سید فضیل رضا قادری پر قادیانیوں سے اعزازی ڈگری لینے کا الزام
سید فضیل رضا قادری پر قادیانیوں سے اعزازی ڈگری لینے کا الزام، ، مکمل سٹوری جلد برمنگھم اردو نیوز پر ملاحظہ فرمائیں۔
کچھ عرصہ قبل ہاوس آف لارڈز میں دی گئی ڈگری پر لگے لوگو کو لے کر مزموم پراپیگنڈا پھیلا جانے لگا۔ سازش یا معلومات کی کمی کی بنیاد پر ایسا ہوا؟ راولپنڈی کے مخصوص علماء کا گروپ بھی متحرک
ایف جی آر ایف انٹرنیشنل کے سربراہ محمد فیصل سمیع المشہور سید فضیل رضا قادری کو کچھ عرصہ قبل اعزازی ڈگری سے نوازا گیا تھا جس کی تقریب برطانوی پارلیمنٹ ہاوس آف لارڈ میں رکھی گئی تھی۔ یہ اعزاز ان کی برطانیہ اور دنیا بھر میں خدمات کے عوض دیا گیا۔ برمنگھم اردو نیوز کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق اس ڈگری کے سپانسر میں ایک ایسا ادارہ شامل ہے۔ جس پر سید محمد فیصل سمیع پر سخت تنقید کی جا رہی یے۔
دوسری طرف بے بنیاد پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیتے وقت یہ موقف اختیار کیا گیا یے
سوشل میڈیا پر برمنگھم (یوکے) میں دعوتِ اسلامی اور FGRF International کے ذمہ دار سید فیصل سمیع کے خلاف بے بنیاد الزامات اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کی ہم سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اہلِ سنت کے علمائے کرام اور دینی حلقے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان سے باہر، خصوصاً برطانیہ، یورپ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اپنے عقیدے اور دینی شناخت کے ساتھ کام کرنا انتہائی حساس اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں متعدد معروف علمائے کرام اور اکابرین کے ویزے منسوخ ہونے اور بعض کی برطانیہ میں آمد پر پابندی جیسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں بغیر کسی مستند ثبوت کے سنگین الزامات عائد کرنا نہ انصاف ہے اور نہ ہی دیانت داری۔
جس پروگرام کا حوالہ دے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ لندن میں منعقد ہونے والی ایک مشترکہ تقریب تھی، جس میں مختلف افراد اور اداروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ صرف کسی تقریب میں شرکت کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرنا کہ یہ کسی مخصوص گروہ کا پروگرام تھا یا تمام شرکاء کو اس کی ہر تفصیل کا علم تھا، ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔
اگر کسی کو واقعی اس معاملے میں کوئی شرعی، انتظامی یا تنظیمی غلطی نظر آتی ہے تو مناسب طریقے سے متعلقہ ذمہ داران سے براہِ راست رابطہ کیا جائے، اپنا مؤقف اور ثبوت پیش کیا جائے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔ لیکن سوشل میڈیا پر آدھی ادھوری معلومات، قیاس آرائیوں اور الزامات کے ذریعے پروپیگنڈا مہم چلانا نہ مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی یہ دینی و اخلاقی طریقۂ کار ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض افراد اپنی آڈیوز، ویڈیوز اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا الزامات ثابت ہو چکے ہیں، حالانکہ آج تک کوئی واضح، مستند اور قابلِ تصدیق ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اگر واقعی کسی کے پاس کوئی ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہے تو وہ اسے کھلے عام پیش کرے تاکہ عوام خود فیصلہ کر سکیں، ورنہ بے بنیاد پروپیگنڈا بند کیا جائے۔
اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف ہمیشہ دلیل، تحقیق اور انصاف کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت جیسے نہایت حساس معاملے کو بغیر ثبوت کسی مسلمان پر الزامات عائد کرنے یا سوشل میڈیا مہم کا ذریعہ بنانا نہ شرعاً درست ہے اور نہ اخلاقاً۔
ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہیں تو وہ سامنے لائے، ورنہ بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈا پھیلا کر امتِ مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔ اختلاف دلیل سے ہونا چاہیے، بہتان اور کردار کشی سے نہیں۔
