*فتاوی رضویہ پر جاہلانہ اعتراض کی حقیقت*

فتاوی رضویہ کے جس جواب پر اعتراض کیا گیا، وہاں ” *نہ محلّ فتنہ ہو* ” کے کلمات ہی فیصلہ کن ہیں ۔

نامحرم تین طرح کی ہوسکتی ہیں :

١ ) نابالغہ چھوٹی بچی

٢ ) بالغہ جوان عورت

٣ ) بوڑھی ضعیفہ

سوال یہ ہے کہ یہاں ہاتھ پاؤں دبوانے وغیرہ کی اجازت کس نامحرم کو دی گئی ؟

تو جواب یہ ہے کہ یہاں وہ نامحرم مراد ہے جس پر ” محلّ فتنہ نہ ہونا ” صادق ائے ۔

اب سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی زبانی ہی سن لیجیے کہ کون سی نامحرم ” *محلّ فتنہ* ” کے تحت نہیں اتی ۔

آمامِ اہلسنت فرماتے ہیں :

*جو عورت حدّ شہوت کو نہ پہنچے ، یعنی ہنوز نو برس سے کم عمر کی ہے یا حدّ فتنہ سے نکل گئی یعنی ضعیفہ بڑھیا بد صورت کریہہ منظر ہے ، اس سے جائز خدمت یعنی اگر چہ خلوت میں بھی ہو حرام نہیں ۔ اور ” جو عورت اجنبیہ ان دونوں صورتوں سے جدا ہے ، وہ محل اندیشہ فتنہ ہے “*[ فتاوی رضویہ ، جلد ٢٢ ، صفحہ ٢٠١ ]

پتہ چلا کہ اُس عبارت میں نامحرم سے مراد چھوٹی بچی اور نہایت بوڑھی و بدصورت ضعیفہ مراد ہے جس سے ہاتھ پاؤں دبوانے وغیرہ کی اجازت دی گئی ۔ *ہرگز جوان نامحرم عورت مراد نہیں* ۔

نامحرم جوان عورت سے ہاتھ پاؤں دبوانے کو امامِ اہلسنت خود حرام فرما چکے ہیں :

*باقی رہا پاؤں دبانا دبوانا ، اس سے تنہائی میں باتیں کرکے نفس کو خوش کرنا ، یہ خود صریح حرام اور شیطانی کام ہے ۔*[ فتاوی رضویہ ، جلد ٢٢ ، صفحہ ٢٠١ ] 

رہا سوال چھوٹی بچی اور نہایت بوڑھی ضعیفہ سے خدمات لینے کا ___ تو کتبِ فقہ میں بے شمار نظائر موجود ہیں کہ جہاں ان دونوں نامحرموں کے حوالے سے پردہ و دیگر احکام میں تخفیف کی گئی ہے ۔

*آحقر العباد*