اعتراض:-  ابو لہب کے عذاب میں پیر کے دن کمی آجاتی ہے جیسا کہ یہ حدیث اظہر من الشمس ہے حالانکہ قرآن کہتا ہے لا یخفف عنھم العذاب یعنی کافروں سے عذاب کم نہیں ہوگا اس سے معلوم چلا یہ حدیث قرآن سے ٹکراتی ہے گویا یہ حدیث مردود ہے ( معاذاللہ)

 

جواب درج ذیل ہے 👇👇👇

 

جب حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین گئے تھے تو ایک شیخ آیا اور اس نے کہا آپ لوگ ایک حدیث پڑھتے ہیں اور اس سے میلاد النبی ثابت کرتے ہیں حالانکہ وہ مردود ہے آپ نے فرمایا کونسی ہے اس نے کہا کہ ابولہب کے بارے میں جو آپ لوگ بیان کرتے ہیں کہ سرکار کی پیدائش پر اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا جس سے اس کو  مرنے کے بعد پیر کے دن عذاب میں کمی آ جاتی ہے وغیرہ وہ کہتا ہے کہ یہ قرآن سے ٹکراتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ یعنی کافروں سے عذاب کم نہیں ہوگا اور جب یہ حدیث قرآن سے ٹکرائی تو گویا یہ حدیث مردود ہے جھوٹی ہے وہ بہت خوش تھا کہ میں نے بہت بڑا کام کر دیا

حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں ذرا قرآن میں آگے بھی پڑھو پوری آیت پڑھو آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ) وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠

یعنی آگے فرماتا ہے کہ کافروں کی اللہ تعالیٰ مدد نہیں فرمائے گا اور تم بتاؤ آج بھی اللہ تعالیٰ کافروں کی امداد فرماتاہے یا نہیں اور اگر نہیں فرماتا تو دنیا میں کوئی کافر زندہ نہ رہتا اس سے معلوم چلا کہ مدد فرماتا ہے  اب وہ خود دم بخود ہوگیا کیا جواب دوں آپ فرماتے ہیں حدیث مذکور جس میں ابولہب کا ذکر ہے اور قرآن کی آیت دونوں صحیح ہے آیت کا تعلق جہنم سے ہے یعنی جہنم میں کافروں سے عذاب کم نہیں ہوگا اور نہ وہاں ان کی مدد کے جائے گی اور حدیث کا تعلق قبر سے ہے یعنی قبر میں عذاب میں کمی بیشی ہوسکتی ہے

 

واللہ اعلم بالصواب

 

طالب دعا ریاض احمد القادری الفیضی گونڈوی