غوثِ پاک کے دھوبی والے واقعے کی اصل: ایک اصولی وضاحت
*غوثِ پاک کے دھوبی والے واقعے کی اصل: ایک اصولی وضاحت*
ہمارے ہاں گیارہویں شریف کے ایام میں اس واقعے کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے، اور بعض اوقات اسی کی بنیاد پر دیگر کرامات و مناقب کے بارے میں بھی اشکالات پیدا کیے جاتے ہیں۔
بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی واقعے کا کسی خاص لفظ یا تفصیل کے ساتھ معتبر ماخذ میں ثابت نہ ہونا، اس کے ہر ممکن اصل و مفہوم کی نفی نہیں کرتا۔ تحقیق کا تقاضا ہے کہ دیکھا جائے واقعہ اپنی اصل کے اعتبار سے کہاں اور کن الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔
یہی محدثین کا اصول بھی ہے کہ کبھی کسی حدیث کے پورے متن میں وضع نہیں ہوتی، بلکہ صرف ایک لفظ یا جملہ غیر ثابت ہوتا ہے۔ امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وقد يقع الوضع في لفظة من الحديث لا في كله
یعنی کبھی حدیث کے پورے متن میں نہیں بلکہ صرف ایک لفظ میں وضع واقع ہوتی ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے امام سیوطی علیہ الرحمہ نے حدیث «لا سبق إلا في نصل أو خف أو حافر أو جناح» ذکر فرمائی کہ حدیث کا ابتدائی حصہ ثابت ہے، جبکہ «أو جناح» کا اضافہ موضوع ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ کسی روایت کے ایک لفظ یا جزو کے غیر ثابت ہونے سے پورے واقعے کو غیر ثابت قرار دینا محدثین کا اصول نہیں۔
اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ واقعہ ثابت ہے یا نہیں، اور اگر ہے تو کن الفاظ کے ساتھ؟
اس واقعے کی اصل و مثل تفریح الخاطر میں مذکور ہے۔ اگرچہ بعینہٖ “دھوبی” کے لفظ کے ساتھ نہیں، بلکہ “فاسق” کے لفظ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ منقول ہے جس میں غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی محبت کی برکت سے ایک گناہگار کی مغفرت کا ذکر ہے: یروی انه کان فی زمن الغوث رجل فاسق مصر علی الذنوب و لکن تمکنت محبة الغوث فی قلبه المحجوب فلما توفی دفنوہ فجاء منکر و نکیر و سألاہ من ربك و من نبیك و مادینك فاجابهما فی کل سوال بعبدالقادر فجاءھما الخطاب من الرب القدیر یا منکر ونکیر ان کان ھذا العبد من الفاسقین لکنه فی محبة محبوبی السید عبدالقادر من الصادقین فلاجله غفرت له و وسعت قبرہ بمحبته وحسن اعتقادہ فیه رضی اللہ عنه.
(تفریح الخاطر فی ترجمۃ الشیخ عبدالقادر، ص 28، 29)
تفریح الخاطر کے مصنف شیخ اربلی رحمہ اللہ معتبر و معتمد ہیں اور خود یہ کتاب بھی معتبر و مستند ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے بھی اس کتاب سے استناد فرمایا ہے۔
لہٰذا اگر “دھوبی” کے لفظ کے ساتھ روایت کسی معتبر کتاب میں نہیں ملتی تو اس لفظ کی نسبت کی اصلاح ضرور کی جائے؛ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ اس واقعے کی کوئی اصل ہی نہیں۔ اصل مفہومِ واقعہ “فاسق” کے لفظ کے ساتھ معتبر کتاب میں موجود ہے۔
رہا بعض اکابرین کا اسے بے اصل کہنا، جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری اور فتاویٰ فقیہ ملت وغیرہ میں مذکور ہے، تو ممکن ہے ان کی مراد عین “دھوبی” والی روایت ہو؛ کیونکہ اس لفظ کے ساتھ اصل نہ ملنے کی بات درست ہے، جبکہ تفریح الخاطر میں اصل مفہومِ واقعہ “فاسق” کے لفظ سے موجود ہے۔
اسی لیے جب سیدی تاج الشریعہ سے اس بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:”یہ واقعہ یا اس کے مثل غالباً تفریح الخاطر میں مسطور ہے اور اس کے بیان میں تثبیت و تحقیق لازم ہے اور یونہی مبہم بلا توضیح بیان کرنا، جس سے عوام مبتلائے اوہام ہوں، خلافِ احتیاط ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔”
(فتاویٰ تاج الشریعہ، ج 8، ص 327، کتاب الحظر والاباحہ)
خلاصۂ کلام یہ کہ “دھوبی” کے لفظ کے ساتھ یہ واقعہ ثابت نہیں، البتہ تفریح الخاطر میں اسی مفہوم کا واقعہ “فاسق” کے لفظ سے موجود ہے۔ لہٰذا لفظ کی نسبت میں تحقیق و احتیاط ضروری ہے۔ نیز یہ اصول ملحوظ رہے کہ ثبوتِ روایت اور جوازِ بیان دو الگ امور ہیں؛ کسی واقعے کا معتبر ماخذ میں موجود ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ اسے عوام کے سامنے ہر انداز سے بیان کیا جائے۔ عوام کے سامنے بیان ہو تو واضح، محقق اور مناسب توضیح کے ساتھ ہو، مبہم و بلا توضیح نہ ہو کہ عوام اوہام میں مبتلا ہوجائیں۔ یہی سیدی تاج الشریعہ رحمہ اللہ کی تنبیہ کا خلاصہ ہے کہ ایسا بیان خلافِ احتیاط ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
اس سلسلے میں یزید بن ہارون رحمہ اللہ کا واقعہ بھی قابلِ غور ہے، جو صحاحِ ستہ کے راوی اور جلیل القدر امام و محدث تھے۔ قبر کے سوالات کے بارے میں منقول ہے:
فقالا لي: من ربك؟ وما دينك؟ ومن نبيك؟
فقلت: ألمثلي يقال هذا؟ وأنا كنت أعلم الناس بهذا في دار الدنيا؟ فقالا لي: صدقت، فنم نومة العروس لا بؤس عليك۔
لہٰذا محض سوال و جواب کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر اس کا انکار درست نہیں؛ بلکہ پورے واقعے، اس کے سیاق اور اس میں بیان کردہ محبت و حسنِ اعتقاد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ اس طرح چند دیگر اکابرین کے واقعات بھی ہیں جس میں یہ ثبوت ہے کہ قبر کے سوالات کے منقول جوابات ہمیشہ سوال کے عین رسمی الفاظ کی تکرار کی صورت میں نہیں ہوتے جیسا کہ حضرت عمر ، رابعہ بصری ، جنید بغدادی اور یزید بن ہارون وغیرہ کے واقعات ہیں۔
ابو الحسن





