وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ(۱۲)

 

اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲۴) اور سُنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آ گیا (ف۲۶)

(ف22)
یعنی کُفّار و مشرکین ۔
(ف23)
اپنے افعال و کردار سے شرمندہ و نادم ہو کر اور عرض کرتے ہوں گے ۔
(ف24)
مرنے کے بعد اٹھنے کو اور تیرے وعدہ وعید کے صدق کو جن کے ہم دنیا میں منکِر تھے ۔
(ف25)
تجھ سے تیرے رسولوں کی سچّائی کو تو اب دنیا میں ۔
(ف26)
اور اب ہم ایمان لے آئے لیکن اس وقت کا ایمان لانا انہیں کچھ کام نہ دے گا ۔

 

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (۱۳)

 

اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اُس کی ہدایت عطافرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)

(ف27)
اور اس پر ایسا لطف کرتے کہ اگر وہ اس کو اختیارکرتا تو راہ یاب ہوتا لیکن ہم نے ایسا نہ کیا کیونکہ ہم کافِروں کو جانتے تھے کہ وہ کُفر ہی اختیار کریں گے ۔
(ف28)
جنہوں نے کُفر اختیار کیا اور جب وہ جہنّم میں داخل ہوں گے تو جہنّم کے خازن ان سے کہیں گے ۔

 

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَاۚ-اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۴)

 

اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ

(ف29)
اور دنیا میں ایمان لائے تھے ۔
(ف30)
عذاب میں اب تمہاری طرف التفات نہ ہو گا ۔

 

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩(۱۵)

 

ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ اُنہیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے

(ف31)
تواضُع اور خشوع سے اور نعمتِ اسلام پر شکر گزاری کے لئے ۔

 

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا٘-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)

 

اُن کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور اُمید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں

(ف32)
یعنی خوابِ استراحت کے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے راحت و آرام کو چھوڑتے ہیں ۔
(ف33)
یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہیں یہ تہجُّد ادا کرنے والوں کی حالت کا بیان ہے ۔
شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے حق میں نازل ہوئی کہ ہم مغرب پڑھ کر اپنی قیام گاہوں کو واپس نہ آتے تھے جب تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء نہ پڑھ لیتے ۔

 

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷)

 

تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے (ف۳۴) صلہ اُن کے کاموں کا (ف۳۵)

(ف34)
جس سے وہ راحتیں پائیں گے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ۔
(ف35)
یعنی ان طاعتوں کا جو انہوں نے دنیا میں ادا کیں ۔

 

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ﳳ-لَا یَسْتَوٗنَؐ(۱۸)

 

تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بے حکم ہے (ف۳۶) یہ برابر نہیں

(ف36)
یعنی کافِر ہے ۔
شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم سے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کسی بات میں جھگڑ رہا تھا ، دورانِ گفتگو میں کہنے لگا خاموش ہو جاؤ تم لڑکے ہو میں بوڑھا ہوں ، میں بہت زبان دراز ہوں ، میری نوکِ سنان تم سے زیادہ تیز ہے ، میں تم سے زیادہ بہادر ہوں ، میں بڑا جھتے دار ہوں ، حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہَ الکریم نے فرمایا چپ تو فاسق ہے ، مراد یہ تھی کہ جن باتوں پر تو ناز کرتا ہے انسان کے لئے ان میں سے کوئی قابلِ مدح نہیں ، انسان کا فضل و شرف ایمان و تقوٰی میں ہے جسے یہ دولت نصیب نہیں وہ انتہا کا رذیل ہے ، کافِر مومن کے برابر نہیں ہو سکتا ، اللہ تبارک و تعالٰی نے حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔

 

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى٘-نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۹)

 

جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے کاموں کے صلہ میں مہمانداری (ف۳۷)

(ف37)
یعنی مومنینِ صالحین کی جنّتِ ماوٰی میں عزّت و اکرام کے ساتھ مہمانداری کی جائے گی ۔

 

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُؕ-كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ(۲۰)

 

رہے وہ جو بے حکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آ گ ہے جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اُسی میں پھیر دئیے جائیں گے ۔ اور اُن سے فرمایا جائے گا چکھو اس آ گ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے

(ف38)
نافرمان کافِر ہیں ۔

 

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۲۱)

 

اور ضرور ہم اُنہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف۴۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے

(ف39)
دنیا ہی میں قتل اور گرفتاری اور قحط و امراض وغیرہ میں مبتلا کر کے چنانچہ ایسا ہی پیش آیا کہ حضور کی ہجرت سے قبل قریش امراض و مصائب میں گرفتار ہوئے اور بعدِ ہجرت بدر میں مقتول ہوئے ، گرفتار ہوئے اور سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں مبتلا رہے کہ ہڈیاں اور مردار اور کتّے تک کھا گئے ۔
(ف40)
یعنی عذابِ آخرت سے ۔

 

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَاؕ-اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠(۲۲)

 

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے اُن سے منہ پھیر لیا (ف۴۱) بےشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں

(ف41)
اور آیات میں غور نہ کیا اور ان کے وضوح و ارشاد سے فائدہ نہ اٹھایا اور ایمان سے بہرہ اندوز نہ ہوا ۔