کتاب الصلوۃ باب 43 حدیث نمبر 422
٤٣ – بَابُ مَنْ دَعَا لِطَعَامٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَنْ أَجَابَ مِنْهُ
جس نے کسی شخص کو مسجد میں کھانے کے لیے بلایا اور جس نے اس کو قبول کیا
اس باب سے امام بخاری کا یہ مقصود ہے کہ مسجد میں کسی کو کھانے کی دعوت دینا اور کسی کا اس دعوت کو قبول کرنا، ان کاموں میں ہے جو مسجد میں مباح ہیں اور ان لغو کاموں سے نہیں ہے جو مسجد میں ممنوع ہیں، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں کا تعلق مسجد کے احکام سے ہے۔
٤٢٢ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ سَمِعَ أَنَسا قَالَ وَجدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَاس،ٌ فَقمت فَقَالَ لِي أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فقال لِطَعَامٍ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فَقَالَ لِمَنْ مَّعَهُ قُوْمُوا فَانْطلق وَانْطَلَقْتُ بَيْن أَيْدِيهِم۔
اطراف الحدیث: ۵۳۸۱-۵۴۵۰-6688۲
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از اسحاق بن عبداللہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا’ آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے پس میں کھڑا ہوگیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فرمایا: کھانے کے لیے؟ میں نے کرنا جی ہاں! آپ کے ساتھ جو لوگ تھے آپ نے ان سے فرمایا: ایک پس آپ چل پڑے اور میں بھی ان کے آگے چل پڑا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں کھانے کی دعوت دی اور آپ نے اس کو قبول فرمالیا۔
کن صورتوں میں دعوت کو قبول کرنا چاہیے اور کن صورتوں میں عذر پیش کرنا چاہیے اور کن صورتوں میں دعوت کو مسترد کرنا چاہیے
اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ مسجد میں کھانے کی دعوت دینا اور اس کو قبول کرنا جائز ہے اگر آدمی کو کوئی عذر نہ ہو تو اس کو دعوت قبول کرلینی چاہیئے اگر وہ آدمی بیمار ہو اور پرہیزی کھانا کھاتا ہو اور دعوت میں پرہیزی کھانا میسر نہ ہو بلکہ مرغن اور چٹ پٹا کھانا ہو تو اس کو اس دعوت میں جانے سے عذر کر لینا چاہیے اور اگر اس دعوت میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط اجتماع ہو اور رقص اور موسیقی وغیرہ کا
پروگرام ہو جیسا کہ آج کل نکاح اور ولیمہ کی تقاریب میں ہوتا ہے تو ایسی دعوت کو مسترد کرنا واجب ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سلطان اور سربراہ کو کھانے کی دعوت دینی چاہیے اور اگر کوئی شرعی یا طبعی مانع نہ ہو تو ان کو دعوت قبول کرلینی چاہیے۔
جب کسی بڑی شخصیت کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ حاضرین مجلس کو بھی اپنے ساتھ لے جائے۔
اس دعوت طعام میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا کم مقدار میں تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے وہ کھانا سب کے لیے کافی ہو گیا اور یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔