گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ اور اسلام
ان دو دنوں میں مختلف جگہوں سے تین چار ایسے حساس نوعیت کے فقہی مسائل پوچھے گئے ہیں کہ جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ ہمارے ہاں عموماً ان پر گفتگو نہیں کی جاتی، بلکہ لوگ ان شرعی مسائل کو جانتے تک نہیں، حالانکہ بالغ مرد و عورت پر ان کا جاننا فرض ہے۔ اس جہالت کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی بے احتیاطیاں عام ہیں، بسا اوقات ان کے سبب سنگین نوعیت کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
ہمارے ہاں جو “گڈ ٹچ” اور “بیڈ ٹچ” کا تصور پایا جاتا ہے، وہ مغرب سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس بنیاد پر مرد و عورت کا بے تکلف اختلاط بڑھتا جا رہا ہے، سیٹ یا بائیک پر غیر محرموں کے ساتھ چپک کر بیٹھنا نارمل ہوتا جا رہا ہے، محرم اور غیر محرم کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا، بلا ضرورتِ شرعی ایک دوسرے کو چھونا، حتی کہ بعض بڑی عمر کے “انکل ٹائپ” حضرات کا نامحرم بالغہ بچیوں اور عورتوں کے سروں پر شفقت کے نام پر ہاتھ پھیرنا بھی ایک روایت بنتا جا رہا ہے۔
حالانکہ دینِ اسلام میں کسی بھی غیر محرم عورت کو بلا ضرورتِ شرعی، مثلاً علاج وغیرہ کی ضرورت کے بغیر، چھونا جائز نہیں۔ یہ اس کی اجازت اور اچھی نیت سے بھی “گڈ ٹچ” نہیں بنتا، “بیڈ ٹچ” ہی رہتا ہے۔ بلکہ اگر کسی محرم عورت کے معاملے میں بھی شہوت اور فتورِ نیت سے لمس پایا جائے تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے اور ان صورتوں میں “حرمتِ مصاہرت” کے احکام بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب حرمتِ مصاہرت کیا ہے؟
لوگ سمجھتے ہیں کہ بیوی صرف طلاق دینے سے حرام ہوتی ہے، حالانکہ شرعی وفقہی اعتبار سے سسر کا اپنی بہو کو یا داماد کا اپنی ساس کو شہوت کے ساتھ بلاحائل چھونا یا پکڑنا بھی بیوی کو ہمیشہ کے لیے حرام کر دیتا ہے۔ اور یونہی کسی بدبخت شخص کا اپنی بیٹی کو شہوت کے ساتھ بلاحائل چھونا یا پکڑنا بھی بیوی کو ہمیشہ کے لیے حرام کر دیتا ہے۔ شریعت میں اسے ہی “حرمتِ مصاہرت” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے احکام قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، اور فقہی کتابوں میں باقاعدہ “حرمتِ مصاہرت” کے ابواب، مسائل اور تفریعات بیان ہوئی ہیں۔
بلکہ مزید سنیے!
یہ جو چچا زاد، خالہ زاد اور ماموں زاد لڑکیاں ہیں، جنہیں فرسٹ کزن کہا جاتا ہے، یہ سب غیر محرم ہیں؛ ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ناہنجار شخص اپنی چچی، خالہ یا ممانی کو بلاحائل شہوت کے ساتھ چھوئے یا پکڑے، یا ان کے ساتھ بری نیت سے یوں چپک کر بیٹھے کہ ان کے جسم کی حرارت محسوس ہو، تو بھی حرمتِ مصاہرت کے احکام مرتب ہو سکتے ہیں، اور اس صورت میں اس کی بیٹی (کزن) سے بھی نکاح نہیں ہو سکے گا، بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائے گی۔
اور یہ جو بڑی عمر کے “انکل ٹائپ” حضرات غیر محرم بالغہ بچیوں کے ننگے سروں پر شفقت کے نام پر ہاتھ پھیرتے ہیں، بھلے ان کی نیت کتنی ہی اچھی ہو، شریعت میں اس کی بھی اجازت نہیں۔ یہ “گڈ ٹچ” نہیں، غلط اور ناجائز لمس ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی آدمی کے سر میں لوہے کی بڑی سوئی ٹھونس دی جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 486) اللہ نہ کرے، اگر اس نے بُری نیت سے شہوت کے ساتھ ننگے سر پر ہاتھ پھیرا تو انتہائی سنگین شرعی نتائج بھی ہو سکتے ہیں، جن میں حرمتِ مصاہرت کے احکام بھی شامل ہیں۔ اس لیے محض “نیت اچھی تھی” کہہ کر ایسے معاملات کو معمولی سمجھنا درست نہیں۔
یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ سب احکام اپنی اپنی شرائط کے ساتھ عاقل و بالغ یا قریب البلوغ مرد و عورت کے معاملات سے متعلق ہیں۔ چھوٹی عمر کے بچوں اور ایسے بوڑھے افراد جن کے بارے میں شرعی طور پر شہوت کا امکان نہیں، ان کے احکام الگ ہیں۔ اس لیے ہر واقعے کو ایک ہی حکم کے تحت رکھ دینا درست نہیں۔ مزید یہ کہ اگر یہ “حرکتیں” کسی عورت کی جانب سے سرزد ہوں تو بھی یہ احکام مرتب ہو سکتے ہیں۔ اور مزید برآں، اگر آپ کو اس نوعیت کا کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہے تو خود فیصلہ کرنے کے بجائے کسی مستند اور صحیح العقیدہ مفتی صاحب کی خدمات حاصل کریں۔ یہ صرف آگاہی کے لیے چند اہم اور ضروری مسائل بیان کیے گئے ہیں؛ ان کی حدود، قیود، شرائط اور تمام متعلقہ تفصیلات کو دیکھ کر ایک ماہر مفتی ہی درست فیصلہ کر سکتا ہے۔
Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa
17/09/2026