٤٠٤ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَة عَنِ الْحَكَم،ِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَن عبداللهِ قَالَ صَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالُوا أَزيدَ فِي الصَّلوةِ؟ قَالَ وما ذَاكَ؟ قَالُوْا صَلَّيْتَ خَمْسًا فَثنَى رِجلَيْهِ وَسَجَد سَجدَتَيْنِ۔

جامع المسانيدلابن الجوزی: ۴۱۹۰ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از شعبه از الحکم از ابراهیم از علقمه از حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھائی تو لوگوں نے کہا: کیا نماز زیادہ کر دی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا کیا سبب ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعت پڑھائی ہیں! آپ نے اپنے پیر ( قبلہ کی طرف) موڑے اور ( سہو کے ) دو سجدے کیے۔

اس حدیث کی شرح کے لیے صحیح البخاری : ۴۰۱ کا مطالعہ کریں، وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: کعبہ کی طرف منہ کرنا جہاں کہیں بھی ہو اور اس حدیث کا عنوان ہے: ” قبلہ کے متعلق احادیث اور جس نے سہوا قبلہ کی طرف نماز پڑھی اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے“۔

اور اس حدیث میں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ آپ نے کعبہ سے پیٹھ پھیرنے کے بعد کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور اس نماز کا اعادہ نہیں کیا۔