کتاب الصلوۃ باب 44 حدیث نمبر 423
٤٤ – بَابُ الْقَضَاءِ وَاللعَانِ فِي الْمَسْجِد ِبَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ
مردوں اور عورتوں کے درمیان مسجد میں فیصلہ کرنا اور لعان کرنا
اس باب میں مسجد میں فیصلہ کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے اور لعان کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے فیصلہ کرنا عام ہے خواہ وہ لعان کا فیصلہ ہو یا کسی اور چیز کا اور لعان خاص ہے اور عنوان کی عبارت میں خاص کا عطف عام پر ہے۔
لعان کا معنی اور اس کی قسمیں
لعان، لعن کا مصدر ہے اور لعن“ کا معنی ہے: دھتکارنا اور دور کرنا اور اس کی دو قسمیں ہیں کلیتہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنا اور یہ دائمی عذاب ہے، لعنت کی یہ قسم کفار کے ساتھ مخصوص ہے اور اس معنی میں شخصی طور پر صرف اس پر لعنت کی جاسکتی ہے جس کی کفر پر موت معلوم ہو جیسے ابوجہل اور ابولہب وغیرہ اور صفات پر بالعموم لعنت کرنا جائز ہے، جیسے جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور لعنت کی دوسری قسم ہے: اللہ تعالی کی رضا اور قرب خاص سے دور کرنا یہ لعنت فاسق مسلمان پر کرنا بھی جائز ہے جیسے قرآن مجید میں مسلمان شخص کے خود اپنے اوپر لعنت کرنے کا ذکر ہے:
وَالخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الكذبين (النور :7 )
اور پانچویں بار وہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہوں۔
لعان کا معنی
لعان باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اس کا خاصہ ہر فریق کا ماخذ میں اشتراک ہے، سو اس کا معنی ہے: ہر فریق کا ایک دوسرے پر لعنت کرنا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی اجنبی مرد کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو وہ قاضی کے پاس اپنا مقدمہ پیش کرے اور قاضی اسے کہے کہ تم چار بار قسم کھاؤ کہ تم اپنی تہمت میں سچے ہو اور پانچویں بار کہو : مجھ پر لعنت ہو اگر میں جھوٹوں میں سے ہوں، قرآن مجید میں ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِۙ-اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ(6)وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(7) النور
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا اور کوئی گواہ نہ ہو تو وہ چار بار اللہ کی قسم کھائیں کہ وہ سچوں میں سے ہے0 اور پانچویں بار وہ یہ کہیں کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہوں ( النور : ٧-٦)
اور قاضی عورت سے کہے کہ اگر بالفرض تم نے زنا کیا ہے تو تم اعتراف کرلو تم پر حد زنا جاری ہوگی ورنہ تم چار بار یہ قسم کھاؤ کہ اس کا خاوند اس پر جھوٹی تہمت لگارہا ہے اور پانچویں بار یہ کہو کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ( لعنت) نازل ہو، قرآن مجید میں ہے:
وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِۙ-اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ (8)وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(9) النور
اور عورت سے حد زنا اس طرح دور ہوگی کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس کا خاوند جھوٹوں میں سے ہے0 اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو0
اس آیت میں غضب بھی لعنت کے معنی میں ہے اور چونکہ اس صورت میں خاوند اور بیوی دونوں ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں، اس لیے اس کو لعان کہا جاتا ہے اور چونکہ وہ دونوں مسلمان ہوتے ہیں، اس لیے یہاں لعنت کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بالکلیہ دور ہونے کا معنی آخرت میں دائی عذاب ہے اور وہ صرف کفار کے ساتھ مخصوص ہے، مسلمانوں کو دائمی عذاب نہیں ہوگا جو مسلمان فاسق ہو اور اس کو عذاب ہو تو وہ عارضی عذاب ہوگا، پھر اس کی مغفرت ہوجائے گی اور وہ جنت میں چلا جائے گا تو اس صورت میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگانے والا کہتا ہے کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو تو اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب خاص سے دور ہوجائے۔
ہم نے جولعنت کی یہ دو قسمیں بیان کی ہیں یہ ہماری شرح کے خصائص میں سے ہیں اور کسی شرح میں یہ مذکور نہیں ہیں، نیز جن علماء اکابر سے یہ منقول ہے کہ وہ یزید پر لعنت کرتے ہیں ہمارے نزدیک یہ وہ لعنت نہیں ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کلیہ دور کرنا اور دائمی عذاب ہے بلکہ یہ وہ لعنت ہے جس کا معنی اللہ کی رضا اور اس کے قرب خاص سے دور کرنا ہے۔
٤٢٣ – حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَال أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَاب، عن سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَاتِهِ رجلا، ايقتله؟ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ.
اطراف الحدیث: ۴۷۴۵-۴۷۴۶-5259۔ 5309۔ 6854۔ 7165۔ 7166۔ 7304
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی از حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اللہ ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ ! یہ بتائیے ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پائے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے؟ پھر ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا (ایک دوسرے پر لعنت کی ) اور میں اس کا مشاہدہ کر رہا تھا۔
(صحیح مسلم : 1492، الرقم المسلسل : ۳۶۷۳، سنن ابوداد ۲۲۴۵، سنن نسائی:۳۳۹۹ سنن ابن ماجه :۲۰۶۶ المعجم الکبیر : 5682 – 5690 سنن بیہقی ج 7 ص ۳۹۹ شرح السنة : ۲۳۶۷ مصنف عبد الرزاق : 12447 -12446 سنن دارمی: ۲۲۳۰ المنتقی : 756، صحیح ابن حبان: ۴۲۸۳ – 4285 مسند احمد ج ۵ ص ۳۳۴ طبع قدیم مسند احمد : ۲۲۸۳۲ – ج 37 ص ۴۸۷ مؤسسة الرسالة بیروت)
.اس حدیث کے پانچ رجال میں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور باب کا عنوان ہے: مسجد میں لعان کرتا۔
حدیث مذکور میں سوال کرنے والے کا نام
اس حدیث میں مذکور ہے: ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! یہ بتائیے ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پائے۔
سوال کرنے والے شخص کے نام میں اختلاف ہے صحیح مسلم :۱۴۹۲ میں ہے: وہ شخص حضرت عویمر العجلانی الانصاری رضی اللہ عنہ تھے صحیح مسلم : ۱۴۹۷ میں ہے: وہ شخص حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ تھے اور صحیح مسلم:۱۴۹۹ میں ہے: وہ شخص حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔
لعان کے حکم کے نزول کی تفصیل
صحیح البخاری کی اس روایت میں یہ واقعہ اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے صحیح مسلم : ۱۴۹۲ میں اس کی تفصیل اس طرح ہے:
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر العجلانی، حضرت عاصم بن عدی انصاری کے پاس گئے اور ان سے کہا: اے عاصم ! یہ بتاؤ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کر دے؟ پھر تم اس کوقتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم ! تم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو، پھر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند کیا اور اس کی مذمت کی، حتی کہ حضرت عاصم پر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات شاق گزری’ پھر حضرت عاصم، حضرت عویمر کے پاس گئے انہوں نے پوچھا: اے عاصم ! تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمایا : حضرت عاصم نے حضرت عویمر سے کہا: میں تمہارے پاس کوئی اچھی خبر نہیں لایا تم نے جو سوال کیا ہے وہ رسول اللہ پر ناگوار گزرا ہے حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس سوال سے ہرگز نہیں رکوں گا حتی کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرلوں پھر حضرت عویمر نے لوگوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا اور کہا: یارسول اللہ! یہ بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی(اجنبی) مرد کو پائے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے؟ پھر آپ لوگ اس کو قتل کردیں گے! یا پھر وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق حکم نازل ہو گیا ہے تم جاؤ اس کو لے کر آؤ ، سہل نے کہا: پھر ان دونوں نے لعان کیا یعنی ایک دوسرے پر لعنت کی اور میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ ! اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا تو پھر میں جھوٹا ہوں گا پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے پہلے اس کو تین طلاقیں دے دیں ابن شہاب نے کہا: یہ لعان کا طریقہ ہے۔
(صحیح مسلم : 1492، الرقم المسلسل : ۳۶۷۳، سنن ابوداؤد : 2245 سنن نسائی:۳۴۰۲، سنن ابن ماجه : 2066، مسند احمد ج ۵ ص ۳۳۴)
ایک مجلس میں تین طلاقوں کے وقوع کی دلیل اور مخالفین کے اعتراض کے جوابات
اس حدیث سے صراحت کے ساتھ یہ بات معلوم ہوئی کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور یہ حدیث غیر مقلدین کے خلاف قوی حجت ہے، مخالفین اس حدیث کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ حضرت عویمر نے لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں اور لعان سے عورت بائنہ ہوجاتی ہے اور بائنہ ہونے کے بعد وہ طلاق کا محل نہیں رہتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ عورت قاضی کی تفریق اور اس کے فیصلہ کے بعد بائنہ ہوتی ہے اور اس حدیث میں تصریح ہے کہ حضرت عویمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے پہلے اس کو تین طلاقیں دے دی تھیں، لہذا جب انہوں نے تین طلاقیں دیں تو ان کی بیوی بائنہ نہیں ہوئی تھی اور طلاق کا محل تھی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عویمر نے یہ کہہ کر اس کو تین طلاقیں دی تھیں کہ یا رسول اللہ ! اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا تو پھر میں جھوٹا ہوں گا، اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عویمر کے نزدیک وہ ان کے نکاح میں تھی اور اس کو اپنے پاس رکھنا ممکن تھا اور وہ طلاق دینے کا محل تھی ۔
اس حدیث کے باقی مسائل ان شاء اللہ لعان کے باب میں بیان کیے جائیں گے۔
حدیث مذکور کی شرح شرح صحیح مسلم میں
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۶۳۳- ج ۳ ص ۱۳۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں:
لعان کا لغوی اور اصطلاحی معنی
لعان کے شرعی معنی میں مذاہب فقہاء
لعان کی وجہ تسمیہ
بلا ضرورت سوالات کو ناپسند کرنا
زانی کو از خود قتل کرنے کا حکم
لعان کے بعد تفریق میں مذاہب
فقہاء احناف کے نظریہ پر دلائل
علامہ نووی کے اعتراض کے جوابات
العان کی وجہ سے بچہ کے نسب کی نفی میں مذاہب فقہاء۔