کتاب الصلوۃ باب 30 حدیث نمبر 395
٣٠ – بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى) (البقره: ١٢٥)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ” مقام ابراہیم کو مصلی بنائو ( البقرہ: ۱۲۵)
مقام ابراہیم کا مصداق اور اس کی جگہ کا تعین
السدی نے کہا ہے : مقام سے مراد وہ پتھر ہے جس کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زوجہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کے نیچے رکھا تھا، پھر انہوں نے آپ کا سر دھویا، اس قول کی علامہ قرطبی نے روایت کی ہے اور اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے اور دوسروں نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مقام ابراہیم سے مراد پورا حرم ہے۔
امام ابن ابی حاتم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں طواف کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، حضرت عمر نے کہا: ہم اس کو مصلی نہ بنالیں؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تم مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنالو۔ (البقرہ: ۱۲۵)( عمدة القاری ج 4 ص ۱۹۳ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ)
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
امام ازرقی نے اخبار مکہ میں اسانید صحیحہ کے ساتھ روایت کی ہے کہ مقام ابراہیم وہی ہے، جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیر کا نشان ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں یہ پتھر اسی جگہ رکھا ہوا تھا، جس جگہ اب رکھا ہوا ہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیلاب آیا، جو اس پتھر کو بہا کر لے گیا حتی کہ یہ مکہ کے نشیب میں پہنچ گیا، پھر اس کو وہاں سے اٹھاکر لایا گیا اور پہلے کی جگہ پر رکھ دیا گیا، جہاں پر وہ اب موجود ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص 61 دار المعرفته بیروت 1426ھ )
٣٩٥ – حدثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَال حدَثنَا عَمْرُو بنْ دِينَارٍ قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَجل طاف بالبَيْتِ الْعُمْرَةَ، وَلَمْ يَطْفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَروہ آيَاتِي امْرَاته؟ُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتین وَطافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، (وَلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فی رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ) (الاحزاب : ۲۱)اطراف الحدیث: ۱۶۲۳-1627- 1645 – 1647-۱۷۹۳
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں الحمیدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا، جو شخص عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف کرے اور الصفا اور لمروہ کے درمیان سعی نہ کرے کیا وہ اپنی بیوی سے مباشرت کرسکتا ہے؟ حضرت ابن عمر نے کہا: نبی منی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کیے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور الصفا اور المروہ کے درمیان سعی کی اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ ہے ( الاحزاب : ۲۱) ۔
(صحیح مسلم : 1234 سنن نسائی: 2966 – 2960 – ۲۹۳۰ سنن ابن ماجہ : ۲۹۵۹ ، السنن الكبرى للنسائی: ۳۹۵۲۔3911 مسند الحمیدی: ٬۶۶۸ مسند ابو یعلی : ۵۶۳۴ صحیح ابن خزیمہ : 2760 سنن بیہقی ج ۵ ص 97 مسند احمد ج ۲ ص ۱۵ طبع قدیم مسند احمد : ۴۶۴۱ – ج ۸ ص ۲۶۵ مؤسسة الرسالة بیروت)