہ بہت سُست کہ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں ایک میں شانِ تکبُّر ہے اور ایک میں چھچھورا پن ۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہت تیز چلنا مومن کا وقار کھوتا ہے ۔
(ف34)
یعنی شور و شغب اور چیخنے چِلّانے سے احتراز کر ۔
(ف35)
مدعٰی یہ ہے کہ شور مچانا اور آواز بلند کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس میں کچھ فضیلت نہیں ہے ، گدھے کی آواز باوجود بلند ہونے کے مکروہ اور وحشت انگیز ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نرم آواز سے کلام کرنا پسند تھا اور سخت آواز سے بولنے کو ناپسند رکھتے تھے ۔