کتاب الصلوۃ باب 41 حدیث نمبر 420
٤١ – بَابٌ هَلْ يُقَالُ مَسْجِدُ بَنِي فَلَانٍ؟
آیا یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی مسجد ہے؟
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیا مسجد کی کسی قبیلہ یا کسی فرد یا اس کے بنانے والے کی طرف نسبت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ابراہیم نخعی یہ کہتے تھے کہ مسجد کی کسی شخص کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے:
” أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ ” (الجن : ١٨) یعنی مساجد صرف اللہ کی ہیں۔ اس باب کی احادیث ان کا رد کرتی ہیں اور آیت کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف مساجد کی اضافت حقیقی ہے اور اللہ تعالیٰ کے غیر کی طرف مساجد کی اضافت عرفی ہے، جو ایک مسجد کو دوسری مسجد سے ممتاز کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس باب کی سابق ابواب کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ ابواب سابقہ کا تعلق بھی مساجد کے ساتھ تھا اور اس باب کا تعلق بھی مسجد کے ساتھ ہے۔
٤٢٠ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ التی أَضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاع، وسابق بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرُ مِنَ اللَّثنِيَّةِ إِلى مَسجد بنی زُرَيْقٍ وَأَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ فِيمَنْ سَابَقَ بِھا۔
اطراف الحدیث: ۲۸۶۸-2869- 2870- 7336
صحیح مسلم:۱۸۷۰ الرقم المسلسل :۴۷۶۰ سنن ابوداؤد: ۲۵۷۵ السنن الکبری للنسائی : 4424، سنن ترمذی : 1699 مصنف عبد الرزاق : 9695، المعجم الکبیر ۱۳۴۵۹ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۹ شرح السنتہ: ۲۶۵۰، مسند احمد ج ۲ ص ۵ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۴۸۷- ج ۸ ص 69-68 مؤسسة الرسالة بیروت جامع المسانید لابن الجوزی: 3386 مکتبة الرشد ریاض (1426ھ )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از نافع از حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اضمار شده گھوڑوں کا الحفیاء سے لے کر ثنیہ الوداع تک مقابلہ کرایا اور جو گھوڑے غیر اضمار شدہ تھے ان کا مقابلہ ثنیہ الوداع سے لے کر مسجد بنوزریق تک کرایا اور حضرت عبداللہ بن عمران صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اس مقابلہ میں حصہ لیا تھا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس جملہ میں ہے: غیر اضمار شدہ گھوڑوں کا مقابلہ مثنیة الوداع سے مسجد بنوزریق تک کرایا۔ اس جملہ میں مسجد کی نسبت بنوزریق کی طرف کی گئی ہے اور یہی باب کا عنوان ہے۔
گھوڑ دوڑ وغیرہ میں ہار جیت کی شرط کے بغیر مقابلہ کرنے کا جواز
گھوڑوں میں دوڑ کا مقابلہ اگر شرط اور ہار جیت کے بغیر ہو تو یہ جائز ہے اور اگر شرط اور ہار جیت کے ساتھ ہو تو پھر یہ جوا ہے اور ناجائز اور حرام ہے۔ جوئے کی صورت یہ ہے کہ مقابلہ کرنے والے یہ شرط رکھیں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو مثلاً ایک ہزار روپے دے گا اور ہارنے والا جیتنے والے کو لازمی طور پر یہ رقم دے تو یہ حرام ہے اور جس کھیل میں بھی اس قسم کی شرط رکھی جائے وہ حرام ہے خواہ وہ تاش ہو کرکٹ ہو یا والی بال ہو اور اگر تیسرا شخص جیتنے والے کو انعام دے یا مقابلہ میں اول دوم سوم اور چہارم آنے والوں کو انعامات دے تو یہ جائز ہے۔
علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سواروں میں مقابلہ کرایا آپ کے پاس یمن کے حلے آئے ہوئے تھے آپ نے اول آنے والے کو تین حلے عطا فرمائے اور دوم آنے والے کو دو حلے عطا فرمائے اور سوم آنے والے کو ایک حلہ عطا فرمایا اور چہارم آنے والے کو ایک دینار عطا فرمایا اور پنجم آنے والے کو ایک درہم عطا فرمایا اور چھٹے نمبر پر آنے والے کو کچھ چاندی عطا فرمائی، عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۳۶ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)
تیراندازی وغیرہ کے مقابلہ میں مذاہب فقہاء، ایک جانب اور دونوں جانبوں سے شرط کا حکم اور محلل کا بیان
علامہ علاءالدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی المتوفی ۱۰۸۸ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۰ ھ لکھتے ہیں:
تیراندازی، گھوڑے کو دوڑانے، اسی طرح خچر، گدھے، اونٹ کو دوڑانے اور پیدل چلنے کے مقابلہ میں کوئی حرج نہیں ہے حدیث میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اونٹوں، گھوڑوں کو دوڑانے اور نیزہ بازی کے سوا اور کسی چیز میں مقابلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ (سنن ابوداؤد: ۲۵۷۴ سنن ترمذی: ۱۷۰۰ سنن نسائی:۳۵۸۸-۳۵۸۷)
کیونکہ یہ امور اسباب جہاد میں سے ہیں اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پیدل چلنے میں مقابلہ کرنا جائز نہیں ہے بہ شرطیکہ اس پر انعام رکھا گیا ہو اور انعام کے بغیر جائز ہے اسی طرح ہر وہ کھیل مباح ہے جو جہاد میں مفید ہو احادیث میں ہے کہ کشتی کے مقابلہ کی اجازت ہے کیونکہ وہ جہاد میں مفید ہے اور صرف کھیل اور مشغلہ کے طور پر کشتی کرنا مکروہ ہے اسی طرح اس پر ” جعل ” ( انعام دینا ) بھی جائز ہے، اس طور پر نہیں کہ وہ اس کا حق ہے اور اگر مقابلہ میں ایک جانب سے مال کی شرط رکھی جائے کہ اگر وہ آگے بڑھ گیا تو اس کو اتنا مال ملے گا تو یہ جائز ہے لیکن وہ اس کا مستحق نہیں ہوگا۔ جانب واحد کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے ساتھی سے کہے: اگر تم مجھ سے آگے نکل گئے تو میں تم کو اتنی رقم دوں گا اور اگر میں تم سے آگے بڑھ گیا تو میں تم سے کچھ نہیں لوں گا اور مستحق ہونے کا معنی یہ ہے کہ اگر مغلوب نے غالب کو طے شدہ رقم نہیں دی تو اس کو دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اسی طرح الزيلعی، الذخيرة، الخلاصة، التاتارخانيه وغيرها میں مذکور ہے اور اگر کوئی تیسرا فریق مال کی شرط رکھے، پھر بھی جائز ہے اس کی صورت یہ ہے کہ امیر یا سربراہ گھوڑوں کی دوڑ میں یا تیراندازی میں مقابلہ کرنے والوں سے یہ کہے کہ تم میں سے جو غالب ہوگا اس کو اتنا انعام ملے گا اور جو مغلوب ہوگیا’ اس کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر جانبین سے شرط ہو تو پھر حرام ہے کیونکہ یہ قمار (جوا) ہے، قمار کی تعریف یہ ہے: ہر ایسا عقد جس میں مغلوب کو غالب کے لیے معین مال دینا پڑے اور ایک فریق کو نفع اور دوسرے فریق کو نقصان لازم ہو سوا اس کے کہ وہ تیسرے محلل کو اپنے گھوڑوں کے درمیان داخل کرلیں اور اس کا گھوڑا ان کے گھوڑوں کی مثل ہو اور اس سے یہ وہم ہو کہ اس کا گھوڑا ان دونوں کے گھوڑوں پر غالب آجائے گا، پھر جب اس کا گھوڑا ان دونوں کے گھوڑوں سے آگے نکل جائے تو وہ ان سے مال لے لے گا اور اگر وہ دونوں اس پر غالب آجائیں تو وہ اس کو کچھ نہیں دیں گے اور پہلے ان دونوں کے درمیان یہ شرط ہو کہ ان میں سے جو بھی غالب ہوگا وہ اپنے ساتھی سے مال لے گا ۔ (در مختار وردالمختار ج ۹ ص ۴۹۳-491 ملخصاوموضحا ومخرجاً دار احیاء التراث العربي بيروت ۱۴۱۹ھ)
محلل کے متعلق حدیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (اپنا) گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کیا اور اس کو اپنے غالب ہونے کا یقین نہیں تھا تو کوئی حرج نہیں ہے اور جس نے (اپنا) گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کیا اور اس کو اپنے غالب ہونے کا یقین تھا تو پھر یہ قمار (جواء) ہے۔ (سنن ابوداؤد : ۲۵۷۹ سنن ابن ماجہ : ۲۸۷۶ مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص ۴۹۹ حلیة الاولیاء ج ۲ ص ۱۷۵ شرح السنة : ۲۶۵۴ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۰، مسند ابویعلی : ۵۸۶۴ المستدرک ج ۲ ص ۱۱۴ الکامل لابن عدی ج ۳ ص ۱۲۰۸ مسند احمد ج ۲ ص ۵۰۵ طبع قدیم مسند احمد : ۱۰۵۵۷ ج 16 ص 337 مؤسسة الرسالة بیروت)
محلل کا شرعی معنی
علامہ حمد بن محمد خطابی شافعی متوفی ۳۸۸ ھ لکھتے ہیں:
جس تیسرے گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کیا جاتا ہے اس کو محلل کہتے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ غالب آنے والے کے لیے اس رقم کو حلال کردیتا ہے جس کو وہ غالب آنے پر وصول کرتا ہے اور اس محلل کی وجہ سے یہ عقد قمار سے نکل جاتا ہے یعنی دو آدمیوں کے درمیان ایک مال دائر تھا اور ان میں سے ہر ایک وہ مال لے سکتا تھا اور محلل کا معنی یہ ہے کہ وہ دو مقابلہ کرنے والوں کے درمیان اپنا گھوڑا داخل کرتا ہے تاکہ اس کا گھوڑا اس بات کی علامت ہو کہ وہ دونوں محض مشق اور ورزش کے لیے گھوڑے دوڑا رہے تھے نہ کہ حصول مال کے لیے، پس وہ ان کو قمار سے نکال دیتا ہے اور جب اس کا گھوڑا ان کے گھوڑوں کی مثل ہوگا تو ان دونوں کو یہ خطرہ ہوگا کہ وہ ان دونوں پر غالب آجائے گا اور مقرر رقم حاصل کر لے گا تو وہ دونوں گھوڑا دوڑانے کی خوب کوشش اور جدوجہد کریں گے اور اگر وہ محلل کم عقل ہوگا اور اس کو غالب ہونے کا یقین ہوگا تو اس سے ان دونوں کو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ وہ ان سے آگے بڑھ کر مقرر رقم حاصل کرے گا اور اس سے تحلیل کا معنی حاصل نہیں ہوگا اور اس کا اپنے گھوڑے کو ان کے گھوڑوں کے درمیان داخل کرنا لغو ہوگا اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور ایسا ہوگا کہ دو آدمیوں نے گھوڑا دوڑانے میں شرط رکھ کر مقابلہ کیا اور ان کے درمیان کوئی محلل نہیں تھا اور یہ عین قمار ہے جو حرام ہے ۔ (معالم السنن مع مختصر المنذری ج ۳ ص 401-400 دار المعرفة بیروت)
اضمار شدہ گھوڑے اور غیر اضمار شدہ گھوڑے کا معنی
اس حدیث میں اضمار شدہ گھوڑوں اور غیر اضمار شدہ گھوڑوں کا ذکر ہے۔
اضمار اور تضمیر کا یہ معنی ہے کہ چالیس دن تک گھوڑے کو بہ تدریج زیادہ کھلایا اور پلایا جائے حتی کہ وہ بہت فربہ ہوجائے پھر بہ تدریج اس کی خوراک کم کی جائے تاکہ گھوڑے کا وزن کم ہوجائے ایک قول یہ ہے کہ گھوڑے پر زین اور جل کا وزن ڈالا جائے اور اس سے مشقت کرائی جائے، حتی کہ اس کو خوب پسینہ آئے اور غیر اضمار شدہ گھوڑے کا معنی یہ ہے کہ اس گھوڑے کے ساتھ اضمار کا عمل نہ کیا جائے۔
الحفياء “ اور ”ثنية الوداع کا معنی
الحفياء ، ثنية الوداع “سے پانچ سے سات میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے اور ثنیہ کا معنی گھاٹی ہے اور الوداع کا معنی ہے: رخصت کرنا یہ وہ گھاٹی ہے جہاں مدینہ سے مکہ جانے والے لوگوں کو رخصت کرتے ہیں، یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کی جانب ہے یا یہ وہ گھاٹی ہے جہاں مدینہ سے تبوک جانے والوں کو رخصت کرتے ہیں، مورخین اور شارحین نے ثنیۃ الوداع کی تفسیر میں ان دونوں گھاٹیوں کا ذکر کیا ہے۔
ثنیة الوداع کی خصوصی تحقیق
حافظ احمد بن حسین بیہقی متوفی ۴۵۸ ھ روایت کرتے ہیں:
ابوعمر والا دیب اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو عورتیں اور بچے یہ پڑھا رہے
طلع البدر علينا من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا ما دعا لله داع
ثنیات الوداع سے ہم پر چودھویں شب کا چاند طلوع ہوا، جب تک کوئی اللہ کے لیے دعوت دیتا ہے ہم پر شکر ادا کرنا واجب ہے”۔
دلائل النبوة ج ۲ ص ۵۰۷-۵۰۶ دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ)
نیز امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ السائب بن یزید سے روایت کرتے ہیں:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو میں نے بچوں کے ساتھ ثنیتہ الوداع پر آپ کا استقبال کیا ( صحیح البخاری : ۳۰۸۳) اور ابن عائشہ نے کہا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو عورتیں، بچے اور باندیاں یہ پڑھ رہے تھے :
طلع البدر علينا من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا ما دعا الله داع
میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء اس کا ذکر اس موقع کے عنوان سے کرتے ہیں’ جب آپ مکہ سے مدینہ آئے تھے اور ہم نے اس کا وہاں بھی ذکر کیا ہے نہ کہ جب آپ تبوک سے مدینہ آئے تھے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے، سو ہم نے اس کا یہاں بھی (یعنی تبوک سے آتے وقت بھی) ذکر کیا ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ۵ ص ۲۶۶ – ۲۶۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۳ھ )
علامہ شہاب الدین ابوعبداللہ یعقوب بن عبدالله الحموی الرومی البغدادی المتوفی ۶۲۶ ھ لکھتے ہیں:
“ثنية الوداع (واؤ پر زبر ہے) الوداع کا معنی ہے: کسی کے کوچ کے وقت اس کو رخصت کرنا۔ ”ثنية الوداع‘ایک
بلند گھاٹی ہے جہاں سے مدینہ دکھائی دیتا ہے جو شخص مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کرتا ہے وہ اس گھاٹی پر چڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو آخر میں مدینہ پر خلیفہ بنایا تھا، آپ نے اس وادی پر ان کو رخصت کیا تھا۔ ( معجم البلدان ج ۲ ص ۸۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۳۹۹ھ )
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:
حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں لڑکوں کے ساتھ ثنیتہ الوداع کی طرف گیا’ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے مل رہے تھے، ایک مرتبہ راوی سفیان نے لڑکوں کی بجائے بچوں کے ساتھ کہا۔ (صحیح البخاری : ۴۴۲۶)
حضرت السائب سے روایت ہے: مجھے یاد ہے میں بچوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف نکلے جب آپ غزوہ تبوک سے آرہے تھے۔ (صحیح البخاری: ۴۴۲۷)
اس روایت میں جو تبوک سے آنے کا اضافہ ہے اس کا الداؤدی نے انکار کیا ہے اور ابن قیم نے بھی اس کی اتباع کی ہے اور کہا ہے کہ ثنیتہ الوداع مکہ کی جہت میں ہے نہ کہ تبوک کی جہت میں، بلکہ یہ مشرق اور مغرب کی طرح ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور کہا: ہاں! یہ ہوسکتا ہے کہ وہاں اس جہت میں کوئی اور گھائی ہو ۔ (علامہ ابن حجر لکھتے ہیں : ) میں کہتا ہوں کہ اس سے کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ گھاٹی جہت حجاز میں ہو اور اس گھاٹی سے مسافر شام کی طرف نکلتے ہوں اور یہ واضح ہے جیسے وہ ایک گھاٹی سے مکہ میں داخل ہوں اور دوسری گھائی سے مکہ سے نکل جائیں۔ (میرے نزدیک عبارت یوں ہونی چاہیے کہ وہ ایک گھاٹی سے مدینہ میں داخل ہوں اور دوسری گھاٹی سے مدینہ سے نکل جائیں، پہلی گھاٹی مکہ کی جہت میں ہو اور دوسری گھاٹی تبوک کی جہت میں ہو اور اگر حافظ ابن حجر کے بہ قول دونوں گھاٹیاں مکہ مکرمہ میں ہوں تو پھر یہ بالمقابل کیسے ہوں گی ! سعیدی غفرلہ ) اور یہ دونوں گھاٹیاں ایک راستہ پر ختم ہورہی ہوں اور ہم نے ” الحلبیات میں سند منقطع سے روایت کی ہے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعلام مدینہ میں آئے تو عورتوں نے پڑھا: ” طلع البدر علينا من ثنيات الوداع‘ ایک قول یہ ہے کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آرہے تھے اس وقت پڑھا، دوسرا قول ہے: جب آپ تبوک سے آرہے تھے اس وقت پڑھا۔ ( میں کہتا ہوں : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں دفعہ پڑھا ہو۔ سعیدی غفرلہ)
فتح الباری ج ۵ ص ۴۴۶ دار المعرفہ بیروت 1426ھ)
میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کی اس عبارت میں یہ تصریح ہے کہ ثنیہ الوداع نام کی دو گھاٹیاں ہیں ایک مکہ کی جہت میں ہے اور دوسری تبوک کی جہت میں ہے، البتہ ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ابن قیم نے یہ کہا ہے کہ ثنیہ الوداع مکہ کے راستہ میں ہے نہ کہ تبوک کے راستہ میں، یہ حافظ ابن حجر نے غلط لکھا ہے کیونکہ ابن قیم نے اس کے برعکس لکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں : علامہ محمد بن ابی بکر ابن قیم الجوزیہ المتوفی ۷۵۱ ھ لکھتے ہیں :
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگ نکل کر آپ سے ملاقات کرنے لگے اور عورتیں، بچے اور باندیاں پڑھ رہی تھیں:
طلع البدر علينا من ثنيات الوداع
وجب الشكر علينا ما دعا لله داع
بعض راوی ان اشعار میں وہم کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ یہ اشعار اس وقت پڑھ رہے تھے جب آپ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ آ رہے تھے اور یہ وہم ظاہر ہے کیونکہ ثنیات الوداع صرف شام کی سمت پر ہے اور مکہ سے مدینہ آنے والا ان کو نہیں دیکھ سکتا اور آدمی ان کے پاس سے اسی وقت گزرتا ہے جب وہ شام کی طرف متوجہ ہو۔ (زاد المعارج ۳ ص 469 دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ)
ہر چند کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے ابن قیم کی عبارت غلط نقل کی ہے، لیکن ان کی عبارت سے یہ واضح ہوگیا کہ ثنيات الوداع نام کی دو گھاٹیاں ہیں، ایک مکہ سے مدینہ کے راستہ میں ہے اور دوسری تبوک سے مدینہ کے راستہ میں ہے اور جب آپ مکہ سے مدینہ آئے جب بھی آپ کے استقبال کے وقت یہ اشعار پڑھے گئے اور جب آپ غزوہ تبوک سے مدینہ واپس آئے اس وقت بھی آپ کے استقبال کے وقت یہ اشعار پڑھے گئے۔
اس باب کی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد کی اضافت اس کے بنانے والے اور اس کے نمازیوں کی طرف کرنا جائز ہے۔
اسی طرح نیک اعمال کی نسبت نیک کام کرنے والوں کی طرف کرنا جائز ہے۔
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۷۲۸- ج ۵ ص ۸۳۶ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں:
گھڑ دوڑ میں مقابلہ اور اس کی تیاری کا بیان
دوڑ کا مقابلہ (ریس) منعقد کرانے میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ
فقہاء مالکیہ کا نظریہ
فقہاء حنبلیہ کا نظریہ
فقہاء احناف کا نظریہ
جوئے کی تعریف
جوئے کے متعلق قرآن مجید کی آیات
جوئے کے متعلق احادیث
جوئے کے حکم میں فقہاء احناف کی رائے
فقہاء شافعیہ کی رائے
فقہاء مالکیہ کی رائے
فقہاء حنبلیہ کی رائے
معمہ لاٹری اور سنہ کا حکم
بیمہ کیا چیز ہے
بیمہ کی تاریخ اور ارتقاء
مجوزین بیمہ کے عقلی اور شرعی دلائل
مجوزین بیمہ کی طرف سے بیمہ میں عنصر قمار اور سود کی وضاحت
انشورنس اور سود
انشورنس کے سلسلہ میں دوسری خرابیوں کا احتمال
بیمہ کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی کی رائے
بیمہ زندگی کے متعلق علماء مصر کا نظریہ
آتش زدگی اور نا گہانی آفات سے تحفظ کی خاطر بیمہ کرانے کے متعلق علماء مصر کا نظریہ
بیمہ کے متعلق اعلیٰ حضرت کا نظریہ
سید مودودی کا نظریہ
علماء شیعہ کا نظریہ
مصنف کی تحقیق اور بحث و نظر
بیمہ کے موجودہ نظام کے شرعی مفاسد
کیا بیمہ قمار کو مستلزم ہے
بیمہ کے موجودہ نظام کے لیے قابل عمل اصلاحی ترامیم
مسلمانوں کی فلاح کے لیے حکومت کسی امر مباح کو واجب کرسکتی ہے
باہمی تعاون اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے کی ہدایت سے بیمہ پر استدلال
قتل خطاء کی دیت سے بیمہ پر استدلال
دیت کی مقدار
عاقلہ کا مصداق
عاقلہ پر ویت مقرر کرنے کی حکمت بیمہ کے مسئلہ میں حرف آخر ۔
بیمہ کی یہ بحث شرح صحیح مسلم : ۴۷۲۸- ج ۵ ص ۸۷۵-۸۳۷ میں ۳۸ صفحات پر محیط ہے۔